جموں و کشمیر
مرکزی داخلہ سیکریٹری کی ایل جی منوج سنہا سے اہم ملاقات، سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا
جموں، مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی سیکورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کے درمیان، مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن نے جمعرات کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ساتھ ایک اہم و اعلیٰ سطحی میٹنگ کی، جس میں وادی کشمیر اور جموں خطے میں جاری سیکورٹی چیلنجوں، انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور سرحدی علاقوں میں ڈرون سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یہ میٹنگ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں گزشتہ دو برسوں کے دوران گھنے جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں سرگرم درجنوں دہشت گردوں کی موجودگی کے واضح انٹیلی جنس اشارے ملے ہیں۔
حکام کے مطابق ہوم سکریٹری دو روزہ دورے پر بدھ کی سہ پہر جموں پہنچے اوربدھ کے روز کنونشن سینٹر میں اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ جمعرات کو انہوں نے ایل جی منوج سنہا کے ساتھ ملاقات کی، جس میں سیکورٹی، آپریشنل تیاریوں، بین ایجنسی ہم آہنگی، سرحدی انتظامات اور حالیہ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق جامع گفتگو کی گئی۔
ذرائع کے مطابق میٹنگ میں کشمیر اور جموں کے دونوں خطوں میں بدلتی سیکورٹی صورتحال، خاص طور پر ہمالیائی بیلٹ اور پیر پنجال کے دُشوار گزار علاقوں میں جاری تلاشی آپریشنز پر خصوصی توجہ دی گئی۔ داخلہ سکریٹری نے پیر پنجال رینج میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں، گھنے جنگلات میں چھپے دہشت گردوں، اور حالیہ مہینوں میں گھات لگا کر حملوں کے واقعات پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔
اہم ترین پہلو سرحدی علاقوں میں ڈرون سرگرمیوں کا تھا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق، بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر ڈرون سرگرمیوں میں حالیہ اضافہ تشویش ناک ہے، جس کے ذریعے اسلحہ، گولہ بارود اور نقدی پہنچائے جانے کے شواہد ملے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ دھند اور شدید سردی کے موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی دہشت گرد گروہ سرحد پار سے دراندازی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا، بی ایس ایف کے ڈی جی پربین کمار، سی آر پی ایف کے سربراہ جی پی سنگھ، جموں وکشمیر پولیس کے ڈی جی نالِن پربھات سمیت فوج، انٹیلی جنس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران سرحدی سیکورٹی کے انتظامات، ہائی آلٹیٹیوڈ علاقوں میں آپریشنل نظم، دہشت گردی کے خلاف جاری مشترکہ کارروائیوں اور ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی واضح رہے کہ 8 جنوری کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے سیکورٹی فورسز کو ہدایت دی تھی کہ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے، معاون نیٹ ورکس اور فنڈنگ چینلز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ ہوم سکریٹری کی میٹنگ اسی پالیسی تسلسل کا حصہ قرار دی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، سیکورٹی حکام نے اجلاس میں بتایا کہ پیر پنجال، راجوری، پونچھ اور ریاسی کے جنگلات میں سرگرم تقریباً تین درجن دہشت گردوں میں سے متعدد غیر ملکی،خصوصاً پاکستانی نژاد—ہیں، جو 2021-22 کے دوران دراندازی کر کے یہاں پہنچے تھے اور مقامی سطح پر نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔
میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ فورسز آپریشنز، بالخصوص بلند پہاڑی علاقوں میں لانگ رینج پیٹرولنگ اورفضائی نگرانی میں اضافہ کیا جائے گا۔ ڈرون مخالف ٹیکنالوجی کی تعیناتی کو بھی مزید بڑھایا جائے گا۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہری علاقوں میں قانون و نظم کے ساتھ ساتھ سرحدی و پہاڑی علاقوں میں دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔
دو روزہ دورے کے اختتام پر امید کی جا رہی ہے کہ ہوم سکریٹری مرکزی سرکار کو جموں وکشمیر کی تازہ ترین سیکورٹی صورتحال کے بارے میں آگاہی فراہم کریں گے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
