تازہ ترین
ہیف شوپیان خونریز جھڑپ: 3حزب جنگجو جاں بحق، چار فوٹو جرنلسٹ زخمی ،مکمل رپورٹ
خبراردو:
پہاڑی ضلع شوپیان کے ہیف شرمال علاقے میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین گھماسان کی لڑائی میںآئی پی ایس آفیسر کے بھائی سمیت 3مقامی جنگجو جاں بحق جبکہ فوج کا ایک اہلکار طرفین کی فائرنگ میں زخمی ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے آغاز کے ساتھ ہی ملحقہ علاقوں سے نوجوانوں اور خواتین کی مختلف ٹولیوں نے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی غرض سے فوج و فورسز پر سنگ باری کرنے کے علاوہ جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تاہم فورسز نے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں آنسو گیس کے گولے اور پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ ادھر ضلع بھر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شام دیر گئے تک فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں۔ اس دوران امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے علی الصبح ہی شوپیان کے مضافات میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردئے جبکہ جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی ضلع بھر میں ہڑتال کیفیت کا مشاہدہ کیا گیا جسکے نتیجے میں عوامی، کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ادھر حزب المجاہدین نے معرکے میں جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمس الحق سمیت تین عسکریت پسندوں نے ظلم وجبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔

شوپیان کے ہیف شرمال علاقے میں منگلوار کی علی الصبح اُس وقت افرا تفری کا عالم بپا ہوا جب یہاں فوج و فورسز کی بھاری جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی۔معلوم ہوا ہے کہ فوج کی44آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے منگل صبح کو ضلع کے ہیف شرمال نامی گاؤں میں موجود وسیع رقبے پر پھیلے میوہ باغ کا محاصرہ کیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فوج اور فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ یہاں میوہ باغ میں 2سے 3جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی ہے جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے علی الصبح گاؤں کا کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے تمام راستوں پر فورسز کی اضافی ٹکڑیوں کو تعینات کردیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ محاصرہ اس قدر سخت کیا گیا تھا کہ گاؤں کے اندرون و بیرون راستوں پر فورسز اہلکاروں کے دستوں کو الرٹ رکھا گیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ کے ساتھ بروقت نپٹا جاسکے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہیف شرمال کے اندرونی اور بیرونی راستوں پر فوج اور ٹاسک فورس کے اہلکاروں کو جدید ہتھیاروں کے ساتھ تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا جبکہ گاؤں کی تمام گلی کوچوں اور نکڑوں پر کیسپر گاڑیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ ادھر فورسز نے جونہی گاؤں میں موجود وسیع رقبہ اراضی پر پھیلے میوہ باغات کا تنگ کیا اور یہاں تلاشی آپریشن کے لیے داخل ہوگئے تو اسی اثنا میں باغ میں موجود جنگجوؤں کی جمعیت نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے سخت فائرنگ کی جس کے بعد فورسز نے بھی جنگجوؤں کی فائرنگ کا جواب دیا۔ معلوم ہوا کہ منگل کی 12بجے تک گاؤں میں وقفے وقفے سے فائرنگ جاری تھی جس دوران جنگجوؤں کی فائرنگ سے ایک اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا جسے یہاں موجود دیگر فورسز اہلکاروں نے ہٹاکر ہسپتال منتقل کردیا جہاں اُس کا علاج و معالجہ جاری ہے۔
اس دوران دوپہر کے ساتھ ہی فورسز اہلکاروں نے حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ لیتے ہوئے میوہ باغ کے ارد گرد گھیرا تنگ کردیا اور جنگجوؤں کے مشتبہ ٹھکانے پر شدید گولہ باری کی۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس دوران گاؤں میں گولیوں کی گن گرج اور گولوں کی آوازیں کافی دیرتک سنائی دیں جس کے نتیجے میں علاقہ سہم گیا۔ادھر طرفین کی گولہ باری میں ٹھہراؤ آنے کے بعد فورسز اہلکاروں نے جونہی مشتبہ ٹھکانے کے ارد گرد تلاشی کارروائی شروع کی تو یہاں 3جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جونہی مشتبہ ٹھکانے کے ارد گرد فورسز اہلکاروں نے تلاشی لی تو یہاں 3جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کی گئیں جن کی شناخت عامر احمد بٹ عرف ابو حنظلہ ساکن چڑی پورہ شوپیان، ڈاکٹر شمس الحق منگنو عرف برہان ثانی ولد محمد رفیق منگنو ساکن دراگڈ شوپیان اور شعیب شاہ ولد غلام رسول شاہ ساکن شرمال شوپیان کے بطور ہوئی۔پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں کی تحویل سے اسلحہ و گولہ باروداور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ میں جاں بحق جنگجو ڈاکٹر شمس الحق جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے سے پہلے گورنمنٹ کالج زکورہ سرینگر سے بی یو ایم ایس کی ڈگری حاصل کررہا تھا۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجو کا بھائی انعام الحق 2012بیچ کے آئی پی ایس آفیسر ہیں جو فی الوقت شمالی ہندوستان میں تعینات ہیں۔
ادھر جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی علاقے اور مضافات میں نوجوانوں اور خواتین کی مشترکہ ٹولیوں نے فورسز اہلکاروں پر چہار سو پتھراؤ کیا جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ مظاہرین نے فورسز اہلکاورں پر شدید سنگ باری کرنے کے علاوہ اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں زور دار نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنا چاہی۔ علاقے میں پیدا شدہ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کی خاطر آنسو گیس کے درجنوں گولے داغنے کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں علاقہ بھر میں سراسیمگی کی کیفیت رونما ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والے 4فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوٹو جرنلسٹوں کے چہروں پر اُسوقت پیلٹ چھروں کی بارش ہوئی جب وہ جائے جھڑپ کے نزدیک فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی عکس بندی میں مشغول تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے وسیم اندرابی، روزنامہ رائزنگ کشمیر کے نثار الحق، کشمیر ایسنس کے جنید گلزار اور خبررساں ادارے اے این این کے برہان میر شامل ہیں۔
ادھر جھڑپ میں مارئے گئے آئی پی ایس آفیسر انعام الحق کے بھائی ڈاکٹر شمس الحق سے متعلق سابق پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ’’شمس الحق کو مین اسٹریم میں واپس لانے کے لیے اُسکے بھائی ، اہل خانہ اور پولیس کی طرف سے کافی سنجیدہ کوششیں کی گئیں تاہم آج وہ اپنے برے انجام کو پہنچ گیا‘‘۔ادھر جھڑپ کے اختتام پذیر ہونے کے بعد ہی علاقے بھر میں شام دیر گئے تک مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں ۔ ادھر امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور افواہ بازی پر لگام کسنے کے لیے انتظامیہ نے منگل کی صبح سے ہی ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ اس دوران جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی ہیف شرمال اور مضافات میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں عوامی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بھی بری طرح سے متاثر رہی۔
ادھر حزب المجاہدین نے جھڑپ میں جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمس الحق سمیت تین عسکریت پسندوں نے ظلم وجبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اپنے گرم گرم خون سے تحریک آزادی کی آبیاری کر رہے ہیں اور شہداء کا یہ مقدس لہو ان شااللہ رنگ لائے گا اور دشمن کشمیر نے عنقریب نکلنے پر مجبور ہوجائے گا۔ حزب سربراہ سید صلاح الدین نے اپنے پیغام میں بتایا کہ شہداء کشمیری قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں اور آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بھی ہیں جن کی قربانیوں کے ساتھ نہ سودابازی ہوگی اور نہ کسی کو سودا بازی کرنے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر یوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے ،یہ قوم صدیوں سے قربانیاں پیش کر رہی ہے اور کشمیر میں آج چوتھی نسل ہے جو بے سروسامانی کے عالم میں ایک بڑی طاقت کا مقابلہ کر کے دشمن کے دانت کھٹے کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں سے آزادی کی منزل قریب ہوگی۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
