تازہ ترین
کشمیریوں کی جدوجہد مبنی بر حق؛ ہر صورت میں جاری رکھا جائے گا: میر واعظ
خبراردو:
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے حکومت ہندوستان کی طرف سے فوجی قوت کے بل پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پالیسی کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کے بل کر نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے انہیں انتہائی اقدام اُٹھانے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اندرون و بیرون ریاست کی جیلوں میں سالہا سال سے بند سیاسی قیدیوں کے تئیں سیاسی انتقام گیری کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو جرم بے گناہی کی پاداش میں پابند سلاسل کرتے ہوئے انہیں مختلف نوعیت کے اذیت ناک مراحل سے گزار کر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل عوام کے بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہندوستان مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی خاطر فوجی قوت اور دھونس و دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی غیر حقیقت پسندانہ پالیسی کو عملاتے ہوئے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند نوجوانوں کو مختلف ذریعے سے ٹارچر کررہا ہے اور انہیں انتہائی اقدام اُٹھانے کے لیے مجبور کر رہا ہے۔ بھارت کی طرف سیمسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پالیسی کو غیر حقیقت پسندانہ اور ضد ار ہٹ دھرمی سے عبارت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی نوجوان نسل کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرکے عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے اورگزشتہ دنوں بارہمولہ ،شوپیان اور بڈگام میں جو خونین سانحات پیش آئے ان سے ہر کشمیری کا دل چھلنی ہوکر رہ جاتا ہے ۔حریت چیرمین نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ وہ طاقت اور تشدد کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہمارے نوجوان جو اس قوم کے معمار ہیں اپنے سلب شدہ حقوق کی بازیابی کیلئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں اور دوسری طرف جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں اور عقوبت خانوں میں سالہا سال سے مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کو کالے قوانین کے تحت پابند سلاسل کرکے بغیر کسی جرم اور بلا کسی جواز کے ان کی مدت قید کو طول دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں بند یہ لوگ کوئی پیشہ ور مجرم یا ڈاکو نہیں بلکہ ایک عظیم نصب العین کے شیدائی ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان لوگوں کو نہ تو وقت پر تاریخ ہائے پیشیوں میں عدالتوں میں پیش کیا جارہا ہے اور نہ ان قیدیوں کے تئیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جارہا ہے گویا ان لوگوں کوJustice Delayed is Justice Denied کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ بھارت کی سپریم کورٹ کے ان احکامات کے باوجود کہ ان قیدیوں کو اپنے گھروں کے نزدیکی جیلوں میں رکھا جائے۔ حکومت ہندوستان اپنی ہی اعلیٰ عدالت کے احکامات کو یکسر نظر انداز کرکے اور قیدیوں کے حوالے سے مسلمہ عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ان قیدیوں کو دور دراز کی بھارتی ریاستوں کی جیلوں میں مقید رکھا گیا ہے اور ان میں سے بیشتر ایسے قیدی ہیں جو مدتوں سے جیلوں میں رہنے کے باعث مختلف جسمانی بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں اور اس طرح ان قیدیوں کو شدید سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔میرواعظ نے جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید سیاسی قیدیوں کی تفصیلات بتا تے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد قاسم فکتو ادھمپور جیل میں 26 سال سے ، جاوید احمد خان تہاڑ جیل نئی دہلی میں22 سال، محمد ایوب خان المعروف محمود ٹوپی والا تہاڑ جیل نئی دہلی میں24 سال سے، مرزا نثار حسین جے پور راجستھان جیل 22 سال سے ،لطیف احمد وازہ جے پور راجستھان جیل 22 سال سے، علی محمد بٹ جے پور راجستھان 22 سال سے ، عبدالغنی گونی جے پور راجستھان جیل22 سال سے، غلام قادر بٹ امپھالا جیل24 سال سے، ڈاکٹر محمد شفیع خان ہیرا نگر جیل 13 سال سے، فیروز احمد خان تہاڑ جیل دہلی16 سال سے، پرویز احمد میر تہاڑ جیل دلی16 سال سے، مقصود احمد بٹ کورٹ بلوال جیل جموں12 سال سے، بلال احمد کوٹہ بنگلور سینٹرل جیل13 سال سے، غلام محمد بٹ کورٹ بلوال جیل جموں17 سال سے، محمد اسلم گجر ممبئی جیل 13 سال سے، محمد ایوب میر14سال سے،محمد ایوب ڈار سینٹرل جیل سرینگر 18 سال سے، شوکت احمد خان سینٹرل جیل سرینگر11 سال سے، نذیر احمد شیخ کورٹ بلوال جموں18 سال سے، فاروق احمد شیخ کورٹ بلوال جموں11 سال سے، محمد عباس وانی کورٹ بلوال جیل12 سال سے، شیخ عمران سینٹرل جیل سرینگر15 سال سے، برکت علی خان سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، عبدالحمید تیلی سینٹرل جیل سرینگر13 سال، محمد اقبال خان سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، محمد صادق گجر سینٹرل جیل سرینگر17 سال سے، سائیں محمد گجر سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، مہندیا گجر سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، اشفاق احمد پال کورٹ بلوال جموں15 سال سے، ڈاکٹر غلام محمد بٹ تہاڑ جیل دہلی8 سال سے، محمد اسلم وانی تہاڑ جیل دلی 7 سال سے، مسرت عالم بٹ کورٹ بلوال جیل میں کبھی ان کو رہا کیا جاتا ہے کبھی گرفتار اور کل ملا کر25 سال سے جیل میں ہے، مظفر احمد راتھر کورٹ بلوال جموں10 سال سے، بشیر احمد بابا گجرات جیل 9 سال سے، مظفر احمد ڈار تہاڑ جیل11 سال سے، محمد شفیع شاہ تہاڑ جیل9 سال سے، ڈاکٹر وسیم تہاڑ جیل10 سال سے، مشتاق احمد لون تہاڑ جیل6 سال سے مقید ہیں۔ اس کے علاوہ NIA اور ED کی جانب سے گرفتار کئے گئے کشمیری سیاسی نظر بندوں کو جن میں شبیر احمد شاہ، ایڈوکیٹ شاہدالاسلام،ڈاکٹر غلام محمد بٹ، الطاف احمد فنٹوش، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار ، شاہد یوسف ، تاجر ظہور وٹالی، محترمہ آسیہ اندرابی، محترمہ فہمیدہ صوفی اور محترمہ ناہیدہ نسرین شامل ہیں کو دلی کے تہاڑ جیل میں مقید رکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ لا تعداد ایسے قیدی ہیں جو جموں وکشمیر اور بھارت کی دیگر ریاستوں کی جیلوں میں کئی سالوں سے جرم بے گناہی کی پاداش میں اذیتوں کا نشانہ بنائے جارہے ہیں۔انہوں نے حکومت ہندوستان کی جانب سے ان قیدیوں کے تئیں روا رکھی جارہی ظلم و جبر کی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے حقوق بشر کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے وفود ان جیلوں میں روانہ کریں اور ان قیدیوں کی حالت زار کا جائزہ لیکر ان کے تئیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔ میرواعظ نے 1990ء میں کپوارہ اور ہندوارہ میں اورپیش آئے خونین سانحات میں شہید کئے گے افراد کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج تک کشمیر میں ان گنت خونین سانحات پیش آئے لیکن اب تک نہ کسی واقعہ کی تحقیقات ہوئی اور نہ کسی متاثر کو انصاف ملا۔ انہوں نے 1998 میں وندہامہ گاندربل میں پیش آئے خونین سانحہ جس میں نا معلوم افراد کے ہاتھوں 23 کے قریب کشمیری پنڈتوں کو قتل کیا گیا کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خونین سانحہ کی اب تک نہ کوئی غیر جانبدارانہ تحقیقات عمل میں لائی گئی اورنہ اس سانحہ میں ملوث مجرموں کو سزا دی گئی۔
انہوں نے اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جدوجہد مبنی برحق ہے اور یہ جدوجہد اپنے منطقی انجام تک ہر سطح پر جاری و ساری رکھی جائیگی۔جنوری کو اٹانومی سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر سے چھینی گئی اندرونی خودمختاری کی بحالی سے ہی 26جنوری کی تقریب کو منانے کا مقصد پورا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بچی کچی خود مختاری کو بھی سلب کرنے کے لیے مزید راستے ڈھونڈے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین ہند کے تحت جہاں ملک کے تمام مذاہب اور طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مذہبی اوراظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہواوہیں اسی آئین میں جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری کا اندراج بھی ہوا، لیکن موجودہ دور میں بھارت کی اقلیتوں کی مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے، لوگوں سے اظہارِ رائے کا حق چھینا جارہا ہے اور جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن پر شب خون مارنے کے مزید راستے ڈھونڈے جارہے ہیں، ایسے میں 26جنوری کی تقریبات میں جمہوریت اور آئین کی رکھوالی کے بلند بانگ دعوے کرنا لوگوں کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد جموں وکشمیر نے آزاد ہندوستان کیساتھ مشروط الحاق کیا اور اس مشروط الحاق کو بھارت کے آئین میں شامل کرکے ہماری ریاست کو خصوصی درجہ حاصل ہوا۔
ڈاکٹر کمال نے کہا کہ 26جنوری کے موقعے پر ہم اُن شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک کا آئین مرتب کیا اور اس آئین میں جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری کو آئینی شکل دی۔ انہوں نے کہا کہ 26جنوری منانے کا مقصد اُسی صورت میں پورا ہوسکتا ہے جب طاقت کے بلبوتے پر جموں وکشمیر سے چھینی گئی اندرونی خودمختاری کو واپس بحال کیا جائے گا۔ 9اگست 1953کے بعد سے لیکر آج تک ریاست کی خصوصی پوزیشن کیساتھ ہوئی ہر ایک چھیڑ چھیڑغیر آئینی اور غیر جمہوری ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ آج ہی قومی یوم رائے دہندگان بھی منا رہے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ووٹ پرچی کا حق نیشنل کانفرنس کی کوششوں اور کاوشوں کی ہی دین ہے۔ نیشنل کانفرنس کے متوالوں اور جانثاروں کی بدولت ہی جموں وکشمیر میں جمہوریت کا بول بالا ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر برصغیر میں ایسی واحد ریاست تھی جہاں 18سال کی عمر میں ہی ووٹ پرچی کا حق حاصل ہوتا تھا جبکہ بھارت میں لوگوں کو یہ حق 21سال کی عمر میں حاصل ہوتا تھا۔ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے 18سال کی عمر ووٹ پرچی کا حق اس لئے سے دیا تھا کیونکہ وہ روشن اور تابناک مستقبل میں نوجوانوں کے رول کی اہمیت بخوبی سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور برصغیر کے دیگر ممالک نے بعد میں جموں وکشمیر کے آئین سے ترغیب لیکر نہ صرف ووٹ ڈالے کی عمر 18سال کی بلکہ پنچایت راج کا قیام بھی عمل میں لایا۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
