جموں و کشمیر
ایران بحران: جموں و کشمیر کے طلبہ کے والدین کا حکومتِ ہند سے فوری انخلاء کا مطالبہ
سری نگر، ایران میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے درمیان جموں و کشمیر کے سینکڑوں طلبہ کے والدین شدید خوف اور اضطراب کا شکار ہیں۔ والدین نے حکومتِ ہند سے اپیل کی ہے کہ ایران میں زیرِ تعلیم تمام بھارتی طلبہ کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر کے وطن واپس لایا جائے۔
وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے کئی طلبہ ایران کے مختلف شہروں جیسے تہران، قم اور ارومیہ میں میڈیکل اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث یہ طلبہ مسلسل خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تہران میں قائم بھارتی سفارت خانے نے احتیاطی اقدام کے طور پر بعض طلبہ کو تہران سے قم منتقل کیا ہے، تاہم پورے ملک میں کشیدہ حالات کے باعث کوئی بھی جگہ محفوظ محسوس نہیں ہو رہی۔
سری نگر سے تعلق رکھنے والے ایک والد نے کہا کہ ہر طرف خوف اور بے بسی کا ماحول ہے۔ طلبہ کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کے باوجود حالات بہتر نہیں لگ رہے کیونکہ پورے ایران میں حملوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
ارومیہ میں طلبہ کے ایک ہوسٹل کے قریب زور دار دھماکوں کی اطلاعات نے والدین اور طلبہ کی پریشانی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
طلبہ کے مطابق یونیورسٹیوں کے اطراف کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
قم منتقل کئے گئے بعض طلبہ نے بھی بتایا کہ وہاں پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد اس اقدام کی افادیت پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔
ایک اور والد نے کہا، ’ہمارے بچے شدید خوف میں ہیں۔ ہوسٹل کے قریب دھماکوں نے انہیں ذہنی طور پر متاثر کر دیا ہے۔ وہ نہ ٹھیک سے سو پا رہے ہیں اور نہ ہی پڑھائی پر توجہ دے پا رہے ہیں۔ ہمیں ہر لمحہ ان کی جان کا خوف ستا رہا ہے۔‘
والدین اور طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ بحران اب صرف سکیورٹی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ذہنی صحت کا بحران بھی بن چکا ہے، کیونکہ مسلسل غیر یقینی صورتحال کے باعث طلبہ شدید ذہنی دباؤ، بے چینی اور گھبراہٹ کا شکار ہیں، جبکہ کشمیر میں موجود ان کے خاندان بھی شدید ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں۔
آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور طلبہ کے والدین نے وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام بھارتی طلبہ کے لیے فوری اور منظم انخلاء کا منصوبہ تیار کیا جائے، جس کے تحت انہیں قریبی محفوظ ممالک جیسے آرمینیا یا آذربائیجان کے راستے نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں صرف داخلی منتقلی کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق زمینی حالات کو دیکھتے ہوئے فوری اور جامع انخلاء منصوبہ نافذ کیا جانا چاہئے تاکہ بھارتی شہریوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
والدین کے مطابق ایران کے مختلف حصوں میں اب بھی کئی طلبہ پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ واضح حکومتی منصوبہ یا ٹائم لائن سامنے نہ آنے سے ان کی بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔
والدین نے حکومتِ ہند سے اپیل کرتے ہوئے کہا، ’ہم ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو جلد از جلد واپس لایا جائے۔ ہر گزرتا گھنٹہ ہمارے خوف میں اضافہ کر رہا ہے۔‘
ذرائع کے مطابق حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایران میں موجود بھارتی شہریوں کی حفاظت کے لئے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اب تک بڑے پیمانے پر انخلاء کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
