تازہ ترین
کھنموہ جھڑپ:ایک مقامی سمیت 2جنگجو جاں بحق، 7فورسز اہلکار بھی زخمی، مکمل رپورٹ
خبراردو:
26جنوری کی تقریب سے چند گھنٹے قبل سرینگر کے مضافاتی علاقے کھنموہ میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان علی الصبح ہوئی خونین معرکہ آرائی میں جیش محمد سے وابستہ 2جنگجو جاں بحق ہوئے جن کی تحویل سے فورسز نے دو AK-47 رائفلوں کے علاوہ دیگر گولہ بارودبھی ضبط کیا۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ طرفین کی شدید گولہ باری کے نتیجے میں فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کے 7اہلکار بھی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ۔اس دوران مقامی بستیوں سے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر احتجاجی مظاہرے کئے تاہم مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے آنسو گیس کے گولوں کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کا بھی استعمال کیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس رجسٹر کرتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کی ہیں۔ ادھر پولیس نے بتایا کہ جھڑپ میں مارے گئے جنگجوؤں کا مقصد 26جنوری کی تقریبات میں خلل ڈالنا تھا اسی لیے انہوں نے سرینگر تک اپنی رسائی ممکن بنائی تھی۔
شہر سرینگر کے مضافاتی علاقے کھنموہ میں 26جنوری کی تقریب منعقد ہونے سے چند گھنٹے قبل فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین معرکہ آرائی ہوئی جس دوران طرفین کی گولہ باری سے پورا علاقہ لرز اُٹھا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج، سی آر پی ایف اور پولیس سے وابستہ اسپیشل آپریشن گورپ کی بھاری جمعیت نے جنگجوؤں سے متعلق اطلاع موصول ہونے کے بعد کھنموہ کے سرہندی کالونی کا صبح 3بجے ہی کڑا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران فورسز اہلکاروں نے پورے علاقے کا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں چپے چپے پر چاک و چوبند فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اہلکاروں نے علاقے کی طرف آنے اور جانے والی تمام گلی کوچوں پرکڑے پہرے بٹھاتے ہوئے لوگوں کی نقل و حرکت ناممکن بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اسی دوران جونہی فورسز اہلکاروں نے سرہندی کالونی کھنمو میں داخل ہوکر یہاں تلاشی کی غرض سے فاروق احمد گوجری نامی شخص کے رہائشی مکان کی جانب پیش قدمی شروع کی تو یہاں یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے مورچہ سنبھالتے ہوئے جوابی کارروائی کا باضاباطہ آغاز کیا ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ قریباً صبح 4بجے علاقے میں گولیوں کی آواز سنی گئی تاہم اندھیرا ہونے کے باعث لوگوں کو اصل حقائق معلوم نہیں چل پائے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دوران یہاں طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس دوران علاقہ گولیوں کی گن گرج سے دہل اُٹھا جبکہ آبادی بھی گھروں میں سہم کر رہ گئی۔لوگوں کا کہنا تھا کہ اسی دوران فورسز نے یک منزہ مکان میں آگ لگادی جس کے بعد یہاں ہر طرف دھواں نظر آنے لگا۔
ادھر پولیس نے جھڑپ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سنیچر کی علی الصبح فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ پارٹی نے سرہندی کالونی کھنموہ کا مصدقہ اطلاع ملنے کے بعدکڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جونہی تلاشی پارٹی مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچی تو مکان کے اندر چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا جس کا فورسز اہلکاروں نے بھی معقول جواب دیا۔ پولیس نے بتایا کہ اسی اثنا میں طرفین کے گولی بھاری سے یہاں جھڑپ شروع ہوئی ۔پولیس کا کہنا تھا کہ دوران جھڑپ فورسز کارروائی کے نتیجے میں جیس محمد سے وابستہ 2عدم جنگجو جاں بحق ہوئے جن میں ایک غیر ملکی بتایا جاتا ہے۔پولیس نے مارے گئے جنگجوؤں میں سے ایک کی شناخت محمد شفیع ڈار ساکن آری ہل پلوامہ کے بطور کی تاہم دوسرا جنگجو غیرپولیس کے مطابق غیر ملکی بتایا جارہا ہے جن کی تحویل سے 2اے کے سنتالین رائفلیں اور دیگر قسم کا گولہ بارود ضبط کیاگیاہے۔انہوں نے بتایا کہ مارئے گئے جنگجوؤں کا منصوبہ 26جنوری کی تقریبات میں خلل ڈالنا تھا جس کے لیے انہوں نے سرینگر تک رسائی حاصل کی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ جنگجوؤں کی ہمیشہ سے روایت رہی ہے کہ وہ 26جنوری کی تقریبات کے دوران عام لوگوں کے قلب و ذہن میں خوف و ڈر کا ماحول پیدا کرکے اپنی کاررائیاں کریں ۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مارے گئے جنگجوؤں کو ناکام بنادیا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اس حوالے سے ایک کیس درج کرتے ہوئے مزید تحقیقات کا آغاز شروع کردیا ہے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ طرفین کی شدید فائرنگ کے نیتجے میں 7فورسز اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری علاج و معالجہ کی خاطر مختلف ہسپتالوں کو منتقل کردیا گیا ۔ معلوم ہو اکہ جنگجوؤں کی فائرنگ سے فوج کے 2، سی آر پی ایف کے 2اور پولیس اور ایس او جی کے 3اہلکار گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ادھر پولیس نے جائے جھڑپ پر عام شہریوں کی ہلاکت سے بچنے کے لئے عوام کے نام ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی نہ کریں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ جب تک جائے جھڑپ کو گولہ بارود جیسے مواد سے پاک و صاف نہیں کیا جاتا ہے تب تک عوام یہاں آنے سے گریز کرے۔
اس حوالے سے پولیس نے امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے عوام سے تعاون طلب کیا ہے۔ادھر مقامی لوگوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران فورسز نے یک منزلہ مکان کو آگ لگادی جس کے کچھ وقفے بعد ہی آپریشن کو ختم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مکان میں آگ نمودار ہونے کے بعد یہاں فائر اینڈ ایمرجنسی کی ٹیم وارد ہوئی جنہوں نے مکان میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا کہ آگ بجھانے پر مامور عملے نے یہاں مکان کے ایک کمرے سے موٹر سائیل بھی برآمد کی جو جنگجوؤں کی بتائی جارہی ہے۔ ادھر جھڑپ شروع ہونے کے بعد ہی جونہی آس پاس کے علاقوں میں اس کی خبر پھیل گئی تو یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر آگر فورسز کارروائی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ معلوم ہوا ہے کہ احتجاج کررہے نوجوانوں نے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم یہاں موجود فورسز اہلکاروں نے ان کی یہ کوشش ناکام بناتے ہوئے مظاہرین پر کئی آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی۔ ادھر انتظامیہ نے 26جنوری کے پیش نظر اور علاقے میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل رہی.
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
