دنیا
امریکی ایوان نمائندگان میں بھی ایران جنگ پر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد
واشنگٹن، صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے جاری رکھنے کی اجازت مل گئی، ایوان نمائندگان میں بھی ایران پر حملے محدود کرنے کی قرارداد مسترد کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے بھی ایران پر مزید فوجی حملوں کو محدود کرنےکی قرارداد مسترد کردی۔
قرارداد کا مقصد صدر کی ایران کے خلاف فضائی کارروائی روکنا اور یہ شرط لگانا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگی کارروائی کی منظوری کانگریس سے لی جائے۔
قرارداد کے خلاف دوسوانیس اورحق میں دوسوبارہ ووٹ پڑے، .ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوان میں معمولی برتری حاصل ہے۔
ووٹنگ میں دو ریپبلکن ارکان نے قرارداد کے حق میں جبکہ چار ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
قرارداد کے حامی ارکان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق جنگ کی منظوری دینا کانگریس کی ذمہ داری ہے اور اس اقدام کا مقصد وہ اختیار دوبارہ حاصل کرنا تھا۔
ارکان کا مزید کہنا تھا کہ صدر کو کانگریس کے سامنے آ کر یہ بتانا چاہیے کہ امریکہ ایران کے خلاف کیوں لڑ رہا ہے اور یہ جنگ کیسے ختم ہوگی۔
دوسری جانب مخالف ارکان نے ڈیموکریٹس پر الزام لگایا کہ وہ صرف صدر ٹرمپ کی مخالفت کی وجہ سے یہ معاملہ ووٹنگ کے لیے لا رہے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد سے جاری لڑائی میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم چھ امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو بھی جنگ فوری طور پر نہیں رکتی، کیونکہ اس کے نافذ ہونے کے لیے سینیٹ کی منظوری اور صدر کے ممکنہ ویٹو کو ختم کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی۔
1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت صدر بغیر کانگریس کی منظوری کے زیادہ سے زیادہ 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ انتظامیہ کو اپریل کے آخر تک کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کرنا ہوگی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کے گولڈن ڈوم دفاعی منصوبے کے لیے فنڈنگ پر سوالات، کانگریس سے منظوری مشکل
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کے لیے پیش کردہ گولڈن ڈوم منصوبے کو فنڈنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، کیونکہ مالی سال 2027 کے لیے منصوبے کی زیادہ تر فنڈنگ ایک ایسے مفاہمتی پیکیج سے منسلک ہے جسے کانگریس سے منظور کرانا مشکل نظر آرہا ہے۔
کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کے مطابق میزائل دفاعی پروگرام کی ترقی اور آپریشن پر 20 برسوں کے دوران تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آنے کا اندازہ ہے۔
پینٹاگون نے 350 ارب ڈالر کے مجوزہ مفاہمتی پیکیج کے ذریعے گولڈن ڈوم کے لیے 17 ارب ڈالر طلب کیے ہیں، جبکہ اس کے 1.15 ٹریلین ڈالر کے بنیادی بجٹ میں اس پروگرام کے لیے صرف 40 کروڑ ڈالر مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے میزائل ڈیفنس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر تھامس کاراکو نے کہا کہ جمعرات کو نئے مالی سال کے آغاز کے وقت پروگرام کے لیے کوئی فنڈنگ موجود نہیں تھی۔
انہوں نے ’دی ہل‘ سے کہا، ’’یہ مالی سال 2027 کی تخصیصات سے بنے گا یا ختم ہوجائے گا، اور میں نے کہا تھا کہ گولڈن ڈوم کے لیے یہی سب سے فوری ضرورت ہے۔ یہ اس نقطۂ نظر سے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ رقم کے بغیر کوئی پروگرام نہیں، صرف پاورپوائنٹ سلائیڈز ہیں۔‘‘
فنڈنگ کی حکمت عملی پر 29 ستمبر کو سینیٹ کی آرمڈ سروسز ذیلی کمیٹی کی سماعت میں بھی سوالات اٹھائے گئے، جہاں کاراکو نے گواہی دی۔
دریں اثنا، ساؤتھ ڈکوٹا سے ریپبلکن سینیٹر مائیک راؤنڈز نے سوال اٹھایا کہ پروگرام کو دو طرفہ تخصیصات کے بجائے مفاہمتی عمل پر انحصار کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔ جبکہ مین سے آزاد سینیٹر اینگس کنگ نے کہا کہ یہ منصوبہ ’’امریکی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اب تک کے سب سے مہنگے اور بڑے منصوبوں‘‘ میں سے ایک ہے، اس لیے یہ بات ’’بہت تشویش ناک‘‘ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے روایتی بجٹ مختص کرنے کے عمل کے ذریعے اسے فنڈز فراہم نہیں کیے۔
ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اعلان کیا تھا کہ پینٹاگون خلا میں نصب انٹرسیپٹرز اور میزائلوں کا سراغ لگانے اور انہیں راستے میں روکنے کے لیے سیٹلائٹس پر مشتمل ایک وسیع ملکی میزائل دفاعی نظام تیار کرے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اس نظام کا مقصد بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائلوں، جدید کروز میزائلوں اور دیگر نئی نسل کے فضائی خطرات سے دفاع کرنا ہے۔
سی بی او نے مئی میں اندازہ لگایا تھا کہ گولڈن ڈوم پر 20 برسوں میں تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آئے گی، جس میں خلا پر مبنی میزائل وارننگ اور ٹریکنگ نظام کے لیے 740 ارب ڈالر، زمینی دفاعی نظام کی مختلف تہوں کے لیے 270 ارب ڈالر، جبکہ سینسرز، تحقیق و ترقی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے 180 ارب ڈالر شامل ہیں۔
پروگرام کی نگرانی کرنے والے اسپیس فورس کے جنرل مائیکل گوئٹلین نے مارچ میں اس کی تخمینی لاگت 185 ارب ڈالر بتائی تھی۔
کانگریس نے اس سے قبل جولائی 2025 میں ٹرمپ کے دستخط سے نافذ ہونے والے ’ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ‘ (او بی بی بی اے) کے ذریعے گولڈن ڈوم کے لیے 24.4 ارب ڈالر مختص کیے تھے۔
مارچ میں ایک مزید مفاہمتی بل کے ذریعے تعمیرات شروع کرنے کے لیے 22.5 ارب ڈالر فراہم کیے گئے تھے، تاہم گوئٹلین نے رواں موسم گرما میں کہا تھا کہ چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں اس رقم کا 90 فیصد حصہ مختص کیا جاچکا ہے۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل نے فوج کو غزہ پر حملوں کے لئے تیاری کا حکم دے دیا
تل ابیب، اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اِسے حماس کے، غزہ میں قابض اسرائیلی فوجیوں پر، حملے کی تیاریوں میں ہونے کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق کاٹز نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوج کو کسی بھی ممکنہ بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری رہنے کی ہدایت کی ہے۔
کاٹز نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں غزہ کے عوام کو ’’بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘‘۔
واضح رہے کہ جیسے جیسے اسرائیل میں 27 اکتوبر کو متوقع انتخابات قریب آ رہے ہیں اسرائیلی ذرائع ابلاغ اس امکان کی جانب اشارہ کرنا شروع ہو گئے ہیں کہ تل ابیب حکومت، غزہ اور لبنان پر حملوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایران پر بھی، حملے کر سکتی ہے۔
روزنامہ اسرائیل ہیوم کی خبر کے مطابق اسرائیل امریکہ کی شمولیت کے بغیر ایران پر ایک نئے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی وزیر خارجہ اچانک آئس لینڈ پہنچ گئے
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پیر کی شب آئس لینڈ پہنچے تاکہ گرین لینڈ سے متعلق واشنگٹن کے ایک معاہدے کے بعد قطب شمالی میں امریکی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے تین یورپی ممالک کا دورہ شروع کر سکیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس دورے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ روبیو ، ریک یاوِک میں حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ “اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال” کیا جا سکے۔
یہ برق رفتار دورہ، جو جتنا سیاسی ہے اتنا ہی علامتی بھی ہے، نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حاشیے پر ستمبر کے آخر میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ امریکہ کے ایک سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد ہو رہا ہے۔ اس معاہدے نے بظاہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو خریدنے یا اپنے ساتھ ضم کرنے کی دھمکیوں کا خاتمہ کر دیا ہے ۔
روانگی سے قبل، روبیو نے آئس لینڈ کو “امریکہ کا ایک اچھا دوست” قرار دیا۔
اس معاہدے کے تحت، واشنگٹن گرین لینڈ پر دو نئے فوجی اڈے قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس سے ڈنمارک کا یہ خودمختار علاقہ امریکی مدار میں مزید گہرائی تک چلا جائے گا۔
آرکٹک میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے ساتھ، آئس لینڈ نے ایک اسٹریٹجک کھلاڑی کے طور پر دوبارہ اپنا مقام حاصل کر لیا ہے، حالانکہ یہ ملک سیکیورٹی کے لیے اب بھی کافی حد تک امریکہ پر انحصار کرتا ہے۔
ستمبر کے آغاز میں، ٹرمپ نے ایک بار پھر مصنوعی ذہانت) سے تیار کردہ نقشہ شیئر کر کے ایک نیا تنازعہ کھڑا کیا تھا جس میں شمالی امریکہ، کیریبین، گرین لینڈ اور آئس لینڈ کو “ریاستہائے متحدہ امریکہ” کے طور پر دکھایا گیا تھا۔
جواب میں، آئس لینڈ نے امریکی سفیر کو طلب کیا تاکہ “ایک واضح پیغام پہنچایا جا سکے کہ یہ تصویر سراسر نامناسب تھی۔
آئس لینڈ کے عوام نے اگست کے آخر میں یورپی یونین میں شامل ہونے کے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے خلاف 52.8 فیصد بمقابلہ 47.2 فیصد ووٹ دیا تھا، جو کہ 2013 سے منجمد ہیں۔
آئس لینڈ کا دورہ کرنے والے آخری امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن تھے جنہوں نے 2021 میں دورہ کیا تھا۔
1944 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے آئس لینڈ کی کبھی کوئی فوج نہیں رہی۔
یہ اپنی سیکیورٹی کے لیے ناٹو اور 1951 میں امریکہ کے ساتھ دستخط کیے گئے ایک دوطرفہ دفاعی معاہدے پر انحصار کرتا ہے۔
واشنگٹن کا آئس لینڈ میں کوئی مستقل اڈہ نہیں ہے، لیکن وہ آرکٹک کے اُن راستوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن پر روس اور چین کی نظریں ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر گرین لینڈ کے مناظر کے اوپر اپنی ایکاے آئی سے تیار کردہ تصویر پوسٹ کر کے گرین لینڈ کے بارے میں اپنے جنون کا دوبارہ اشارہ دیا، جس کے ساتھ “ہیلو، گرین لینڈ!” کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔
محکمہ خارجہ نے بتایا کہ آئس لینڈ کے بعد، روبیو ایتھنز جائیں گے تاکہ نیٹو کے رکن ملک یونان کے ساتھ علاقائی اور توانائی کی سیکیورٹی پر “اسٹریٹجک ڈائیلاگ” میں حصہ لے سکیں۔
یہ دورہ یونان میں امریکی سفیر کمبرلی گلفائل سے متعلق مفادات کے ممکنہ تصادم کی میڈیا رپورٹس کے بعد ہو رہا ہے۔
روبیو کے نام ایک خط میں، کانگریس مین گریگوری میکس نے وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی وضاحت طلب کی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کمبرلی گلفائل نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ امریکہ یورپی ممالک میں “سیاسی تبدیلی” پیدا کر سکتا ہے۔
روبیو بعد میں لزبن میں ایک مختصر قیام کے ساتھ اپنے یورپی دورے کا اختتام کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا1 week agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا6 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا1 week agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
