دنیا
ایرانی صدر نے شہریوں سے امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ملاحوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی اپیل کی
تہران، ایران کے صدر پیزشکیان نے منگل کے روز ملک کے لوگوں سے ان 84 ملاحوں کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کی اپیل کی جو اس ماہ کے شروع میں بحر ہند میں ایرانی بحریہ کے فریگیٹ IRIS Dena کے ڈوبنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔ایک بیان میں، انہوں نے ملاحوں کو “اعلیٰ درجے کے شہدا” قرار دیا جن کی قربانی ہزاروں دیگر افراد کو قوم کے دفاع کے لیے تحریک دے گی۔
توقع ہے کہ مرنے والے ملاحوں کے تابوتوں کو تہران کے 34 عوامی چوراہوں پر آویزاں کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو آخری رسومات سے قبل ان کی تعزیت کی جاسکے۔ایران کے اعلیٰ سیکورٹی اہلکار علی لاریجانی، جن کی قسمت اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے دعویٰ کے بعد غیر یقینی ہے کہ وہ 16 مارچ کو کیے گئے حملوں میں مارے گئے، نے بھی ایکس پر ایک پوسٹ لکھی ہے۔
لاریجانی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹ میں ہلاک ہوئے ملاحوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا کہ ان کی یاد “ایرانی عوام کے دلوں میں ہمیشہ رہے گی” اور ان کی شہادت آنے والے برسوں تک ایران کی مسلح افواج کو مضبوط کرے گی۔
IRIS Dena، جس میں تقریباً 130 ملاح سوار تھے، 4 مارچ کو سری لنکا کے جنوبی ساحل سے تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) دور تھا اس پر مبینہ طور پر امریکی آبدوز کے ٹارپیڈو سے حملہ کیا گیا تھا۔ سری لنکا نے اطلاع دی ہے کہ 32 ملاح زندہ بچ گئے ہیں اور وہ فی الوقت سری لنکا میں ہی رہیں گے، جب کہ مرنے والوں کی لاشیں ایران بھیج دی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، دنیا کے سب سے طاقتور تارپیڈو، مارک 48 سے وار کھانے کے بعد ڈینا کو ڈوبنے میں تین منٹ لگے، جسے امریکی بحریہ کی ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوز یو ایس ایس شارلٹ نے قریب سے ہی داغہ تھا ۔
امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیو میں جہاز کو ٹوٹتے ہوئے دکھایا گیا، جس کی وجہ سے دھماکے سے پہلے ہی اس کی سٹرن بلند ہو گئی تھی۔ یہ فریگیٹ ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والی فوجی مشقوں میں شامل ہونے کے بعد واپس ایران جا رہا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حملے کو “ایران کے ساحلوں سے 2000 میل دور سمندر میں ہونے والا ظلم” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ امریکہ کو اس حملے پر افسوس ہوگا۔
یواین آئی۔ الف م
دنیا
روس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ وہ یورپ پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کہا: “اگر کالیننگراد سمیت روس پر براہِ راست حملہ ہوا تو ہمارے ملک کے پاس موجود تمام ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ ناگزیر اور فوراً زیرِ غور آجائے گا۔”
ولادیمیر پوتن نے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ولدای مباحثہ کلب کی سالانہ نشست میں روس اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی سمیت یوکرین میں جاری جنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
روسی وزارتِ خارجہ کے کالیننگراد کے بارے میں بیان اور بعض ممالک کو بھیجے گئے خطوط میں شامل عبارتوں کا دفاع کرتے ہوئے پوتن نے کہا: “اگر روس سے منسلک کسی بھی علاقے پر براہِ راست حملہ ہوا تو ہمارے ملک کے پاس موجود تمام ہتھیاروں کا استعمال ناگزیر اور فوری ماہیت اختیار کر لے گا۔”
پوتن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک کو دھمکانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کہا: “ہم کسی کو ڈراتے نہیں ۔ روسی وزارتِ خارجہ کا بیان اور بعض ممالک کو بھیجے گئے خطوط دھمکی دینے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے خلاف دھمکانے کی کوشش کا جواب ہیں۔”
پوتن نے اعادہ کیا کہ ہم کسی پر حملے کا منصوبہ نہیں بنا رہے: “نہ 2029 میں، نہ 2030 میں، نہ 2050 میں ہمارے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں ، مگر اگر حملہ ہوا تو ہمیں جواب دینا پڑے گا۔ یورپی ممالک کے شہریوں کو یہ بات واضح طور پر سمجھنی چاہیے کہ ہمارے موقف اور اُن کے ممالک کے بعض سیاسی حکمرانوں کے موقف میں فرق ہے۔”
پوتن نے بتایا کہ روس کے سامنے ایک فریق ہے جس کی آبادی روس سے دو گنا ہے اور جس کے پاس بڑی اقتصادی و عسکری صلاحیت موجود ہے اور کہا کہ ایسے خطرے کے مقابلے میں ہماری طاقت اور وسائل محدود رہیں گے، اس لیے ہمیں اپنی برتری استعمال کرنا پڑے گی۔
ولادیمیر پوتن نے کہا: “آج روس کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ کسی اور کے پاس نہیں۔ یہی ہماری برتری ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
واشنگٹن، یکم اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کردی کیونکہ اس کی شرائط ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کے بقول ایران نے آبنائے کے صرف ’’کچھ حصوں‘‘ کو کھولنے کی پیشکش کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سات روز میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ امریکہ کو پیش کیا ہے۔ بعد میں ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے جوابی تجویز دی ہے جس پر تہران غور کررہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ہفتوں میں بڑی حد تک رک گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن ہے‘‘، اور امریکہ کے پاس ’’بہت سے ہتھیار‘‘ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں توقع تھی کہ جنگ چھ سے آٹھ ہفتے جاری رہے گی، لیکن ایران کی جوہری صلاحیتوں کی تباہی کے بعد انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تہران اپنی صلاحیتیں کسی اور شکل میں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، باوجود اس کے کہ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران پر تین حملے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے۔‘‘
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی مسائل حل کرنے اور پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ عالمی ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد تجارت بھی آبنائے سے ہوتی ہے، جس میں قطر کا نمایاں حصہ ہے۔
ایران کے شمال میں واقع آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں اور یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے توانائی کے علاوہ ایل این جی، کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوران ایران پر تین حملوں کے باوجود تہران واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کوشش جاری رکھے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق کاروباری شخصیات سے ملاقات میں پیزشکیان نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے، اگرچہ امریکہ نے ہمارے ملک کو تین بار نشانہ بنایا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری شعبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کررہی ہے اور ایرانی قیادت معاشی مشکلات سے نمٹنے کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کررہی ہے۔
پیزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے پیش نظر ایران پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان سمیت پڑوسی ممالک کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں جاری رکاوٹوں پر عالمی سطح پر توانائی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل اور آبنائے ہرمز ٹاسک فورس کے سربراہ جارج موریرا دا سلوا نے یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ بحران عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کو متاثر کررہا ہے، جبکہ خلیج سے کھاد کی درآمد پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک خاص طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے سوڈان، صومالیہ، موزمبیق اور تنزانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی کھاد کی 50 سے 60 فیصد ضروریات خلیجی خطے سے پوری ہوتی ہیں۔
دا سلوا کے مطابق بحران کے باعث کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور اس کے استعمال میں کمی آئی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے اور غذائی عدم تحفظ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے ایک مجوزہ طریقہ کار تیار کیا ہے۔ اس کے تحت شپنگ ایجنٹس کھاد کی ترسیل کے لیے درخواستیں رجسٹر کریں گے اور منظوری کے بعد اقوام متحدہ متعلقہ فریقوں اور ریاستوں کے ساتھ رابطہ کرکے بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا7 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
