جموں و کشمیر
ایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
پہلگام، جیسے جیسے سیاح پہلگام کا رخ کر رہے ہیں، سیاحوں کی مجموعی تعداد بدستور کم ہے کیوں کہ کئی اہم مقامات اب بھی بند ہیں، جن میں بائیسرن چراگاہ بھی شامل ہے، جہاں گزشتہ سال دہشت گردوں نے 25 سیاحوں اور ایک مقامی شہری کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس بندش کی وجہ سے سیاحوں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا ہے۔
22 اپریل کے اس حملے نے نہ صرف 26 جانیں لیں بلکہ ہندوستان اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اگرچہ اس کے بعد حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں، لیکن پہلگام سے تقریباً 6 کلومیٹر دور واقع بائیسرن چراگاہ، جسے “منی سوئٹزرلینڈ” بھی کہا جاتا ہے، کی مسلسل بندش نے مسافروں کے حوصلے بحال کرنے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔
بائیسرن ان درجنوں سیاحتی مقامات میں شامل تھا جنہیں گزشتہ سال دہشت گردانہ حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا، جن میں سے بہت سے مقامات گزشتہ ایک سال کے دوران دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔
اس مشہور سیاحتی مقام کے داخلے پر، حکومت نے ایک یادگار نصب کی ہے جس میں گزشتہ سال کے حملے میں ہلاک ہونے والے تمام 26 افراد کے نام درج ہیں، جن میں مقامی رہائشی عادل شاہ کا نام 22 ویں نمبر پر ہے۔ پہلگام آنے والے سیاح یہاں تصاویر کھنچواتے ہیں، نام پڑھتے ہیں اور پھر دریائے لڈر کی طرف بڑھ جاتے ہیں، جو پہلگام کی وادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور پھر سیر و تفریح کے بعد وہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں۔
پہلگام ٹیکسی ڈرائیورز یونین کے صدر غلام نبی نے کہا کہ ”سیاح واپس تو آ رہے ہیں، لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ رات کو قیام نہیں کر رہے۔ اگر وہ یہاں نہیں رکیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ گھڑ سواری یا ٹیکسی کی خدمات استعمال نہیں کریں گے اور ہوٹلوں میں بھی کوئی بکنگ نہیں ہوگی۔”
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال چار لاکھ سے کچھ زیادہ سیاحوں نے پہلگام کا دورہ کیا، جو کہ سالانہ 12 سے 15 لاکھ کی معمول کی تعداد کے مقابلے میں ایک بڑی گراوٹ ہے۔ متعلقہ افراد اس کمی کی بڑی وجہ بائیسرن اور دیگر قریبی مقامات کی مسلسل بندش کو قرار دیتے ہیں۔
ایک اور مقامی تاجر نے بتایا کہ ”برسوں سے بائیسرن کبھی بند نہیں رہا تھا۔ اسے صرف گزشتہ سال کے حملے کے بعد بند کیا گیا تھا۔ ہم حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں سے اس علاقے کو محفوظ بنا کر دوبارہ کھولنے کی درخواست کر رہے ہیں، لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ زیادہ تر سیاح خاص طور پر بائیسرن کے لیے آتے ہیں اور جب وہ اسے بند پاتے ہیں تو مختصر دورے کے بعد چلے جاتے ہیں۔”
انہوں نے ایک اور بڑے پرکشش مقام ‘چندن واڑی’ کی بندش کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دو اہم مقامات بند ہوں گے تو سیاح پہلگام میں کیوں رکیں گے؟ اس سے غلط پیغام جاتا ہے۔”
بیتاب ویلی مرکزی پہلگام کے باہر واحد مقام ہے جو فی الحال کھلا ہوا ہے۔
جاری۔۔۔ یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
