دنیا
اقوامِ متحدہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ملاحوں کو نکالے گا
لندن، اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے 11,000 سے زیادہ ملاحوں کو نکالنے کی تیاری کر رہی ہے۔
آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ’بڑے پیمانے پر آپریشن‘ ایران، عمان، امریکہ، خطے کے دیگر ساحلی ممالک اور سمندری صنعت کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی ہیں اور ان کارروائیوں کے لیے محفوظ بحری آمدورفت کے حالات کی مکمل تصدیق کر لی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے گزشتہ ہفتے ایک عبوری معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، تاہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مختلف شقوں پر امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں یہ ضمانت شامل ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معائنہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کرے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’ایران نے مستقبل میں طویل مدت تک اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنوں پر مکمل رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس سے ’جوہری دیانت داری‘ یقینی بنے گی۔‘‘
مسٹر ٹرمپ کی اس پوسٹ سے کچھ وقت پہلے ایران نے کہا تھا کہ گزشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کا نشانہ بننے والے جوہری مراکز کا معائنہ اقوامِ متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی نہیں کر سکے گی۔
اس کے جواب میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’ ایرانیوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے باقیات کے مؤثر آئی اے ای اے معائنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایرانی حکومت جاپنے گھریلو لوگوں کے لئے جو کہنا چاہے کہہ سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے منگل کو پاکستان کے دورے کے دوران کہا کہ ایران “کسی بھی حالت میں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔”
جاری یواین آئی۔الف الف
دنیا
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
تل ابیب، اسرائیل کے فضائی حملوں میں لبنانی سرحد کے جنوبی حصے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کے دوران، وزیر دفاع کاٹز نے اسرائیل افواج کو لبنان، شام اور غزہ کے مقبوضہ علاقوں میں برقرار رکھنے کا واضح عہد کیا ہے۔
یہ حملے ایک ایسے ماحول میں ہوئے جہاں اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی کے خاتمے کے عالمی مطالبات کے باوجود، بیروت کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جو لبنانی اراضی سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کا تقاضا کرتا ہے۔
لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کی رپورٹ کے مطابق، بنت جبیل کے علاقے میں ایک اسرائیلی ڈرون نے کفرا میں ایک سڑک کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
این این اے کے مطابق، اسرائیلی افواج نے حدّاثا میں ایک بڑا دھماکہ کیا اور ایک اسرائیلی ڈرون نے بیت یہون کے بیرونی علاقوں میں دھماکہ خیز مواد گرایا۔
این این اے کے مطابق، اسرائیلی افواج نے مرجعیون کے علاقے میں دیر سیریان کے قریب فضائی حملہ کیا اور وادی سلوقی روڈ پر واقع وادی تولین میں دھماکے ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صور کے علاقے میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے منصوری پر دو الگ الگ حملے کیے، جب کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے اس قصبے پر ایک شاک بم گرایا۔این این اے کی خبر کے مطابق، اسرائیلی ڈرونز نے بیروت کی فضاؤں میں انتہائی کم بلندی پر پروازیں کیں جو دارالحکومت کے جنوبی مضافات تک پہنچ گئیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے یہ بیانات جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ ایک علاقے سے اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں دیے۔
اپنے خطاب میں کاٹز نے مغرب میں بحیرہ روم کے ساحل سے لے کر مشرق میں قلعہ بوفورٹ اور جبل شیخ (ہرمون) کے دامن تک پھیلے ہوئے اس خطے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “جیسا کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور میں نے واضح طور پر کہا ہے، ہم اس سیکیورٹی زون سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم یہاں سے نہیں جائیں گے اور انخلا نہیں کریں گے۔
ہم اس علاقے کو محفوظ بنائیں گے اور شمالی شہریوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔”
کاٹز نے کہا کہ اسرائیل لبنان، شام یا غزہ کے سیکیورٹی زونز سے کسی بھی صورت حال میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج کو شمالی اسرائیلی بستیوں اور اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے اس علاقے میں تعینات کیا گیا ہے؛ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ فوج نے قلعہ بوفورٹ پر قبضہ کر لیا ہے، جو ان کے بقول میتولا اور دیگر شمالی بستیوں کی حفاظت کرتا ہے۔
دوسری جانب، ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز کے جنوبی لبنان میں قبضہ برقرار رکھنے کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ بیانات امریکی اور لبنانی فریم ورک معاہدے کے تحت اسرائیلی حکومت کے وعدوں کے خلاف ہیں۔
ایکسیسوس کی رپورٹ کے مطابق، محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ تمام فریقین اس فریم ورک کے مطابق کام کریں جس پر اتفاق ہوا ہے؛
اسرائیل نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان میں اس کا کوئی علاقائی مقصد نہیں ہے۔
جنوبی لبنان میں مستقل فوجی موجودگی، نہ تو متعلقہ فریم ورک کے تحت کیے گئے وعدوں سے میل کھاتی ہے اور نہ ہی دونوں ریاستوں کے طویل مدتی امن اور سلامتی کے موافق ہے۔”
یو این آئی۔ْ ع ا۔
دنیا
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا نے پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 265 ہو گئی ہے، جب کہ کم از کم 3,494 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 496 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں اور سفارتی مشنز پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 07:34 بجے چوکو صوبے کے شہر سان ہوزے ڈیل پلمار کے قریب 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا یہ زلزلہ، گزشتہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ بن گیا ہے۔
ایمرجنسی ٹیموں نے پریرا اور کالی جیسے بڑے شہروں میں بھاری مشینری، کھوجی کتوں اور انسانی زنجیروں کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔”
نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یو این جی آر ڈی) کی جانب سے جاری کردہ نقصانات کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں 9,215 مکانات تباہ اور 45,457 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر آفت (ڈیزاسٹر) کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یو این جی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے سخت آپریشنل معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت چار شراکت دار ممالک: امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے آنے والی تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو ترجیح دے گی۔
زلزلے کے اثرات مرکزِ زلزلہ کے قریب دیہی علاقوں میں انتہائی شدید تھے۔
مقامی ایمرجنسی یونٹس نے ویلے ڈیل کاؤکا کے شہر ال کائرو میں رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے شہری انفراسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور مقامی عمارتوں کا تقریباً 10 فیصد حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
