تازہ ترین
ویڈیو: مرکز نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کیوں کی؟
رضوان سلطان:
چھ روز قبل بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کے بعد ریاست کی معروف سیاسی مذہبی وسماجی تنظیم جماعت اسلامی پر جمعرات کی شام مرکزی حکومت نے پانچ سال کے لئے پابندی عائد کر دی ہے ۔
وزارت داخلہ نے جماعت اسلامی پر جنگجو تنظیموں کے ساتھ نزدیکی رابطہ کا الزام عائد کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جماعت انتہا پسندی اور عسکریت کی حمایت کرتی ہے۔ جبکہ جماعت اسلامی پر ملک مخالف جذبات بھڑکانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ۔
اسکے علاوہ مرکزی حکومت اس خیال کی حامی ہے کہ اگر جماعت اسلامی کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا اور قابو نہ کیا گیا تو اس سے یہ منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
جیسے کہ جموں وکشمیر ریاست کو بھارت سے علیحدہ کرنے کی وکالت جاری رکھے گی، نیز ریاست کا مرکزکے ساتھ الحاق کی مخالفت کرے گی۔ اور اس کے علاوہ اور بھی کچھ باتوں کا ذکر نو ٹیفیکیشن میں کیا گیا ہے ۔
واضح رہے چھ روز قبل وادی میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر حمید فیاض کے علاوہ جماعت کے مرکزی و ضلعی سطح کے تین سو سے زائد عہدیدارن کو گرفتار کیا گیا جن میں کئی سنٹرل جیل سرینگر منتقل کئے گئے ہیں ۔
اسکے بعد ہی مرکز نے ۱۰۰ سنٹرل فورسز کمپنیاں وادی بھیجی جن میں بی ایس ایف بھی شامل ہے جسے ۹۰ کے بعد پہلی بار وادی میں تعینات کیا گیا ۔ جس سے وادی میں خوف وہراس پھیل گیا ۔ ریاستی انتظامنیہ نے طرف سے کہا گیا کہ یہ صرف انتخابات کی تیاروں کو لے کر گرفتاریاں اور فورسز کی مزید نفری تعینات کی گئی ہے ،۔
اسکے بعد اب کہیں اضلاع میں جماعت کے عہدیدران کی گرفتاریاں پھر سے شررع کی گئی ہیں جبکہ بانڈی پورہ اور کپوارہ کے علاوہ ضلعی دفاتر کو بھی سیل کیا گیا ہےء ۔۔ وہیں جماعت اگر چہ جماعت کے عہدیدان گھروں کو بھی سیل کیا گیا تھا تاہم بعد میں یہ سیل ہٹا دی گئی ۔
جماعت کے فلاح عام ٹرسٹ ادارہ کے تحت چلنے والے سکولوں میں زیر تعلم بچوں کے والدیں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گےئی ہے کہ کہیں ایف ے ٹی کےء سکولوں پر بھی اب پابندی عائد نہ کی جائے ۔
فلاح عام ٹرسٹ کے چئیر مین محمد مقبول کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی کا جماعت کیساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ۔ایف اے ٹی کے اس وقت وادی میں تین سو سکول چل رہے ہیں جن میں دس ہزار اساتذہ ہیں اورر ایک لاکھ سے زائد زیر تعلیم طلاب ہیں ، جن کا مستقبل اس فیصلے سے خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔
ادھر گونر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے واضح کر دیا کہ ریاستی سرکار فلاح عام ٹرسٹ کے سکولوں پر پابندی کا فیصلہ زمینی سورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی کر ے گی۔
جماعت اسلامی نے اپنے دفاع اس پابندی کو غیر آینی غیر جمہوری اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے ۔ جماعت پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ۔ جماعت کی ہر سرگرمی سب کے سامنے عیاں ہے
۔ اب جماعت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ پابندی کے خلاف عدالت کا رخ کرے گی ۔۔
پابندی کے خلاف ریاست کی تمام مین سٹریم پارٹیوں ارو علیحدگی پسند جماعتون نے سخت مذمت کی ہے ۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ جماعت خالص ایک ایک دینی اور فلاحی تنظیم ہے ۔ جماعت پر پابندی کو جے آر ایل نے استعمار ی حربہ قرار دیا ۔سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ جماعت کا ملی ٹنٹون کے ساتھ تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ۔ یہ ایک فلاحی جامعت ۔ اس پر پابندی کے سخت نتائج بر آمد ہونگے ۔۔
پیپلز کانفرنس کے چیر میں سجاد غنی لون ایک ٹویٹ کے زریعے کہا کہ جماعت پر پابندی کیون جامعت ایک سیای و مذہبی جماعت ہے اس تنظیم نے شاندار رہنما اور قانون ساز عطا کئے ہیں گی ۔
این سی اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ جامعت پر پابندی لگانے سے حکومت کچھ بھی حاصل نہین کرے گی بلکہ ایسے فیصلوں سے جموں کشمیر میں مفاہمت اور مصالحت کے سللسے میں رکاوٹ آئے گی ۔
حال میں سیاست میں قدم رکھنے والے شاہ فیصل نے لکھا کہ حکومت کو ایف اے ٹی سکولوں کو سیل کرنے سے پہلے ہزاروں ان سکولی بچوں کا سوچنا چاہیے جو وہاں زیر تعلیم ہیں اور ان اساتذہ کا جن کا گھر چلتا ہے ۔، اس سے کشمیر نمیں حالات مذید خراب ہونگے ۔
پی ڈٰ پی عبدالقیوم وانی نے اسے غیر جمہوری ، غیر آئینی قرار دے کر کہا کہ انہیں اس فیصلے سے حیرانی ہوئی اور اس فیصلے کو جلد منسوخ کرنے کی مانگ کی ہے۔۔۔
انجیئر رشید نے اسے مضحکہ خیز قرار دے کر کہا کہ جماعت پر پابندی عائد کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں ۔وادی کے مشہور عالم دین عبدالرشید داوودی نے اسے افسوس ناک قرار دے کر کہا جماعت پر پابندی لگانا امن و امان کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہے ،ادھر جماعت اسلامی ہند نے بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے پابندی کو ہٹانے کی مانگ کی ہے
جماعت اسلامی جموں کشمیر پر یہ نہ پہلی بار پابندی عائد کی گئی ہے اور نہ آخری ہو گی ۔ پاکستان بھارت کے الگ ہونے کے بعد جماعت ۱۹۵۴ میں ریاست میں الگ اپنے ایک آئین کے تحت باضابطہ طور قائم ہوئی ۔ اسکے بعد جماعت نے ریا ست میں اپنی جڑے گھاڑتے ہوئے ۱۹۷۱ کے لوک سبھا انتخابات اور پھر ۷۲ میں اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا ۔جماعت نے ان انتخابات میں دھندلی کا الزام لگایا اور ۲۲ میں سے پانچ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ۔
۱۹۷۵ میں میں شیخ عبداللہ کی ریاست کی سیاست میں واپسی ہوئی لیکن اندر ا۔ عبداللہ ایکارڈ کیساتھ ۔ جس کی جماعت نے شد ید مذمت کی اور کہا کہ یہ مسلہ کشمیر پر یو این قرارداد کی خلاف ورزی ہے ۔جس کے بعد جماعت پر پابندی عائد کی گئی ۔
اسکے بعد جماعت نے ۸۳ ء کے انتخابات میں حصہ لیا اور پھر ۸۷ء میں مختلف مذہبی جماعتوں نے مل کر ایک اتحاد مسلم یونائیڈڈ فرنٹ قایم کیا ۔
جس میں جماعت کی سربراہی والے اتحاد نے تیس فیصد ووٹ حاصل کئے لیکن اس اتحاد نے صرف چار سیٹیبں حاصل کی ۔ اور ساتھ ہی دھاند لی کا الزام لگایا۔
جو ریاست میں شورش کی وجہ بنی ۔ یو سف شاہ سید صلاؑ ح دین بنے ۔ رپورٹس کے مطابق اگر دھاندلی نہ ہوتی تو ایم یو ایف ۱۵ سے بیس سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو تا ۔ ۹۰ میں دوسری بار جماعت پر پابندی عائد کی گئی ۔ پھر ۹۳ میں کانگرس سرکار نے ہٹا لی تھی ۔
تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جماعت پر پابندی عائد کرنے کے سنگین نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں کیوں کہ ان سے کشمیری لوگ بھی ہمدردی ر کھتے ہیں ۔
عوامی حلقوں کا مننا ہے کہ جماعت کے تحت چل رہے ہزاروں بیت المالوں کے بند ہونے کی وجہ سے کہیں بیواہیں اور یتیم بے سہار ا ہو گئے ہیں اور اب وہ بھیک مانگنے کے لئے سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہوسکتے ہیں ۔
اب دیکھنے والی بات ہو گی کہ جماعت پر پابندی کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے اگر نہیں تو اس کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں ۔
جماعت پر لگی پابندی پے آپ کی کیا رائے ہے، کمنٹ بکس میں ضرور بتائیں ۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
