تازہ ترین
ویڈیو: مرکز نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کیوں کی؟
رضوان سلطان:
چھ روز قبل بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کے بعد ریاست کی معروف سیاسی مذہبی وسماجی تنظیم جماعت اسلامی پر جمعرات کی شام مرکزی حکومت نے پانچ سال کے لئے پابندی عائد کر دی ہے ۔
وزارت داخلہ نے جماعت اسلامی پر جنگجو تنظیموں کے ساتھ نزدیکی رابطہ کا الزام عائد کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جماعت انتہا پسندی اور عسکریت کی حمایت کرتی ہے۔ جبکہ جماعت اسلامی پر ملک مخالف جذبات بھڑکانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ۔
اسکے علاوہ مرکزی حکومت اس خیال کی حامی ہے کہ اگر جماعت اسلامی کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا اور قابو نہ کیا گیا تو اس سے یہ منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
جیسے کہ جموں وکشمیر ریاست کو بھارت سے علیحدہ کرنے کی وکالت جاری رکھے گی، نیز ریاست کا مرکزکے ساتھ الحاق کی مخالفت کرے گی۔ اور اس کے علاوہ اور بھی کچھ باتوں کا ذکر نو ٹیفیکیشن میں کیا گیا ہے ۔
واضح رہے چھ روز قبل وادی میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر حمید فیاض کے علاوہ جماعت کے مرکزی و ضلعی سطح کے تین سو سے زائد عہدیدارن کو گرفتار کیا گیا جن میں کئی سنٹرل جیل سرینگر منتقل کئے گئے ہیں ۔
اسکے بعد ہی مرکز نے ۱۰۰ سنٹرل فورسز کمپنیاں وادی بھیجی جن میں بی ایس ایف بھی شامل ہے جسے ۹۰ کے بعد پہلی بار وادی میں تعینات کیا گیا ۔ جس سے وادی میں خوف وہراس پھیل گیا ۔ ریاستی انتظامنیہ نے طرف سے کہا گیا کہ یہ صرف انتخابات کی تیاروں کو لے کر گرفتاریاں اور فورسز کی مزید نفری تعینات کی گئی ہے ،۔
اسکے بعد اب کہیں اضلاع میں جماعت کے عہدیدران کی گرفتاریاں پھر سے شررع کی گئی ہیں جبکہ بانڈی پورہ اور کپوارہ کے علاوہ ضلعی دفاتر کو بھی سیل کیا گیا ہےء ۔۔ وہیں جماعت اگر چہ جماعت کے عہدیدان گھروں کو بھی سیل کیا گیا تھا تاہم بعد میں یہ سیل ہٹا دی گئی ۔
جماعت کے فلاح عام ٹرسٹ ادارہ کے تحت چلنے والے سکولوں میں زیر تعلم بچوں کے والدیں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گےئی ہے کہ کہیں ایف ے ٹی کےء سکولوں پر بھی اب پابندی عائد نہ کی جائے ۔
فلاح عام ٹرسٹ کے چئیر مین محمد مقبول کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی کا جماعت کیساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ۔ایف اے ٹی کے اس وقت وادی میں تین سو سکول چل رہے ہیں جن میں دس ہزار اساتذہ ہیں اورر ایک لاکھ سے زائد زیر تعلیم طلاب ہیں ، جن کا مستقبل اس فیصلے سے خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔
ادھر گونر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے واضح کر دیا کہ ریاستی سرکار فلاح عام ٹرسٹ کے سکولوں پر پابندی کا فیصلہ زمینی سورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی کر ے گی۔
جماعت اسلامی نے اپنے دفاع اس پابندی کو غیر آینی غیر جمہوری اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے ۔ جماعت پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ۔ جماعت کی ہر سرگرمی سب کے سامنے عیاں ہے
۔ اب جماعت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ پابندی کے خلاف عدالت کا رخ کرے گی ۔۔
پابندی کے خلاف ریاست کی تمام مین سٹریم پارٹیوں ارو علیحدگی پسند جماعتون نے سخت مذمت کی ہے ۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ جماعت خالص ایک ایک دینی اور فلاحی تنظیم ہے ۔ جماعت پر پابندی کو جے آر ایل نے استعمار ی حربہ قرار دیا ۔سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ جماعت کا ملی ٹنٹون کے ساتھ تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ۔ یہ ایک فلاحی جامعت ۔ اس پر پابندی کے سخت نتائج بر آمد ہونگے ۔۔
پیپلز کانفرنس کے چیر میں سجاد غنی لون ایک ٹویٹ کے زریعے کہا کہ جماعت پر پابندی کیون جامعت ایک سیای و مذہبی جماعت ہے اس تنظیم نے شاندار رہنما اور قانون ساز عطا کئے ہیں گی ۔
این سی اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ جامعت پر پابندی لگانے سے حکومت کچھ بھی حاصل نہین کرے گی بلکہ ایسے فیصلوں سے جموں کشمیر میں مفاہمت اور مصالحت کے سللسے میں رکاوٹ آئے گی ۔
حال میں سیاست میں قدم رکھنے والے شاہ فیصل نے لکھا کہ حکومت کو ایف اے ٹی سکولوں کو سیل کرنے سے پہلے ہزاروں ان سکولی بچوں کا سوچنا چاہیے جو وہاں زیر تعلیم ہیں اور ان اساتذہ کا جن کا گھر چلتا ہے ۔، اس سے کشمیر نمیں حالات مذید خراب ہونگے ۔
پی ڈٰ پی عبدالقیوم وانی نے اسے غیر جمہوری ، غیر آئینی قرار دے کر کہا کہ انہیں اس فیصلے سے حیرانی ہوئی اور اس فیصلے کو جلد منسوخ کرنے کی مانگ کی ہے۔۔۔
انجیئر رشید نے اسے مضحکہ خیز قرار دے کر کہا کہ جماعت پر پابندی عائد کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں ۔وادی کے مشہور عالم دین عبدالرشید داوودی نے اسے افسوس ناک قرار دے کر کہا جماعت پر پابندی لگانا امن و امان کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہے ،ادھر جماعت اسلامی ہند نے بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے پابندی کو ہٹانے کی مانگ کی ہے
جماعت اسلامی جموں کشمیر پر یہ نہ پہلی بار پابندی عائد کی گئی ہے اور نہ آخری ہو گی ۔ پاکستان بھارت کے الگ ہونے کے بعد جماعت ۱۹۵۴ میں ریاست میں الگ اپنے ایک آئین کے تحت باضابطہ طور قائم ہوئی ۔ اسکے بعد جماعت نے ریا ست میں اپنی جڑے گھاڑتے ہوئے ۱۹۷۱ کے لوک سبھا انتخابات اور پھر ۷۲ میں اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا ۔جماعت نے ان انتخابات میں دھندلی کا الزام لگایا اور ۲۲ میں سے پانچ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ۔
۱۹۷۵ میں میں شیخ عبداللہ کی ریاست کی سیاست میں واپسی ہوئی لیکن اندر ا۔ عبداللہ ایکارڈ کیساتھ ۔ جس کی جماعت نے شد ید مذمت کی اور کہا کہ یہ مسلہ کشمیر پر یو این قرارداد کی خلاف ورزی ہے ۔جس کے بعد جماعت پر پابندی عائد کی گئی ۔
اسکے بعد جماعت نے ۸۳ ء کے انتخابات میں حصہ لیا اور پھر ۸۷ء میں مختلف مذہبی جماعتوں نے مل کر ایک اتحاد مسلم یونائیڈڈ فرنٹ قایم کیا ۔
جس میں جماعت کی سربراہی والے اتحاد نے تیس فیصد ووٹ حاصل کئے لیکن اس اتحاد نے صرف چار سیٹیبں حاصل کی ۔ اور ساتھ ہی دھاند لی کا الزام لگایا۔
جو ریاست میں شورش کی وجہ بنی ۔ یو سف شاہ سید صلاؑ ح دین بنے ۔ رپورٹس کے مطابق اگر دھاندلی نہ ہوتی تو ایم یو ایف ۱۵ سے بیس سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو تا ۔ ۹۰ میں دوسری بار جماعت پر پابندی عائد کی گئی ۔ پھر ۹۳ میں کانگرس سرکار نے ہٹا لی تھی ۔
تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جماعت پر پابندی عائد کرنے کے سنگین نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں کیوں کہ ان سے کشمیری لوگ بھی ہمدردی ر کھتے ہیں ۔
عوامی حلقوں کا مننا ہے کہ جماعت کے تحت چل رہے ہزاروں بیت المالوں کے بند ہونے کی وجہ سے کہیں بیواہیں اور یتیم بے سہار ا ہو گئے ہیں اور اب وہ بھیک مانگنے کے لئے سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہوسکتے ہیں ۔
اب دیکھنے والی بات ہو گی کہ جماعت پر پابندی کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے اگر نہیں تو اس کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں ۔
جماعت پر لگی پابندی پے آپ کی کیا رائے ہے، کمنٹ بکس میں ضرور بتائیں ۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
