تازہ ترین
شاہ فیصل کی ’سیاسی جماعت‘ لانچ، شہلا رشید سمیت درجنوں عوامی شخصیات کی شمولیت
خبراردو:
رواں برس جنوری میں سرکاری ملازمت سے مستعفی ہوکر انتخابی سیاست میں کودنے کا ارادہ ظاہر کرنے والے سن 2010 بیچ کے آئی اے ایس ٹاپر ڈاکٹر شاہ فیصل نے اتوار کے روز اپنی سیاسی جماعت ’جموں وکشمیر پیپلز مومنٹ‘ کو رسمی طور پر لانچ کر دیا۔ انہوں نے اپنی جماعت کا نام رسمی لانچنگ تقریب سے ایک روز قبل یعنی ہفتہ کے روز منکشف کیا تھا۔ ’ہوا بدلے گی‘ پیپلز مومنٹ کا نعرہ ہے۔
سری نگر کے راجباغ علاقہ میں واقع فٹ بال گراؤنڈ گندن پارک میں اتوار کو منعقد ہونے والی ایک بڑی تقریب میں شاہ فیصل نے اپنی پارٹی کو رسمی طور پر لانچ کیا۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی درجنوں عوامی شخصیات بشمول جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلباء یونین کی سابق نائب صدر شہلا رشید اور ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان حافظ قرآن و پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر غلام مصطفی خان نے جموں وکشمیر پیپلز مومنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ شمولیت اختیار کرنے والوں میں سکھ اور کشمیری پنڈت لیڈر بھی شامل تھے۔
شاہ فیصل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر پیپلز مومنٹ ریاست کو ایک نئی سیاست دینے کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا ‘ہم نے یہ جماعت ریاست کو ایک نئی سیاست دینے کے لئے وجود میں لائی ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جس نے پچھلے 70 برسوں کے دوران صرف دھوکے دیکھے ہیں۔ یہ جماعت کسی مخصوص علاقے یا مذہب کی جماعت نہیں ہے بلکہ ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کی جماعت ہے۔ میرے لئے جموں کا ڈوگرہ، لداخ کا بدھسٹ ، راجوری پونچھ کا مسلمان سب میرے بھائی ہیں۔ ہم آج انہیں اس مجلس سے امن اور دوستی کا پیغام بھیجتے ہیں۔ کشمیری پنڈت ہمارے سماج کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کی باعزت گھر واپسی کے بغیر ہماری سیاست نامکمل ہے’۔
تقریب کے دوران ‘کب ہوا بدلے گی اب ہوا بدلے گی، رشوت خوری کے عالم میں اب ہوا بدلے گی، پکڑ دھکڑ کے عالم میں اب ہوا بدلے گی، انقلاب زندہ باد’ جیسے نعرے لگائے گئے۔ پیپلز مومنٹ میں شمولیت اختیار کرنے والے بعض لیڈران نے کہا کہ شاہ فیصل ریاست کے اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔
شاہ فیصل کے مطابق ان کے کاروان میں شامل ہونے والے سبھی افراد کچھ چھوڑ کر پیپلز مومنٹ میں شامل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ‘مجھ سے کہا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ کون کون لوگ شامل ہیں۔ میری پہلی ٹیم میں شامل سبھی لوگ کچھ نہ کچھ چھوڑ کر آئے ہیں۔ میرے پاس ابھی پچیس سال کی سروس تھی۔ میں بڑے بڑے عہدوں پر فائر ہوجاتا۔ یہ عہدے چھوڑ کر لوگ ایجنٹ نہیں بنتے۔ ہم میں یہ بات سمجھنے کا شعور ہونا چاہیے۔ آپ سٹیج پر فیروز پیرزادہ صاحب کو دیکھ سکتے ہیں۔ وہ ہماری ریاست کے ارب پتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے زندگی میں بہت پیسے دیکھے ، بہت شہرت دیکھ لی ، الزامات اور دھوکے بھی دیکھے، لیکن اب اپنے علاقے کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ بلدیو سنگھ جی سکھ کیمونٹی کے بہت بڑے لیڈر ہیں۔ یہاں کے ایک کامیاب تاجر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ داﺅ پر لگانے کے لئے تیار ہیں’۔
ان کا مزید کہا تھا ‘ہمارے یہاں پر ڈاکٹر مصطفی صاحب ہیں۔ وہ پی ایچ ڈی اسکالر اور حافظ قرآن ہیں۔ اسسٹنٹ پروفیسر تھے، کہا ہمیں نہیں چاہیے۔ ہم آپ کے ساتھ آنے کے لئے تیار ہیں۔ ہمارے پاس یہاں عزیر رونگا صاحب ہیں۔ وہ بہت بڑے وکیل ہیں اور لندن سے پڑھ کر آئے ہیں۔ کہا آپ کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوں۔ شہلا(رشید) کے بارے میں آپ سب کو معلوم ہے۔ انہیں بڑی بڑی سیاسی جماعتوں نے شمولیت کی دعوت دی۔ اسی طرح اقبال طاہر صاحب سپریم کورٹ کے وکیل ہیں اور لندن و امریکہ سے پڑھ کر آئے ہیں۔ ایڈوکیٹ راجا محمود صاحب ، ایڈوکیٹ بصیر صاحب اور میری پہلی ٹیم میں شامل ہونے والے لوگوں کی زندگیاں میں آپشن ہی آپشن تھے، لیکن سب بدلاﺅ کے حق میں ہیں’۔
شہلا رشید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز مومنٹ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے زمین ہموار کرے گی۔ ان کا کہنا تھا ‘ہماری جماعت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے زمین ہموار کرنے کی کوشش کرے گی۔ ہماری کوشش رہے کہ ہماری پاک سرزمین پر کسی کا بھی خون نہ بہے۔ ہم اپنے اوپر سینکڑوں ایف آئی آر برداشت کریں گے لیکن ریاست سے باہر مقیم کشمیری طلباءاور تاجروں پر ظلم برداشت نہیں کریں گے’۔ انہوں نے کہا ‘آپ نے دیکھا کہ ہماری یونیورسٹی (جے این یو) میں کس طرح طلباءپر ظلم کیا گیا۔ ان کے خلاف غداری کے مقدمے درج کئے گئے۔ طلباءکو گرفتار کیا گیا لیکن ہم نے اس کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا۔ ہم نے ایک مہم کھڑی کی جس سے مودی حکومت کا پردہ فاش ہوا۔ ہم نے ان کی ایک ایک غلطی کو ایکسپوز کیا۔ ہم یہاں بھی ایک مہم چھیڑیں گے۔ یہ مہم امن وترقی کے لئے ہے’۔
شہلا رشید نے ریاست کی خواتین سے پیپلز مومنٹ کا حصہ بننے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا ‘میں اپنی تمام ماﺅں اور بہنوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ سامنے آئیں۔ یہ جماعت آپ کی ہے۔ یہ وہ جماعت نہیں جہاں پر عورتوں کو اپنا حق نہیں ملتا۔ کشمیر میں موجودہ شورش کا سب سے زیادہ خمیازہ عورتوں کو بھگتنا پڑا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عورتیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس پارٹی میں شرکت کریں’۔
دریں اثنا جموں وکشمیر پیپلز مومنٹ نے اپنی جماعت کا 29 نکاتی ویژن ڈاکیومنٹ جاری کردیا ہے جس میں مسئلہ کشمیر، نوجوانوں کے لئے روزگار پیدا کرنے اور قدرتی راستے کھولنے کی باتیں کی گئی ہیں۔
ویژن ڈاکیومنٹ میں کہا گیا ہے کہ پیپلز مومنٹ مسئلہ کشمیر کے عوامی خواہشات کے مطابق حل کے لئے کام کرے گی۔ پارٹی ‘جموں وکشمیر’ کو وسطی ایشیا کا گیٹ وے بنانے، اس کی مرکزیت کو بحال کرنے اور ‘سلک روٹ’ کی از سر نو بحالی کے ذریعے اس امن کا کوریڈور بنانے کے لئے کام کرے گی۔ پیپلز مومنٹ ریاست کو حاصل خصوصی آئینی تشخص کے دفاع اور مختلف کیمونٹیوں بالخصوص بدھ مت، سکھ، عیسائیوں اور کشمیری پنڈتوں کو نمائندگی دلانے کے لئے کام کرے گی۔ پارٹی بے روزگاری کے خاتمے کے لئے نوکریاں پیدا کرنے اور بھرتی عمل میں شفافیت لانے کے لئے کام کرے گی۔
شاہ فیصل نے پہلے ہی اپنی سیاسی جماعت (پیپلز مومنٹ) کی رجسٹریشن کی درخواست الیکشن کمیشن آف انڈیا میں جمع کردی ہے۔ واضح رہے کہ شاہ فیصل نے رواں برس جنوری میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا۔شاہ فیصل کا کہنا ہے کہ انہوں نے کشمیر میں ہلاکتوں کے نہ تھمنے والے سلسلے اور مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی قابل اعتماد سیاسی پہل شروع نہ کئے جانے کے احتجاج میں استعفیٰ دیا ہے۔
شاہ فیصل سن 2010 بیچ کے آئی اے ایس ٹاپر ہیں۔ ان کے والد کو گذشتہ دہائی میں نامعلوم بندوق برداروں نے قتل کردیا تھا۔ والد اور والدہ دونوں اساتذہ تھے۔شاہ فیصل آئی اے ایس میں ٹاپ کرنے والے نہ صرف پہلے بھارتی مسلمان بلکہ پہلے کشمیری بھی تھے۔انہوں نے بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد ایم بی بی ایس کی ڈگری نمایاں کارکردگی کے ساتھ حاصل کی تھی، لیکن انہوں نے ڈاکٹری کا پیشہ اختیار نہیں کیا تھا اور آئی اے ایس کی تیاری میں لگ گئے تھے۔
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
تبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ ملک میں تبدیلی لانے، اتحاد قائم رکھنے، آزادی کو برقرار رکھنے اور آئین کے تحفظ کے لیے مضبوط سیاسی طاقت کا ہونا ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعرات کے روز یہاں ‘رچناتمک کانگریس’ کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی طاقت کے بغیر وسیع تر تبدیلی لانا اور آئین و جمہوریت کی حفاظت کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی حمایت سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار میں آئی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس کے کچھ رہنماؤں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ بی جے پی اپنے بل بوتے پر حکومت بنا سکتی ہے اور اسے آر ایس ایس کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں، جبکہ لوگوں کو مذہب کے نام پر بانٹتے ہیں اور ایسا کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ ملک میں تعمیری پروگرام ہونے چاہئیں، جن سے ہر شخص معاشی اور سماجی طور پر آگے بڑھ سکے۔ ترقی کا فائدہ صرف کارپوریٹ اور صنعت کاروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ سماج کے ہر طبقے کو اس کا فائدہ ملنا چاہیے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی کے حوالے سے اپوزیشن پر لگائے جانے والے الزامات پر انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ صرف وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر دکھانے کے لیے نہیں ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ عوام کی آواز اٹھانے کے لیے پارلیمنٹ میں آتے ہیں اور وہاں تمام خیالات کو سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی تمام فریقین کے نظریات کو سامنے رکھنے کی توقع ظاہر کی۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ ملک کی آزادی کی جدوجہد اورملک کی تعمیر میں تعاون دینے والے رہنماؤں کے بارے میں بھی عوام کو بتایا جانا چاہیے۔ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یوز)، اسکولوں اور انجینئرنگ کالجوں سمیت متعدد اداروں کی تعمیر میں کانگریس کا اہم کردار رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر، انجینئر، ماہرینِ اقتصادیات اور تاجر موجود ہیں، لیکن ان کی تیاری میں پہلی حکومتوں اور اداروں کے تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ تاریخ کو سمجھے بغیر ملک کی تعمیر میں تعاون دینے والے رہنماؤں پر تنقید کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی جمہوریت، آئین اور آزادی کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے جدوجہد کریں، کیونکہ اگر آج کی نسل ملک کے لیے نہیں لڑے گی تو آنے والی نسلوں کا مستقبل متاثر ہوگا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
نئی دہلی، کانگریس رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے اتراکھنڈ میں کانگریس کی ریلی میں پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کے خطاب کے بعد اسٹیج کی تطہیر (شُدّھی کرن) کے معاملے پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے میں جواب مانگا ہے۔
محترمہ واڈرا نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا عمل اور ایسی سوچ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی نظریاتی سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔ اس طرح کی سوچ بے حد شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تنگ نظری کو مسترد کیا جانا چاہیے، یہ کیا طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کو اس واقعے کی مذمت کرنی چاہیے اور معافی مانگنی چاہیے۔ مسٹر کھرگے نے اسے خود کا اور دلت برادری کی توہین بتایا ہے اور چھوت چھات جیسا عمل قرار دیا ہے۔
جمعرات کے روز اس مسئلے پر راجیہ سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا اور قائدِ ایوان جے پی نڈا نے اس واقعے کی مذمت کی اور کارروائی کا یقین دلایا۔ قابلِ ذکر ہے کہ ایسی خبریں ہیں کہ اٹھ اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی ریلی میں مسٹر کھرگے کے خطاب کے بعد اسٹیج کو دھویا گیا اور تطہیر کے لیے ہون کیا گیا۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
