تازہ ترین
عمر عبداللہ اقتدار سے باہر بہترین علیحدگی پسند اور اقتدار میں آکر ظالم وآدم خور:سجاد غنی لون
دھوکہ دہی اور فریب پر مبنی سیاست کیلئے نیشنل کانفرنس کو ہدف تنقید بنانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پیپلز کانفرنس چیئرمین اور سابق ریاستی وزیرسجاد غنی لون نے کہا ہے کہ این سی نائب صدر عمر عبداللہ جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو وہ بہترین علیحدگی پسند لگتے ہیں اور جونہی اقتدار میں آجاتے ہیں توظالم اور استبداری مین سٹریمر بن جاتے ہیں۔
پٹن میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سجاد غنی لون نے عمر عبداللہ پر کم یاداشت رکھنے اور گزشتہ سات دہائیوں کے دوران کشمیری عوام پر نیشنل کانفرنس کے مظالم کو جان بوجھ کر فراموش کرنے کا الزام عائد کردیا۔جلسہ سے جنرل سیکریٹری مولوی عمران رضا انصاری ،صوبائی صدر عباس وانی اور پارلیمانی امیدوار راجا اعجاز علی نے بھی خطا ب کیا ۔
عمر عبداللہ کے ظالمانہ دور حکومت کو یاد کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا”’دودھ کے دھلے‘عمر عبداللہ 2010میں کمسن نوجوانوںکا قتل عام بھول چکے ہیں جنہیں قبرستان میں بھیج کر انہوں نے ان پر منشیات کے عادی اور مجرم ہونے کا لیبل لگایا تھا۔وہ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ وزیراعلیٰ اور ریاستی وزیر داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے افضل گورو کو کشمیری جیل منتقل کرنے کی درخواست کی مخالفت کی ۔عمر عبداللہ شاید یہ بھی بھول چکے ہیں کہ وہ کشمیر کا پہلاایسا شخص تھاجو1999میں مرکز میں بی جے پی حکومت کا حصہ بنے اور وزیر مملکت برائے خارجہ کی حیثیت سے پوری دنیا گھوم کر ایک ایسے وقت دلّی کے موقف کی آبیاری کی جب کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر تھیں“۔عمر عبداللہ کواُس کے گناہوں کی مزید یاد دلاتے ہوئے سجاد لون نے کہ جب کشمیری مارے جارہے تھے تو عمر عبداللہ پوری دنیا میں ان ہلاکتوں کا دفاع کرتے پھر رہے تھے۔عمر عبداللہ سے سوال کرتے ہوئے پیپلز کانفرنس چیئر مین نے کہا”کیا عمر عبداللہ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں بی جے پی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں بھاجپا حکومت کے خلاف ووٹ ڈالنے پر سیف الدین سوز کو پارٹی سے نکال دیا؟۔کیا آپ بھول چکے ہیں کہ آپ نے پیلٹ بندوقوں کی خریداری کا آڈر دیا؟۔کیا آپ ہمیں یہ بتاسکتے ہیں کہ خریداری کا وہ آڈر دینے کے پیچھے کیاا رادہ تھا؟۔کیایہ دلّی میں بیٹھے آپ کے عیش پرست دوستوںکے ساتھ ہولی کھیلنے یا دیوالی منانے کیلئے تھا؟“۔لون نے مزید کہاکہ کیا عمر عبداللہ کشمیری عوام کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ کس طرح بی جے پی نے ان کے والد کو نائب صدر ہند کے عہدہ کیلئے بی جے پی/آر ایس ایس/این ڈی اے امیدوار کے طور نامزد کرنے کا وعدہ کیاتھا؟۔
نیشنل کانفرنس قیادت سے مخاطب ہوتے ہوئے پیپلز کانفرنس چیئرمین کا کہناتھا”بی جے پی اپنے وعدے سے مکر گئی اور فاروق عبداللہ کی بجائے بھیروں سنگھ شخاوت کو اس عہدہ کیلئے نامزد کیا۔کیا طرفہ تماشا ہے کہ آپ مسٹر شخاوت کے ساتھ مقابلے میں تھے،جو سنگھ نظریہ کے سینئر ترین پرچارک تھے اور آپ نائب صدر کے عہدہ تک پہنچتے پہنچتے رہ گئے۔ یہ سنگھ کے انڈیکس میں آپ کے اعلیٰ سکور کا بہترین مظہر ہے“۔
پی سی چیئر مین نے مزید کہا کہ 1999میں عمر عبداللہ نے بی جے پی کو ایک فرمانبردار اولاد کی طرح اپنی خدمات میسر رکھیں اور2010میں وہ پی چدمبرم کی سرکاری فرمانبردار اولاد تھے۔لون کا کہناتھا”2010میں اُس وقت کے وزیر داخلہ کا تابعدار رہ کر عمر عبداللہ نے جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ کی کرسی کا وقار پامال کردیا۔گراوٹ کی یہ انتہا تھی کہ پہلی دفعہ 2010میں سرینگر میں کرفیو میں ڈھیل کا اعلان بھی دہلی سے داخلہ سیکریٹری کیا کرتے تھے ۔کیا عمر عبداللہ انکار کرسکتے ہیں کہ کانفرنس ریاستی اٹانومی کی بیخ کنی کی ذمہ دار ہے اور یہ سب اُسی جماعت کا کیا دھرا ہے ؟۔کانگریس کشمیر کیلئے جب فرشتہ صفت جماعت بن گئی کہ عمر عبداللہ ان کے مستقل دوست بن گئے ؟۔کیا انہوں نے کانگریس کے ساتھ اقتدار میں ایک دفعہ بھی خصوصی پوزیشن کی بیخ کنی اور اس کی بحالی پر ایک آدھا بیان دیا؟“۔
لون نے کہاکہ” یہ لازمی ہے کہ لوگوںکو پتہ چلے کہ 1996میں کس طرح اور کن حالات میں نیشنل کانفرنس کو حکومت تحفے میں دی گئی۔وہ حکومت اُس وقت کے وزیراعظم پی وی نرسمہا راﺅ ،جوسنجیدگی کے ساتھ کشمیریوں کو اندرونی خودمختاری کا سب سے لبرل نظام پیش کرنے کی سوچ رہے تھے ،کی جانب سے کشمیر کے تعلق سے ”آسمان حد ہے“کی پیشکش کے پس منظر میںبنی تھی۔اُس وقت کوئی بھی کشمیری جماعت چناﺅ لڑنے کیلئے تیار نہ تھی تاہم فاروق عبداللہ میدان میں کود پڑے اور اس سمجھوتہ کے شرمناک شرائط بھی 1975کے ایکارڈ جیسی تھیں۔مجھے اقتدار دیجئے ،الیکشن نہیں سلیکشن کریں اور آپ کو بدلے میں کشمیری عوام کو کچھ نہیںدینا پڑے گا“۔
نیشنل کانفرنس قیادت کے قاتلانہ رول کی یاد دہانی کراتے ہوئے سجاد غنی لون نے عمر عبداللہ پر جان بوجھ کر بے گناہ کشمیریوں پر1996سے2002کے درمیان اخوان دور مسلط کرنا بھول جاتے ہیں۔ان کا کہناتھا”کیا ہم عمر عبداللہ سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ اس دور میں کتنے کشمیری مارے گئے اور کتنوں پر اس دور میںپبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیاگیا ؟۔کس طرح فاروق عبداللہ نے پوٹا کا کھلے بانہوں سے استقبال کیا اور اس کو کشمیر تک نہ صرف قانونی رسائی دی جبکہ وہ خوشی خوشی کشمیریوںکو پوٹا کے تحت جیل کے اندر بھیج رہے تھے“۔
عمر عبداللہ پر تیکھے حملے جاری رکھتے ہوئے سجاد لون نے اُن سے پوچھا”کیاا ٓپ کے پاس شرم نہیں بچی ہے ؟ کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ کس طرح آپ کے والد کی حکومت نے ملی ٹنٹوں اور مرکزی وزارت داخلہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کیا؟ یہ2001میں آپ کے والد کی سربراہی میں بدنام زمانہ وزیر اعلیٰ دفتر تھا جس نے میڈیا نمائندوںکو بلا کر انہیں مذاکرات کے مقام سے متعلق جانکاری دی اور یوں نہ صرف مذاکرات ختم ہوئے بلکہ ان ملی ٹنٹوںمیں بیشتر مارے گئے۔کیا آپ کو آپ کے ضمیر پر لاشوں کے بوجھ کا کوئی اندازہ نہیں ہے یا کیا آپ کو بوجھ کا احساس ہونے کیلئے ایک ضمیر کی ضرورت ہے ؟ آپ کیلئے اچھا ہے کہ آپ بے ضمیر ہی رہیں اورنتیجہ کے طور پر بوجھ کے بغیر بھی“۔
نیشنل کانفرنس کودغابازوں کی جماعت ،جس نے ہمیشہ کشمیریوںکو دھوکہ دیا ،قرار دیتے ہوئے پیپلز کانفرنس چیئرمین نے کہاکہ وہ اقتدار کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ان کا کہناتھا”1975میں ریاست کے سابق وزیراعظم شیخ صاحب نے اقتدار کے عوض وزیراعظم کاعہدہ سرینڈ ر کیااورر وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا۔1977میں سابق وزیراعظم اوراُس وقت کے وزیراعلیٰ شیخ صاحب نے وزیراعظم مرار جی ڈیسائی کی مخالفت کے باوجود بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لایااور1987میں فاروق عبداللہ نے الیکشن میں دھاندلی کی جس کے نتیجہ میں نوجوانوںنے بندوق اٹھائے اور شورش آج تک جاری ہے جس کے نتیجہ میں ایک لاکھ کشمیر ی مارے جاچکے ہیں۔1996میں مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیریوں کو اندرونی خودمختاری دینے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے الیکشن عمل میں کود پڑے اور1996سے2002تک لاشوں کے انبار لگ گئے ۔پھر2010میں عمر عبداللہ نے کمسن بچوںکا قتل عام کیا ۔اب لاشوں کے پہاڑ پر کھڑے ہوکر دلّی کا چہیتا عمر عبداللہ کشمیری عوام کو وعظ و نصیحتیں کررہا ہے جو کسی کو قابل قبول نہیں ہوسکتی ہیں“۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
