تازہ ترین
کشمیر کا سیاسی حل نکالا جائے: ڈاکٹر فاروق
خبراردو:
نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھوار کو حلقہ انتخاب عید گاہ میں چناوی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر ایک متنازعہ معاملہ ہے اور اس کا حل سیاسی طور پر ہی نکالا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جب ہم کشمیریوں پر مظالم ہوتے دیکھتے ہیں ہم اپنے آپ کو قابو نہیں کر پاتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی وکالت کرتے ہیں۔ یہ تعمیر و ترقی یا مالی پیکیج کا مسئلہ نہیںیہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل صرف بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے لڑائی سے نہیں۔ ایک طرف پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بار بار کہتے آرہے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کو آپس میں مل بیٹھ کر تمام مسائل کا حل نکالنا چاہئے اور ساتھ چل کر ترقی کرنی چاہئے جبکہ دوسری جانب ہمارے ملک کے وزیر اعظم وہی پرانی رٹ لگائے بیٹھے ہیں اور ہر جگہ بالاکوٹ بالاکوٹ بولتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے پاس مذاکرات اور ساتھ میں چلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ لڑائی ان دونوں ممالک کیلئے تباہی اور بربادی کا سامان بنے گی تو ہمیں ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے جیسے کی ملک کا ایک غمخواہ مودی ہے، باقی سب ملک دشمن ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کو صحیح سوچ کیساتھ ایک دوسرے کے قریب آکر مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل کرنے چاہئیں۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی چپقلش میں آر پار جموں وکشمیر کے عوام پس رہے ہیں، ہم کب تک غذاب میں رہے گے، دونوں ممالک کی تلوار ہر وقت ہماری گردنوں لٹکتی رہتی ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں پر مظالم بن کیجئے، وزیر اعظم لال قلعے سے کشمیریوں کے دل جیتنے کی بات کرتے ہیں لیکن سڑک بند کرنے سے کشمیریوں کے دل نہیں جیتنے جاسکتے، کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کشمیریوں کے دل نہیں جیتے جاسکتے، بھاجپا کے غنڈون کے ذریعے بیرونی ریاستوں میں کشمیری مزدوروں، طالب علموں اور تاجروں کو نشانہ بنانے سے کشمیریوں کے دل نہیں جیتے جاسکتے۔اگر مرکزی سرکار فوری طور پر کشمیر میں جاری مظالم بند نہیں کریں گے تو ایسا طوفان برپا ہوگا جس کو قابو کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ کل سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک روکا گیا اور درجنوں گاڑیاں ٹنل میں پھنس گئیں، جن میں بچے اور خواتین بھی سوار تھے۔ ان شیر خور بچوں اور خواتین کو کئی گھنٹوں تک ٹنل میں کوفت کا سامنا کرنا پڑا ۔صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ اس وقت وطن بہت مشکل حالت سے گزر رہا ہے ، ایک طرف سے بی جے پی اور آر ایس ایس ملک کو بانٹنا چاہتے ہیں اور دوسری جانب جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کے اعلانات کئے جارہے ہیں اور اس کیلئے وادی کے اندر مقامی آلہ کار بھی کام پر لگائے گئے ہیں۔ ہمیں ان آلہ کاروں کو ریاست بدر کرناہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا کے 5سالہ دورِ حکومت کے دوران جو نفرت پیدا کی گئیں ایسا ماضی میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ مسلمانوں کو ہر ایک جگہ نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن وزیر اعظم کبھی اس پر لب کشائی نہیں کرتے۔کل کی وزیر اعظم کی تقریر سنئے، اس میں موصوف بالاکوٹ بالاکوٹ کی رٹ لگائے دیکھے جاسکتے ہیں۔ مودی ایک بار بھی 2014میں کئے گئے وعدوں پر بات نہیں کرتے، ہر ایک سوال کا جواب بالاکوٹ ہوتا ہے۔نریندر مودی بتادیں کہ انہوں نے بالاکوٹ میں کون سا طوفان کیا؟ الٹا اپنا ہی جہاز گرا دیا، شکر کیجئے کہ اُس پار والوں نے پائلٹ کو صحیح سلامت واپس بھیج دیا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ امت شاہ کہتا ہے ہم نے وہاں 300لوگ مارے اور پاکستان کا ایک ایف 16بھی مار گرایا۔ اگر آپ نے ایسی کارروائی کی ہے تو پھر ملک کو ثبوت دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ پاکستان کے سبھی ایف 16موجود ہیں لیکن بھاجپا ماننے سے انکار کررہی ہے، یہ وہی امریکہ ہے جس نے سیٹالائٹ کے ذریعے کرگل کے اندر پاکستان فوج کو دیکھا ۔ امریکہ نے ہی بھارت کو جگایا اور پاکستانی فوجی کی کرگل کی مسکو وادی میں موجودگی کی تصویریں بھیجیں۔آج وہی امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان کے پاس جہاز برابر ہیں، پھر کون سا جہاز گرایا گیا۔
ہندوستان
یو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے یو جی سی – نیٹ کے سوشیلولوجی ، انگریزی اور کامرس مضامین کے امتحانات دوبارہ کرانے کے این ٹی اے کے فیصلے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب مانگا ہے۔
سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر پیر کے روز اظہارِ خیال کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان تین مضامین کے یو جی سی – نیٹ امتحانات 22 سے 30 جون کے درمیان ہوئے تھے اور تقریباً دو ماہ بعد این ٹی اے نے تسلیم کیا ہے کہ سوالناموں میں سنگین خامیوں کے ساتھ پرانے سوالات دہرائے گئے تھے۔ اب ہزاروں طلبہ کو ستمبر میں پھر سے ان مضامین کے امتحانات دینے ہوں گے۔
انہوں نے کہا، “ہزاروں طلبہ نے برسوں تیاری کی، درخواست دی، فیس ادا کی اور دور دراز کے امتحانی مراکز تک سفر کیا۔
اب انہیں یہ سب دوبارہ کرنا ہوگا۔ این ٹی اے غلطی کرتی ہے، لیکن سزا طالب علم بھگتتے ہے۔ اب تعلیمی نظام ایک ایسا نظام بن چکا ہے جو طلبہ کا پیسہ، ان کا وقت، ذہنی صحت اور خود اعتمادی چھین لیتا ہے، لیکن بدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ سوال یہ ہے کہ این ٹی اے یہ کیوں نہیں بتا رہی ہے کہ کیا امتحان سے پہلے سوالنامے لیک ہوئے تھے؟”
راہل نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفا پہلا قدم تھا، آخری نہیں۔ این ٹی اے کی قیادت کی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔
انہوں نے دوبارہ امتحان دینے والے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ایسا نظام مسئلہ ہے جو امتحان بھی ٹھیک سے منعقد نہیں کرا سکتا اور پھر طلبہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔
اس دوران کانگریس شعبہٴ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی ‘ایکس’ پر کہا کہ این ٹی اے کی غلطی کی سزا ملک کے طلبہ کیوں بھگتیں اور جن نوجوانوں کا نقصان ہوا ہے، اس کی بھرپائی کون کرے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
پنچکولہ، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر-لداخ میں بارش کا سلسلہ زیادہ شدید رہ سکتا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مغربی ہمالیائی خطے کے کچھ حصوں میں بہت شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔
قومی موسم پیش گوئی مرکز کی جانب سے 17 اگست کو صبح 8.57 بجے جاری آل انڈیا موسمی خلاصہ اور پیش گوئی بلیٹن کے مطابق 18 اگست کو ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہے۔ شمال مغربی ہندستان کے باقی حصوں میں الگ الگ سے کچھ مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔۔18 اگست کو بارش کا دائرہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس دن ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ 18 اگست کی وارننگ میں بھی ان علاقوں میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
17 اگست کو ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے ساتھ اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، مشرقی مدھیہ پردیش، گنگائی مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق مغربی ہمالیائی خطے میں پورے ہفتے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد اور اتراکھنڈ میں 17 سے 23 اگست کے دوران بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا اندازہ ہے۔
19 اگست کو ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا اندازہ ہے، جبکہ جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں ممکنہ بارش کے سبب مکمل طور پر سیراب مٹی والے علاقوں اور نشیبی علاقوں میں سطحی پانی کے بہاؤ یا پانی جمع ہونے کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
موجودہ موسم کو کئی موسمی نظام متاثر کر رہے ہیں۔ آئی ایم ڈی کے 17 اگست صبح 5.30 بجے کے موسمی تجزیے کے مطابق شمال مغربی خلیج بنگال اور اس سے متصل مغربی بنگال-شمالی اڈیشہ کے ساحل پر ایک دن پہلے بنا واضح کم دباؤ کا علاقہ شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اس کے گنگائی مغربی بنگال سے گزرتے ہوئے شمال مغربی سمت میں جھارکھنڈ کی طرف بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
