تازہ ترین
نیشنل کانفرنس کشمیر میں موت و تباہی کی ذمہ دار : سجاد لون
خبراردو:
کنگن میں کئی انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے پاس چناوی دھاندلیوں،کشمیر میں دلّی کے نمائندوں اور ہزاروں لاشوںکے سوا دکھانے کیلئے کچھ نہیں ہے۔
سجاد لون نے کہا”1975سے کشمیری قوم پر ڈھائے گئے ہر ستم اور ہر استحصال کی جڑ کی کڑیاں عبداللہ خانوادے سے جا کر ملتی ہیں۔بے اختیار وزیراعلیٰ کی کرسی کیلئے ہمارے وزیراعظم اور صدر ریاست کے عہدوںکا سودا کرنے سے لیکر اپنے مخالفین خاص کر جماعت اسلامی کو دبانے کے ایک حربہ کے طور پبلک سیفٹی ایکٹ کا قانون بنانے تک نیشنل کانفرنس نے تاریخ کے ہر نازک موقعہ پر کشمیری عوام سے دھوکہ کیاہے“۔انہوںنے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے1987کے انتخابات میں ریکارڈ توڑ دھاندلیاں تشدد کیلئے فوری محرک ثابت ہوئیں جس سے تاحال ریاست کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہے اور ایک لاکھ سے زیادہ انسانی جانوں کو نگل چکا ہے۔ اُن کا کہناتھا”اگر وہ کافی نہیں تھا تو ایک اور خونی معاہدہ کے تحت1996میں عبداللہ خانوادے نے کشمیریوںکی ایک اور نسل کے خون کی قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کیلئے اخوانیوں کے ساتھ شراکت کی۔عبداللہ خاندان کیلئے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کےلئے انعام کے طور پر سیٹ شیئرنگ معاہدہ کے تحت خونخوار اخوانیوں کو قانون ساز کونسل کے عہدے عطا کئے “۔
سرینگر بڈگام پارلیمانی حلقہ کے عوام سے پیپلز کانفرنس امیدوار عرفان رضا انصاری کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ تبدیلی نہ ہونے کی لعنت کو اب جانا پڑے گااور اس کیلئے لوگوں کو اب فیصلہ لینا ہی پڑے گا۔ سجاد نے کہا کہ پیپلز کانفرنس ایک انقلابی تبدیلی لائے گی اور حکمرانی کا ایک ایسا نظام متعارف کرے گی جو آج کی حقیقتوں اور چیلنجوں سے مطابقت رکھتا ہو۔انہوںنے کہا”نیشنل کانفرنس نے1975سے دہائیوںتک حکومت کی ہے ۔وہ اپنی منفرد حصولیابی یا کامیابی کے طور کیا دکھا سکتے ہیں؟ چوری اوردھاندلی شدہ الیکشنوں،کشمیر میں دلّی کے نمائندوں یا سفیر وں اور ہزاروں لاشوں کے سوا وہ کچھ نہیں دکھاسکتے ۔ازمنہ قدیم کا نظام ہمیں موجودہ دور کے چیلنجوں سے نمٹنے میںمدد نہیں کرسکتا“۔
پیپلز کانفرنس چیئرمین نے کہا کہ اپنے مایوس کن ٹریک ریکارڈ کیلئے معروف آزمائے ہوئے ناکام لیڈران ہی کشمیر میںموت و تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ اُن کا کہناتھا”میں تب سکول میں ہی تھا جب فاروق صاحب ممبر پارلیمنٹ تھے اور اس کے بعد وزیراعلیٰ بنے تو یہی راتھر صاحب وزیر خزانہ تھے ،یہی مبارک گل ،یہی شفیع اوڑی صاحب ،یہی اکبر لون صاحب۔تب میں سکولی طالب علم تھا اور آج ادھیڑ عمر کا آدمی ہوں۔انہی لوگوں نے ڈل جھیل کی خاموش موت ہوتے دیکھی ،انہی لوگوں کی سربراہی میں جنگلات کی تباہی ہوئی ۔انہی لوگوںنے ہمارا تعلیمی نظام تباہ کیا،انہی لوگوںنے ہمارا طبی سیکٹر برباد کیا،انہیں لوگوںنے فرسودہ قوانین کے تحت حکمرانی یقینی بنائی ،انہی لوگوںنے چناوی دھاندلیا کیں،انہی لوگوں نے پر امن کشمیریوں کے ہاتھوں میں بندوق تھمادی ،انہی لوگوں نے ہم نے ہمارا خصوصی مقام چھنوا لیااور اب انہی لوگوں کی ایسی جرا ¿ت ہے کہ وہ آکر ہم سے ووٹ مانگ رہے ہیں“۔
تبدیلی پرزور دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ یہ الیکشن سیاستدانوں کا نہیں بلکہ عام عوام کا امتحان ہے۔پی سی چیئرمین کا کہناتھا”کیا یہی لوگ ہمیں حکمرانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ ۔صحیح فیصلہ کرنا بالکل آسان ہے ۔یا تو اُس فرسودہ نظام سے تعلق رکھنے والے فرسودہ ذہنیت کے حامل لوگوں کو جانا ہے یا ہمیں ہی بحیثیت عوام فرسودہ اور بے کار بنایا جائے گا۔ہم سب تبدیلی کے مستحق ہیںاور لوگ ہی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ہمیں ایک موقعہ ملنا چاہئے ۔فاروق صاحب ایک شاندار نابکار رہے ہیں اور اگر ہم ایسے بے کار لوگوں کو اپنی نمائندگی کا اعزاز بخشیں گے تو پھر کچھ کرنے والے لوگوں کیلئے کیا انعام ہوگا؟“۔
انہوںنے کہا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو وہ چھ ماہ کے اندر اندر ساری سرکاری اسامیوں پُر کریں گے۔اُن کا کہناتھا”ہمیں ایک موقعہ دیجئے ۔ہم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہم ناقابل حصول چیزوں کا وعدہ نہیں کرتے ۔اگر ہم اقتدار میںآئے تو ہم چھ ماہ کے اندر اندر ساری سرکاری نوکریوں پر بھرتی عمل میں لائیں گے۔کیا کشمیری نوجوانوں کو معلوم ہے کہ 40ہزار کے قریب سرکاری نوکریاں خالی پڑی ہیں؟ اور بھرتیوں ایجنسیوں کو یہ اسامیاں پُر کرنے میں دہائیاں لگ جائیںگی ۔ہمارے پاس نئے آئیڈیاز ہیں۔ہمارے پاس سال میں دو یا تین جنرل امتحانات کرنے کی تجویز ہے اور درجنوں امتحانات کی بجائے ان دو یا تین امتحانات میں ساری اسامیوں کے امتحانات ہونگے اور میرٹ کی بنیاد پراہل امیدوار وںکو نوکریاں ملیں گی“۔
فاروق عبداللہ کی جانب سے انہیں بی جے پی کے ساتھ ملنے کا مشورہ دینے کے دعویٰ پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے سجاد غنی لون نے کہا کہ انہوںنے وہ گزشتہ ایک دہائی میں فاروق عبداللہ سے کبھی ملے ہیں اور نہ ہی ان سے کبھی فون پر بات کی ہے۔پی سی چیئرمین کا کہناتھا”فاروق صاحب خدا کیلئے ہمیں بتائیں کہ گزشتہ ایک دہائی میں کب میں نے انہیں فون کیا یا اُن سے ملا؟۔یا تو وہ جھوٹ بول رہے ہیں یا ان پر بڑھاپا غالب آچکا ہے ۔میں غیر مبہم الفاظ میں اس کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں کبھی بھی فاروق صاحب سے نہیں ملا ہوںاور نہ ہی انہیں کبھی فون کیا ہے ۔بے شک ہم جہاز میں ایک ساتھ تھے لیکن ایک ہی سیٹ پر نہیں اور وہ بھی تک جب مفتی صاحب کا انتقال ہوا تھا۔جہاز سے اترنے کے بعد ائرپورٹ لانج تک چلنے کے دوران صاحب نے کچھ میرے کان میں کہا۔یہ یکطرفہ مکالمہ تھا۔انہوںنے کہا اور میں نے سنااور چونکہ وہ نجی گفتگو تھی تو میں اس گفتگو کو منظر عام پر لا کر انہیں شرمندہ نہیںکرنا چاہتاہوں“۔
2014اسمبلی چناﺅ کے بعد بی جے پی قیادت کے ساتھ ہونے والی میٹنگوں پرعمر عبداللہ کی مسلسل خاموشی پر سجاد لون نے ایک بار پھر عمر عبداللہ سے کہا کہ وہ صاف جواب دیں۔اُنہوںنے کہا”بی جے پی قیادت کے ساتھ ملنے پر عمر عبداللہ کی مسلسل خاموشی شرمناک ہے ۔جہاں اُنہیں ہر چیز پر تبصرہ کرنے کی عادت ہے ،ایک جواب ،جو کشمیری عوام اُن سے مطالبہ کررہے ہیں ،اُنکی طرف سے نہیں آرہا ہے۔عمر عبداللہ خاموشی کا لبادہ کیوں اوڑھے ہوئے ہیں؟۔اگر اُ ن کے پاس چھپانے کو کچھ نہیںہے تو انہیں2014اسمبلی چناﺅ کے بعد ہوئے والے واقعات سے پردہ ہٹا لینا چاہئے اور کشمیری لوگوں کو یہ فیصلہ لینے کا موقعہ فراہم کرنا چاہئے کہ کیا وہ بی جے پی کے خلاف تنہا سپاہی ہیں یا بی جے پی کے مسترد شدہ ہیں اور ’انگورکھٹے ہیں‘ کی ایک بہترین مثال ہیں“۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
