تازہ ترین
نیشنل کانفرنس کشمیر میں موت و تباہی کی ذمہ دار : سجاد لون
خبراردو:
کنگن میں کئی انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے پاس چناوی دھاندلیوں،کشمیر میں دلّی کے نمائندوں اور ہزاروں لاشوںکے سوا دکھانے کیلئے کچھ نہیں ہے۔
سجاد لون نے کہا”1975سے کشمیری قوم پر ڈھائے گئے ہر ستم اور ہر استحصال کی جڑ کی کڑیاں عبداللہ خانوادے سے جا کر ملتی ہیں۔بے اختیار وزیراعلیٰ کی کرسی کیلئے ہمارے وزیراعظم اور صدر ریاست کے عہدوںکا سودا کرنے سے لیکر اپنے مخالفین خاص کر جماعت اسلامی کو دبانے کے ایک حربہ کے طور پبلک سیفٹی ایکٹ کا قانون بنانے تک نیشنل کانفرنس نے تاریخ کے ہر نازک موقعہ پر کشمیری عوام سے دھوکہ کیاہے“۔انہوںنے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے1987کے انتخابات میں ریکارڈ توڑ دھاندلیاں تشدد کیلئے فوری محرک ثابت ہوئیں جس سے تاحال ریاست کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہے اور ایک لاکھ سے زیادہ انسانی جانوں کو نگل چکا ہے۔ اُن کا کہناتھا”اگر وہ کافی نہیں تھا تو ایک اور خونی معاہدہ کے تحت1996میں عبداللہ خانوادے نے کشمیریوںکی ایک اور نسل کے خون کی قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کیلئے اخوانیوں کے ساتھ شراکت کی۔عبداللہ خاندان کیلئے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کےلئے انعام کے طور پر سیٹ شیئرنگ معاہدہ کے تحت خونخوار اخوانیوں کو قانون ساز کونسل کے عہدے عطا کئے “۔
سرینگر بڈگام پارلیمانی حلقہ کے عوام سے پیپلز کانفرنس امیدوار عرفان رضا انصاری کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ تبدیلی نہ ہونے کی لعنت کو اب جانا پڑے گااور اس کیلئے لوگوں کو اب فیصلہ لینا ہی پڑے گا۔ سجاد نے کہا کہ پیپلز کانفرنس ایک انقلابی تبدیلی لائے گی اور حکمرانی کا ایک ایسا نظام متعارف کرے گی جو آج کی حقیقتوں اور چیلنجوں سے مطابقت رکھتا ہو۔انہوںنے کہا”نیشنل کانفرنس نے1975سے دہائیوںتک حکومت کی ہے ۔وہ اپنی منفرد حصولیابی یا کامیابی کے طور کیا دکھا سکتے ہیں؟ چوری اوردھاندلی شدہ الیکشنوں،کشمیر میں دلّی کے نمائندوں یا سفیر وں اور ہزاروں لاشوں کے سوا وہ کچھ نہیں دکھاسکتے ۔ازمنہ قدیم کا نظام ہمیں موجودہ دور کے چیلنجوں سے نمٹنے میںمدد نہیں کرسکتا“۔
پیپلز کانفرنس چیئرمین نے کہا کہ اپنے مایوس کن ٹریک ریکارڈ کیلئے معروف آزمائے ہوئے ناکام لیڈران ہی کشمیر میںموت و تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ اُن کا کہناتھا”میں تب سکول میں ہی تھا جب فاروق صاحب ممبر پارلیمنٹ تھے اور اس کے بعد وزیراعلیٰ بنے تو یہی راتھر صاحب وزیر خزانہ تھے ،یہی مبارک گل ،یہی شفیع اوڑی صاحب ،یہی اکبر لون صاحب۔تب میں سکولی طالب علم تھا اور آج ادھیڑ عمر کا آدمی ہوں۔انہی لوگوں نے ڈل جھیل کی خاموش موت ہوتے دیکھی ،انہی لوگوں کی سربراہی میں جنگلات کی تباہی ہوئی ۔انہی لوگوںنے ہمارا تعلیمی نظام تباہ کیا،انہی لوگوںنے ہمارا طبی سیکٹر برباد کیا،انہیں لوگوںنے فرسودہ قوانین کے تحت حکمرانی یقینی بنائی ،انہی لوگوںنے چناوی دھاندلیا کیں،انہی لوگوں نے پر امن کشمیریوں کے ہاتھوں میں بندوق تھمادی ،انہی لوگوں نے ہم نے ہمارا خصوصی مقام چھنوا لیااور اب انہی لوگوں کی ایسی جرا ¿ت ہے کہ وہ آکر ہم سے ووٹ مانگ رہے ہیں“۔
تبدیلی پرزور دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ یہ الیکشن سیاستدانوں کا نہیں بلکہ عام عوام کا امتحان ہے۔پی سی چیئرمین کا کہناتھا”کیا یہی لوگ ہمیں حکمرانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ ۔صحیح فیصلہ کرنا بالکل آسان ہے ۔یا تو اُس فرسودہ نظام سے تعلق رکھنے والے فرسودہ ذہنیت کے حامل لوگوں کو جانا ہے یا ہمیں ہی بحیثیت عوام فرسودہ اور بے کار بنایا جائے گا۔ہم سب تبدیلی کے مستحق ہیںاور لوگ ہی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ہمیں ایک موقعہ ملنا چاہئے ۔فاروق صاحب ایک شاندار نابکار رہے ہیں اور اگر ہم ایسے بے کار لوگوں کو اپنی نمائندگی کا اعزاز بخشیں گے تو پھر کچھ کرنے والے لوگوں کیلئے کیا انعام ہوگا؟“۔
انہوںنے کہا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو وہ چھ ماہ کے اندر اندر ساری سرکاری اسامیوں پُر کریں گے۔اُن کا کہناتھا”ہمیں ایک موقعہ دیجئے ۔ہم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہم ناقابل حصول چیزوں کا وعدہ نہیں کرتے ۔اگر ہم اقتدار میںآئے تو ہم چھ ماہ کے اندر اندر ساری سرکاری نوکریوں پر بھرتی عمل میں لائیں گے۔کیا کشمیری نوجوانوں کو معلوم ہے کہ 40ہزار کے قریب سرکاری نوکریاں خالی پڑی ہیں؟ اور بھرتیوں ایجنسیوں کو یہ اسامیاں پُر کرنے میں دہائیاں لگ جائیںگی ۔ہمارے پاس نئے آئیڈیاز ہیں۔ہمارے پاس سال میں دو یا تین جنرل امتحانات کرنے کی تجویز ہے اور درجنوں امتحانات کی بجائے ان دو یا تین امتحانات میں ساری اسامیوں کے امتحانات ہونگے اور میرٹ کی بنیاد پراہل امیدوار وںکو نوکریاں ملیں گی“۔
فاروق عبداللہ کی جانب سے انہیں بی جے پی کے ساتھ ملنے کا مشورہ دینے کے دعویٰ پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے سجاد غنی لون نے کہا کہ انہوںنے وہ گزشتہ ایک دہائی میں فاروق عبداللہ سے کبھی ملے ہیں اور نہ ہی ان سے کبھی فون پر بات کی ہے۔پی سی چیئرمین کا کہناتھا”فاروق صاحب خدا کیلئے ہمیں بتائیں کہ گزشتہ ایک دہائی میں کب میں نے انہیں فون کیا یا اُن سے ملا؟۔یا تو وہ جھوٹ بول رہے ہیں یا ان پر بڑھاپا غالب آچکا ہے ۔میں غیر مبہم الفاظ میں اس کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں کبھی بھی فاروق صاحب سے نہیں ملا ہوںاور نہ ہی انہیں کبھی فون کیا ہے ۔بے شک ہم جہاز میں ایک ساتھ تھے لیکن ایک ہی سیٹ پر نہیں اور وہ بھی تک جب مفتی صاحب کا انتقال ہوا تھا۔جہاز سے اترنے کے بعد ائرپورٹ لانج تک چلنے کے دوران صاحب نے کچھ میرے کان میں کہا۔یہ یکطرفہ مکالمہ تھا۔انہوںنے کہا اور میں نے سنااور چونکہ وہ نجی گفتگو تھی تو میں اس گفتگو کو منظر عام پر لا کر انہیں شرمندہ نہیںکرنا چاہتاہوں“۔
2014اسمبلی چناﺅ کے بعد بی جے پی قیادت کے ساتھ ہونے والی میٹنگوں پرعمر عبداللہ کی مسلسل خاموشی پر سجاد لون نے ایک بار پھر عمر عبداللہ سے کہا کہ وہ صاف جواب دیں۔اُنہوںنے کہا”بی جے پی قیادت کے ساتھ ملنے پر عمر عبداللہ کی مسلسل خاموشی شرمناک ہے ۔جہاں اُنہیں ہر چیز پر تبصرہ کرنے کی عادت ہے ،ایک جواب ،جو کشمیری عوام اُن سے مطالبہ کررہے ہیں ،اُنکی طرف سے نہیں آرہا ہے۔عمر عبداللہ خاموشی کا لبادہ کیوں اوڑھے ہوئے ہیں؟۔اگر اُ ن کے پاس چھپانے کو کچھ نہیںہے تو انہیں2014اسمبلی چناﺅ کے بعد ہوئے والے واقعات سے پردہ ہٹا لینا چاہئے اور کشمیری لوگوں کو یہ فیصلہ لینے کا موقعہ فراہم کرنا چاہئے کہ کیا وہ بی جے پی کے خلاف تنہا سپاہی ہیں یا بی جے پی کے مسترد شدہ ہیں اور ’انگورکھٹے ہیں‘ کی ایک بہترین مثال ہیں“۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
