تازہ ترین
محبوبہ مفتی چوکیداری میں بری طرح ناکام : عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے بدھوار کو جنوبی کشمیر کے شانگس علاقے میں چناوی جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی بحیثیت وزیراعلیٰ بری طرح ناکام رہیں اور اُن کی نااہلی ہی موجودہ حالات کی بنیادی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے ہم نے دیکھا کہ بہت سارے لوگ چوکیدار بنے، پہلے وزیرا عظم نے چوکیدار ہونے کا دعویٰ کیا پھر وزیر دفاع، وزیر خزانہ ، ریلوے وزیر اور بہت سارے لوگ چوکیدار بن بیٹھے لیکن میں اُس وقت حیران جب محبوبہ مفتی نے کہا کہ میں بھی چوکیدار ہوں۔
عمر عبداللہ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر آپ کو چوکیداری کا اتنا ہی شوق تھا تو خدارا ہمیں بتائیں کہ آپ نے ریاست کی کون سی رکھوالی کی؟ آپ نے جی ایس ٹی کا قانون لاکر دفعہ370کو کمزور کیا، سرفیسی قانون لاکر 370کو آپ نے کمزور کیا، فوڈ سیکورٹی ایکٹ لاکر نہ صرف دفعہ370کو کمزور کیا بلکہ غریب عوام کا راشن چھینا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی عوام سے ووٹ طلب کرتی ہے اور کہتی ہیں کہ میں آپ کی چوکیداری کروں گی۔ ’’ ہم نے 2016,2017اور 2018میں آپ کی چوکیداری دیکھی۔جب نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہاتھا، جب نوجوانوں کیخلاف بے تحاشہ پی ایس اے استعمال کیا جارہا تھا، جب پیلٹ گنوں کے ذریعے انشاء جیسی ہماری بیٹیوں کی آنکھوں کی بینائی چھینی جارہی تھی، جب بیروہ کے نوجوان فاروق ڈار ایک درجن دیہات میں جیب کے ساتھ کر باندھا کر گھمایا گیا، جب ہمارے گجر بکروال بھائیوں کے ایس ٹی کا ریزرویشن کٹ گیا، جب یہاں کے نوجوانوں کو نوکری کے آرڈوں کیلئے آپ کے رشتہ داروں کو رشوت دینی پڑتی تھی ،جب مرکز نے یہاں سازشیں کی اور یہاں کے آئین کو کھوکھلا کیا، جب این آئی اے نے یہاں کارروائیوں شروع کیں اور مذہبی رہنماؤں کیخلاف کیس دائر کئے ، جب آر ایس ایس والوں نے مسلمانوں کو ڈرانے کیلئے صوبہ جموں کے تمام اضلاع میں ہتھیار بند ریلیاں نکالیں،تب کہاں تھی آپ کی چوکیداری؟جب آپ کو چوکیداری کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا گیا تھا تب آپ نے صرف اپنی کرسی کی چوکیداری کی۔ آپ نے اس ریاست کے غریبوں کی چوکیداری نہیں کی۔آپ نے گجر بکروالوں کی چوکیداری نہیں کی۔‘‘
این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’محبوبہ مفتی آج جس چوکیداری کا آپ دعویٰ کررہی ہواُس میں تو ہم نے آپ کو سرے سے ہی ناکام ہوتے دیکھا۔آپ کی ناکامی کی وجہ سے اس ریاست نے پچھلے 4برسوں میں خون خرابہ ،تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا؟آپ کی ناکامیوں اور وعدہ خلافیوں کی وجہ سے یہاں کا نوجوان دوبارہ بندوق اُٹھانے پر مجبور ہوا، آپ نے یہاں کے نوجوانوں کو سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کیلئے مجبور کیا۔‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ ’’جب میں نے پلوامہ کے ایک جلسے میں پی ایس اے کو ختم کرنے کا اعلان کیا اُس وقت محبوبہ مفتی اور اُن کے ساتھیوں نے اس کی مخالفت کی جبکہ عوامی سطح پر اس اعلان کو پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے میرے دورِ حکومت میں افسپا کی منسوخی کی بھی مخالفت کی تھی۔
جس سے یہ بات صاف ہوتی ہے کہ محبوبہ مفتی اور اُن کے ساتھیوں عوام کے بہی خواہ نہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’نیشنل کانفرنس کی حکومت آنے کی صورت میں پی ایس اے کا خاتمہ کرنے کیلئے میں وعدہ بند ہوں، میں گجر بکروال بھائیوں کو اُن کے جنگلی حقوق دلانے کیلئے وعدہ بند ہوں، میں سابق حکومت سے کئی گناہ زیادہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقعے فراہم کرنے کیلئے وعدہ بند ہوں، میں وعدہ بند ہوں کہ میں یہاں دوبارہ امن و امان کا ماحول قائم کروں ۔ اس دوران عوام سے بائیکاٹ کی کالوں پر توجہ نہ دینے کی تاکید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ بائیکاٹ کا نتیجہ ہم نے دیکھ لیا، بائیکاٹ کی بدولت یہ دلی والے ووٹ ڈالنے سے پہلے ہی اپنے نمائندوں کو جتوا کے لے جاتے ہیں، اس لئے ہمیں بھر پور ووٹ ڈال کر ان کے مذموم اداروں کو پانی پھیرنا ہوگا۔
ہندوستان
یو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے یو جی سی – نیٹ کے سوشیلولوجی ، انگریزی اور کامرس مضامین کے امتحانات دوبارہ کرانے کے این ٹی اے کے فیصلے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب مانگا ہے۔
سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر پیر کے روز اظہارِ خیال کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان تین مضامین کے یو جی سی – نیٹ امتحانات 22 سے 30 جون کے درمیان ہوئے تھے اور تقریباً دو ماہ بعد این ٹی اے نے تسلیم کیا ہے کہ سوالناموں میں سنگین خامیوں کے ساتھ پرانے سوالات دہرائے گئے تھے۔ اب ہزاروں طلبہ کو ستمبر میں پھر سے ان مضامین کے امتحانات دینے ہوں گے۔
انہوں نے کہا، “ہزاروں طلبہ نے برسوں تیاری کی، درخواست دی، فیس ادا کی اور دور دراز کے امتحانی مراکز تک سفر کیا۔
اب انہیں یہ سب دوبارہ کرنا ہوگا۔ این ٹی اے غلطی کرتی ہے، لیکن سزا طالب علم بھگتتے ہے۔ اب تعلیمی نظام ایک ایسا نظام بن چکا ہے جو طلبہ کا پیسہ، ان کا وقت، ذہنی صحت اور خود اعتمادی چھین لیتا ہے، لیکن بدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ سوال یہ ہے کہ این ٹی اے یہ کیوں نہیں بتا رہی ہے کہ کیا امتحان سے پہلے سوالنامے لیک ہوئے تھے؟”
راہل نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفا پہلا قدم تھا، آخری نہیں۔ این ٹی اے کی قیادت کی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔
انہوں نے دوبارہ امتحان دینے والے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ایسا نظام مسئلہ ہے جو امتحان بھی ٹھیک سے منعقد نہیں کرا سکتا اور پھر طلبہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔
اس دوران کانگریس شعبہٴ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی ‘ایکس’ پر کہا کہ این ٹی اے کی غلطی کی سزا ملک کے طلبہ کیوں بھگتیں اور جن نوجوانوں کا نقصان ہوا ہے، اس کی بھرپائی کون کرے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
پنچکولہ، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر-لداخ میں بارش کا سلسلہ زیادہ شدید رہ سکتا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مغربی ہمالیائی خطے کے کچھ حصوں میں بہت شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔
قومی موسم پیش گوئی مرکز کی جانب سے 17 اگست کو صبح 8.57 بجے جاری آل انڈیا موسمی خلاصہ اور پیش گوئی بلیٹن کے مطابق 18 اگست کو ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہے۔ شمال مغربی ہندستان کے باقی حصوں میں الگ الگ سے کچھ مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔۔18 اگست کو بارش کا دائرہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس دن ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ 18 اگست کی وارننگ میں بھی ان علاقوں میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
17 اگست کو ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے ساتھ اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، مشرقی مدھیہ پردیش، گنگائی مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق مغربی ہمالیائی خطے میں پورے ہفتے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد اور اتراکھنڈ میں 17 سے 23 اگست کے دوران بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا اندازہ ہے۔
19 اگست کو ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا اندازہ ہے، جبکہ جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں ممکنہ بارش کے سبب مکمل طور پر سیراب مٹی والے علاقوں اور نشیبی علاقوں میں سطحی پانی کے بہاؤ یا پانی جمع ہونے کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
موجودہ موسم کو کئی موسمی نظام متاثر کر رہے ہیں۔ آئی ایم ڈی کے 17 اگست صبح 5.30 بجے کے موسمی تجزیے کے مطابق شمال مغربی خلیج بنگال اور اس سے متصل مغربی بنگال-شمالی اڈیشہ کے ساحل پر ایک دن پہلے بنا واضح کم دباؤ کا علاقہ شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اس کے گنگائی مغربی بنگال سے گزرتے ہوئے شمال مغربی سمت میں جھارکھنڈ کی طرف بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
