تازہ ترین
سمبل عصمت ریزی: 47فورسز اہلکاروں سمیت 60افراد زخمی، ایک کی حالت نازک
خبراردو:ملک پورہ ترہگام بانڈی پورہ میں گزشتہ ہفتے ایک درندرہ صفت انسان کی جانب سے تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کئے جانے کے خلاف سوموار کو وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے اس شرمناک واقعے میں ملوث عناصر کو غیر معمولی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق تین سالہ معصوم بنت حوا کے ساتھ ہوئی جنسی زیادتی کے خلاف شمالی کشمیر کے پٹن علاقے میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس دوران یہاں دن بھر افرا تفری کا ماحول بپا رہا۔ نمائندے کے مطابق پٹن کے ژین بل نامی علاقے میں سوموار کی صبح لوگوں کی ایک بڑی تعداد مجتمع ہوئی جنہوں نے تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ ہوئی شرمناک زیادتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملوث شخص کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھڑک اُٹھے احتجاج میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جس کے بعد یہاں امن و قانون کو نافذ کرنے والے ادارے جائے موقعہ پر پہنچ گئے جنہوں نے احتجاج کررہے لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کی راہ لینے کی اپیل کی۔ اس موقعے پر احتجاج کررہے لوگوں نے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کرتے ہوئے زور دار نعرے بازی کی۔ انہوں نے اس موقعے پر پلے کارڈ اور بینر اُٹھارکھے تھے جن پر بچی کو انصاف فراہم کرنے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے جیسے نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ اس موقعے پر جونہی پولیس اور سی آر پی ایف نے احتجاج کررہے لوگوں کو پیچھے دھکیلنے اور احتجاج کو ختم کرنے کی اپیل کی تو احتجاج میں شامل نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر شدید سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات نے سنگین رخ اختیار کرلیا۔
معلوم ہوا کہ فورسز نے احتجاج کررہے لوگوں کو شاہراہ کی جانب پیش قدمی کرنے سے روکتے ہوئے آنسو گیس کے درجنوں گولوں کےساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ بھی کی جس کے بعد علاقے میں ہر سو سنسنی پھیل گئی۔ ادھر مظاہرین نے بھی احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے نعرے بازی کےساتھ ساتھ سنگ باری کا سلسلہ تیز کردیا تاہم فورسز نے احتجاجیوں کو کچلنے کی خاطر شلنگ کا سلسلہ شروع کردیا جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے ۔ معلوم ہوا کہ زخمیوں میں سے ارشد احمد ڈار سر میں ٹیر گیس شل لگنے کے نتیجے میں بری طرح سے زخمی ہوا جسے بعد میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔ادھر شمالی کشمیر کو ملانے والی شاہراہ پر بھی سوموار کو دن بھر کئی مقامات پر جن میں ناربل، میر گنڈ، لاوے پورہ شامل ہیں میں لوگوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے نتیجے میں شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حمل بری طرح سے مسدود ہوکے رہ گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ میر گنڈ ، ناربل اور لاوے پورہ علاقوں میں لوگوں جن میں مرد و خواتین اور نوجوان شامل تھے نے سوموار کی دوپہر کو شاہراہ پر نکل کر شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج کررہے لوگوں نے واقعے میں ملوث عناصر کو سخت سزا دینے اور متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی بھی مانگ کی۔ اس موقعے پر احتجاج سے شاہراہ پر ٹریفک کی آواجاہی بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گئی جبکہ مظاہرین نے جگہ جگہ ٹیر جلانے کےساتھ ساتھ شاہراہ پر موٹے موٹے درختوں کےساتھ ساتھ بھاری بھرکم پتھر بھی رکاوٹ کے طور پر نصب کئے تھے۔اس دوران گورنمنٹ گرلز ہائر اسیکنڈی اسکول بانڈی پورہ میںزیر تعلیم طالبات نے بھی واقعے کے خلاف پرامن احتجاج کرتے ہوئے ملوث عناصر کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری اسکول کی طالبات نے سوموار کی صبح پلان بانڈی پورہ سے نوپورہ چوک تک ایک احتجاجی مارچ نکالا جس دوران انہوں نے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کی۔طالبات نے میڈیا کےساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی قریب میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے جنہیں بعد میں سیاسی اثر ورسوخ کی پاداش میں گول کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس شرمناک واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ واقعے کی تحقیقات غیر جانبدارانہ طریقے پر انجام دے اور سیاسی اثر و رسوخ سے کیس کو مستثنیٰ رکھا جائے۔ طالبات کا یہ احتجاجی مارچ بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوا۔
اس دوران ٹریڈرس فیڈریشن سمبل کےساتھ ساتھ اندرکوٹ، حاجن، گاڑ کھڈ اور تلارزو سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مشترکہ طور پر اس دلدوز اور شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا وہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔ معلوم ہوا کہ ٹریڈرس فیڈریشن سمبل کے زعما نے سمبل چوک میںپرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران انہوں نے واقعے کے خلاف جم کر نعرے بازی کرنے کےساتھ ساتھ متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ادھر سنٹرل یونیورٹی کشمیر کے گاندربل کیمپس اور گورنمنٹ ڈگری کالج گاندربل کے طلبا و طالبات نے گزشتہ ہفتے پیش آنے شرم ناک سانحے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مانگ کی کہ وہ واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ طلبا و طالبات نے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ سمبل کیس کا حشر ماضی کے مقدمات کی طرح نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو سر عام پھانسی پر لٹکایا جانا چاہیے تاکہ مستقل میں ایسا کوئی سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو۔
ادھر واقعے کے خلاف گاندربل کے بیہامہ، ددرہامہ، قمریہ چوک میں سوموار کو مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں معمول کی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ نمائندے کے مطابق تین سالہ بچی کےساتھ ہوئی جنسی زیادتی کے خلاف گاندربل کے کئی علاقوں میں سوموار کو احتجاجی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں آبادی نے ملوث افراد کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔ ہڑتال کی وجہ سے یہاں تجارتی، کاروباری اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر بند رہی۔ادھر تین سالہ بچی کی آبرو ریزی کے دل دہلانے والے واقعہ کے خلاف وادی کے بیشتر ضلع ہیڈکواٹرس میں احتجاجوں اور ہڑتالوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔
حریت کانفرنس کی(ع) ایک اکائی جموں وکشمیر اتحاد المسلمین کی کال پر پیر کے روز وادی کے بیشتر علاقوں میں مکمل ہڑتال کے بیچ احتجاجوں کا سلسلہ بھی جاری رہاجہاں سینکڑوں مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکر پ±رامن احتجاج کیا وہیں ضلع کپوارہ اور ہندوارہ کے ڈگری کالج طلبا وطالبات نے بھی سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کیے اور ملزم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ۔ادھر ایمز اسکول نے بھی ایک پر امن احتجاجی ریلی نکالی اور یہاں زیر تعلیم طلاب نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڑس اٹھا رکھے تھے جن پر ”ایمن کو انصاف دو“ اور ”مجرم کو سزائے موت دو“ جیسے نعرے درج تھے۔ادھر احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریلوے حکام نے سوموار کو سرینگر بارہمولہ کو جانے والی ریل گاڑیوں کو سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ریلوے حکام کے مطابق سمبل سانحہ کے پیش نظر ریلوے جائیداد اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی خاطر ریلوے کے اعلیٰ حکام نے سوموار کو سرینگر سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سرینگر سے بانہال ٹریک پر چلنے والی ریل گاڑیاں معمول کے مطابق اپنا سفر جاری رکھیں گے۔اس دوران ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس برائے شمالی کشمیر محمدسلیمان چودھری نے سمبل علاقے کا دورہ کرتے ہوئے یہاں مقامی لوگوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی شمالی کشمیر محمد سلیمان چودھری نے سوموار کو واقعے کے حوالے سے دورہ کرتے ہوئے یہاں مقامی لوگوں کےساتھ تبادلہ خیال کیا۔
معلوم ہوا کہ ڈی آئی جی نے یہاں لوگوں کے ساتھ کئی میٹنگیں منعقد کیں جس دوران انہوں نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ واقعے کی ٹھوس اور اعلیٰ سطحی انکوائری عمل میں لائی جائےگی اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائےگا۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پولیس کی طرف سے جاری تحقیقات پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کا اظہار کریں۔ یہاں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران ڈی آئی جی نے بتایا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ پولیس کی طرف سے شروع کی گئی تحقیقاتی عمل پر مکمل بھروسہ کریں۔ہم نے پہلے ہی واقعے سے متعلق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو تشکیل دیا ہے جس میں پولیس کے سینئر افسران کام پر لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خصوصی ٹیم میں شامل سینئر پولیس افسران واقعے سے متعلق ثبوت و شواہد کو حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر مصلحت اندیشی سے کام نہیں لیا جائےگا۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات پیشہ ورانہ بنیادوں پر عمل میں لائی جارہی ہے، میں آج یہاں ذاتی طور پر آگیا اور یہاں زمینی صورتحال کا جائزہ لے کر لوگوں کے ساتھ بات چیت کی۔ واقعے پر گہرائی سے نظر گزر رکھنے کے لیے ایس ایس پی بانڈی پورہ کو گزشتہ کئی دنوں سے بانڈی پورہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے سمبل اور متصل علاقوں میں واقعے کے خلاف لوگوں نے جم کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا کیوں کہ واقعے میں ملوث نوجوان کی تاریخ پیدائش سرٹیفکیٹ سے متعلق کئی شبہات نے جنم لیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اسکول پرنسپل کی طرف سے تاریخ پیدائش جاری کی گئی اور جسے بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا وہ اصل میں صحیح نہیں ہے۔ پولیس نے اس معاملے کا بھی علیحدہ سے نوٹس لے لیا ہے اور سرٹیفکیٹ کی اجرائی میں ملوث اسکولی پرنسپل اور دیگر عملے سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ڈی جی پی کے بقول واقعے سے متعلق جونہی پولیس کو 8مئی کو جونہی شکایت موصول ہوئی تو اس کے فوراً بعد ہی مبینہ طور پر ملوث نوجوان کو گرفتار کیا گیا اور جو فی الحال پرلیس حراست میں ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کہ وہ کسی بھی تشدد آمیز کارروائی کا حصہ نہ بنے اور انکوائری کے حوالے صبر و تحمل کا مظاہر ہ کریں۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
