تازہ ترین
وادی میں دو الگ جھڑپوں میں 4 عسکریت پسند جاں بحق : مکمل رپورٹ
خبراردو: پلوامہ، کوکرناگ اور سوپور میں فوج اور جنگجوﺅں کے مابین خونین معرکہ آرائیاں واقع ہوئی جن میں4جنگجو جاں بحق ہوئے جبکہ پولیس نے مارے گئے جنگجوﺅں کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کےساتھ ساتھ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوج و فورسز نے پلوامہ کے پنزگام علاقے میں دوران شب جنگجوﺅں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد کارڈن اینڈ سرچ آپریشن عمل میں لاتے ہوئے علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔پولیس ذرائع کے مطابق فوج کی 55آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو پنزگام علاقے کا محاصرہ عمل میں لاکر یہاں جنگجو مخالف آپریشن شروع کردیا۔ پولیس کے بقول فورسز نے جونہی علاقے میں داخل ہوکر گھر گھر تلاشی شروع کی تو اسی اثنا میں یہاں موجود مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے تلاشی پارٹی پر بندوق کے دہانے کھول دئے جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے جوابی کارروائی شروع کی اور اس طرح علاقے میں جھڑپ کاآغاز ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ رات کے 1بجے تا صبح ساڑھے 9بجے طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ جاری تھاتاہم صبح 10بجے کے قریب جائے جھڑپ کے نزدیک گولیوں کا تبادلہ تھم گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس موقعے پر فورسز اہلکاروں نے جائے جھڑپ کے نزدیک پہنچنے کی کوشش کی اور یہاں ملبے کی باریک بینی سے تلاشی شروع کی جس کے بعد ملبے سے 3جنگجوﺅں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوﺅں کی شناخت شوکت احمد ڈار ولد غلام رسول ڈار ساکن پنزگام، مظفر احمد شیخ ولد عبدالعزیز ساکن ٹہب اور عرفان احمد وانی ساکن سوپور کے طورپر ہوئی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مارے گئے جنگجوﺅں کا تعلق حزب المجاہدین کے ساتھ ہیں جن کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کے علاوہ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کرلیا گیا۔ادھر علاقے میں جھڑپ کے اختتام پر نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز پارٹی پر پتھراﺅ کیا جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔فورسز نے احتجاج کررہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کی خاطر آنسو گیس کے گولوں کےساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی ۔ ادھر شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ کے ہتھ لنگو علاقے میں سنیچر کو فوج اور جنگجوﺅں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک جنگجو مارا گیا۔ معلوم ہو اکہ فوج کی 23آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف نے مشترکہ طور پر سوپور کے ہتھ لنگو علاقے کا محاصرہ عمل میں لاکر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔ فورسز نے علاقے میں جنگجوﺅں سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد علاقے کا چہار سو سخت محاصرہ عمل میں لاکر یہاں کسی بھی شخص کے عبور و مرور پر قدغن عائد کی۔ اس دوران فورسز نے علاقے کے کھیت اور باغات میں سخت پہرہ بٹھاتے ہوئے جنگجوﺅں کے تماممکنہ فرار راستوں کو سیل کردیا۔ فورسز نے اس موقعے پر علاقے میں مزید کمک طلب کرتے ہوئے جگہ جگہ بلٹ پروف گاڑیوں کو تعینات کردیا۔ اس دوران فورسز نے جنگجوﺅں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی شروع کی جس کے ساتھ ہی علاقہ گولیوں کی گن گرج سے لرز اُٹھا۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے اختتام پر یہاں ایک جنگجو مارا گیا جس کی شناخت وسیم احمد نائک ساکنہ اونتی پورہ کے بطور ہوئی ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے مارے گئے جنگجو کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا ۔
ادھر پولیس نے سنیچر کو مارے گئے جنگجوﺅں سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ وہ پولیس ، سی آر پی ایف اور عام شہریوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے جنگجو پولیس کے کئی عرصے سے مطلوب تھے ۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے کوکرناگ علاقے میں سنیچر کی صبح فورسز نے پرانے قصبے کا محاصرہ عمل میں لاکر یہاں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔ علاقے میں محاصرہ قائم ہونے کے ساتھ ہی یہاں نوجوانوں کی چند ٹولیوں نے فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ معلوم ہوا کہ فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے دہرونہ کوکرناگ علاقے کامحاصرہ عمل میں لاکر یہاں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔ ذرائع کے مطابق فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوچکی تھی کہ علاقے میں لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے طارق احمد خان نامی جنگجو پناہ لئے ہوئے ہے ۔اس دوران فورسز نے جونہی مشتبہ مقام کے نزدیک پہنچنے کی کوشش کی تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فورسز پارٹی پر کئی گولیاں چلائی جس کے ساتھ ہی علاقے میں مختصر وقفے تک طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ تاہم چند منٹ بعد جونہی فورسز نے جائے جھڑپ کے ارد گرد تلاشی لی توانہوں نے یہاں پر کسی کو نہیں پایاجس کے ساتھ ہی فورسز نے علاقے سے جنگجو مخالف آپریشن کو منسوخ کردیا۔ اس دوران علاقے میں آپریشن کے دوران مقامی جنگجو کے پھنسے ہونے کے ساتھ ہی ہڑتال ہوئی جس کے نتیجے میں یہاں معمول کی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔
معلوم ہو اکہ اولڈ ٹاﺅن کوکرناگ میں انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر سخت بندشیں عائد کیں جس کے بعد عوام میں یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ علاقے میں مقامی لشکر جنگجو پھنسا ہوا ہے۔ اس دوران انتظامیہ نے تینوں علاقوں میں افرا تفری سے پاک ماحول کو یقینی بنانے کی غرض سے موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ادھر پنزگام جھڑپ کے مابعد عوامی مظاہروں کے پیش نظر ریلوے حکام نے بھی سرینگر سے بانہال چلنے والی ریل سروس کو بند رکھنے کا فیصلہ لیاہے۔ادھر پلوامہ اور سوپور جھڑپ میں جنگجوﺅں کی ہلاکت کے خلاف پلوامہ کے متعدد جبکہ سوپور کے چند علاقوں میں ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میںیہاں معمولات کی سرگرمیاں ماند پڑگئیں۔ نمائندے کے مطابق پنزگام جھڑپ میں جاں بحق جنگجوﺅں کی یاد میں پلوامہ کے ٹہب، ملنگ پورہ، نیوہ، اونتی پورہ علاقوں میں سخت ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں زندگی کی جملہ سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے یہاں عوامی، کاروباری، تجارتی اور غیر سرکاری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی روانی میں مکمل طور پر بند ہوئی.
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
واشنگٹن، امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔
حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔
پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔
امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا.
پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر21 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
