تازہ ترین
2 روز بعد وادی کے بیشتر علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں بحال
خبراردو: جمعرات کی شام ڈاڈرسرہ ترال پلوامہ میں ایک جھڑپ کے دوران انصارالغزوة الہندکے چیف کمانڈرذاکرموسیٰ کے جاں بحق ہوجانے کے بعدجمعہ اور سنیچروار کوپوری کشمیروادی میں اعلانیہ و غیراعلانہ ہڑتال کال اور سری نگروپلوامہ ضلع کے حساس علاقوں میں کرفیوجیسی بندشوں کے نتیجے میں عوامی ، کاروباری اورتعلیمی سرگرمیاں مکمل طورپرمفلوج رہنے کے بعداتوارکے روزسری نگرسمیت وادی کے بیشتراضلاع میں معمول کی سرگرمیاں بحال ہوگئیں ۔
اتوارکوصبح سے ہی شہرسری نگرسمیت شمالی ، وسطی اورجنوبی کشمیرکے بیشترقصبہ جات میں بازارکھل گئے تاہم سنڈے مارکیٹ پوری طرح سے سجائے گئے ۔ سری نگرکے سیول لائنزعلاقہ میں واقع دکانات ،دیگرکاروباری مراکزاورنجی دفاترمعمول کی طرح کھل گئے ،جس کے نتیجے میں بازاروں میں خاصی گہماگہمی دیکھنے کوملی ۔اس دوران پولوویوسے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ تک سنڈے مارکیٹ سجائے گئے ۔دن بھرسیول لائنزمیں خریداروں کارش دکھائی دیاجبکہ میٹاڈارگاڑیاں بھی معمول کی طرح سڑکوں پردوڑتی نظرآئیں ۔شہرخاص کے نواحی علاقوں کیساتھ ساتھ سری نگرکے نواحی علاقوں بشمول بتہ مالو،قمرواری،کرن نگر،مگرمل باغ ،سرائے بالا،مہاراج بازار،راجباغ ،جواہرنگر،چھانہ پورہ ،راولپورہ ،صنعت نگر،نٹی پورہ ،حیدرپورہ ،باغات،برزلہ ،پرے پورہ اورنوگام میں بھی اتوارکوسبھی بازارکھلے رہے اوران بازاروں میں بھی چھاپڑی فروشوں نے سنڈے مارکیٹ سجائے ہوئے تھے ۔ان سبھی علاقوں میں بھی مسافر ٹرانسپورٹ سروس بحال رہی ۔
تاہم نوہٹہ اورصورہ میں مظاہروں اورسنگباری وتوڑپھوڑکے کچھ واقعات پیش آنے کے بعدحکام نے شہرخاص میں خواجہ بازارسے حول تک حساس علاقوں میں بندشیں عائدکی گئیں،اورکسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ان علاقوں میں پولیس وفورسزاہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ چلنے پھرنے پرکوئی پابندی عائدنہیں تھی تاہم سڑکوں پرخاردارتاریں بچھی ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ۔لوگوں کے بقول شہرخاص کے نوہٹہ ،ملارٹہ ،صراف کدل ،بہوری کدل ،راجوری کدل ،گوجوارہ ،حول اوردیگرکچھ علاقوں میں بازاربندرہے جبکہ سیکورٹی اہلکاروں نے مرکزی جامع مسجدکوسیل رکھا۔حکام نے بتایاکہ اتوارکوصبح کے وقت شہرخاص میں جب دکانات کھلناشروع ہوئے تویہاں کچھ افرادنے امن وقانون کی صورتحال میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جبکہ اسی نوعیت کے واقعات صورہ میں بھی پیش آئے جہاں نامعلوم افرادنے دکانات اورچھاپڑیوں پرلگائے گئے سامان کونقصان پہنچانے کیساتھ ساتھ توڑپھوڑ بھی کی ۔حکام کے مطابق اسی بناءپرصورہ،نوشہرہ اورشہرخاص کے کچھ مخصوص علاقوں میں پولیس وفورسزاہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لاکردفعہ144کے تحت کچھ فوری نوعیت کے احتیاطی اقدامات اُٹھائے گئے تاکہ عام لوگوں کے جان ومال کوتحفظ فراہم کیاجاسکے ۔
اُدھر سری نگرشہرکے باقی سبھی علاقوں بشمول نشاط،شالیماراورحضرتبل میں بھی بازارکھلے رہے اوریہاں بھی مسافراورنجی گاڑیاں معمول کے مطابق چلتی رہیں ۔اس دوران شہرسری نگرکووسطی ،شمالی اورجنوبی کشمیرسے ملانے والی شاہراہوں کیساتھ ساتھ بین ضلعی رابطہ سڑکوں پربھی اتوارکوصبح سے ہی سبھی قسم کی گاڑیاں چلتی رہیں ۔گاندربل ،کنگن،بڈگام ،چاڈورہ،خانصاحب ،بیروہ ،ماگام ،چرارشریف ،بارہمولہ ،سوپور،پٹن ،وترگام ،باندی پورہ ،سمبل ،حاجن ،کپوارہ ،ہندوارہ ،لنگیٹ ،ترہگام ،کرالہ پورہ ،پلوامہ ،پانپور،شوپیان ،کولگام اوراسلام آبادسمیت بیشترقصبہ جات میں بھی اتوارکوبازار اوردیگرکاروباری مراکزکھلے رہے اوریہاں بھی مسافراورنجی گاڑیاں سڑکوں پررواں دواں رہیں ۔
اُدھرحکام نے امن وقانون کی صورتحال میں بہتری آنے کے بعداتوارکی صبح بانہال سے براستہ قاضی گنڈ،بڈگام وسرینگر،بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس بھی بحال کردی۔ریلوے حکام نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ حکام کی جانب سے ہری جھنڈی ملنے کے بعداتوارکی صبح بانہال سے بارہمولہ تک ریل گاڑیوں کی آواجاہی بحال کردی گئی ۔اس دوران اتوارکوصبح سے ہی سری نگر،بارہمولہ اورشمالی کشمیرکے دیگراضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس دھیمی رفتارسے چلتی رہی جبکہ دھیمی انٹرنیٹ سروس کوسنیچرکی شام لگ بھگ پانچ بجے سرینگرسمیت کئی اضلاع میں بحال کیاگیاتھا۔
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
کشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
سری نگر، جموں و کشمیر کے حکام نے پیر کو مبینہ طور پر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کردیا۔ انہیں ہندوستانی فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعے کشمیر سے مغربی بنگال کے باگ ڈوگرا لے جایا گیا۔
حکام نے بتایا کہ ملک بدر کیے گئے افراد کو باگ ڈوگرا لے جایا گیا، جہاں انہیں مزید بنگلہ دیش واپس بھیجنے کے لیے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کردیا گیا۔
حکام نے ان افراد کو مختلف واقعات میں حراست میں لیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ان میں سے کئی افراد کو کشمیر کے مختلف علاقوں میں کی گئی چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ملک بدر کیے گئے بہت سے افراد غیر رسمی شعبے میں کام کر رہے تھے، جن میں تعمیراتی مزدور بھی شامل ہیں۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ’’یہ کارروائی مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کرکے انجام دی جا رہی ہے۔‘‘
معلوم ہوا ہے کہ بنگلہ دیشی شہریوں کے ایک اور گروپ کو بھی آنے والے دنوں میں ملک بدر کیے جانے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف تازہ کارروائی سرحدی ریاستوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کی وسیع تر مشق کے تحت کی گئی ہے۔
مرکز کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی کمیٹی نے، جس کی سربراہی ریٹائرڈ جسٹس پربھاکر ناولیکر کر رہے ہیں، اگست میں جموں کا دورہ کیا تھا تاکہ مبینہ غیر قانونی امیگریشن سمیت آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت 6,000 سے زیادہ روہنگیا اور صرف 500 بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
فارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلیاں کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے عہدے کا غلط استعمال کر کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مدد کی ہے۔
مسٹر گاندھی نے پیر کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا، “اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ مسٹر گیانیش کمار نے فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلی کی ہے اور یہ تبدیلی واضح طور پر بی جے پی کی مدد کے لیے کی گئی۔ یہ ان کے عہدے کے غلط استعمال کا ایک اور ثبوت ہے۔ اس معاملے کی سازش میں شامل تمام لوگوں کو ‘ووٹ چوری’ کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی تبدیلی کی بات الیکشن کمیشن کے اپنے کمشنروں نے بھی درج کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن میں کس کے حکم پر ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے یہ تبدیلی کروائی گئی۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار اور اس معاملے میں شامل دیگر تمام لوگوں کو جمہوریت پر کیے گئے اس مبینہ مجرمانہ حملے کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
مسٹر گاندھی نے اپنے پوسٹ میں 26 ستمبر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحت بھی شیئر کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایس آئی آر ( کی مدت کے لیے فارم-6 کے ساتھ منسلک ڈیکلریشن کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔ کمیشن نے کہا تھا کہ غیر ایس آئی آر مدت میں ضوابط کے مطابق لاگو فارم کا استعمال کیا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر کوئی یکطرفہ عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ وہ ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر سے جڑے اہم فیصلے، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے یکطرفہ طور پر لیے جانے کے الزامات پر پہلے الیکشن کمیشن اور دیگر مدعا علیہان کا موقف سنے گی۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا7 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا7 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
دنیا6 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا5 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا6 days agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
-
جموں و کشمیر4 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
