جموں و کشمیر
زخمی فوجیوں کو ان کا چہرہ لوٹانے والی باکمال خاتون
خبراردو: دنیا کی تاریخ کی ہولناک ترین جنگ، جنگ عظیم اول 1 کروڑ 60 لاکھ افراد کی جانیں لے گئی تھی۔ ان کے علاوہ لاکھوں افراد ایسے بھی تھے جو اس جنگ میں معذور ہوگئے۔
اس جنگ میں 20 ہزار کے قریب افراد ایسے بھی تھے جو گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد اپنے چہرے کی خوبصورتی سے محروم ہوگئے اور ان کا چہرہ بدنما ہوگیا۔
یہ زیادہ تر فوجی تھے جو گولیوں یا گولوں کا نشانہ بننے سے بری طرح زخمی ہوگئے۔ گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد ان کا چہرہ بگڑ گیا اور جب جنگ ختم ہوئی تو ان کے پریشان کن چہرے نے انہیں معمول کی زندگی گزارنے سے روک دیا۔
اس وقت پلاسٹک سرجری اس قدر جدید نہیں تھی کہ ان فوجیوں کو ان کا چہرہ کسی حد تک واپس لوٹا سکتی، ایسے میں ایک خاتون اینا کولمین لیڈ نے گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے ان فوجیوں کو نئی زندگی دی۔
اینا ایک مجسمہ ساز تھی جس نے ایک فزیشن نے شادی کی تھی۔ جنگ کے دوران جب اسے ان فوجیوں کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے ان کے لیے خصوصی ماسک تیار کرنے کی تجویز پیش کی جو ان کے چہرے کی بدنمائی کو کسی حد تک چھپا دے۔

جنگ کے بعد اینا نے ریڈ کراس کے تعاون سے پیرس میں ایک اسٹوڈیو قائم کیا جہاں اس نے ان فوجیوں کے لیے ماسک بنانا شروع کردیے۔
اینا پہلے فوجی کے چہرے کی مناسبت سے پلاسٹر کا ایک سانچہ سا تیار کرتی تھی، اس کے بعد وہ کاپر سے ایک اور سانچہ بناتی اور مذکورہ فوجی کی پرانی تصاویر کی مدد سے اس سانچے کو اس کے پرانے چہرے جیسا بناتی۔
اس کے بعد اس ماسک پر مذکورہ فوجی کی اسکن ٹون جیسا رنگ کیا جاتا۔ ایک ماسک کی تیاری میں تقریباً 1 ماہ کا وقت لگا۔
اینا کی یہ کاوش ان فوجیوں کے لیے نئی زندگی کی نوید تھی۔ وہ پھر سے جی اٹھے اور ایک بار پھر معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے لگے۔
ایک انٹرویو میں اینا کے معاون نے بتایا کہ ان کے پاس آنے والا ایک فوجی جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کئی عرصے تک اپنے گھر واپس نہیں گیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ماں اس کا بدنما چہرہ دیکھے۔
اسی طرح ایک فوجی نے اپنے چہرے کی بحالی کے بعد اینا کو خط لکھا جس میں اس نے شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اپنی محبوبہ سے شادی کرلی ہے جو پہلے اس لیے شادی سے انکاری تھی کیونکہ وہ اس کے چہرے سے خوفزدہ تھی۔
کچھ عرصے تک فوجیوں کے لیے ماسک بنانے کے بعد اینا واپس امریکا لوٹ گئی تھی جہاں اس نے مجسمہ سازی کا کام شروع کردیا تاہم فوجیوں کے لیے کیے جانے والے اس کے کام نے اسے ہمیشہ کے لیے امر کردیا۔
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
