تازہ ترین
ڈانگرپورہ سوپور شوٹ آﺅٹ میں 2عسکریت پسند جاں بحق
خبراردو: شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں فوج اور جنگجوﺅں کے درمیان مسلح تصادم آرائی کے دوران 2جنگجو جاں بحق ہوئے جن کی تحویل سے پولیس نے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ سوپور کے ڈانگرپور علاقے میں فوج و فورسز نے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس میں طرفین کے درمیان ہوئے گولیوں کے شدید تبادلے کے نتیجے میں 2 جنگجو جاں بحق ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق فوج کی 22آر آر، سی آر پی ایف اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے جمعرات کی صبح ڈانگر پورہ کے بونہ پورہ محلے کا اُس وقت سخت محاصرہ عمل میں لایا جب علاقے میں لشکر طیبہ سے وابستہ 2سے 3جنگجوﺅں کے چھپنے ہونے کی اطلاع فورسز کو موصول ہوئی۔ پولیس کے مطابق ڈانگرپورہ کے بونہ پورہ علاقے میں فوج و فورسز کی مشترکہ پارٹی نے جمعرات کی صبح جنگجوﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر کارڈن اینڈ سرچ آپریشن عمل میں لایا۔ اس دوران فورسز نے علاقے میں داخل ہوکر گھر گھر تلاشی کا باضابطہ آغاز کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کی صبح علاقے میں فورسز کی بھاری نفری نے کڑا محاصرہ عمل میں لاکر یہاں گھر گھر تلاشی مہم شروع کردی جس کے نتیجے میں علاقے کے مرد و زن میں خوف کا ماحول دوڑ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران گھروں کی باریک بینی سے تلاشی لینے کے علاوہ یہاں مکینوں کے شناختی کارڈ بھی چیک کئے جبکہ کئی مقامی شہریوں کو کڑے پوچھ تاچھ کے مراحل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ تلاشی پارٹی نے جونہی علاقے میں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا تو جونہی فورسز کی رسائی مشتبہ مقام تک ممکن ہوئی تو یہاں چھپے بیٹھے اسلحہ برداروں نے جدید ہتھیاروں سے لیس فورسز پر زبردست فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز نے بھی پوزیشن سنبھالتے ہوئے جوابی کارروائی کی اور یوں علاقے میں فورسز اور جنگجوﺅں کے درمیان مسلح تصادم آرائی شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فورسز نے اس موقعے پر طوالت سے بچنے کےلئے جائے جھڑپ کے ارد گرد گھیراﺅ مزید تنگ کرتے ہوئے حتمی کارروائی کافیصلہ لیا۔ اس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فرار ہونے کےلئے فورسز پر زبردست فائرنگ کی تاہم فورسز نے علاقے میں مزید ٹکڑیاں طلب کرکے فرار کے تمام ممکنہ راستوں کو سیل کردیا۔ پولیس کے مطابق علاقے میں طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ کئی گھٹنوں تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔
اس دوران فورسز نے جونہی جائے جھڑپ کے نزدیک سرچ آپریشن شروع کیا تو انہیں یہاں سے دو جنگجوﺅں کی لاشیں برآمد کیں۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوﺅںکا تعلق لشکر طیبہ سے ہیں اور ان کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کے علاوہ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کرلیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ جائے جھڑپ کے نزدیک سرچ آپریشن ہنوز جاری ہے ۔ ادھر علاقے میں جھڑپ شروع ہونے کےساتھ ہی نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کےخلاف سخت احتجاج کیا۔ مظاہرین نے فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر یہاں تعینات اہلکاروں پر کئی اطراف سے سنگ باری کی جس کے جواب میں علاقے میں کچھ دیر کےلئے افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔اس دوران مظاہرین نے اسلام، آزادی اور جنگجوﺅں کے حق میں زور دار نعرے لگاتے ہوئے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی شروع کرنے کی کوشش کی تاہم فورسز اہلکاورں نے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغے۔
ادھر جھڑپ کے آغاز کےساتھ ہی انتظامیہ نے قصبہ سوپور میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے اور بے لگام افواہ بازی پر بریک لگانے کی خاطر قصبہ سوپور اور مضافاتی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو بند کردیا۔ اس دوران جھڑپ شروع ہونے کےساتھ ہی قصبہ سوپور اور مضافاتی علاقوں میں مکمل سکوت چھاگیا جس کے نتیجے میں یہاں معمول کی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈانگرپورہ بونہ پورہ علاقے میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی یہاں آناً فاناً دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی بہت حد تک متاثر ہوگئی۔س دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوپورعاشق حسین نے تازہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قصبہ سوپور کے تحت آنے والے تمام کالجوں اور ہائر اسکینڈری اسکولوں کے علاوہ تحصیل زینہ گیر کے تحت آنے والے ہائر اسکینڈری اسکولوں میں کام کاج کو معطل رکھنے کے احکامات صادر کئے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوپور کا کہنا تھا کہ قصبہ سوپور میں جنگجو مخالف آپریشن شروع ہو اہے لہٰذا قصبہ اور مضافاتی علاقوں میں ممکنہ عوامی احتجاج کا خطرہ برقرار ہے لہٰذا اس صورتحال میں قصبہ سوپور اور زینہ گیر علاقوں کے تحت آنے والے کالجوں اور ہائر اسکینڈری اسکولوں میں جمعرات کو تدریسی عمل معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دنیا
روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
واشنگٹن، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روسی توانائی کمپنی لوکوئل سے متعلق اربوں ڈالر کے ممکنہ تیل معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو سینئر مذاکرات کاروں سے وابستہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تجویز 5 ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت لوکوئل روس سے باہر تیل کے شعبے کے اثاثے، جن میں تیل کے کنویں، ریفائنریاں اور پٹرول پمپس شامل ہیں، خرید سکتی ہے۔ ان میں نیو جرسی کے پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سودے میں مشرق وسطیٰ کے دو کاروباری گروپ اور امریکی سرمایہ کار و ٹرمپ کے عطیہ دہندہ ٹوڈ بوہلی بھی شامل ہیں۔ ان گروپوں کے ماضی میں وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کاروباری روابط رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وٹکوف یا کشنر کو ذاتی طور پر اس سودے سے مالی فائدہ ہوگا، تاہم مذاکرات میں شامل فریقوں سے ان کے کاروباری روابط نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
وٹکوف امریکی خصوصی ایلچی ہیں، جبکہ کشنر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر ہیں۔ دونوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے اس بڑے سودے کو شامل کرنا مستقبل میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے وسیع اقتصادی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
جموں، بی جے پی کے قومی دفتر انچارج، راجیہ سبھا رکن اور گجرات کے انچارج ترون چگ نے ہفتہ کو عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ریاستی حیثیت کے مسئلے کو اپنے خودمختاری کے ایجنڈے کے پردے کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور بنیادی حکمرانی میں اپنی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
چگ، جو اس سے قبل جموں و کشمیر بی جے پی کے انچارج بھی رہ چکے ہیں، نے یہاں کہا کہ ریاستی حیثیت سے متعلق مجوزہ قرارداد ایک سیاسی چال ہے، کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ کے ایوان میں پہلے ہی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ این سی حکومت اپنی ناکام حکمرانی اور انتخابات کے دوران کیے گئے نامکمل وعدوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس مسئلے کا استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’عمر عبداللہ کو غیر متعلقہ مسائل پر بات کرنا بند کرکے اپنی حکومت کا رپورٹ کارڈ پیش کرنا چاہیے۔ عوام روزگار، ترقی اور ان سے کیے گئے وعدوں کے بارے میں جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں قوم پرستی کے تحفظ اور ترقی کو تیز کرنے کے لیے مسلسل خود کو مضبوط کر رہی ہے اور نئے لوگ مسلسل پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے ایک یک طرفہ ایجنڈا اختیار کر لیا ہے اور ترقی و عوام کے تئیں اپنی بنیادی ذمہ داری سے دور ہو گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں، ریلوے اور بنیادی ڈھانچے میں نظر آنے والی پیش رفت وزیر اعظم مودی کے وژن اور مودی حکومت کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
مودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت ’غیر قانونی‘ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اس لیے اسے برطرف کرکے ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
مسٹر کھڑگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے جمہوریت کو برباد کر دیا ہے۔ ملک میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور تمام انتخابات غیر قانونی ہیں، لہٰذا ایسے انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی حکومتیں اور ان کے وزرا بھی غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ملک میں ’غیر قانونی انتخابات‘ ہو رہے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی ’غیر قانونی وزیر اعظم‘ اور امیت شاہ ’غیر قانونی وزیر داخلہ‘ ہیں۔ حکومتوں کو برطرف کیا جانا چاہیے اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔‘‘
کانگریس صدر نے کہا کہ ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی وجہ سے پورا انتخابی عمل برباد ہو گیا ہے۔ جمہوریت میں جاری اس غیر قانونی عمل کے پیش نظر ہی انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی گئی تھی، جس میں 20 جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ قانونی ماہر کپل سبل کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں سبھی نے تسلیم کیا کہ ایس آئی آر غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے غریب، پسماندہ اور خاص طور پر اقلیتی طبقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ ووٹ کاٹنے کا کام بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ کر رہے ہیں۔ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ایک بوتھ سے 500-500 افراد کے نام بھی حذف کر دیے جائیں تو اس سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ اب ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ اپنے لوگوں کے نام ووٹر فہرست میں برقرار رکھ رہے ہیں، جبکہ غریبوں کو اپنے نام شامل کرانے کے لیے وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت غیر قانونی انتخابات کرانے پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے انتخابی عمل پر قبضہ کرنے کے لیے وزیر اعظم ایسا قانون لائے ہیں جو ملک کی جمہوریت کو برباد کرنے والا ہے۔ اس قانون کو لانے سے پہلے الیکشن کمیشن کی تقرری کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی۔ اس عمل میں وزیر اعظم، اپوزیشن کے رہنما اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوتے تھے اور وہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے عمل میں شریک رہتے تھے۔ مودی حکومت نے اس طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے کمیٹی سے چیف جسٹس کو ہٹا کر ایک وزیر کو شامل کر دیا ہے۔ مودی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر غلط کام بھی کرتے ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور جب تک وہ زندہ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس انتظام کی وجہ سے من مانی ہو رہی ہے اور دو دیگر الیکشن کمشنروں کی جانب سے اعتراض درج کرائے جانے کے باوجود ان کی بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ ایک اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد کانگریس نے اس معاملے کو اٹھایا، جس کے بعد ماحول بنا اور اب پورے ملک میں احتجاجی تحریکیں چل رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا6 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیے میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اپیل
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
ہندوستان1 week agoڈاکٹر منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر کھرگے اور پرینکا کا خراج عقیدت
-
دنیا5 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ کوئی خیرات نہیں: سجاد لون نے جموں و کشمیر کی قرارداد کا دفاع کیا، 1947 کے وعدوں کا حوالہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoمقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
-
ہندوستان1 week agoسونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
