تازہ ترین
شرمناک واقعات: کیسے ہو گی روکتھا م؟
غازی سہیل خان :
گزشتہ کچھ ماہ سے مسلسل انسانیت کو شرم سار کر دینے والی ایسی خبریں سننے اور پڑھنے کو مل رہی ہیں کہ ایک عام انسان کا سر شرم سے جھک جانا فطری بات ہے۔ابھی اس واقعہ کو چند ہی دن گزرگئے تھے کہ ایسی ہی ایک اور خبر سوشل ویب سائٹس پر گردش کرنے لگی جس میں گاندربل سے تعلق رکھنے والے ایک کنبہ کو روتے اور بلکتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا،جس میں ایسے ہی شرم ناک سانحہ کی کہانی سُنائی جا رہی تھی۔
فی الوقت اس طرح کے شرمناک واقعات کا رونما ہونا ہمارے سماج کا اب حصہ بنتے جا رہے ہیں، جو کہ انتہائی تشویش ناک امر ہے۔انسانیت کو شرم سار کر دینے والے اس جیسے واقعات کے بعد ان درندہ صفت مجرموں کے خلاف ابھی تک قانون کوئی کارروائی نہیں کر پاتا، جس کی وجہ سے اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے جسمانی لذت کے پُجاریوں کے گھناونے عزائم کو اور زیادہ تقویت ملتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ قانون ایسے مجرموں کو عبرتناک سزا دینے میں اب تک مکمل طور سے ناکام ہو چکاہے ۔بلکہ آنکھ کھول کر بلا کسی تعصب کے اگر دیکھا جائے تو ایسے مجرموں کے لئے قران مجید نے جو سزا مقرر کی ہے وہ قابل عمل ہی نہیں مانی جاتی، حالانکہ اس شرمناک وبا کا واحد علاج قانون قرآن ہی ہے۔ ”زانیہ عورت اور زانیہ مرد ،دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارواو ران پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخرپر ایمان رکھتے ہواور اُن کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے“۔(النور:۲)
اگر یہی قانون عمل آور بنا کر ان زانیوں اور حوس کے پُجارئیوں،کنن پوشپورہ میں درجنوں ماوں اور بہنوں کی عصمتوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں ،آسیہ اور نیلوفرکی عزت کو تار تار کرنے والوں،رسانہ کی آصفہ جیسی ہزاروں بیٹیوں اوربہنوں کی عصمتوں کو لوٹنے والوں کو سزائیں دی جاتیں تو آج ایسی خبریں دیکھنے کو نہیں ملتی ۔حال یہ ہے کہ اب ہم بھی ایسے دردناک واقعات پر جذباتی ہو کر وقتی ردعمل دکھا کر خاموشی اختیار کر کے روزانہ معمولات میں مست ومگن ہو جاتے ہیں۔ اس جیسے واقعات پر ہمارا وقتی شوروغل کرنا اگرچہ غیرت کی ہی نشانی ہے تاہم ہم نے اخلاقی تعلیم اور اسلام سے اپنی نئی نسل کو نابلد و نا آشنا رکھا ہے، ہم نے اپنے سماج میں اسلام پسندوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں،ہم مسلکی اور گروہی جھگڑوں میں اُلجھ گئے ہیں،آٹھ اور بیس پر مناظرہ بازیاں اور فتویٰ دینا اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا ہے ، اسلام کو بحیثیت مکمل نظامِ زندگی تسلیم کرنا تو دور کی بات اس پر رہی سہی موجودہ ہماری خود کی بنائی ہوئی عمارت بھی ہمیں عملاً قبول نہیںہے۔ ہمارے معاشرے میں جدیدیت کے نام پرایسی آوازیں اُٹھنی شروع ہو گئی ہیںجن پر بلا جھجھک کہہ سکتے ہیں کہ وہ ”اصل“ کو ”خراب“ کرنے کے لیے کافی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ:”بچوں کو سیکس ایجوکیشن بھی دی جانی چاہیے،گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کا علم بھی ان معصوم نونہالوں کے ذہنوں میں اُتار دیا جانا چاہے۔وا حسرتا….!
ہمارے سماج کا مایوس کن دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کو ہمارے سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر بیٹھے جانبازوں نے بغیر حقائق کے پیش کرنے کی جیسے قسم کھا رکھی ہو۔چند نے تو مبینہ طور زیادتی کی شکار تین سالہ بچی کے بدلے فلسطین کی زخمی حالت میں ایک بچی کی تصویر کو سوشل میڈیا پر اتنی وائرل کر دی کہ لوگوں نے اپنے جسموں پر کفن باندھنے جیسے شروع کر دئے تھے ۔اسکولی طلبہ وطالبات نے اسکولوں سے نکل کر توڑ پھوڑ شروع کر دی اس توڑ پھوڑ میں وردی پوش اہلکار بھی عادتاً پیچھے نہیں رہے۔بلکہ اس احتجاجی وقتی جذباتی سلسلے کے دوران کئی نوجوان پلٹ وغیرہ لگنے سے شدید زحمی ہو گئے، جن میں سے ایک ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں رہ کر آخر کار زندگی کی جنگ ہار گیا۔ ۔“
کشمیر ی عوام کا کیا کہنا پر امن احتجاج کے دوران چند سر پھروں نے آو دیکھا نہ تاﺅ ،نہ صرف عام گاڑیوں بلکہ ایمبولینسوں و دیگر گاڑیوں پرسنگباری کر کے ان کے شیشے وغیرہ چکنا چور کر دیے جس سے کئی مسافر، بیمار اور تیمارداروں کو سیدھا ہسپتال کا رخ لینا پڑا۔ ایک اور ستم ہمارے کچھ ”نہاد صحافیوں“ کا ہے جو نہ تو صحافتی اُصول مدنظر رکھتے ہیں اور نہ ہی قانون کی پاسداری…. گاندربل کامذکورہ بالادوسرے واقعے میں ایک جرنلسٹ صاحب نے رپورٹنگ کی آڑ میں متاثرہ لڑکی سے اس کا نام و پتہ اور زیادتی کی ساری تفصیل عوام الناس تک حرفاً حرفاً پہنچا دی ۔یہ صاحب ایسے اس کی تفصیل حاصل کر رہے تھے جیسے اس خبر کو اس صحافی کے علاوہ اور کوئی نہیں دیکھ رہا تھا، حالاں کہ اگر دیکھا جائے تو کسی جسمانی زیادتی کی شکار لڑکی کا نام ظاہر کرنا اخلاقا و قاًنوناً جُرم ہے ۔ یوں توآج کشمیر میں صحافی بننا کوئی بڑی بات نہیں کیوں کہ ہر گلی اور محلے والے دکاندار اور مزدور نے یوٹیوب چنلیں اور نیوز پورٹلزبنا ئے رکھے ہیں ۔کوئی روک ٹوک نہیں جس کے بس میں جو آئے وہی کرتا ہے۔صحافت ہے کیا ؟زبان و قلم کا کیسے استعمال کرنا ہے؟ اس کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی کوئی روک ٹوک۔ آج کل سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور یوٹیوب وغیرہ پر ایسے نامی گرامی رپورٹرس کی خبریں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں جن میں وہ زبان و ادب کا ستیاناس کر دیتے کے ساتھ ساتھ حقائق کو توڑ مڑوڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔
اس نام نہاد صحافتی یلغار کو روکنے کے لیے ہمارے یہاں کی صحافتی برادری کو اس طرح کے معیار کو ختم کر کے اصل معیار پر واپس لانے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کے ضرورت ہے تاکہ معیاری اور حقیقی صحافت کے ساتھ ساتھ عوام کے سامنے حقائق صحیح معنوں میں پہنچ سکیں ۔سما جی رابطہ کی ویب گاہوں پر بیٹھے نوجوانوں کو اپنے حدود میں رہ کر ہی اپنی رائے دینی چاہیے ،اشتعال انگریزی سے اجتناب کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے کوششیں ہونی چاہئیں۔
بہر حال اس تین سالہ بچی سے زیادتی اگر ثابت ہوتی ہے تو بحیثیت مسلمان ہمارا یہ مطالبہ ہونا چاہیے کہ اس درندہ صفت شیطان کو ایسی دردناک سزا دی جانی چاہیے کہ جس سے دوسرے لوگوں کے دل کانپ اٹھیں اور آئندہ کوئی ماں،بہن اور بیٹی اس درندگی کا شکار نہ ہو ۔
رابطہ : ghazisuhail09@gmail.com
٭٭٭
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
