تازہ ترین
جانئے : جموں کشمیر میں نئی حد بندی معاملہ کیا ہے ؟
مشتاق شمیم ، بڈگام 
چناچہ حالیہ الیکشن مہم کے دوران امت شاہ این ڈی اے کے فرنٹ کمپینر رہ چکے ہیں۔آپ ہر جگہ اپنی چناوی ریلیوں جلسوں یہاں تک کہ پریس کانفرنسوں میں زور وشور سے دفعات (370) اور (35۔اے) کو آئین ہند سے حذف کرانے کا دعویٰ کرتے رہے بشرطیکہ بی جے پی اقتدار میں واپس آگئی تو۔اس دوران اپوزیشن پارٹیاں خاص طور سے کانگریس این سی اور پی ڈی پی امت شاہ کے اس دعوے کو مسترد کرتے رہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے ایک پریس کانفر نس میں یہاں تک کہہ دیا تھاکہ امت شاہ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔مودی کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند کے تحت حاصل شدہ خصوصی پوزیشن کو ہٹانا تو دور اسکے ہاتھ تک نہیں لگا سکتی ہے۔ عمر عبدااللہ نے کہا جس دن دفعہ (370)کو آئین ہند سے ہٹایا گیا مانو اُسی دن جموںو کشمیر ریاست کا ہندوستان کے ساتھ جوڑا گیارشتہ خود بخودٹوٹ کے رہ جائیگا۔محبوبہ مفتی نے اس مدعے پر امت شاہ کو جواب دیتے ہوئے خبر دار کیا کہ شاہ کو ایسی بےکار باتیں کہنے سے اجتناب کردینا چاہئے جن باتوں سے اہلیان کشمیر کے دلوں میں موجود ہندوستان کے خلاف نفرت اور بیگانگی کی آگ کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ شاہ اپوزیشن پارٹیوں کے رد عمل پر کان نہ دھر تے ہوئے اپنی بات پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے اور ہر ایک چناوی ریلی میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ دہراتے رہے ۔
اب چناچہ بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ پر دوبارہ قابض ہونے میں کامیاب ہوگئی اور امت شاہ ملک کے وزیر داخلہ بن گئے۔اُن کے سامنے اب مذکورہ بالا دفعات کو آئین ہند سے حذف کرنے کا معاملہ ایک چلینج کی صورت میں کھڑا ہوگیا ہے۔حالانکہ ان دفعات کو آئین ہند سے حذف کرنا امت شاہ کا صرف ایک کھوکھلاالیکشن نعرہ ہی نہیں تھابلکہ ایسا کرنا بی جے پی کے تنظیمی دستور میں تب سے سرفہرست رہا جب سے اس تنظیم کی بنیاد ڈاکٹر شیاما پرساد مکرجی نے بھارتیہ جن سنگ کی شکل میں 1952ءمیں ڈالی تھی۔اگرچہ2014ءکے عام چناﺅ میں بھی یہ مدعا بی جے پی کے الیکشن منشور میں سر فہرست رہا تھا لیکن نا معلوم وجوہات کی بناءپر سابقہ مودی سرکار ایوان پارلیمان میں اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی ہمت جُٹا نہیں پائی البتہ سرکار ھٰذا اپنے بعض سیاسی حواریوں اور پسر پروردہ سماجی تنظیموں کی وساطت سے دفعہ 35۔اے کو عدالت عالیہ میں بڑی شدت کے ساتھ چلینج کرواتی رہی حتاکہ اس معاملے پر آنریبل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنا حتمی فیصلہ بھی تیار کر رکھا ہوا ہے جس کو منظر عام پر لانے کیلئے بینچ ھٰذا موزون موقع و محل کے انتظار میں تیار بیٹھا ہے۔
بہر حال اب کی بار اس معاملے سے نپٹنے کیلئے مودی نے بھی اپنے وزیر خاص اور دست راست امت شاہ کو مکمل چھوٹ دیکے رکھی ہوئی ہے اور شاہ اس حوالے سے مودی کی امیدوں پر کھرا اُتر نے کیلئے ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنے کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں جس راستے پر چل کر سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق وہ اس معاملے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بغیرکسی شور و شرابے کے دفن کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ چونکہ ریاست جموں و کشمیرکوفی الوقت خصوصی درجہ حاصل ہے ۔یہاں پراپنا ایک آئین بھی نافذ العمل ہے ۔پارلیمنٹ ہاوس میں منظور ہوچکی کوئی بھی حتمی بل یا کوئی بھی ترمیمی مسودہ ریاست جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس بل یا ترمیمی مسودے کو ریاستی قانون ساز اسمبلی توثیق نہیں کرتی۔ اس پیچیدگی اور ایسی ہی دوسری قسم کی آئینی وقانونی پیچیدگیوں سے نپٹنے کیلئے امت شاہ اپنی پہلی ہی فرصت میں جموں کشمیر ریاست کی طرف اپنی خاص توجہ مبذول کرچکے ہیں۔امورداخلہ کا قلمدان سنبھالتے ہی انہوں نے کشمیر ایشو کو لیکر صرف ایک ہفتے میںچار میٹنگیں لیں جو اس بات کا غماز ہے کہ شاہ ریاست جموں و کشمیر کے معاملات میں کتنی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
بہر کیف امت شاہ کا پلان جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ اس وقت زبردست سرگرم عمل ہیں وہ یہ کہ ریاست کا اقتدار اعلیٰ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں آجا نا چاہئے اور ریاست کا وزیر اعلیٰ اب کی بار جموں خطے سے تعلق رکھنے والا کوئی ہندو انتہا پسندلیڈر ہی منتخب ہوجانا چاہئے تاکہ ایوان اسمبلی میں آئینی حدود کے اندرہی دفعات (370) اور (35۔اے) کو آئین ہند سے حذف کرنے کا آرڈینینس پاس ہوکر مرکزی سرکار کے دربار اعلی میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔چناچہ ریاست میں بی جے پی سرکار کا معرض وجود آنافی الحال مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی لگ رہاہے کیونکہ وادی کشمیر کے (46)۔اسمبلی حلقوں میں سے بی جے پی کو کسی بھی حلقے پر کامیابی ملنے کے آثار دُور دُور تک کہیں نظر نہیں آرہے ہیں البتہ اس بات میں بھی دورائے نہیں کہ بی جے پی کی اتحادی جماعت پیپلز کانفرنس وادی میں اس مرتبہ چار پانچ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی (44) اسیٹوں کا جادوئی آنکڑا پار کرنا امت شاہ کو مشکل نظر آرہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جموں اور لداخ خطوں میں نئے سرے سے حد بندی کرانے کا سیاسی کارڑ کھیلنا شروع کردیا ۔امت شاہ کاخیال ہے کہ ان دو خطوں میں بی جے پی کی پوزیشن اس وقت مستحکم ہے اسلئے اگر یہاں پر چار پانچ نئے اسمبلی حلقے وجود میں آجاتے تو جادوئی آنکڑے تک پہنچنابھاجپا کیلئے آسان ہوسکے ۔اس کارڑ کو جواز بخشنے کیلئے بی جے پی دعویٰ کر رہی ہے کہ جموں اور لداخ خطے رقبہ کے لحاظ سے ریاست کے دوبڑے خطے ہیں اور ان دونوں خطوں کو ایوان اسمبلی میں اب تک بھر پور نمائندگی نہیں دی جاچکی ہے اسلئے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں خطوں کے اسمبلی حلقوں کی تعداد میں مناسب اضافہ کرانے کی غرض سے نئے سرے سے حد بندی کرائی جائے۔ اس حوالے سے 7 جون کو نئی دلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے علاوہ ملک کے بعض ماہرین قانون اور اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔میٹنگ میں اور باتوں کے علاوہ ریاست جموں و کشمیرمیں فاروق سرکار کی طرف سے2002ءمیں نئی حد بندی عمل میں لانے کے پروگرام پر 2026ءتک لگائی جاچکی پابندی کو ہٹانے اور نیا حد بندی کمیشن قائم کرانے پربھی غور و خوض کیا گیا۔ اس حوالے سے ریاست کے ایک نامور ماہر قانون اور رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے واضح کردیا کہ مرکزی سرکار اورریاستی گورنر انتظامیہ کے پاس ایسے اختیارات بلکل بھی نہیں ہیں کہ وہ کسی منتخبہ سرکار کی طرف سے لئے گئے کسی بھی فیصلے کو بدل سکیں۔
چناچہ مودی سرکار کا الزام ہے کہ شیخ محمد عبداللہ سے لیکر محبوبہ مفتی تک جتنے بھی وزیر اعلیٰ آج تک ریاست جموں و کشمیر میں منتخب ہوتے آئے وہ سب اپنے ذاتی سیاسی مقاصد اور مفاد ات کو ملحوظ نظر رکھ کرہمیشہ جموں اور لداخ خطوں کے ساتھ استحصالی پالیسی اختیار کر تے رہے۔اسی استحصالی پالیسی کو دوام بخشنے کیلئے فاروق سرکار نے 2002ءمیں ریاست میں نئے سرے سے حد بندی کرانے کے پروگرام پر 2026ءتک روک لگاکے رکھ دی ہے۔حالانکہ پنتھر پارٹی کے سربراہ پروفیسربھیم سنگھ نے فاروق سرکار کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیکر اس کو کالعدم کرانے کی غرض سے ریاستی ہائی کورٹ میں چلینج کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ جب ریاستی ہائی کورٹ نے پٹیشن ھٰذا کوشنوائی کیلئے ایڈمٹ کرنے سے انکار کردیا تب جاکے بھیم سنگھ یہ معاملہ لیکر سپریم کورٹ میں چلے گئے۔اگرچہ سپریم کورٹ میں اس ایشو پر کئی برس تک شنوائی ہوتی رہی تاہم 2010ءمیں عدالت نے پٹیشن ھٰذا کو سرے سے ہی خارج کردیا ۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے فاروق سرکار کی طرف سے حد بندی کی عمل آوری پر روک لگانے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 2001ءمیں مرکزی سرکار نے آئین ہندکی دفعات (82)اور( 170 )کے تحت ملک میں نئے سرے سے مردم شماری کرانے تک نئی حد بندی کی عمل آوری پر روک لگادی تھی۔مرکزی سرکار کی طرف سے لئے گئے اسی فیصلے کی فاروق سرکار نے جموں و کشمیر رپرزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ (57)کے سیکشن (3)47 کے تحت توثیق کردی تھی کیونکہ مرکزی سرکار کے کسی بھی فیصلے کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر میں تب تک نہیں ہوپا تا جب تک کہ ریاستی سرکار اسکی توثیق نہیں کرتی ہے۔ ادھر این سی اور پی ڈی پی کے ساتھ ساتھ محمد یوسف تاریگامی حکیم محمد یاسین غلام حسن میراور انجینئر رشید کا ماننا ہے کہ بھلے ہی کشمیر خطہ رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ہے لیکن یہ خطہ آبادی کے لحاظ سے ریاست کا سب سے بڑا خطہ ہے اور اسمبلی و پارلیمانی نشستوں کا تعین رقبے کے اعتبار سے نہیں بلکہ آبادی کے تباسب سے ہی کیا جاتا ہے ۔حکیم محمد یاسین نے مودی سرکار کی طرف سے روا رکھی جارہی جارہانہ پالسیوں پر زبردست تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میرا بھی یہی ماننا ہے کہ پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کا تعین آبادی کے لحاظ سے ہی کیا جارہا ہے۔ہندوستان کی جملہ ریاستوں میں بھی آبادی کا تناسب مد نظر رکھتے ہی پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کا تعین کیا جاچکا ہے۔چناچہ رقبے کے لحاظ سے راجستھان بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے جبکہ آبادی کے اعتبار سے اُتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔راجستھان میں کل (28)پارلیمانی حلقے ہیں جبکہ اُتر پردیش میں پارلیمانی حلقوں کی تعداد (80 )ہے۔اس طرح سے یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان ریاستوں میں پارلیمانی حلقوں کا تعین رقبہ نہیں بلکہ آبادی کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کیا جاچکاہے۔
یہاں پر ریاست کے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے حوالے سے قارئین کرام کو واقف کرانا میں ضروری سمجھتا ہوں ۔ہندوستان کے ساتھ الحاق کے بعد صدر ریاست ڈاکٹر کرن سنگھ کی ہداہت پر شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی والی سرکار نے اسمبلی سیگمنٹوں کا تعین عمل میں لانے کیلئے یکم مئی 1951ءکو(75) ممبران پر مشتمل ایک با اختیار کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی کی سربراہی ریاستی وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ از خود کر رہے تھے۔ صدر موصوف کی ہدایت پر ہر ایک اسمبلی سیگمنٹ کو کم و بیش چالیس ہزار ووٹوں پر مشتمل رکھا گیا۔ اس طرح سے پہلی حد بندی کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کیلئے (75) نشستیں قائم کی گئیں جن میں آبادی کا تناسب ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کشمیر خطے کے حصے میں (43) جموں خطے کے حصے میں (30) جبکہ لداخ صوبہ کے حصے میں (2 ) حلقے آئے ۔ 1993ءکے دوران ریاست میں نئی حد بندی عمل میں لائی گئی جس دوران اسمبلی حلقوں کی تعداد (87) تک بڑھادی گئی۔اس نئی حد بندی میں صوبہ جموں کو مزید (7) حلقے ملے صوبہ کشمیر کو صرف(3) جبکہ صوبہ لداخ میں مزید (2) اسمبلی حلقوں کا اضافہ کیاگیا۔
یہاں ایک اوربات میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر ریاست جموں کشمیر میں نئے سرے سے حد بندی کرانا ناگزیر بن چکا ہے تو تینوں صوبوں میں آبادی کے تناسب سے ہی یہ عمل شروع کردینا چاہئے نہ کہ صرف دو خطوں جموں اور لداخ میں۔اگر ایسا کیا گیا تو وادی کشمیر میں حالات بد سے بدتر ین ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔یہاں کے بچوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے کیلئے جواز مل سکتا ہے۔ یہاں کے علیحدگی پسند جماعتوں اور حریت پسند عوام کو آزاد ی کی جنگ جاری رکھنے کیلئے میدان ہموار ہوسکتا ہے۔ اسلئے طاقت کے نشے میں نریندر مودی اور امت شاہ کو کوئی ایسا قدم اُٹھانے سے گریز کردینا چاہئے جس سے خرمن امن کو آگ لگنے کا احتمال پیدا ہوسکے۔ان دونوں رہنماﺅں کو ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی قدم اُٹھانے سے قبل سو بار سوچنا اپنے اوپر لازم کردینا چاہئے۔
رابطہ: mushtaqshameem47@gmail.com
نوٹ : مضمون نگار سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں .
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
