تازہ ترین
میرواعظ عمرفاروق کی پروفیسرغنی اوربلال لون کیساتھ اہم گفت وشنید
خبراردو: مرکزاورحریت لیڈرشپ کے درمیان مذاکراتی عمل شروع ہونے کی بازگشت اورمرکزی وزیرداخلہ اَمت شاہ کی 2روزہ دورے کیلئے سری نگرآمدکے بیچ سوموارکومیرواعظ عمرفاروق نے حریت (ع) کے دوسینئرلیڈران پروفیسر عبدالغنی بٹ اوربلال غنی لون کیساتھ اپنی رہائش گاہ واقع نگین حضرتبل میں اہم ملاقات کی
ریاستی گورنرستیہ پال ملک کی جانب سے حریت لیڈران کے مذاکرات کیلئے تیارہونے کاانکشاف یادعویٰ کئے جانے کے بعدمختلف سطحوں پرمرکزاورکشمیری حریت لیڈرشپ کے درمیان مذاکرات کاعمل شروع ہونے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ،اوراس بیچ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں میں بھی ممکنہ طورپربات چیت کاعمل شروع ہونے کے معاملے یاپیش رفت پرصلاح مشورہ کیاجارہاہے ۔اس دوران معلوم ہواکہ سوموارکے روزپروفیسر عبدالغنی بٹ اوربلال غنی لون نے میرواعظ منزل واقع نگین حضرتبل جاکرحریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمرفاروق کیساتھ ملاقات کی۔
باﺅرکیاجاتاہے کہ اس ملاقات کے دوران مجوزہ یاممکنہ مذاکرات کامعاملہ زیرغورلایاگیا۔بتایاجاتاہے کہ اس ملاقات کے دوران حریت(ع) کے تین سینئرلیڈروں نے ریاست کی سیاسی صورتحال اورمذاکرات کامعاملہ زیرغورلایا۔پروفیسرعبدالغنی بٹ نے اس ملاقات کی تصدیق کی تاہم انہوں نے تفصیلات ظاہرنہیں کیں ۔کے این ایس کیساتھ فون پربات کرتے ہوئے پروفیسرغنی کاکہناتھاکہ وہ حاجی عبدالاترمبوکے اہل خانہ سے تعزیت پرسی کرنے کے بعدنگین میں میرواعظ سے ملاقی ہوئے اورکچھ وقت بعدبلال لون بھی یہاں پہنچے ۔پروفیسر غنی نے اپنے منفرداندازمیں کہاکہ ہم نے وہاں ظہرانہ اداکیا،اوراسکے بعدچائے کوفی بھی نوش کی ۔
انہوں نے واضح کیاکہ حریت کانفرنس مذاکرات کیخلاف نہیں ہے بلکہ ہم ہراُس عمل کے حامی اورطرفداررہے ہیں ،جس کامقصدمسئلہ کشمیرکاپائیداراورقابل قبول حل نکالناہو۔پروفیسر غنی کاکہناتھاکہ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت اورپاکستان کے درمیان مذاکرات کاعمل شروع ہو،اورپھرجب یہ دونوں ممالک کشمیرمسئلے پربات چیت شروع کریں تواس عمل میں کشمیری لیڈرشپ کوبھی شامل کیاجائے ۔تاہم انہوں نے اسبات پرزوردیاکہ جوجرات مندی اورحقیقت پسندی اٹل بہاری واجپائی اورجنرل پرویز مشرف نے دکھائی تھی ،وہی جرات مندی دونوں ملکوں کی موجودہ قیادت کوبھی دکھانی چاہئے تاکہ حقیقی امن ،خوشحالی اورکشمیرمسئلے کے حتمی حل کی راہیں ہموارہوسکیں ۔خیال رہے میرواعظ کی سربراہی والی حریت کانفرنس کی جانب سے حالیہ دنوں میں مذاکرات کے حوالے سے مثبت بیانات یاردعمل سامنے آیاہے جبکہ سوموارکوبھی حریت(ع) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں پھرایک مرتبہ یہ واضح کیاگیاکہ حریت کانفرنس نے مرکزی سرکارپرزوردیاکہ وہ مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی وزیرا عظم عمران خان کو بھی اعتماد میں لیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے متعدد بار کشمیر سمیت دیگر حل طلب اُمور پربھارت کو مذاکرات کی پیش کش کی، لہٰذا نئی دہلی کو معاملات کے پرامن تصفیہ پر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو بھی اعتمادمیں لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حریت (ع) نے اپنے یوم تاسیس سے ہی بات چیت کی حمایت کی ہے، لہٰذا میرواعظ عمر فاروق کے تازہ بیان میں کوئی نئی اور اجنبی بات نہیں ہے۔
ہندوستان
طلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں طالب علموں کے احتجاج کے حوالے سے وزیر اعلٰی ہیمنت سورین کو خط لکھ کر مظاہرین سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے اور ان کے مطالبات کا حل نکالنے کی اپیل کی ہے راہل گاندھی نے گزشتہ 14 اگست کو مسٹر سورین کو خط لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج آئین میں درج جمہوری حقوق کا اہم حصہ ہے اور کانگریس پارٹی طالب علموں کے اس حق کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ میں طالب علم ریاست میں منعقدہ بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے احتجاج کو پرامن قرار دیتے ہوئے طالب علموں کے مطالبات کو جائز قرار دیا۔ خط میں انہوں نے وزیر اعلٰی کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ذریعے طالب علموں کے ساتھ بات چیت شروع کیے جانے کی بھی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ کئی مطالبات پر حکومت اور طالب علموں کے درمیان اتفاقِ رائے ہوا ہے لیکن اس کے باوجود تحریک جاری ہے اور کچھ طالب علم غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔
کانگریس رہنما نے وزیر اعلٰی سورین سے مظاہرین کے نمائندوں سے خود ملاقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت کے عزم کو تقویت ملے گی اور طالب علموں کے باقی خدشات کے ازالے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مستقبل ملک کے نوجوانوں سے وابستہ ہے اور بحران کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
انڈونیشیا کے فلوریس میں ایک اور شدید زلزلے کے جھٹکے، دو روز قبل آنے والے آفٹر شاکس میں 53 افراد ہلاک
جکارتہ، انڈونیشیا کے فلوریس علاقے میں پیر کی صبح 5.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز (جی ایف زیڈ) کے مطابق، آج کے زلزلے کا مرکز ابتدائی طور پر 8.57 ڈگری جنوبی عرض البلد اور 121.55 ڈگری مشرقی طول البلد پر تھا، جو سطح زمین سے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ زلزلے سے جانی یا مالی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔
دو دن پہلے ہفتے کے روز 7.7 شدت کا ایک طاقتور زلزلہ آیا تھا جس میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے۔ طاقتور زلزلے نے فلوریس میں چھ ریجنسیوں کو متاثر کیا، لینڈ سلائیڈنگ، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور مواصلات میں خلل پڑا۔
انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق گزشتہ زلزلے میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو سب سے زیادہ متاثرہنگیکو ریجینسی تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ نے کئی علاقوں میں سڑکیں بند کر دی ہیں اور مواصلاتی رابطہ منقطع کر دیا ہے، جس سے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ 15 اگست کو فلورس میں 230 سے زیادہ جھٹکے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے سب سے زیادہ طاقتور جھٹکے 6.2 کی شدت کے تھے۔ ادھر فلورس سے ہزاروں کلومیٹر دور سماٹرا میں بھی 6.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
انڈونیشیا نے سنیچر کے زلزلے کے بعد 14 دن کے ہنگامی ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں اتوار کو بھی جاری رہیں، حکام زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلورس کے کچھ حصوں میں ایندھن اور ایل پی جی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ تقریباً 6000 لوگ مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں سیکا، مانگرائی، نگیکیو، بیما اور سیلیار شامل ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق گزشتہ زلزلے میں کم از کم 914 مکانات، 93 تعلیمی ادارے، 36 صحت مراکز اور 38 سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچا۔ حکام نے مزید زلزلے کے لیے چوکسی بڑھا دی ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
ویٹی کن سٹی، پوپ لیو چہاردہم نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی ظلم و تشدد کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔
ویٹیکن کے سرکاری نشریاتی ادارے ویٹیکن نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق ویٹیکن سٹی کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم نے اتوار کی دعا کے بعد کئے گئے خطاب میں مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی تشدّد پر بات کی اور بار بار ہونے والے پُرتشدد واقعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے بھی دو ریاستی حل اور پائیدار امن کے حصول کی جانب پیش رفت کے دوام کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ نے 12 اگست کو جاری کردہ بیان میں مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی پر قبضہ کرنے والے اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے غیر معمولی سطح تک پہنچنے کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق 2026ء کے آغاز سے اب تک تقریباً 260 فلسطینی آبادیوں کو نشانہ بنا کر کئے گئے 1,430 سے زائد حملے ریکارڈ کئے جا چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے یہ بھی کہا ہے کہ تباہی اور جبری بے دخلی کے نتیجے میں تقریباً 3,800 فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں جن میں تقریباً نصف تعداد بچوں کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
