تازہ ترین
مرکزی وزیر داخلہ 2روزہ دورے پر وادی وارد
خبراردو: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ وادی کے پہلے 2روزہ دورے پر سرینگربدھوار کو سرینگر پہنچ گئے۔ معلوم ہوا کہ موصوف ریاست کی تازہ ترین سیاسی و سیکورٹی صورتحال پر سیکورٹی ایجنسیوں اورانتظامیہ پر مفصل تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ کئی اہم اُمورکی جانب سیکورٹی فورسز کی توجہ مبذول کرائیں گے۔
خفیہ ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ وزیر موصوف وادی کشمیر میں نوجوانوں کی جانب سے عسکری صفوں میں شمولیت،جنگجوؤں کی جانب سے ہتھیار چھیننے کے واقعات اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے فرار اختیار کرنے کے بعد عسکری صفوں میں شمولیت جیسے واقعات میں اضافے پر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔
خیال رہے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی کابینہ میں بحیثیت مرکزی وزیر داخلہ کا یہ پہلا دورہ ہے جس دوران وہ یہاں تازہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران کیساتھ حالات پر گہرائی کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بدھوار بعد دوپہر شیخ العالم انٹرنیشنل ہوائے اڈے پر پہنچ گئے جہاں پر ان کا استقبال گورنر ستیہ پال ملک اور ان کے مشیروں، چیف سیکرٹری بی وی ار سبھرامنیم، ڈپٹی کمشنر بڈگام ڈاکٹر سحرش اصغر اور دیگرپولیس و سیول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے کیا۔خفیہ ذرائع سے کے این ایس کو معلوم ہوا ہے کہ مرکزی وزیر دو روزہ دورے کے دوران سیکورٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں تازہ ترین سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر موصوف میٹنگ کے دوران خصوصیت کیساتھ وادی کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جنگجوؤں کے تئیں رغبت اور عسکری صفوں میں شمولیت میں ہوشربا اضافہ پر تبادلہ خیال کریں گے۔ مرکزی وزیر سیکورٹی افسران سے مقامی نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت کے پیچھے محرکات کو جاننے کی کوشش کریں گے۔ خفیہ ذرائع کا کہنا تھا کہ امت شاہ سیکورٹی کی جائزہ میٹنگ کے دوران وادی کشمیر میں ہتھیار چھینے جیسے واقعات پر بھی اعلیٰ حکام کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جنگجوؤں کی طرف سے سیکورٹی اہلکاروں سے ہتھیار چھیننے جیسے واقعات پر گہری تشویش اور فکر مندی ظاہر کی ہے جس دوران وہ دورہ وادی کے بیچ سیکورٹی ایجنسیوں سے ایسے واقعات کی روک تھام سے متعلق تجاویز طلب کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ کئی برسوں سے جنگجوؤں کی طرف سے وادی کے شمال و جنوب میں فورسز سے ہتھیار چھیننے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کو لے کر بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار کافی فکرمند دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہتھیار چھیننے کے واقعات پر قابو پانے کیلئے اگر چہ سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے قبل ہی بعض احتیاطی تدابیر اُٹھائی گئی ہیں تاہم انہیں نامکتفی سمجھتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے واقعات کی روک تھام کیلئے ٹھوس پالیسی ترتیب دینے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو روزہ دورے کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سیکورٹی ایجنسیوں کو سختی کیساتھ ایسے واقعات پر قابو پانے کی ہدایت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیر موصوف میٹنگ کے دوران محکمہ پولیس میں کام کررہے اہلکاروں کی جانب سے نوکری سے فرار اختیار کرنے اور جنگجوؤں کے ساتھ رابطہ بنانے کا بھی سنجیدہ نوٹس لیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سال 2016کے بعد سے وادی کشمیر میں محکمہ پولیس سے وابستہ درجنوں اہلکاروں نے فرار اختیار کرتے ہوئے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرلی جس کے نتیجے میں محکمہ پولیس کو کہی محاذوں پر خفت کا سامنا کرنا پڑا۔معلوم ہوا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے نوکری کو لات مارنے اور مابعد جنگجوؤں کے ساتھ ہتھیار اُٹھانے پر بھی سیکورٹی حکام کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ امت شاہ محکمہ پولیس میں عارضی طور پر بھرتی ہوئے اہلکاروں پر کڑی نگاہ رکھنے اور ان کی جملہ حرکات و سکنات کو نوٹس میں لانے کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں کو خصوصی ہدایات دیں گے۔ خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں امن و قانون کی صورتحال کو پٹری پر لانے کیلئے قومی تحقیقاتی ایجنسی کے رول پر بھی تبادلہ خیال کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے حوالہ رقومات سے متعلق تحقیقات کے بعد وادی کشمیرمیں امن و قانون کی صورتحال میں نمایاں بہتری واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے نے جموں وکشمیر میں علیحدگی پسند لیڈران اور جماعتوں کے خلاف کارروائی عمل میں لاکر یہاں امن و امان کی صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں وزیر داخلہ امت شاہ میٹنگ کے دوران این آئی اے کی طرف سے آج تک کی گئی کارروائیوں پر بھی سیر حاصل تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہتھیار چھینے اور پولیس اہلکاروں کا جنگجوؤں کے ساتھ شامل ہونے کے متعدد واقعات رونما ہونے کے بعد قومی تحقیقاتی ایجنسی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا باضابطہ آغاز کیا۔ اس سلسلے میں این آئی اے نے محبوبہ مفتی کی سربراہی والی پی ڈی پی کے سابق ایم ایل اے اعجاز میر کو تحقیقاتی دائرے میں لاکر ان سے کئی دنوں تک پوچھ تاچھ کی۔
خفیہ ذرائع نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ دورے کے دوران حریت کانفرنس (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے مذاکرات کے تئیں حامی بھرنے پر بھی ریاستی انتظامیہ اور یہاں کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کیساتھ صلاح و مشورہ کریں گے۔ امت شاہ گورنر ستیہ پال ملک کی قیادت والی انتظامیہ کیساتھ ساتھ مین اسٹریم سیاسی جماعتوں اور سیول سوسائٹی ممبران کیساتھ ان کو مکمل طور پر بحال کرنے کیلئے مذاکراتی عمل میں ممکنہ پیش رفت پر صلاح و مشورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے بات چیت کی حامی بھرنے کے بعد مرکزی سرکار متوقع طور پر آنے والے دنوں میں مذاکرات کے حوالے سے کئی مثبت قدم اُٹھائے گی تاہم کسی بڑے فیصلے سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جموں وکشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کے تناظر میں نئی دہلی اور حریت کے مابین مذاکرات عل پر سیاسی جماعتوں کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ وزیر داخلہ 2روزہ دورے کے دوران سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کیساتھ ساتھ سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے ریاست کو درپیش مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
