تازہ ترین
مغل روڑ پر المناک حادثہ: 9طالبات سمیت 11جاں بحق؛11 زخمی
خبراردو: مغل روڑ پر پیر کی گلی کے مقام پر سڑک کے ایک المناک حادثے میں ایکسکرشن پر آرہی گاڑی لعل غلام روڑ پر سڑک سے لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 9طالبات سمیت 11افراد جاں بحق ہوگئیں جبکہ حادثے میں ایک درجن کے قریب اسکولی طالبات زخمی ہوگئیں جنہیں علاج و معالجے کی خاطر شوپیان اور سرینگر منتقل کیا گیا۔
مغل روڑ پر جمعرات کو اُس وقت چیخ و پکار اور فضا شکن سسکیاں سنی گئیں جب پونچھ سے شوپیان کی طرف آرہی ٹیمو ٹراولر لعل غلام روڑ کے نزدیک سڑک سے لڑھکنے کے بعد گہری کھائی میں جاگری۔اطلاعات کے مطابق مغل روڑ پر واقع پیر کی گلی پر سرنکوٹ پونچھ سے تعلق رکھنے والے نجی کمپوٹر انسٹی چوٹ میں زیر تعلیم طالبات ایکسکرشن کی غرض سے دھوبجن شوپیان جارہے تھے کہ اسی اثنا میں بدھوار دوپہر کے قریب گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر کر سڑک سے لڑھکنے کے بعد گہری کھائی میں جاگری۔ ذرائع سے معلوم ہوا کہ گاڑی میں سوار11طالبات موقعے پر ہی جاں بحق ہوگئیں جبکہ اس کے علاوہ دیگر ایک درجن طالبات شدید طور پر زخمی ہوگئیں جنہیں نازک حالت میں شوپیان اور سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ہسپتال ذرائع نے جاں بحق ہوئے افراد کی شناخت تبسم دختر محمد رفیق، شاہین فاطمہ دختر زمان احمد، سہیل احمدولد زبیر احمد، عرفانہ کوثر، حمیرہ قاظمی، رحمت بی، جمیل احمد، نجمہ جان، شبنم اور رابعہ جان کے طور پر کی ہے۔پولیس ذرائع نے حادثے سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بدھوار کو پونچھ کے سرنکوٹ میں قائم نجی کمپوٹر انسٹی چوٹ سے وابستہ طالبات سیر و تفریح کی غرض سے شوپیان آرہے تھے جس دوران ان کی گاڑی پیر کی گلی کے مقام پر سڑک سے لڑھکنے کے بعد 100میٹر گہری کھائی میں جاگری۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کی شکار گاڑی کھائی میں گرجانے کے بعد مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 11افراد موقعے پر ہی دم توڑ بیٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر حادثے میں مرنے والوں میں 9طالبات شامل ہیں جبکہ دیگر زخمیوں میں سے مزید کئی طالبات کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد یہاں پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سمیت مقامی لوگوں نے پہنچ کر بچاؤ کارروائیاں شروع کی اور گاڑی میں پھنسے دیگر زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی خاطرمنتقل کیا۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں سوار 22افراد میں سے ابتدائی طور پر 11افراد از جان ہوئے جبکہ دیگر زخمیوں کو شوپیان کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تاہم یہاں سے 7طالبات کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا۔ادھرہسپتال ذرائع نے بتایا کہ پیر کی گلی پر پیش آچکے حادثے کے متاثرین کو پہلے شوپیان کے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُن کا ابتدائی علاج و معالجہ عمل میں لایا گیا تاہم 7طالبات کو نازک حالت میں سرینگر کے ہسپتالوں کو منتقل کیا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حادثے کے فوراً بعد انتظامیہ، پولیس اور لوگوں نے مشترکہ طور پر بچاؤ کارروائیاں شروع کیں جس کے بعدزخمی افراد کو مختلف طبی مراکز کو منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جونہی حادثہ پیش آیا تو یہاں کہرام مچ گیا جس دوران گاڑی میں سوار زخمی طالبات کی چیخ و پکار سے ماحول آبدیدہ ہوگیا۔ادھر ڈپٹی کمشنر شوپیان ڈاکٹر اُویس احمد کے مطابق حادثے میں ابتدائی طور پر 4طالبات موقعے پر ہی لقمہ اجل بن گئیں جبکہ گاڑی میں سوار دیگر زخمی طالبات کو نازک حالت میں نزدیکی ہسپتالوں کو منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے میں زخمی ہوچکی دیگر طالبات کی حالت ہنوز تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7طالبات کو نازک حالت میں شوپیان کے طبی مراکز سے سرینگر کے ہسپتالوں کو منتقل کیا گیا جبکہ دیگر زخمیوں کا علاج و معالجہ جاری ہے۔ادھر پولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کرتے ہوئے حادثے کے محرکات کو جاننے کیلئے انکوائری شروع کردی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مغل روڑ پر پیش آچکے سڑک کے المناک حادثے سے متعلق مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔
گورنر ستیہ پال ملک نے بدھوار کو سڑک حادثے میں انسانی جانیں تلف ہونے پر اپنے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔
گورنر ستیہ پال ملک نے اپنے تعزیتی پیغام میں جاں بحق افراد کے ابدی سکون کیلئے دعائیں کرنے کے علاوہ لواحقین کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ گورنر نے حادثے میں مرنے والے کے حق میں فی کس 5لاکھ روپے بطور ایکس گریشیا ریلیف کا اعلان کیا ہے۔اس موقعے پر گورنر ستیہ پال ملک نے انتظامیہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ حادثے میں زخمی افراد کو بہتر علاج و معالجہ فراہم کریں۔ انہوں نے زخمی ہوئے افراد کی جلد اور فوری صحتیابی کیلئے بھی دعا کی۔
اس دوران حادثے پر متعدد سیاسی، سماجی اور مذہبی لیڈران جن میں ڈاکٹر فاروق عبد اللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی، ڈاکٹر شاہ فیصل، غلام احمد میر، عمران رضا انصاری، سجاد غنی لون، محمد یوسف تاریگامی، حکیم محمد یاسین، بیگم خالدہ شاہ، ایڈوکیٹ مظفر شاہ، علی محمد ساگر، ناصر اسلم وانی، محمد رفیع میر، نعیم اختر، انعام النبی، اشتیاق بیگ شامل ہیں،نے اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے ابدی سکون کی دعا کرنے کیساتھ ساتھ لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
