تازہ ترین
صمد میر صاحب نمبل ہار: ایک اعلیٰ پایہ سخن ورایک برگزیدہ صوفی شاعر
مشتاق شمیم، بڈگام
28 جون 2019ء کو حسب سابقہ باغ صمد نمبل ہار میں وادی کے مایہ ناز اور ہر دلعزیز صوفی شاعر صمد میر صاحب کا عرس نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔صمد میر فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی طرف سے حسب روایت اس موقع پر مہمانوں اور عقیدت مندوں کی خاطر تواضع کیلئے تمام تر انتظامات کا بہتر طریقے سے اہتمام کیا گیا تھا۔آج کے کالم کیلئے راقم المضمون نے اسی برگزیدہ صوفی شاعر اور داستان نگار کا انتخاب کیا ہے تاکہ ان کے ادبی کارناموں اور سماجی زندگی کے بعض پہلوؤں کے بارے قارئین کرام خاص طور سے نئی پیڑی کو روشناس کیا جائے اورمرحوم شاعر کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔
صمد میر کی ولادت 1893ء میں سرینگر کے نرورہ علاقے میں ہوئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارا ملک (کشمیر) ڈوگرہ مہاراجاؤں کی ظالم سلطنت کے خونی پنجوں میں بُری طرح سے جھکڑی ہوئی تھی۔اس دور میں یہاں پر دور دور تک تعلیم وتربیت کا کو ئی ادارہ یا مرکز کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ہر طرف بیماری بے کاری اور بے گاری کا عالم عروج پرتھا۔لوگ بھوک پیاس اور لاعلاج امراض کی وجہ سے بے موت مراکرتے تھے۔لوگوں کا معیار زندگی جنگلی جانوروں سے بھی بد تر تھا۔کوئی پوچھنے والا تھا نہ ہی کوئی سننے والا کہیں نظر آرہا تھا۔ کوئی داد رسی کرنے والا بھی کہیں پر موجود تھا۔ان حالات میں کسی ناخواندہ اور مزدور پیشہ شخص کی شعرو شاعری اور سخن وری کرنا کسی بڑے عجوبے سے کم تر نہ تھا۔صمد میر صاحب نے ظاہری صورت میں کسی ژاٹہ حال یا درسگاہ میں کوئی تعلیم یا تربیت حاصل نہیں کی تھی لیکن ناخواندہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے شعرو شاعری اور سخن وری کی صورت میں علم و عرفان کی جو ندیاں ہماری وادی گلپوش میں بہا دیں وہ یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ میر صاحب کو قدرت نے باطنی صورت میں ایک ایسے گھیان دھیان سے منور کر رکھا ہواتھا جو اللہ تبارک و ُ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ہی عنایت فرمایا کرتا ہے۔ صمد صاحب کی طرف سے بہائی گئیں علم و عرفان کی ندیوں سے آج تک ہزاروں فرزندان کشمیراپنی علمی ادبی اور دینی پیاس بجھاتے آئے ہیں اور اس وقت بھی اُن کے میٹھے کلام سے محبان علم وادب اور عاشقانِ رسولﷺ بڑی تعداد میں محضوض و مسرور ہونے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
صمد میر صاحب کے والدبزرگوار خالق میرکا تعلق ضلع بڈگام کے ایک چھوٹے موٹے گاؤں نمبل ہارخانصاحب سے تھا۔وہ ایک پست درجے کا کاشتکار تھا۔کاشتکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے حلال روزی کمانے کیلئے آری کشی کا پرُ مشقت پیشہ بھی اختیار کر رکھاہواتھا۔اُس زمانے میں آری کشی کام کی مانگ گاؤں دیہات سے زیادہ شہر و قصبہ جات میں پائی جارہی تھی اور وہاں پر محنتانہ بھی قدرے زیادہ ہی ملا کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ خالق میر نے اپنے پیشے کو عروج بخشنے اور اپنی کمائی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے سرینگر کی راہ لی۔چناچہ اُن دنوں ٹرانسپورٹ کا کوئی معقول انتظام تھا ہی نہیں جسکی وجہ سے خالق میرکوسرینگر کے پائین شہر میں ہی عارضی بنیادوں پر سکونت اختیار کرنا پڑی۔ کچھ عرصہ بعدانہوں نے وہیں پائین شہر کے نرورہ علاقے میں خود کو شادی کے پاک بندھن میں باندھنے کا فیصلہ کیا۔خالق میر شعر و شاعری کے ساتھ بھی دلچسپی رکھا کرتے تھے۔شعر گوئی کرنا اور موسیقی سماعت کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ رہا تھا۔
چناچہ صمد میرصاحب کی ولادت نرورہ سرینگر میں ہی ہوئی تھی۔وہیں پراُن کا بچپن اور لڑکپن بھی گزرا۔ لیکن والد صاحب کے انتقال کے بعد اُن کو شہر سرینگر کا ماحول اور آب و ہوا زیادہ دیر تک راس نہیں آپایا اسلئے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انہوں نے اپنے آبائی گاؤں نمبل ہار واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں میں آکرمیر صاحب نے ذریعہ معاش کے حصول کیلئے پہلے محنت مزدوری کا پیشہ اختیار کر رکھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنے والد صاحب کا پیشہ یعنی آری کشی کا کام اختیار کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔انہوں نے نمبل ہار میں ہی ازدواجی رشتہ اپنے ہی قبیلے کی مسمات خورشہ بیگم نامی ایک باادب با اخلاق اور دیندار لڑکی سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔ میر صاحب کی ازدواجی زندگی نہایت ہی خوش اسلوب پُر سکون اور بہتر طریقے سے گزر چکی تھی ایسا آپ کے یار دوستوں اور قرابت داروں کا دعویٰ ہے۔
نمبل ہار بڈگام میں اپنی رہائش کے دوران میر صاحب کو بعض پیروں اور فقیروں کے ساتھ رابطہ رہا جن میں حبیب نجار واگرخالق نجار بٹہ مالو اوررمضان ڈار اسلام آباد شامل ہیں۔اپنے والد صاحب کی صحبت میں رہنے کی بدولت صمد میر کے قلب و ذہن میں شعر و شاعری کا شوق و ذوق بچپن ہی سے پلتا رہا لیکن انہوں نے اپنے مُرشد فقیر خالق نجار کی طرف سے با ضابطہ اجازت ملنے کے بعد ہی شعر و شاعری کرنے کا رسمی طور پر آغاز کیا۔اُن کی پہلی غزل کاپہلا شعر ”ویس/ کار مشکل بار گبُ گ.م ویتہ راونُ پیوم،گلالہ پانس کالہ رنگ گوم ویتہ راونُ پیوم“ ہے۔ میر صاحب کی یہ غزل اتنی مقبو ل عام ہوچکی ہے کہ ایک صدی سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی یہ نغمہ آج ہر کشمیری مرد و زن کی زبان پر مچلتا رہتا ہے۔ چونکہ صمد میرصاحب ظاہری صورت میں ایک ناخواندہ شخص تھا اسلئے اُن کو لکھنے پڑھنے کا کوئی خاص تجربہ حاصل نہیں تھا۔یہی وجہ رہی کہ جب کبھی بھی اُن کے من میں کوئی شعریا کوئی سخن مچل اُٹھتا تھا تو آپ واگر نامی گاؤں کے ایک بزرگ شخص علی محمدصاحب جو اُس زمانے میں پڑھنے لکھنے کی تھوڑی بہت مہارت رکھتے تھے کی مدد سے اپنا کلام ضبط تحریر میں لایا کرتے تھے۔روایتی شاعری کے علاوہ صمد میر صاحب کوداستانیں تراشنے میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل تھی۔انہوں نے کئی خوبصورت داستانیں لکھی ہیں جن کو سماعت کرنے کے دوران احساس حق ہوا کرتا ہے۔ اُن کی طرف سے تحریر کی گئی داستانوں میں داستانِ(اکہ نندُن)سب سے اعلیٰ شاہکار ہے۔ اکہ نندُن نامی داستان اتنی مقبول عام ہوگئی کہ اس کو بار بار سماعت کرنے کیلئے اہلیان کشمیرکا دل تڑپتا رہتا تھا۔صمد صاحب کی یہ داستان چودہ قسطوں پر مشتمل ہے اور اس کے تمام کردار وں کو میر صاحب نے ہندو ناموں سے منسوب کر کے رکھ دیاہے۔ یہاں تک کہ اس مقبول عام داستان کے حالات و واقعات بھی ہندو کلچراور تہذیب و تمدن کے ساتھ مشابہت کرکے پیش کئے جاچکے ہیں۔یاد رہے(اکہ نندُن)نام سے داستان بعض دوسرے نامی گرامی شعرا حضرات نے بھی اپنے اپنے انداز میں تحریر کیا ہواہے۔
صمد میر صاحب کے ایک قرابت دارمحمد یوسف یعصوب سے معلوم ہوا ہے کہ صمد صاحب نے اپنی زندگی میں لگ بھگ چار سو غزلیں نظمیں نعت و مناجات منقبت اور داستانیں وغیرہ تحریر کی تھیں لیکن بد قسمتی کی وجہ سے اُن کا بیشترانمول شاعری خزانہ افراد خانہ کی لاپرواہی کی وجہ سے کہیں مٹی کے امبار تلے دفن ہوکے رہ گیاجس کو کافی کھوجنے کے بعد بھی بازیاب نہیں کیا جاسکا۔ اس وقت صرف دو سو کے آس پاس ہی غزلوں اور نظموں وغیرہ پر مشتمل اُن کا شاعری کلام کلیات صمد میر میں موجود ہے۔کلیات صمد میر نامور ادیب اور شاعرموتی لال ساقی نے ترتیب دی ہے جس کو ریاستی کلچرل اکادمی نے چار بار شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔
صمدمیر صاحب جس وقت شعر و شاعری کے میدان میں بام عروج پر پہنچ گئے اُس وقت اُن کانام اور کلام پوری وادی میں زبان زد عام و خاص ہوگیا۔اُن کے کلام میں وزن اور روانی اس قدر پائی جارہی ہے جس طرح سے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ شاعر کے کلام میں پائی جاتی ہے۔انہوں نے اپنی شاعری میں نہ صرف روایتی لفظوں کا استعمال کیا بلکہ انہوں نے چند ایسے نئے اور خوبصورت استہارات بھی معرض وجود لانے میں کامیابی حاصل کی جن الفاظ اور استہارات سے کشمیری زبان اورشعر و ادب کو ایک نئی جہت اور عروج مل گیا۔ صمد صاحب کے شیرین کلام سے متاثر ہوکر ایک بڑی تعداد میں یہاں کے لوگ اُن کے دیوانے ہوگئے اور مُرید بن بیٹھے جن میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو برادری کے لوگ بھی شامل ہیں۔احد بیگ صفا کدل میر صاحب کے خاص مرُیداورمہتمم تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ صمد صاحب کے ساتھ ہی گزارا۔ ہر دکھ سکھ میں اُن کا ساتھ نبھایا اسلئے میر صاحب نے اپنی زندگانی میں ہی احد بیگ صاحب کو اپنا ادبی جانشین نامزدکر رکھا تھا۔ احد بیگ کے مزار پر بھی صفا کدل میں ہر سال یوم صمد نہایت ہی عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
9جنوری 1959ء میں جس وقت صمد میر صاحب کی عمر مبارک قریباََ 65برس کے آس پاس تھی وہ اس دارُالفناء سے دارُالبقاء کیلئے ہمیشہ کیلئے تشریف لے گئے۔اُن کواپنے آبائی گاؤں نمبل ہار میں جہاں پر انہوں نے وقت پیری میں اپنا بیشتر وقت گزارا اُن کی وراثتی قطعہ اراضی کے اندر سپرد خاک کیا گیا۔اُن کے مبارک روضہ پر اُن کے اہل خانہ قرابت داروں اور مریدوں نے حال ہی میں ایک خوبصورت چبوترہ بھی تعمیر کروا دیا ہے۔ ان کی زیارت گاہ پر ہر سال اُنکے عرس پر ادبی و ثقافتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ محفل سماع آراستہ کیا جاتا ہے۔صمد میر فاؤنڈیشن ٹرسٹ جس کا قیام کوئی دس پندرہ برس قبل عمل میں لایا جاچکا ہے نے صمد میر صاحب کے شاعری ادبی وثقافتی وراثت کی دیکھ ریکھ کرنے کا بیڑہ اُٹھا کے رکھا ہواہے۔یوم صمد کے موقع پراُن کے مزار پر فاؤنڈیشن کی طرف سے زائرین کیلئے صبح سویرے سے لیکر شام گئے تک مفت بنڈار کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں پر اس دن عارضی بازار بھی سجایا جاتا ہے اور بچوں کی تفریح کا بھی انتظام کیا جاتاہے۔
امسال حسب روایت یوم صمد میرکے موقع پر ریاستی کلچرل اکادمی اور محکمہ انفارمیشن نے باہمی اشتراک سے محفل سماع کا اہتمام کیا تھا۔وادی سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے گلوکار اور موسیقار مرحوم شاعر کے مزار کے سائے میں سینکڑوں عقیدت مندوں کی موجودگی میں دن بھر اُن کا کلام اپنی مَدُرلئے اور سُریلی دھنوں میں پیش کر کے اُن کے تئیں اپنا خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔لیکن یہاں ستم ظریفی کا مقام یہ ہے کہ گلوکاروں اورموسیقاروں کی چند پارٹیاں صوفی شاعروں کے مزرات پر روانہ کرکے ہمارے ادبی و ثقافتی اداروں کے منتظمین سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنی منصبی ذمہ داریاں نبھا نے میں کامیاب ہو رہے ہیں جوکہ اُن کی خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔کیاصرف محفل سماع آراستہ کرانے سے ہی ان برگزیدہ شاعروں اور سخن وروں کا حق ادا کیا جاسکتاہے۔صمد میر صاحب کے علاوہ دوسرے بڑے بڑے شاعروں کے کلام سے ہم اکثر و بیشتر دور درشن کیندر اور ریڈیو کشمیر کی وساطت سے محضوض ہوتے رہتے ہیں۔ہم اپنے من پسند شاعروں کا کلام آڈیو اور ویڈیو پلیروں کی مدد سے جب چاہیں اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ کرسماعت بھی کر لیتے ہیں۔کیا ان مبارک تقریبات پر ہمارے ادبی و ثقافتی اداروں کو مشاعروں مکالوں اور تقریروں کا اہتمام نہیں کرنا چاہئے جس سے ان عظیم شاعر و ں اور سخن وروں کے چاہنے والے اُن کی شخصیت اورکارناموں سے باخبر ہوجاتے۔کیا ان اداروں کو طلباء و طالبات کو ان موقعوں پر دعوت دیکر بلانا نہیں چاہئے تاکہ وہ بھی کشمیر کے جاندار ماضی کو جان لیتے اوران بزرگوں کے شاندار کارناموں سے سیخ حاصل کرلیتے۔کلچرل اکادمی کے سربراہوں اور ذمہداروں سے ہمارے ادب نواز دوستوں کو کافی امیدیں وابسطہ ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ادبی و ثقافتی اداروں کے سربراہان صوفی شاعروں کے عرس پر محفل سماع کے ساتھ ساتھ مشاعروں،مکالوں اور تقریروں کا اہتمام کیا کرتے رہیں تاکہ ان برگزیدہ سخن وروں کی کسی حد تک حق ادائی ہوسکے۔
پڑھ پڑھ کے گیا پتھر لکھ لکھ کے گیا چور!!!!!!!!!
جس پڑھنے سے صاحب ملے وہ پڑھنا ہے اور
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
