تازہ ترین
422 ارب ڈالر کا بجٹ، دفاعی بجٹ میں آٹھ فیصد اضافہ
خبراردو: غریب، کسان اورگائوں کیلئے سوغات، تنخواہ یافتگان مایوس، امراء پر ٹیکس کا اضافہ
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعہ کو پارلیمنٹ میں مودی حکومت کی دوسری مدت کار کا پہلا بجٹ پیش کیا۔ سنہ 2019۔20 کے بجٹ میں ملک کی ترقی کو دوبارہ پٹری پر لانے اور 2025 تک پچاس کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری معبنیادی ڈھانچہ اور فلاحی کاموں کے لیے وسائل اکٹھا کرنے کی غرض سے پٹرول اور ڈیزل پر دو دو روپیے فی لیٹر ٹیکس بڑھایا گیا ہے۔ مودی حکومت نے بجٹ میں غریب ، کسان، دیہی علاقوں کو سوغات دی ہے اور سست روی کی شکار معیشت کو رفتار دینے کے لیے گھریلو اور غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ امید کے برعکس درمیانی انکم ٹیکس دینے والوں کو کوئی راحت نہیں دی گئی ہے جبکہ امیروں پر ٹیکس کا اضافہ کیا ہے۔ بجٹ میں گاوئوں، غریب، کسان کی زندگی کے معیار کو بلند کرنے کے لیے کئی اعلانات کیے گئے ہیں جبکہ مڈل کلاس کے تنخواہ لینیوالوں کو کسی طرح کی رعایت نہ ملنے سے کافی مایوسی ہوئی ہے۔ البتہ امراء پر ٹیکس کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دو کروڑ روپیے سے زیادہ اور پانچ کروڑ روپیے تک کی آمدنی والوں کے لیے اضافی 15 فیصدسے بڑھا کر 25 فیصد ٹیکس کیا گیا ہے لہٰذا اب انھیں تین فیصد زیادہ ٹیکس دینا ہوگا۔ پانچ کروڑ روپیے سے زیادہ کا ٹیکس مستطیع آمدن والوں کے لیے اضافی طور پر 37 فیصد کیا گیا ہے۔ اس سے انھیں سات فیصد زیادہ ٹیکس دینا ہوگا۔پینتالیس لاکھ روپیے تک مکان خریدنے والوں کو رہائشی قرض کی سود پر انکم ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ کی حد بھی بڑھا دی گئی ہے۔ آئندہ 31 مارچ تک مکان خریدنے والوں کو 1.5 لاکھ روپیے تک کی اضافی انکم ٹیکس چھوٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس طرح سے مکانوں کے لیے دو لاکھ روپیے تک کے انکم ٹیکس چھوٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔پٹرول اور دیزل پر ایک ایک روپیے فی لیٹر پروڈکشن ٹیکس بڑھانے کے ساتھ ہی اتنی ہی رقم کی ترقی مع انفراسٹرکچر کی مد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے دونوں ایندھن کی قیمت ہفتے کے روز سے دو دو روپیے فی لیٹر مہنگی ہو جائے گی۔ ڈیزل کے مہنگا ہونے سے آنے والے دنوں میں دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔بجٹ میں سونا، چاندی اور زیورات پر کسٹم کو 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد اور کاجو پر 45 سے بڑھ کر 75 فیصد کرنے سے ان کی قیمتوں پر بھی اثر پڑے گا۔ امپورٹ (درآمد شدہ) کتابوں پر صفر سے بڑھا کر 5 فیصد اور آپٹیکل فائبر کیبل پر صفر سے 20 فیصد کرنے کی وجہ سے یہ مزیدمہنگے ہو جائیں گے۔گاڑی کے پرزوں پر 10 فیصد کے ٹیکس میں اضافہ کرکے 15 فیصد اور ٹائلس پر بھی 10 سے 15 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایئرکنڈیشن، لاوئوڈ اسپیکر، ویڈیو ریکارڈر، سی سی ٹی وی کیمرہ، گاڑی کے ہارن، تمباکو، سگریٹ اور موبائل کے پارٹس پر ٹیکس میں اضافے کی وجہ قیمت بڑھے گی۔اس کے علاوہ ڈیجیٹل کیمرہ، مکمل درآمداتی کار، صابن بنانے کے کام میں آنے والی خام اشیا، درآمداتی اسٹین لیس اسٹیل پیدوار، نیوزپرنٹ اور موبائل فون چارجر وغیرہ بھی مہنگے ہوجائیں گے۔نقد لین دین کو کم کرنے کے لیے بینک کھاتے سے ایک کروڑ روپیے سے زیادہ نکالنے والوں کو بھی جیب ڈھیلی کرنی پڑے گی۔ ایک کروڑ روپیے بینک سے نکالنے پراب دو فیصد کٹے گا۔ماحولیات کو صاف و شفاف بنانے کے لیے الیکٹرک کار کے استعمال کو بڑھاوا دینے کی سمت میں اس کے آلات کی خریداری پر رعایت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے علاوہ الیکٹرانک اشیا، سیٹ اپ باکس اور دفاع کا درآمداتی سامان بھی سستا ہوگا۔نرملاسیتا رمن نے آئندہ دہائی کے لیے 10 نکاتی وڑن کا اعلان کیا جس میں عوامی حصہ داری، آلودگی سے پاک ہندوستان، معیشت کے ہر شعبے میں ڈیجیٹل انڈیا کی رسائی،بنیادی اور سماجی انفراسٹرکچر کی تعمیر،آبی وسائل اور ندیوں کی صفائی ،خود انحصاری، میک ان انڈیا، اشیائے خوردنی، دال، تلہن، پھل، سبزی کے ایکسپورٹ (برآمد) کو فروغ اور آیوشمان بھارت کے ذریعے صحت مند سماج کی تعمیر شامل ہیں۔گھریلو سطح پر مینوفیکچرنگ کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے درمیانی،چھوٹی اور انتہائی چھوٹی صنعتوں پر زور دینے کے علاوہ اسٹارٹ اپ، دفاعی آلات کو ملک میں بنانا، آٹو موبائل، الیکٹرانکس اور صحت کے (طبی) آلات کے شعبے میں میک ان انڈیا کی رسائی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔اقلیتی امور کی وزارت کے لئے اس سال بجٹ میں 4599کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو 19-2018 کی مختص رقم سے زیادہ ہے۔اسی کے ساتھ عام بجٹ میں اقلیتوں کو تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کے لئے مختص رقم میں تھوڑی کمی کے ساتھ حکومت نے یو پی ایس سی کے امتحانات میں شریک ہونے والے اقلیتی امیدواروں کیلئے مختص بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔ اقلیتوں کو تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کیلئے مختص رقم پچھلے سال کے 2451 کروڑ روپے سے گھٹا کر 2362 کردی گئی ہے۔ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک گرانٹ کی رقم بالترتیب 1296 کروڑ روپے سے گھٹا کر 1220 کروڑ روپے اور 500 کروڑ روپے سے کم کرکے 496 کروڑ روپے کردی گئی ہے۔ اقلیتی امیدواروں کو مفت اور رعایات والی کوچنگ فراہم کرنے کے لئے بجٹ 8 کروڑ روپے سے بڑھاکر 20 کروڑ روپے کردیئے گئے ہیں ۔ یہ سہولت یو پی ایس سی ، ایس ایس سی وغیرہ کے ابتدائی امتحانات پاس کرنے والے طالب علموں کی مدد والی اسکیم کے تحت فراہم کی جاتی ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعہ کو پارلیمنٹ میں بجٹ کی تقریر میں کہا کہ ایک روپے، دو روپے، پانچ روپے، دس روپے اور بیس روپے کے سکوں کی ایک نئی سیریز جاری کی گئی ہے۔ ان سکوں کو نابیناافراد بھی آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔یہ نئے سکے عوام کے استعمال کے لئے جلد ہی دستیاب ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سات مارچ کو ان سکوں کی نئی سیریز کو جاری کیا تھا۔پہلا موقع ہوگا جب بازارمیں بیس روپے کا سکا استعمال میں آئے گا۔حکومت نے اپنے شہریوں کے طرز زندگی میں مزید آسانی لانے کا نشانہ طے کیا ہے۔
حکومت کے ساتھ ساتھ دیگر جگہوں پر بھی رقوم کے ڈیجیٹل لین دین میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔طرز زندگی کو آسانے بنانے کی یقین دہانی کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ایک مؤثر طریقہ ہے۔ یہ بات خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 20-2019 پیش کرتے ہوئے کہی۔وزیر مالیات نے کہا کہ تقریباً 30لاکھ کارکنوں نے پردھان منتری شرم یوگی مان دھن میں شرکت کی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد غیر منظم اور باقاعدہ شعبوں میں 60 سال کی عمر پر پہنچ جانے والے کروڑوں کارکنوں کو پنشن کے طورپر 3000روپے ماہانہ فراہم کرنا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اونچے معیار زندگی اور آسان زندگی کے لئے ایک صاف ستھرے ماحول کو برقرار رکھنا اور دیر پا توانائی کی یقین دہانی ضروری ہے۔انہوں نے کہا‘‘گھروں کی سطح پر ایل ای ڈی بلب بڑے پیمانے پر تقسیم کئے جانے کا ایک عوامی پروگرام شروع کیاگیا تھا، جس کے نتیجے میں ملک میں روایتی بلب اور سی ایف ایل بدلے گئے تھے۔تقریباً35کروڑ ایل ای ڈی بلب اجالا یوجنا کے تحت تقسیم کئے گئے، جس کے نتیجے میں 18341کروڑ روپے سالانہ کی بچت ہوئی۔ بھارت روایتی بلب کے استعمال سے آزادہونے والا ہے اور سی ایف ایل کا استعمال اب بہت ہی کم رہ گیا ہے۔ ہم ملک میں شمسی چولہوں اور بیٹری چارجر کے استعمال کے فروغ کے لئے مشن ایل ای ڈی بلب طریقہ کار اپنائیں گے۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ حکومت اس سال ریلوے اسٹیشن کو جدید طرز پر ڈھالنے کے ایک بڑے پروگرام کا آغاز کرے گی، تاکہ ریل کے سفر کو عام شہریوں کے لئے خوشگوار اور اطمینان بخش بنایاجاسکے۔خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر نے کہا کہ پردھان منتری آواس یوجنا –گرامین(پی ایم اے وائی-جی) کا مقصد 2022ء تک سب کے لئے ہاؤسنگ کا نشانہ حاصل کرنا ہے۔پردھان منتری گرام سڑک یوجنا(پی ایم جی ایس وائی)کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا ‘‘پی ایم جی ایس وائی-III)میں اگلے پانچ سال میں 125ہزار کلومیٹر طویل سڑک کو بہتر بنایا جائے گا، جس پر تقریباً 80250کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔’’ انہوں نے کہا کہ اہل آبادی کے ساتھ آفاقی کنکٹی ویٹی کے نشانے کو حاصل کرنے کی رفتار میں تیزی لانے کے لئے تکمیل کا نشانہ 2022ء سے 2019ء کردیا گیا ہے۔تعلیم کے شعبے میں ’’عالمی معیار کے ادارے‘‘ قائم کرنے کے لئے مالی برس 2019-20 کے دوران 400 کروڑ روپے کی رقم مہیا کرائی گئی ہے، جو کہ گزشتہ مالی برس کے ترمیم شدہ تخمینے سے تین گنا زیادہ ہے۔ وزیر خزانہ نے یقین دلایا کہ حکومت ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو عالمی سطح پر تعلیم کے بہترین نظام میں سے ایک نظام بنانے کے لئے نئی قومی تعلیمی پالیسی بھی لے کر آئے گی۔ اس نئی قومی پالیسی سے دیگر چیزوں کے علاوہ اسکول اور اعلیٰ تعلیم دونوں سطح پر بڑی تبدیلی آنے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں اس سے نظم و نسق کے بہتر نظام اور تحقیق و اختراع پر بڑے پیمانے پر توجہ مرکوز ہوگی۔
نرملا سیتا رمن نے ’اسٹڈی ان انڈیا‘ یعنی ہندوستان میں پڑھائی کرو پروگرام کا بھی اعلان کیا۔ اس پروگرام کی توجہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیرونی ملکوں کے طالب علموں کو لانے پر مرکوز رہے گی۔مرکزی وزیر مالیات نے مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 10فیصد تک کے پہلے خسارہ کے لئے سرکاری سیکٹر کے بینکوں کو ایک بار 6 ماہ کی جزوی قرض گارنٹی فراہم کرے گی۔انہوں نے این بی ایف سی کے مقابلے آر بی آئی کی ریگولیٹری اتھارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے فائنانس بل میں مناسب تجاویزپیش کیں۔ قرض کو فروغ دینے کے لئے سرکاری سیکٹر کے بینکوں کو 70000 کروڑ روپے کا سرمایہ فراہم کیا جارہا ہے، تاکہ ملک کی معیشت کو مزید رفتار دی جاسکے۔ ملک میں آسان زندگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے یہ سرکاری سیکٹر کے بینک ٹیکنالوجی کو مستحکم کریں گے، آن لائن پرسنل لون اور گھر پر بینکوں کی خدمات کی پیشکش کریں گے اور ایک سرکاری سیکٹر کے بینک کے صارف کو دیگر تمام سرکاری سیکٹر کے بینکوں میں خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنائیں گے۔ خزانہ اور کارپوریٹ کی مرکزی وزیر محترمہ سیتا رمن نے پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 2019-20 پیش کرتے ہوئے اطلاع دی کہ اس کے مستزاد اکاؤنٹ ہولڈر کو اس کے موجودہ حالات سے باہر نکالنے کے لئے حکومت متعدد اقدامات کرے گی۔ ان حالات میں اکاؤنٹ ہولڈر کو اپنے اکاؤنٹ میں دوسرے کے ذریعہ جمع کردہ نقدی پر اختیار حاصل نہیں ہوتا ہے۔
سرکاری سیکٹر کے بینکوں میں گورنینس کو مستحکم کرنے کے لئے مزید اصلاحات کئے جائیں گے۔بینکنگ نظام کو صاف ستھرا کرنے سے حاصل ہونے والے مالی فوائد اب بالکل عیاں طور پر نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ برس کے دوران تجارتی بینکوں کے غیرمنفعت بخش اثاثے (این پی اے) میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی کمی آئی ہے۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران آئی بی سی اور دیگر اقدامات کے سبب 4 لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقومات کی ریکارڈ وصولی ہوئی ہے۔ سات برسوں میں کوریج تناسب سب سے زیادہ ہے اور گھریلو قرض کی شرح ترقی 13.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ سیتا رمن نے مزید اطلاع دی کہ حکومت نے سرکاری سیکٹر کے بینکوں کو مستحکم کرنے کے علاوہ اس کی تعداد میں کمی کی ہے۔ اس کے علاوہ 6 سرکاری سیکٹر کے بینکوں کو فوری سدھار ایکشن فریم ورک سے باہر آنے کے قابل بنایا ہے۔وزیر خزانہ نے اطلاع دی کہ نان بینکنگ فائنانشیل کمپنیز (این بی ایف سی) چھوٹے اور اوسط درجے کے صنعت میں پائیدار صرفے کی مانگ اور سرمایہ کی تشکیل میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ این بی ایف سی جو کہ بنیادی طور پر بہتر ہوتے ہیں، کو بینکوں اور میچول فنڈ سے بغیر کسی خطرے کے فنڈ حاصل ہوتے رہنا چاہئے۔ انہو ں نے کہا کہ اعلیٰ قیمت کے سرمایہ کی خریداری کے لئے مالی طور پر مضبوط نان بینکنگ فائنانشیل کمپنیز، موجودہ مالی برس کے دوران کل ایک لاکھ کروڑ روپے تک کی کمپنیز کے لئے حکومت سرکاری سیکٹر کے بینکوں کو 10 فیصد تک کے خسارہ کے لئے ایک بار چھ مہینے کی جزوی قرض فراہم کرے گی۔ مزید برآں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) این بی ایف سی کے لئے ریگولیٹر ہے، تاہم آر بی آئی کے پاس این بی ایف سی کے اوپر محدود ریگولیٹری اتھارٹی ہے۔ این بی ایف سی پر آر بی آئی کی ریگولیٹری اتھارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے مناسب تجاویزفائنانس بل میں دیے جارہے ہیں۔
(بشکریہ یو این آئی)
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
