تازہ ترین
قتل کا بازار گرم ہے؛ آواز دو “انصاف” کہاں ہے؟
حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی
*قتل کا بازار گرم ہے- آواز دو “انصاف” کہاں؟؟؟…ہے
اللہ رب ا لعز ت نے دنیا تخلیق فر مائی اور انسانوں کو اشرف ا لمخلو قات کا شرف بخشااور علم و دماغ جیسی نعمت بھی عطا فر مائی(یہ رب کریم کا احسان عظیم ہے) علم اور دماغ سے انسان نے ترقی کی سیڑ ھی یاں طے کرتے کرتے مریخ کا سفر،چاند پر کمند اور ان گنت نئی نئی ایجاد کرتے جا رہا ہے جس میں فائدے اور نقصانات کی ایجاد بھی شامل ہے۔ جہاں آرام دہ اورتیز رفتارسفر کے لئے ہوائی جہاز بنائے، وہیں اویکس (Ovix)میراج29 اور ڈرون(Drone) جیسے حملہ آور بمبار طیار ے بھی بنا کر انسانیت پر ظلم کے پہاڑ گرا کر ساری حدیں پار کر دی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں مہلک ہتھیا روں کی اتنی مقدار(Quantity) مو جود ہے کہ پوری دنیا 29بار ان ہتھیا روں سے نیست ونا بود ہو سکتی ہے،اس میں روز بروز اضا فہ ہی ہو رہا ہے اللہ رب ا لعزت نے انسانوں کو زینہ بزینہ ترقی دینے کا وعدہ فر مایا۔(القرآن، سورہ نحل16،آیت8) تر جمہ: اسی نے گھوڑے اور خچر پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمھاری رونق بنیں۔ وہ اور بہت سی چیزیں (تمھارے فائدے کے لیے) پیدا کرتا ہے جن کا تمھیں علم تک نہیں ہے۔ رب تبارک و تعا لیٰ نے انسانوں کو بتد ریج، رفتہ رفتہ، زینہ بزینہ، در جہ بدر جہ، ترقی دینے کا وعدہ فر مایا اللہ ہی کی دی ہو ئی نعمت علم وعقل سے انسان نے ایسی ایجادات کی ہیں جن سے فائدے ہیں لیکن یقینا اس میں بے شمار نقصا نات بھی ہیں۔
*موب لنچیینگ کے بڑھتے واقعات ذمہ دار حکومت اور سوشل میڈیا*: دور جدید کی حیرت انگیز ایجاد مو بائل ہے جو کہ موجودہ زمانہ کی ناگزیر چیز بن گئی ہے امیر، غریب،بچہ، جوان، بوڑھا، کسان سے لے کر پائلٹ تک اس کا گر ویدہ بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اس کا غلام بن گیا ہے، نو جوان نسل کی بر بادی میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے جدید مواصلاتی نظام نے جہاں انقلاب بر پا کیا ہے وہیں سیکڑوں مسائل بھی پیدا کر دیئے ہیں جن کا حل ڈھونڈنا انتہائی ضرو ری ہے اگر ان مسائل کا حل ڈھونڈھانہ گیا تو آگے اور زیادہ تباہی آئے گی اور اس سے کوئی بھی نہیں بچے گا۔آج واٹس ایپ، انسٹا گرام، یو ٹیوب، ٹیلیگرام وغیرہ وغیرہ کے ذریعہ جہاں اپنی بات دوسروں تک جلد پہچانا بہت آسان اور فائدے مند ہے،وہیں یہ ذرائع انسانی موتوں کے بھی ذمہ دار ہیں اسی سے حضرت انسان جو اشرف المخلوق ہے وہ قدم قدم پر لمحہ بہ لمحہ جھوٹی خبریں گندی چیزیں پھیلا رہا ہے، اسی میں موب لنچنگ جیسا خطر ناک معا ملہ ہے اس میں حکو مت کی بھی شہ ہے جب سے سنٹرل اور صوبوں میں بی جی پی کی حکو متیں بنی ہیں پورے ملک میں اقلیتوں پر طرح طرح کے بہانوں سے حملہ کرکے جا ن سے مار دینا ایک فیشن بن گیا ہے ڈھٹا ئی،بے شر می، بے خوفی،ہٹ دھر می کا یہ حال ہے کہ مار نے کے بعد خود مجرمین ویڈیو بناکرسوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں تاکہ پورے بھارت کو ڈرا یا جاسکے۔ ان کو یہ زعم پیدا ہو گیا ہے ”سیاں بھئے کوتوال تو ڈر کا ہے کا“قا نون کے رکھ والے ان کے چہیتے ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے گائے کے نام پر، بچہ چوری کے نام پر،ٹرینوں میں سیٹ کے جھگڑے میں طرح سے مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے ابتک موب لنچنگ (بھیڑ کے ذریعہ جان مارنا)میں 149 سے زیادہ موتیں ہو چکی ہیں جس میں 80 فیصد مسلمان ہیں۔
*جھاڑکھنڈ اور ہریانہ موب لنچیینگ کا گڑھ*
یوں تو پورے ہندوستان میں ہجومی قتل Mob-lynching کا گراف بڑھتا جا رہا ہے والیکن جھاڑکھنڈ اسکا گڑھ بنا ہوا ہے 2016, سے لیکر اب تک 19 لوگ مارے گئے ہیں جن میں 3 دلت ہندو ہیں اور 16 مسلمان شہید ہوئے ہیں،ابھی حالیہ واقعہ 17 جون کو سراہے کیلا کھر ساواں ضلع، سینی تھانہ،کے تحت دھتکیڈیہ گائوں میں تبریز انصاری نامی شخص کو جو کدم ڈیہ گا ئوں سینی تھا نہ،ضلع سرائے کیلا کھر ساواں کا رہنے والا تھا پکڑ کر گائوں والوں نے اور بی جے پی کے “مشہور نیتا پپو منڈل” نے17, گھنٹے مار مار برا حال کر دیا-
اس بیچ اس سے مذہبی نعرے جے شری رام،جے بجرنگ بلی کے نعرے بھی لگوائے اس بیچارے نے مجبوری میں نعرے بھی لگائے لیکن ظالموں نے اس کے بعد اسے پیٹنے کا سلسلہ جاری رکھا،ظلم کی ساری حدیں پار کردیںن ۔۔۔۔ گائوں والوں کی اطلاع پر صبح سینی opپولیس دھتکیڈیہ پہنچی ،دہشت گردوں،ظالموں کی پیٹائی سے بری طرح گھا ئل *تبریز انصاری* کو حراست میں لیکر بغیر علاج کروائے ڈائریکٹ جیل بھیج دیا،22 جون کو جیل میں اس کی حالت تشویشناک ناک حد تک خراب بہت ہو گئی اس کے بعد جیل پرشاسن نے علاج کے لیے صدر اسپتال بھیجا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ (مرا ہوا) ہونے کا اعلان کر دیا-
لیکن رشتے داروں نے اس کے کراہ نے اور منھ سے جھاگ نکلتے دیکھ کر اس کے زندہ ہونے کی بات کہی اور اسپتال میں ہنگامہ شروع کیا ہنگامہ بڑھتے دیکھ کر اور رشتے داروں کے ڈیمانڈ پر ڈاکٹروں نے اسے ٹا ٹا مین ہوسپٹل TMH ریفر کر دیا،راستے میں ٹی ایم ایچ لے جانے میں آدیش بدل دیا گیا کہ گور منٹ ہاسپٹل مہاتما گاندھی ہاسپٹل MGM جمشیدپور لے جا یا جائے جمشیدپور کا راستہ ڈھیڑ گھنٹے کا ہے جس میں 6 گھنٹے لگا دیئے گئے،اور اس بیچ بری طرح سے زخمی تبریز انصاری کی موت ہو گئی- *انا للہ وانا الیہ راجعون* – بیوی کی شکایت پر درج FRI پر تبریز انصاری کی باڈی کو ہوسٹ مارٹم ہاؤس پہنچا دیا گیا بیوی اور رشتے داروں کے احتجاج پر سینی او پی پو لیس آفیسرں و ڈاکٹر کے فٹ لکھنے پر بہت احتجاج کرنے پر بہت مشکل سے بیوی کے بیان پر بی جے پی کے لیڈر “پپو منڈل” اور 100 لوگوں پر مقدمہ درج ہوا،یہ سب حکومت کے ذمے داروں کے ڈھیلے رویے کی وجہ سے ہو رہا ہے اسی وجہ کر ان لو گوں کی ہمت بڑھی ہوئی ہے جو انتہائی افسوس ناک اور فکر مندی کی بات ہے-
*فر قہ پرستوں کی آئی ٹی سیل* جھوٹے مسییج سیکنڈوں میں بناکر وائر ل کر کے بھیڑ جمع کر لیتی ہے اور اب تو با قائدہ اس نے ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرلی ہے اور ساری حدیں پار کردیںن ہیں،
سوشل میڈیانے تو ساری حدیں پار کر دی ہیں کوئی خبر آئی یا پھر غلط خبر ہی کیوں نہ ہو فوراً بھیجنا(Share) کر نا دل و ماغ سے بغیر سوچے سمجھے ایک سکنڈ بھی ضائع کئے بغیر ڈاکیہ کا کام کر نے لگتے ہیں۔واضع رہے ڈاکیئے کا کام ہے جو چیز اسے پہچا نے کے لیے دی جائے وہ اس چیز کو اسی کو دے جسے دینا ہے نہ کہ وہ ساری دنیا کو بانٹتا پھرے کو ئی خبر کوئی اطلاع کسی بھی انسان کے پاس آئی تو سب سے پہلے اطلاع پانے والے انسان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ پتہ لگا ئے کی یہ اطلا ع (information) صحیح ہے یا جھوٹ ہے اس کی تحقیق کرے اگر غلط ہے تو سب سے پہلے اطلاع بھیجنے والے سے بات کرے اور سختی سے منع کرے کہ آئندہ قطعی ہم تک جھوٹی باتیں نہ بھیجیں۔حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کے پاس جب ان کا پرندہ ھُدْھُدْ جو انکی خد مت پر معمور تھا اطلاع لا یا جس کا ذکر قرآن مجید میں اسطرح ہے۔ ھُدْ ھُدْ پرندہ بھی خبروں کو بیان کر نے میں اصول وضوابط کا پابند تھا چنانچہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا: (القر آن، سورہ نمل27،آیت22) ترجمہ: میں سبا کے متعلق ایک یقینی خبر لایاہوں۔ یہا ں ھُدْ ھُدْ نے یہ نہیں کہا کہ میں نے یہ سنا ہے یا ایسا پڑھا ہے یا مجھے ایسی خبر پہنچی ہے۔ اسی طرح ھُدْ ھُدْ کی خبر کے تئیں حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کا موقف بھی آج کے لوگوں یا ہماری طرح نہیں تھا کہ کوئی خبر ملنے کے بعد فورً اسے آگے (Forward) کردیں یا اسے (copy paste) کر نے لگیں بلکہ ھُدْھد کی خبر سننے کے بعد حضرت سلیمان علیہ ا لسلام نے فر مایا:(القرآن،سورہ نمل27،آیت27)سلیمان (علیہ ا لسلام) نے کہا”ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔
قر آن کریم سے یہ معلوم ہوا کہ خبر کی تحقیق کرنا اور اس کی سچائی یا جھوٹ کا پتہ لگانا یہ انبیائے کرام کا طریقہ رہا ہے۔ اس لیے ہم کو آپ کو بھی چا ہیے کوئی بھی ایسی خبر ادھر ادھر نہ پھیلائیں جس کی سچائی کا علم اور یقین آپ کو نہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ خبر سچ بھی ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خبر اس پیغام کو دیکھے سمجھے کہ اس پیغام(Massage) کو دوسروں کو پہنچا نا فائدہ مند ہے یا نہیں، کہیں اس خبر سے فتنہ فساد نہ پھیل جائے خوب اچھی طرح سوچے۔سوشل میڈیا میں جو پیغام آتے ہیں اس کے یوزر زیا دہ تر جلد باز ہو تے ہیں ادھر میسیج آیا اور لگے ادھر فاروڈ کرنے سب سے پہلے بھیج کراپنے کو بڑا تیس مار سمجھتے ہیں اور اس کا کر یڈٹ اپنے نام کر نا چاہتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ یہ پیغام آن کے آن سکنڈوں میں تمام دنیا میں پہنچ جا تا ہے اور پھر یہی نہیں جن تک یہ پیغام پہنچتا ہے وہ بھی دوسروں تک پہنچانے میں ذر ادیر نہیں لگا تے دوسروں تک آگے(forward) کر نے میں اور آپ کا بھیجا ہوا پیغام سیکڑوں، ہزا روں لو گوں تک پہنچ جاتا ہے پھر اس جھوٹی خبر سے کتنے مسائل پیدا ہو رہے ہیں کیا کبھی آپ نے سو چا ہے، کتنا گناہ ہو تا ہے معلوم ہے آپ کو ذرا سوچئے،قرآن کریم میں رب ذو الجلال کا فر مان ہے۔ (القر آن، سورہ نمل27،آیت105) تر جمہ: جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی وہی جھو ٹے ہیں،(کنز الایمان) ایک جگہ ہے لعنۃ اللہ علی الکذ بین۔ جھو ٹوں پر اللہ کی لعنت ہے، جس پر اللہ کی لعنت ہو گی وہ کیسے فلاح پائے گا۔ حدیث پاک ہے۔یحیٰ بن یحیٰ، سلیمان تیمی، ابو عثمان ہدی، کی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا: آ دمی کے لیے جھو ٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے(جس کی بنا پر وہ جھوٹا قرار دیاجاسکتا ہے) کہ ہر سنی ہوئی بات بیان کردے۔(صحیح مسلم،باب ہر سنی ہوئی بات بیان کر نے کی مما نعت،حدیث 9)دوسری حدیث حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ آپ نے فر مایا:آدمی کے جھو ٹے ہونے میں یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔ (صحیح مسلم، حدیث 11،) جھوٹ اتنا بڑا گناہ ہے کہ ربِ ذوالجلال کی اس پر لعنت ہے۔ جھوٹ ایک ایسا متعدی مرض ہے و ائرس(virus) زہریلا مادہ کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے جھوٹ بھی سائبر کرائم کی طرح ایک جرم ہے،واٹس ایپ کے جھوٹے میسیجوں نے کتنے معصوموں کی جان لے لی ہے سوشل(social media) کے ذریعہ جھوٹ کو بری طرح سے بڑھا وا مل رہاہے آپ دیکھیں جھوٹے میسیج بھیج کر بھیڑ اکٹھا کرنا ماب لنچنگ، جنو نی بھیڑ کے ذریعہ کہیں بچہ چوری کے نام پر، کہیں گؤ ہتھیا کے بہانے، کہیں گائے کے گوشت کے زیا دہ تر مسلمانوں کو مارا جارہا ہے حکو متیں ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کے مصداق اندھی بہری بنی ہوئی ہیں یہ ظلم و نا انصافی اب ساری حدیں پار کر گئی ہے یہ ہمارے ملک ہندوستان کی گنگا جمنی تہذ یب کو بر باد کر رہی ہے جو سب کے لیے نقصان ہو گا۔حالیہ واقعہ ہا پوڑ ضلع کے پلکھوا علاقے کے بچھیڑا گاؤں میں ایک مسلمان اپنے کھیت میں گھسی گائے کو کھیت سے با ہر کر رہا تھا اور کسی نے فوٹو لیکر واٹس ایپ کر دیا کہ گائے کی تسکری کر رہا ہے آن واحد میں بھیڑ جمع ہو گئی اور قا سم اور اس کے ساتھی کو مار مار کر شدید زخمی کر دیا قاسم کی موت کھیت میں ہی ہوگئی اور دوسرا ساتھی سیریس ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ہندو دہشت گردی کا، ملک کے حالات بہت خراب ہیں۔ *جرائم کا بڑھتا گراف ارباب حکو مت کے لیے چیلنج ہے۔
مو بائل چلانے والوں کو بہت احتیاط اور سوچ سمجھ کر پیغام فار وڈ کر نا چاہیئے کہ اس غلط خبر سے سماج پر کیا اثر ہو گا؟ افسوس کوئی سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے جس کے ہاتھ میں دیکھوموبائل چیٹنگ میں لگا ہے بغیر سوچے سمجھے میسیج بھیجنے میں لگا ہے ضرورت ہے کہ لوگ ایسے فالتو کا سے باز آئیں اور دوسروں کو بھی سنجید گی سے، پیار سے سمجھائیں گناہ بے لذت کی فہرست بہت لمبی ہے جھوٹ پھیلا نا، جھوٹی گواہی دینا، فحش گو ئی، فحش گندی تصویریں دیکھنا یہ سب گناہِ کبیرہ ہیں۔
*حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فر مایا*:
جھوٹ گنا ہوں کی جڑ ہے اور جھوٹ گناہوں کی کھیتی کو ہرا بھرا کر دیتا ہے، اتنے بڑے گناہ کر نے والے کو کیا ملتا ہے؟ کچھ نہیں ایسے ہی گناہ کو بے لذت گناہ کہا جاتا ہے۔۔ *خون کا قطرہ نہ آستین پہ ہے، نہ دھبہ زیر دامن میں*— *آپ کی حر کت سے کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھری*– موب لنچیینگ پر حکو متوں کے رویے سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی طرف سے کئی بار پھٹکا ر پڑ چکی ہے والیکن حکو متوں کے کان پر جوئیں نہیں رینگ رہی ہے کورٹ نےقا نون بنانے کی ہدایت بھی کی ہے ضروری ہے کہ حکومت ہر شہری کی حفاظت کرے خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو اللہ ظالموں کی پکڑ فرمائے آ مین ثم آمین۔
رابطہ: (Mob.:09386379632)
نوٹ: مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں.
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
