تازہ ترین
13 جولائی یوم شہداء کشمیر: کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو
تحریرمشتاق شمیم، بڈگام
13۔جولائی 1931ء کو جو خونین واقع سرینگر سینٹرل جیل کے باہر پیش آیا اس بارے میں قارئین کرام کو جانکاری فراہم کرنا وقت کی خاص ضرورت ہے تاکہ ریاست کی نوجوان پیڑی اپنے اسلافوں کی طرف سے پیش کی گئیں بیش قیمتی قربانیوں پر فخر محسوس کرتے رہیں۔جی ہاں دوستوعبدالقدیر خان نامی ایک غیر ملکی ٹورسٹ گائیڈکسی سیاح کے ساتھ کئی برسوں سے متواتر طور پر وادی کی سیر و تفریح کے سلسلے میں یہاں آیا کرتے تھے۔آپ ایک دیندار مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک قابل اور بہادر نوجوان بھی تھے۔ ڈوگرہ حکمرانوں کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جارہے ظلم و تشدد کو دیکھتے ہوئے اُن کو بڑی تکلیف ہوا کرتی تھی۔وادی کی سیر و تفریح کے دوران خان صاحب نے یہاں کے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی سے وابسطہ رہنماؤں سے ملنا اوراُن کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا اپنا معمول بناکے رکھا ہوا تھا۔ ایک اجنبی ہونے کے باوصف قدیر خان صاحب تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے لیڈران قوم کے ساتھ گفت و شنید کرنے میں بڑی دلچسپی ظاہر کیاکرتے تھے۔آپ آزادی کے متوالوں کی طرف سے بلائے گئے جلسے جلوسوں میں شرکت کرنا اپنے لئے باعث رحمت سمجھا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ اپنی بات رکھنے میں بھی کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا کرتے تھے۔ایک روز خانصاحب کو تحریک آزادی کے حوالے سے ایک بہت بڑے عوامی جلسے میں تقریر کرنے کا نادرموقع ملا۔ اپنے شعلہ بیان تقریر میں انہوں نے ڈوگرہ حکمرانوں کی جانب سے بے قصور ریاستی عوام پر ڈھائے جارہے ظلم و قہر کے خلاف زبردست غم و غصے کا اظہار کیا۔آپ نے مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف کھری کھری سُنانے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔اُن کے پُر اثر اور پُر مغز تقریر نے مظلوم اور کمزور کشمیری قوم میں ڈوگرہ متعلق العنان حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی ہمت اور حوصلہ بڑھا دیا۔ اس ولولہ انگیز تقریر کی وجہ سے قدیر صاحب اہلیان وادی میں ایک ہر دل عزیز شخصیت کی حثیت سے ابھر کر سامنے آگئے۔حکومت وقت کو خان صاحب کے تیور اور عوامی مقبولیت دیکھ کر خوف محسوس ہونے لگااسلئے مہاراجہ نے قدیر صاحب کو بغاوت کو ہوا دینے کے الزام میں گرفتار کروادیا اور ان کے خلاف ایک خصوصی عدالت میں باضابطہ مقدمہ چلانے کا فرمان بھی جاری کردیا۔
13 جولائی 1931ء کی تاریخ کو سینڑل جیل سرینگرکے اندر قائم خصوصی عدالت میں اس تاریخی مقدمہ کو لیکرحتمی فیصلہ سُناناطے تھا۔اس روزلوگ اطراف و اکناف سے جوق در جوق آتے گئے اور جیل خانے کے باہر جمع ہوتے گئے۔ لوگوں کو خدشہ لاحق تھا کہ مہاراجہ کی نام نہاد عدالت قدیر خان کیلئے پھانسی کے سوا کوئی دوسری سزا تجویز نہیں کرلیگی اسلئے وہ جیل کے باہرقدیر خان کی رہائی کو لیکر پُر زوراحتجاج کرتے رہے۔جیل کے اندر عدالتی کا روائی جاری تھی اورجیل کے باہر ہزاروں لوگوں پر مشتمل مجموعہ قدیر خان کی رہائی کے حق میں نعرہ بازی کرنے میں مشغول تھے۔مظاہرین زور دار طریقے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ قدیر خان کو باعزت بری کیا جانا چاہئے۔ جج صاحبان بھی عوام کا جم غفیر اور ان کاغصہ دیکھ کر گھبراہٹ میں مبتلا ہوچکے تھے۔حالانکہ عدالت نے قدیر خان کو حکومت وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا طے کر رکھی ہوئی تھی لیکن اپنا فیصلہ سنانے سے جج صاحبان گھبراہٹ محسوس کررہے تھے۔
کیا کیا جائے کیسے کیا جائے عدالت کافی دیر تک اسی مخمصے میں مبتلارہی۔ اس دوران نماز ظہر ادا کرنے کا وقت آن پہنچا۔لوگ با جماعت نماز ادا کرنے کی تیاری کرنے لگے اور جزبہ آزادی سے سرشار ایک جوشیلا نوجوان جیل کی دیوار پر چڑھ کر اذان دینے لگا۔اس نوجوان نے جب اذان کا پہلا کلمہ ”اللہ اکبر“ اپنی خوبصورت اور ولولہ انگیز آوازمیں بلند کیا تو اس با برکت کلمے کی گونج نے مہاراجہ ہری سنگھ کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیا۔مردمجاہد کی اس اذان نے حکومت کے اعلیٰ فوجی و سیول افسروں اور سپاہیوں کے رونگٹھے کھڑا کردئے۔اُن کے دلوں میں ایسا خوف طاری ہوگیا کہ وہ مارے خوف کے ادھر اُدھر بھاگم بھاگ کرنے لگے۔مہاراجہ کے سالے ٹھاکر نچنت سنگھ نے جب سیٹرل جیل میں تعینات اعلیٰ سرکاری ادیکاریوں اور سپاہیوں کے اندر خوف و ہراس اور افرا تفری کا ماحول دیکھ لیا تو انہوں نے موذن کو گولی کا نشانہ بنانے کا حکم جاری کردیا تاکہ سپاہیوں کے اندر خود اعتمادی کی کیفیت بحال ہوسکے۔چوتھا تکبیر ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ موذن کے سینے پر کسی فوجی اہلکار نے گولی ماردی اور وہ خون میں لت پت ہوکر دیوار سے گر پڑا اور جام شہادت نوش کرگیا۔تنگ آمد بہ جنگ آمد۔جذبہ اسلام اور جزبہ آزادی کا حال دیکھئے۔ایسی کون سی حرارت تھی ہمارے اسلافوں کے خون میں کہ جہاں لوگوں کو اس الم ناک اور غیر متوقعہ حادثے کی وجہ سے خوف زدہ ہونا اور منتشر ہوجاناچاہئے تھا وہاں سب کچھ توقع کے عین برعکس مشاہدے میں آگیا۔پہلا نوجوان ابھی سینے میں گولیاں لگنے کی وجہ سے نیچے گر ہی رہا تھا کہ دوسرا سرفروش جلدی سے دیوار پر چڑھ گیا اور اذان کو جاری رکھنے کی کامیاب کوشش کی۔اس دوسرے سرفروش کو بھی کسی سفاک سپاہی نے اپنی گولی کا نشانہ بنادیا۔وہ بھی ابھی نیچے گر ہی رہا تھا کہ تیسرا مرد مومن اذان کو آگے بڑھانے کیلئے دیوار پر کھڑا ہوگیا۔ اس کو بھی ظام فوجیوں نے شہید کردیا۔مہاراجہ کے نامرد سپاہی یکے بعد دیگرے ایک ایک بہادر حریت پسند موذن کو شہید کرتے گئے اور ایک ایک مرد آہن اذان کو مکمل کرنے کیلئے دیوار پر سینہ تان کر چڑھتا گیا۔ اس طرح سے13 جولائی 1931ء کی تاریخی اذان (ظہر) 23۔سرفرشوں نے جام شہادت نوش کرتے کرتے مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔تاریخ اسلام میں یہ واحد اذان ہے جس کو23۔ شہیدوں نے اپنے لال لال خون سے رنگ کر خو ب سے خوبصورت بنادیا۔ افرا تفری کے عالم میں سینکڑوں نوجوان اس دوران گولیاں لگنے اور بھاگم بھاگ کرنے سے مضروب بھی ہوگئے۔حریت رہنماؤں کی ایماء پر ان سبھی شہدا ء کو خانقاہ مولیٰ خواجہ نقشبندصاحب ؒ کے صحن واقع خانیار میں دفن کیا گیا۔ اس مزار کو مزار شہدا ء کے نام سے منسوب کر رکھا گیا ہے۔
بہر حال13 جولائی 1931ء کا خونین واقع رونما ہونے سے عوام کے دلوں میں مہاراجہ کے خلاف غم و غصہ کا لاوہ اس قدر ابھلنے لگا کہ یہی لاوہ آتش فشان پہاڑ کی صورت میں اُس وقت پھوٹ پڑا جب یہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے وابسطہ افراد ڈوگرہ شاہی نظام سے مکمل آزادی کے حصول کیلئے عملی میدان میں بے خطر کود پڑے۔ریڈنگ روم جماعت سے وابستہ یہ تعلیم یافتہ نوجوان تحریک آزادی کو منطقی انجام تک لے جانے کیلئے میدان کار زار میں جنون کے ساتھ اُتر گئے۔ اس خونین واقع کے سولہ برس بعد ہی بلآخر مہاراجہ کو اپنا بوریا بسترہ باندھ کر یہاں سے رفو چکر ہونا پرا۔1931ء سے لیکر آج تک 13 جولائی کی تاریخ کو کشمیر میں یوم شہدا کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن سرکاری تعطیل بھی ہواکرتی ہے۔ ریاست کی جملہ سیاسی پارٹیوں سماجی جاعتوں کے نمائندے 13 ء کے شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مزار شہدا ء جاتے ہیں وہاں پر قوم کے سپوتوں کی قبروں پرگلباری کرتے ہیں اوران شہیداء وطن کے ایصالِ ثواب کیلئے دعائیہ مجلسوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 31ء کے شہیدوں کو ریاست کی مین اسٹریم پارٹیوں کے ساتھ ساتھ علیحد گی پسند جماعتیں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ قوم ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آیا ان شہیدوں کے اصلی وارث کون ہیں۔
یہاں میں اُن 23۔شہدا ء کے اسمائے گرامی تحریر میں لانے کی سعادت حاصل کرتا چلوں جو اس خونین دلدوزواقع میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔1۔ اسر جو جندہ گرو گوجوارہ۔2۔اکبر ڈار اوُنتہ بھون۔3۔محمد تیلی اُونتہ بھون۔4۔ محمد سبحان راتھر اوُنتہ بھون۔5۔ عبداللہ راتھرمختمہ پکھری۔6۔عبداللہ لون نالہ بل نوشہرہ۔7۔ محمد عثمان مسگر نالہ بل نوشہرہ۔8۔خالق شودہ ہنزیمر خانیار۔9۔محمد رمضان چولہ آرم مسجد خانیار۔10۔ احد بٹ فتح کدل۔11۔ محمد سلطان خان بسنت باغ۔12۔ نصیر الدین چینکرال محلہ۔13۔عبدالسلام حجام گُذربل۔14۔محمد اکبر زالڈگر۔15. غلام نبی کلوال پاندان۔16۔عبداللہ نجار اومپورہ۔ 17۔غلام محمد صو فی ذری بل۔18۔ محمدسبحان خان نواب بازار۔19۔غلام محمد نقاش کاریکدل۔20۔ عبدالغنی مکائی نوا کدل۔21۔غلام محمد حلوائی جامع مسجد۔22۔ غلام رسول دورہ قطب الدین پورہ۔23۔ غلام قادر بٹ بہاؤ الدین صاحب۔شہیدوں کی یہ فہرست شہیدمزار پر لگائی گئی اُس تختی سے من و عن نقل کی گئی ہے جو تختی 13۔جولائی1949ء کو جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی طرف سے مزار شہداء پر لگائی جاچکی ہے۔
یاد رہے 1949 میں نیشنل کانفرنس کے صدر مرحوم شیخ محمد عبداللہ ریاست کے نامزدوزیر اعظم تھے۔یہاں میں بلا خوف و تردید یہ بتاتا چلوں کہ شیخ صاحب کو وزارت عظمیٰ کا اعلیٰ منصب ان ہی شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری کرنے کے عوض مل چکا تھا۔ہمارے ان صٖفہ اول کے شہیدوں نے اپنی بیش قیمتی جانوں کا نظرانہ اسلئے پیش نہیں کیا تھا کہ قوم کے رہنماء اس مظلوم قوم کو جہنم کی ایک وادی سے نکال کر جہنم کی دوسری وادی میں دھکیل دیں نہ ہی انہوں نے اپنا پاک لہو اسلئے بہادیا تھا کہ قوم کے لیڈران کرام ایک آزاد ملک کو معمولی کرسی کی خاطر کسی دوسرے ملک کی غلامی میں دے بیٹھیں۔یہاں یہ بات دکھ سے کہنی پڑتی ہے کہ۳۲۔شہیدوں کی طرف سے بہائے گئے پاک لہوکے سیلاب میں ڈوگرہ راجے مہاراجے ہمیشہ کیلئے ڈوب تو گئے لیکن ایک لاکھ 23ہزار شہیدوں کا لہو غاصب حکمرانوں کو ابھی تک بہا کر لیجانے میں کامیاب نہیں ہوپایا۔شاید یہ ہمارے خلوص نیت میں فقدان کی وجہ ہے کہ ہمارا خون رنگ نہیں لارہا ہے۔
نوٹ: مضمون نگار کی رائےسے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں :
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
