تازہ ترین
قومی مفاد کے پیش نظر این آئی کو مزید اختیارات سونپے جانے کا امکان
خبراردو: مرکزی سرکار نے دہشت گردانہ کارروائیوں کی گہرائی سے تحقیقات عمل میں لانے کیلئے قومی تحقیقاتی ایجنسی (ترمیمی) بل 2019کو قومی مفاد کیلئے ناگزیر قرار دیا ہے۔
مرکزی سرکار نے دہشت گردانہ کارروائی کی گہرائی سے چھان بین عمل میں لانے کیلئے قومی تحقیقاتی ایجنسی (ترمیمی) بل 2019کو قومی مفاد کیلئے ناگزیر قرار دیا ہے۔مرکزی سرکار کا دعویٰ ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (ترمیمی) بل 2019کے دائرہ کار میں توسیع کرنا دہشت گردی کیخلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کا حصہ ہے اور بل کو قانونی شکل فراہم کرنا ملکی مفاد کیلئے ناگزیر ہے۔مذکورہ بل کو قانونی شکل فراہم کرنے سے قبل بحث و مباحثہ کے دوران وزیر مملکت برائے محکمہ دفاع جی کرشن ریڈی نے پارلیمنٹ میں موجود تمام ممبران سے اس سلسلے میں حمایت طلب کی تاہم ہاؤس میں موجود کانگریس کے سینئر لیڈر منیش تیواری نے الزام عائد کیا بل کو قانونی شکل دینے کے نتیجے میں ہندوستان ”پولیس اسٹیٹ“ میں تبدیل ہوگا۔منیش تیواری کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار سخت قوانین کونفاذ کرتے ہوئے ملک کو ”پولیس اسٹیٹ“میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
اس دوران وزیر مملکت جی کرشن ریڈی نے ہاؤس میں موجود ممبران کو آگاہ کیا کہ مذکورہ بل کو قانونی شکل فراہم ہونے کے بعد قومی تحقیقاتی ایجنسی کا تحقیقاتی دائرہ کار بیرون ملک تک بڑھ جائیگا۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ قانون کے بعد این آئی اے اُن تمام دہشت گردانہ مقدمات کی تحقیقات عمل میں لاسکتا ہے جس کا مقصد بھارتی شہریوں چاہے وہ بھارت کے اندر رہائش پذیر ہوں یا دیگر ممالک میں موجود ہوں۔اس کے علاوہ مذکورہ قانون کے تحت این آئی اے کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اسلحہ و گولہ بارود، ہیومن ٹریفکنگ اور سائبر ٹیرورزم جیسے معاملات کی بھی تحقیقات عمل میں لائیگا۔جی کرشن ریڈی نے پارلیمنٹ میں موجود ممبران کو بتایا کہ مرکزی سرکار دہشت گردی کیخلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر قائم ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ اس حوالے سے کسی بھی سطح پر کمپرومائز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا سختی کیساتھ مقابلہ کرنے کی خاطر ہی مذکورہ بل کو قومی مفاد کے پیش نظر سامنے لایا گیا ہے۔
انہوں نے ہاؤس میں موجود تماممبران کو مخاطب ہوکر بتایا کہ میں دعا گو ہوں کہ آپ سبھی قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر بل کو قانونی شکل فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔خیال رہے دہشت گردانہ کارروائیوں کی گہرائی سے چھان بین عمل میں لانے کی خاطر مرکزی سرکار نے سال2009میں ممبئی حملوں کے مابعد قومی تحقیقاتی ایجنسی کو تشکیل دیا گیا۔ ادھر کانگریس کے سینئر لیڈر منیش تیواری نے مرکزی سرکار پر الزام عائد کیا کہ وہ سخت قوانین کی آڑ میں پورے ملک کو ”پولیس اسٹیٹ“ میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔تیواری کا کہنا تھا کہ این آئی اے کی آئینی ویلڈیٹی ہنوز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہے لہٰذا اس کا دائرہ کار بڑھانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق وزیر مملکت برائے محکمہ دفاع جی کرشن ریڈی کا کہنا تھا کہ جب سے قومی تحقیقاتی ایجنسی کو تشکیل دیا گیا ہے تب سے تا ایں دم ایجنسی نے 90فیصد مقدمات میں مجرموں کو سزائیں دی۔انہوں نے کہا کہ آج تک ایجنسی نے مختلف معاملات سے جڑے272مقدمات درج کئے ہیں جن میں عدالتوں نے 52کیسوں میں فیصلہ صادر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہیومن ٹریفکنگ سے جڑے مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے مجرموں کو معقول سزائیں نہیں مل پارہی ہیں لہٰذا این آئی اے اس میں بھی اپنا اہم کردار ادا کریگی۔ریڈی نے بتایا کہ موجودہ دور میں دہتگردی کے مختلف زاویے ہیں لہٰذا یہ ناگزیر ہے کہ ایجنسی کویہ اختیار دیا جائے کہ وہ بھارتی شہریوں چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہائش پذیر ہوں، کو نشانے بنائے جانے پر اپنی تحقیقات شروع کریں۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ این آئی اے مذکورہ قانون کو پاس ہونے کے بعد ملک کیساتھ ساتھ بیرون ملک میں موجود دبھارتی جائیداد کو نشانہ بنانے کا بھی سنجیدہ نوٹس لے کر تحقیقات عمل میں لاسکتی ہے۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
