تازہ ترین
اب تک 1لاکھ82ہزار 712یاتریوں نے گھپا کے درشن مکمل کرلئے: ذرائع
خبراردو: 5210یاتریوں پر مشتمل امرناتھ یاتریوں کا 14واں قافلہ جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے سیکورٹی کے کڑے حصار میں کشمیر کی جانب روانہ ہوا۔
5210یاتریوں پر مشتمل امرناتھ یاتریوں کا 14واں قافلہ سوموار کی علی الصبح سیکورٹی کے غیر معمولی حصار میں جموں کے بھگوتی نگربیس کیمپ سے گھپا کی جانب روانہ ہوا جس دوران قافلے میں شامل مرد، خواتین اور سادھوؤں نے بم بم بولے کے نعرے لگاتے ہوئے کشمیر کی جانب اپنا سفر شروع کیا۔انتظامیہ نے یاتریوں کی حفاظت کو جہاں امسال سیکورٹی کے کڑے انتظامات عمل میں لائے وہیں بھگوتی نگر بیس کیمپ سے یاتریوں کے قافلے کو روانہ کرنے سے قبل یہاں پر سیکورٹی کے اضافی دستوں کو دیکھا گیا جنہوں نے بھگوتی نگر اور ملحقہ علاقوں کو پوری طرح سے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔اس دوران سرکاری ذرائع نے اب تک کے اعداد و شمار کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی سے شروع ہوچکی سالانہ امرناتھ یاترا کے دوران اب تک ملک بھر کی مختلف ریاستوں سے 1لاکھ82ہزار 712یاتریوں نے گھپا کے درشن مکمل کرلئے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو 8734یاتریوں نے پہلگام اور بال تل کے روایتی راستوں سے سفر کرتے ہوئے گھپا کے درشن کئے۔
ذرائع نے بتایا کہ ملک کی مختلف ریاستوں سے ابھی تک کل ملاکر 1لاکھ 85ہزار شردھالوؤں نے یاترا کیلئے آن لائن رجسٹریشن کرائی ہیں۔ذرائع نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ سوموار کو جموں کے بیس کیمپ سے روانہ ہونے والے 5210یاتریوں میں سے 3711مرد، 1386خواتین، 19بچوں کے علاوہ 94سادھو شامل تھے جو 222گاڑیوں میں بیس کیمپ سے پہلگام اور بال تل کیلئے روانہ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ 5210یاتریوں میں سے 2838پہلگام کے راستے گھپا کے درشن کریں گے جبکہ 2372یاتری بال تل کے راستے سے سفر کرتے ہوئے گھپا کے درشن مکمل کریں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق مذکورہ قافلہ 123بڑی گاڑیوں اور 99چھوٹی گاڑیوں میں جموں سے کشمیر سے جانب روانہ ہوا جن کی حفاظت کیلئے سی آر پی ایف کے اضافی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے اب تک جموں کے بیس کیمپ سے 71ہزار630یاتریوں نے گھپا کی جانب روانہ ہوئے۔خیال رہے یکم جولائی سے شروع ہوچکی یاترا 15اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ برس 2لاکھ85ہزار یاتریوں نے گھپا کے درشن کئے جبکہ سال 2015،2016اور 2017کے دوران بالترتیب 3.52لاکھ، 3.20لاکھ اور2.60لاکھ یاتریوں نے بال تل اور پہلگام کے راستے گھپا کے درشن کئے تھے۔ادھر راجستھان، مدھیہ پردیش اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 3یاتری طبی وجوہات کی بنیاد پر لقمہ اجل بن گئے۔
معلوم ہوا کہ 63سالہ سندر دیوی ساکن راجستھان یاترا کے دوران بال تل کے مقام پر دل کا دورہ پڑجانے کے نتیجے میں لقمہ اجل بن گئی۔ اسی طرح35سالہ اجے مالیا ساکن مدھیہ پردیش بیس کیمپ کی طرف روانہ ہونے کے بعد بے ہوش ہوا جس کے بعد یہاں موجود دیگر یاتریوں نے انہیں نزدیکی طبی مراکز منتقل کیا تاہم یہاں موجود ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔
اس کے علاوہ 52سالہ ڈمپل شرما ساکن پنجاب کو گھپا کے نزدیک دل کا دورہ پڑنے کے نتیجے میں لقمہ اجل بن گئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے شروع ہوئی یاترا کے دوران اب تک مختلف وجوہات کے نتیجے میں 6یاتری لقمہ اجل بن گئے۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا18 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
