تازہ ترین
آج کا سنگ باز کل کا جنگجو، کشمیری مائیں بال بچوں کی فکر کریں : لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون
خبراردو: فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کی مشترکہ پریس کانفرنس میں 15ویں کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل سربجیت سنگھ ڈھلون نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ کشمیر میں حالات کو بگاڑنے کیلئے امر ناتھ یاترا کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے جمعرات کو 15ویں کارپس کمانڈ کے ہیڈکوارٹر پر بلائی گئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا کہ حد متارکہ پر حالات پرامن ہے۔ 15ویں کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل سربجیت سنگھ ڈھلون نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ کشمیر میں حالات کو بگاڑنے کیلئے اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیرمیں غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال کو جاری رکھنے کیلئے کشمیر میں حالات کو خراب کرنا چاہتا ہے۔ فوجی آفیسر کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر میں امن کی فضا کو مکدر بنانے کیلئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوا ہے تاہم انہوں نے گزشتہ دنوں سے حد متارکہ پار جاری آر پار کی گولہ باری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال پرامن ہے۔انہوں نے بتایا کہ وادی میں جنگجوؤں کی طرف سے خطرات ہنوز برقرار ہے۔
جگہ جگہ بارودی سرنگوں کا خطرہ عیاں ہے تاہم سیکورٹی فورسز اس طرح کی کارروائیوں کو ڈیل کرنے کی خاطر مسلسل تلاشی کارروائیاں عمل میں لارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فورسز کی جانب سے جنوبی کشمیر کے شوپیان علاقے میں تلاشی کارروائیاں جاری ہیں جہاں پر جنگجو نے فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون کا کہنا تھا کہ تلاشی کارروائی کے دوران یہاں سے ایک سرنگ برآمد کی گئی جس پر پاکستانی فیکٹری کا نام ثبت تھا۔انہوں نے بتایاکہ امرناتھ یاترا کے روایتی راستے پر فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں دیگر نوعیت کا اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیاجن میں امریکی ساخت M-24انساس رائفل اور پاکستان کی جانب سے بنائی گئی بارودی سرنگ بھی شامل ہیں۔اس دوران فوجی آفیسر نے بتایا کہ 83فیصد جنگجو سنگ باری میں ملوث رہے ہیں۔ فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امرناتھ یاترا کو نشانہ بنانے کی غرض سے کشمیر میں حالات کو خراب کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران شوپیان علاقے سے امریکی سخت سنائپر اور پاکستان کی تیار کردہ بارودی سرنگ کو برآمد کیا۔
لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون نے کہا کہ کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے کی پاکستان کو قطعی طور پر اجازت نہیں دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ امن کی صورتحال کو بگاڑنے کیلئے پاکستان کا ہر قدم ناقابل برداشت ہے جس کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ حد متارکہ پر اگر چہ کئی دنوں سے آرپار کی گولہ باری جاری ہے تاہم مجموعی طور پر یہاں صورتحال قابو میں ہے کیوں کہ پاکستان کی طرف سے دراندازی کی کوششوں کا فورسز بھر پور طریقے سے جواب دے رہے ہیں۔ پاکستان اس تاک میں بیٹھا ہے کہ وہ دراندازوں کو اس پار دھکیلنے میں لگا ہوا ہے تاہم سرحدوں پر تعینات فوج الرٹ ہے اور پاکستان کی طرف سے کی جارہی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔فوجی آفیسر نے بتایا کہ شوپیان علاقے سے جو بارودی مواد برآمد کیا گیا اُسے تحقیقات کیلئے ماہرین کے سپرد کیا گیا ہے۔پاکستان کشمیر میں امن کی فضا کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے۔ ہم عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ امن کی فضا کو بگاڑنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ تلاشی کارروائی کے دوران فورسز نے پاکستان ساخت بارودی سرنگوں کو بھی برآمد کیا جس یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کیلئے پاکستانی فوج جنگجوؤں کوہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہے تاہم انہوں نے جگہ کے نام کا خلاصہ نہیں کیا۔
ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جموں وکشمیر میں مجموعی طور پر سرگرم جنگجوؤں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کیساتھ ساتھ جموں صوبے میں بھی اب سرگرم جنگجوؤں کی تعداد کم ہوتی نظر آرہی ہے۔فورسز کی اضافی تعیناتی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ ہمیں خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جنگجو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لاسکتے ہیں۔اسی لیے ہم نے کشمیر کے اندر فورسز کی اضافی نفری کو طلب کرلیا۔اس کے علاوہ ہمیں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر پہلے سے تعینات فورسز اہلکاروں کو کچھ وقت آرام کیلئے بھی مہیا کیا جانا چاہیے، اور یہ سلسلہ معمول چلتا رہتا ہے۔اضافی فورسز کی تعیناتی سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے بتایا کہ پہلے سے موجود فورسز اہلکاروں کو کچھ وقت آرام کیلئے درکار ہے، جن کی جگہ دوسری نفری کو تعینات کیا جارہا ہے تاکہ سیکورٹی گرڈ میں کسی طرح کی کمی واقع نہ ہو۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس سوائم پرکاش پانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ فورسز نے پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں جنگجوؤں نے 10مرتبہ آئی ای ڈی دھماکے کئے۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنائے جانے کی غرض سے 10مرتبہ زیر زمین دھماکے کئے۔
پریس کانفرنس کے دوران فورسز کے اعلیٰ حکام نے ماؤں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج کا سنگ باز نوجوان کل کا جنگجو ہوسکتا ہے لہٰذ ااپنے بال بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ فورسز کمانڈروں کا کہنا تھا کہ ”ہم نے کشمیر میں جاری دہشت گردی کا گہرائی سے جائزہ لیا، 83فیصدی مقامی نوجوان جنہوں نے بندوق اور تشدد کا راستہ اختیار کیا، ان کا ماضی سنگ بازی میں ملوث رہا ہے، لہٰذا ہم کشمیری ماؤں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو خصوصی خیال رکھیں، انہیں سنگ بازی جیسی کارروائی سے باز رکھیں، کیوں کہ آج کا سنگ باز نوجوان کل کا دہشت گرد ہوگا“۔انہوں نے کہا کہ نوجوان 500روپے کے عوض سنگ باری کرتا ہے اور کل یہی نوجوان دہشت گرد بن جاتا ہے۔پریس کانفرنس سے آئی جی سی آر پی ایف ذوالفقار حسن کا کہنا تھا کہ امسال امرناتھ یاترا میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا تاہم سخت خطرات کے باوجود ہم نے یاترا کو پرامن طریقے پر منعقد کرنے کیلئے کئی اقدامات اُٹھائے۔ جنگجوؤں کی جانب سے یاترا میں خلل ڈالنے کیلئے کئی کوششیں کی گئیں لیکن فورسزکی مشترکہ کارروائیوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوام کے تعاون کے نتیجے میں اس طرح کی کارروائیاں ناکام ہوئیں
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
