تازہ ترین
قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچے
خبراردو
دُنیا بَھر میں ہر سال صحت سے متعلق مختلف این جی اوز اور فاؤنڈیشنز کے زیرِاہتمام 17نومبر کو ’’ورلڈ پِری میچوریٹی ڈے‘‘ منایا جاتا ہے، تاکہ قبل ازوقت پیدایش سے متعلق احتیاطی تدابیر اور دیگر معلومات عام کرکےپِری میچور بچّوں کی پیدایش کی شرح میں کمی لائی جاسکے۔
امسال جو تھیم منتخب کیا گیا ہے،وہ ہے”Born Too Soon: Providing the right care, at the right time, in the right place”۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال دُنیا بَھر میں 15ملین بچّے وقت سے پہلے تولّد ہوتے ہیں،جب کہ پانچ سال سے کم عُمر بچّوں میں ہونے والی اموات کا ایک بڑا حصّہ قبل ازوقت پیدا ہونے والے یا ایک ماہ سے کم عُمر بچّوں پر مشتمل ہے۔
واضح رہے کہ2015ء میں تقریباً ایک ملین بچّوں کی اموات اِسی عُمر میں ہوئیں ۔عالمی سطح پر کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 184مُمالک میں 5سے 8فی صد بچّے پری ٹرم پیدا ہوتے ہیں،ان میں سے دوتہائی بچّوں کی زندگیاں بہتر سہولتوں اور بروقت علاج سے بچائی جا سکتی ہیں۔ 2016ء میں یونیسیف نے ایک رپورٹ جاری کی ،جس کے مطابق پاکستان میں سالانہ 860,000بچّے قبل از وقت جنم لیتے ہیں،جن میں سے 102,000انتقال کرجاتے ہیں۔
جب کہ گزشتہ برس جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز چھے سو سے زائد نوزائیدہ بچّے قبل از وقت پیدائش یا دیگر پیچیدگیوں کے سبب فوت ہو جاتے ہیں۔اس اعتبار سے پاکستان ایسے دس بڑے مُمالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں قبل از وقت پیدایش کی پیچیدگیوں کے سبب بچّوں کی ہلاکت کی شرح زیادہ ہے۔
ہر نوع میں حمل کی مدّت مختلف ہوتی ہے۔نوعِ انسانی میںیہ مدّت نو ماہ پر مشتمل ہے،جس کے بعدہی زچگی عمل میں آتی ہے۔ بعض اوقات بچّہ مدّت مکمل کرنے سے قبل پیداہوجاتا ہے،جسے طبّی اصطلاح میں پِری میچور یا پری ٹرم کہا جاتا ہے۔قبل از وقت پیدا ہونے والے بچّوں کی ہفتوں کے اعتبار سے درجہ بندی کی گئی ہے،جس کے مطابق 20سے32ہفتوں کے دوران پیدا ہونے والے بہت زیادہ کم عُمر(very preterm )،32سے 34ہفتوں کے دوران جنم لینے والے درمیانی کم عُمر(moderate preterm) اور34سے37 ہفتوں کے دوران توّلد ہونے والے کم عُمر(late preterm )بچّےکہلاتے ہیں۔ ترقّی یافتہ مُمالک میں 24ہفتوں کی مدّت میں پیدا ہونے والے بچّوں میں 50فی صد زندہ بچ جاتے ہیں، اس کے برعکس ترقّی پذیر مُمالک میں 28ہفتوں سے پہلے پیدا ہونے والے 90فی صد بچّے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
اِن بچّوں میں قوّتِ مدافعت کی کمی کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتیں، سیکھنے کا عمل، قوّتِ سماعت اور قوّتِ بینائی دیگر بچّوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پِری میچور بچّیوں میں عام لڑکیوں کی نسبت ڈیپریشن اور دماغی ہیجان کے خطرات زیادہ پائے جاتے ہیں،جب کہ پِری میچور بچّوں میں اعتماد اور دوستانہ رویے کی کمی ہوتی ہے۔نیز،بعض اوقات جسم کےکسی اہم عضوکی نشو ونما نہیں ہوپاتی،نتیجتاً وہ جسمانی طورپر کم زورہوتے ہیں یا پھرکوئی معذوری لاحق ہوتی ہے۔
قبل از وقت پیدایش کے کئی محرّکات ہیں۔تاہم بنیادی وجہ ماں کی خرابیٔ صحت ہے۔جیسےحاملہ کااپنی غذاکی جانب توجّہ نہ دینا آئرن اور خون کی کمی کا سبب بنتا ہے،جس کے نتیجے میں بچّے کی نشوونما متاثر ہوجاتی ہے۔علاوہ ازیں،ماں کا کم عُمر ہونا، جڑواں یا اس سے زائد بچّوں کی پیدایش، بُلند فشارِ خون،ذیابطیس،عارضۂ قلب،نشہ آور ادویہ یا تمباکو نوشی کی لَت میں مبتلا ہونا ،سانس،جگر، دِل یا گُردے کی کوئی بیماری، دائمی کھانسی،جوڑوں کے درد کا مرض وغیرہ بھی قبل از وقت زچگی کی وجوہ بن جاتی ہیں۔
بعض کیسز میں بچّہ دانی کی بیماریاں،Fetal distress اور مختلف موروثی عوراض بھی وجہ بن سکتے ہیں۔بعض اوقات مثانے،گُردےیا بچّہ دانی کا انفیکشن یا بچّہ دانی کا منہ ڈھیلا ہونا بھی پری ٹرم پیدایش کا باعث بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں،حمل سے قبل ماں کا وزن 45 کلو گرام سے کم یا 85 کلو گرام سے زیادہ ،قد4 فٹ 11 انچ سے کم اورخون کا گروپ نیگیٹو ہونا بھی قبل از وقت پیدایش کے محرّکات بن سکتے ہیں۔نیز،درج ذیل ممکنہ علامات بہت اہم ہیں،جن سے کوئی بھی حاملہ دوچار ہوسکتی ہے۔مثلاً:
وزن:
حمل کے دوران حاملہ کا وزن بہت تیزی سے بڑھنے لگے یا اس میں اضافہ کی رفتار معمول سے کم ہو۔ عمومی طور پر حاملہ کا وزن حمل کے 12ویں سے14ویں ہفتے کے دوران ایک کلو گرام کے لگ بھگ بڑھتا ہے۔14 ویں سے 28ویں ہفتے کے دوران3تا4کلو گرام اور 28ویں سے40ویں ہفتے تک تقریباً 4سے6کلو گرام کا اضافہ ہوتا ہے۔ یوں مجموعی طور پر 10سے12کلو گرام وزن بڑھتا ہے۔ اس مناسبت سےوزن میں اضافےکی رفتار معمول کے مطابق نہ ہونا خطرے کی علامت ہو سکتا ہے۔
سُوجن:
پائوں یا جسم پر سُوجن کی پہلی علامت بالعموم اس طرح ظاہر ہوتی ہے ،جب انگوٹھی یا چُوڑی پھنسنےلگے، جوتے تنگ محسوس ہوں۔ دورانِ حمل جسم پر سُوجن خطرے کی گھنٹی بھی ہو سکتی ہے،لہٰذا اس حوالے سے خاص دھیان رکھا جائے۔
سَردرد:
چکرآنے ،آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانے،اکثر سَربوجھل اوردرد رہنے جیسی علامات عموماً خواتین معمولی جان کر نظرانداز کردیتی ہیں،جو درست نہیں۔کیوں کہ یہ علامات خون کا دباؤ بڑھنے کے سبب بھی ظاہر ہوسکتی ہیں،بہتر تو یہی ہے کہ معالج کو آگاہ کیا جائے۔
خون کا اخراج:
دورانِ حمل کسی بھی مرحلے پراگر زائد مقدار میں رطوبت یا خون خارج ہو، تو گھریلو ٹونے ٹوٹکوں کی بجائےمعالج سے رجوع کیا جائے، کیوں کہ یہ کیفیت زیادہ عرصے برقرار رہے، تو زچہ و بچّہ کی زندگی خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے اور جان بچانے کے لیے وقت سے پہلے پیدایش ناگزیر ہوجاتی ہے۔
تشنّج:
بعض اوقات حاملہ جھٹکے لگنے کی بیماری میں( جسے طبّی اصطلاح میں تشنّج کہا جاتا ہے) مبتلا ہوجاتی ہے۔یہ حمل کی انتہائی خطرناک علامت ہے،کیوں کہ جھٹکنے لگنے سے بچّہ رحمِ مادر میں انتقال کرسکتا ہے یا پھر جان بچانے کے لیے قبل ازوقت زچگی کروائی جاتی ہے،لہٰذا ایسی صورت میں معالج سے رابطہ ناگزیر ہے کہ معمولی سی کوتاہی یا تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
دردِ زہ جیسا درد:
بعض اوقات حمل کی مدّت (40ہفتے) پورے ہونے سے قبل کسی بھی وقت دردِ زہ جیسی تکلیف شروع ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے یہ علامت قبل ازوقت بچّے کی پیدایش کی ہو۔
شکمِ مادر میں بچّے کی حرکت:
بچّے کی حرکت بالعموم حمل کے چار ماہ مکمل ہونے پر محسوس ہونے لگتی ہے اور ماں جلد ہی معمول کی حرکات سے آشنا ہو جاتی ہے۔ معمول میں تغیر ایک غیر معمولی علامت ہے۔ حرکت معمول سے زیادہ یا کم ہو یا بالکل ختم ہو جائے، توجس قدر جلد ہوسکے ،معالج سے رجوع کیا جائے۔یاد رکھیے، دورانِ حمل باقاعدگی سے چیک اپ صحت مندی کے ساتھ حمل کی مدّت پوری کرنے کے لیےناگزیرہے۔
قبل از وقت پیدا ہونے والے بچّوں کے مسائل:
قبل از وقت پیدایش کی وجہ سے عموماًبچّے طبّی مسائل کا شکا ر ہوجاتے ہیں، کیوں کہ قدرتی نظام کے تحت ماں کے پیٹ میں بچّے کو نشوونما کے لیے ایک خاص ماحول ملتا ہے۔40 ہفتے کی مدّت مکمل کرکے بچّہ شکمِ مادر سے باہر کی دُنیا میں خودبخودسانس لینے کے قابل ہوجاتا ہے۔لہٰذا اگر زچگی قبل از وقت ہوجائے، تو ایسے بچّوں کا دیگر بچّوں کی نسبت خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔
یہ بچّے اپنا جسمانی درجۂ حرارت قائم نہیں رکھ پاتے، کیوں کہ اِن کی جِلد کے نیچے نارمل چربی کی تہہ نہیں ہوتی، اس لیے انہیں سرما میں ٹھنڈ سے اور گرمی کے موسم میں زیادہ درجۂ حرارت سے بچانا بےحد ضروری ہوتا ہے،عموماً پِری میچور بچّوں کو انکیوبیٹرمیں خاص مدّت تک رکھا جاتا ہے۔اگرنومولود کی صحت کے پیشِ نظرمعالج انکیوبیٹر میں رکھنے کا مشورہ نہ دے، تب بھی ایسے بچّوں کابہت خیال رکھا جائے۔ پیدایش کے فوراً بعد خوراک شروع کروانا بہت اہم مرحلہ ہے۔
کوشش کی جائے کہ بچّہ پیدایش کے ایک گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ پی لے،کیوں کہ وہ چاہےمقررہ مدّت سے جتنے ہفتے قبل پیدا ہو، اُس کا نظامِ ہضم ماں کا دودھ فوری قبول کرلیتا ہے۔چوں کہ اِن بچّوں کے جسم میں گلوکوز محفوظ نہیں ہوتا، اس لیےوقفے وقفے سے دودھ پلایا جائے۔ماں کا دودھ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کیلشیم کی کمی سے بچّے کو جھٹکے لگ سکتے ہیں۔پِری میچور بچّوں میں سانس کا مرض(Idiopathic Respiratory Distress) ایک خطرناک بیماری ہے۔اگر بچّے کی سانس کی رفتار سُست ہو یا سانس لینے میں دشواری ہو، تو فوراً اسپتال لےجائیں،تاکہ بروقت تشخیص کے بعد فوری علاج ہوسکے۔
اس مرض میں بچّے کے پھیپھڑوں میں مخصوص دوا داخل کی جاتی ہے،جو پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔کم عُمر بچّے کو دودھ پلانے کے بعد ڈکار دلوا کر 30ڈگری پر لٹایا جائے، سیدھانہ لٹائیں۔کیوں کہ بعض اوقات دودھ اُبکائی کی صورت مُنہ کے راستے ناک میں آجاتا ہے، جس سے سانس رکنے لگتی ہے۔اور اگرپھیپھڑوں میں چلا جائے،تو نمونیا ہوسکتا ہے۔یہ بچّےیرقان سے بھی جلد متاثرہو جاتے ہیں اورتاخیر سے صحت یاب ہوتے ہیں۔یرقان کی صُورت میں معالج سے رجوع کیا جائے، تاکہ بروقت درست علاج ہوسکے۔واضح رہے کہ یہ یرقان ماں کی خوراک کی وجہ سے ہرگز نہیں ہوتا۔
قبل از وقت جنم لینے والے بچّوں میں پیٹ پُھولنے اور خون کے اخراج کی بیماری، جسے طبّی اصطلاح میں”Necrotizing Enterocolitis”کہا جاتا ہے، ایک عام اور جان لیوا بیماری ہے، مگر مناسب احتیاط اور ماں کا دودھ جلد شروع کروانے سے اس کا علاج ممکن ہے۔پھرپِری ٹرم بچّے قوّتِ مدافعت کی کمی کے سبب انفیکشن کا بھی جلد شکار ہو سکتے ہیں، اس لیےماں اپنے ہاتھوں اوربچّے کی صفائی کا خصوصی خیال رکھے اور اپنا دودھ لازمی پلائے کہ ماں کا دودھ ہی پہلی ویکسین ہوتا ہے،جو قوّتِ مدافعت بڑھاتا ہے۔اِن بچّوں میں جھٹکےمختلف وجوہ سے لگ سکتے ہیں،لہٰذا ماہرِ امراضِ اطفال سے رجوع کیا جائے۔
زچگی کے لیے کسی قریبی کلینک یا اسپتال کا انتخاب کیا جائے، جو نہ صرف گھر سے قریب ہو، بلکہ تمام طبّی سہولتیں اور 24گھنٹے عملہ بھی دستیاب ہو۔ مزید برآںبچّوں کی نگہداشت کے لیے ضروری آلات جیسے انکیوبیٹر، آکسیجن سلنڈر اور مخصوص مشینیں وغیرہ بھی میسّر ہوں،کیوں کہ ان آلات کے بغیر پِری ٹرم بچّوں کے زندہ رہنے کی اُمید بہت کم ہوتی ہے۔نیز، ایسے بچّوں کو مناسب دیکھ بھال کے لیے انکیو بیٹر میں رکھا جاتا ہے اور زیادہ افراد کو چُھونے بھی نہیں دیا جاتا ،کیوں کہ یہ جراثیم سے جلد متاثر ہوسکتے ہیں۔عمومی طور پر حاملہ میںقبل از وقت زچگی کی علامات ظاہر ہوں، تو فوری آپریشن کردیا جاتا ہے، تاکہ ماں اور بچّے کی جان بچائی جا سکے۔
ماں کو اگر قبل از وقت درو شروع ہو جائے،خاص طور پر پیٹ یا کمر کے نچلے حصّے میں تو فوری طور پر بستر پر لٹا دیں، ماں کو تسلّی دیں اور اس دوران معالج سےمشورہ کریں۔ اگر اسپتال لے جانے کی ضرور ت پڑے تو تاخیر کیے بغیر لے جائیں،کیوں کہ ایسی ادویہ اور احتیاطی تدابیر موجود ہیں، جن سے قبل از وقت پیدایش روکی جا سکتی ہے۔حاملہ سے اچھی بات اور اچھی طرح سے بات کریں۔
نیز،پینے کے لیے دودھ یا شربت موسم کے مطابق ضرور دیں۔ پیدایش کے وقت اردگرد کے ماحول کا درجۂ حرارت گرم ہونا چاہیے۔ پیدایش کے فوراً بعدبستر کی چادر تبدیل کر کے خشک چادر میں لیٹائیں،اس دوران ماں کی سانس اور رنگت کا جائزہ لیتے رہیں۔نومولود کو کپڑے پہنا کر ایک گھنٹے کے اندر اندر ماں کا دودھ ضرور پلوائیں ۔ پھر ہر دو گھنٹے بعد دودھ پلاتے رہیں ،جب کہ نوزائیدہ کا ماہرِ اطفال سے تفصیلی معائنہ کروائیں اور اس کی ہدایات پر عمل بھی کیا جائے۔
پِری ٹرم بچّوں کے لیے بعض وٹامنز اور منرلز 6سے 8ہفتے تک ضروری ہوتے ہیں،جن کا باقاعدہ استعمال انہیں نارمل وزن تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اگر پہلی زچگی پِری ٹرم ہو، تو آئندہ حمل میں 17.2فی صد امکان ہوتا ہے کہ دوسرا بچّہ بھی پِری ٹرم پیدا ہوگا۔ اگر پہلے دو بچّے پِری ٹرم ہوں، تو تیسری زچگی میں یہ امکان 28.4فی صد بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماں بننے والی خواتین اپناطبّی معائنہ اور کسی بھی بیماری کی صُورت میں اس کا علاج لازماًکروائیں ۔ اپنی غذا کا خاص خیال رکھا جائے کہ اگر ماں بیمار اور لاغر ہے، تو اس کے اثرات بچّے پر بھی مرتّب ہوں گے۔
اس ضمن میں نوزائیدہ بچّوں کے انتہائی نگہداشت کے اداروں کا قیام، تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں میں تمام سہولتوں کا موجود ہونا، حکومتی سطح پر صحت کی پالیسی کا تسلسل اور بہتری،نئے اسپتال اور ایم سی ایچ سینٹرز(Maternal And Child Health Care Centers)قائم کرنا، ڈاکٹرزاور پیرا میڈیکس کا اس شعبے میں تربیت یافتہ ہونا، ہر سطح تک عمومی معلومات فراہم کرنا وغیرہ پِری ٹرم زچگی کو نارمل حمل کی مدّت تک لے جانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
جیو نیوز
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
