تازہ ترین
منسوخی خصوصی پوزیشن کا 109 واں دن ،معمولاتِ زندگی کی رفتار تھم گئی
خبراردو:
نومبر 21:
جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے اور ریاست کو2حصوں میں منقسم کرکے’دویونین ٹریٹریز ‘قرار دئے جانے کے فیصلے کے بعد وادی کشمیر میں پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال نے جمعرات کو اُس وقت اچانک کروٹ بدلی ،جب شہر سرینگرکے سبھی بازاروں میں تذبذب کیساتھ خاموشی چھا گئی ۔دفعہ370کی تنسیخ کے109ویں روز ،21نومبر کو شہر سرینگر کے سبھی بازاروں میں محدود کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں ۔تجارتی مرکز لالچوک کے کم و بیش سبھی بازاروں میں جمعرات کو ہر طرح کے دکان بندرہے ۔سرینگر کے نامہ نگارکے مطابق جمعرات کو شہر خاص کیساتھ ساتھ سیول لائنز بشمول لالچوک میں حسب معمول محدود کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے ہی والی تھیں کہ اچانک دکانات کے شٹر نیچے گرنے شروع ہوگئے ۔ مختلف علاقوں سے جب دکاندار صبح8بجے کے قریب محدود کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کےلئے لالچوک پہنچنے ،تو یہاں انہوں نے عجب صورتحال پائی ۔بیشتر دکاندار وں نے حسب ِ سابقہ صبح 8بجے دکان کھولے ،تو 9بجنے سے قبل ہی تجارتی مرکز لالچوک میں افراتفری اور سراسیمگی کا ماحول قائم ہوا ،جسکے ساتھ ہی دکانات کے شٹر نیچے گرنے شروع ہوگئے ۔
ساڑھے 9بجے تک لالچوک اور اسکے گرد ونواح بازاروں میں آناً فاناً بند ہوگیا اور تاخیر سے پہنچنے والے دکاندار اچانک بدلی صورتحال کو دیکھ کرششدر ہوکر رہ گئے ۔لالچوک کے سبھی مرکزی بازاروں کے دکاندار وں اور تاجروں نے چمہ گوئیوں کے ماحول میں گھروں کی طرف واپسی کی راہ اختیار کی ۔تاہم سیول لائنز کے چند ایک بازاروں میں اکا دکا دکان آدھی شٹر اوپر کیساتھ کھلے رہے ،لیکن دوپہر سے قبل ہی یہ دکان بھی بند ہوگئے ۔بعض دکانداروں نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُنہیں آج بند کرنے کےلئے کہا گیا ،تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ بند کرنے کےلئے کس نے کہا ۔ایک دکاندار نے بتایا ’ کشمیر میں کب کیا ہوگا ؟اللہ ہی رحم کرنے والا ہے‘ ۔افراتفری اور سرا سیمگی و چمہ گوئیوں کے ماحول میں جمعرات کو لالچوک کے علاوہ سیول لائنز کے دیگر علاقوں میں بازار بند رہے ۔جمعرات کو شہر سرینگر میں مجموعی طور پر محدود کاروباری سرگرمیاں مکمل طور دن بھر کےلئے ٹھپ رہیں ۔بعض بازاروں میں دکانات کے شٹر اوپر اور نیچے کرنے کا عمل دوپہر تک جاری رہا ۔یاد رہے کہ 6نومبر کو موسم کی پہلی برفباری کے بعد واد ی میںآہستہ آہستہ معمولات زندگی بحالی کی طرف گامزن ہونے لگے تھے ۔صبح8سے لیکردوپہر2بجے یا اڑھائی بجے تک محدود کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی تھیں جسکے نتیجے میں بازاروں میں غیر معمولی چہل پہل اور رونق نظر آرہی تھی جبکہ پبلک اور نجی ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی سے جگہ جگہ ٹریفک جام بھی دیکھنے کو ملتے تھے ۔تاہم جمعرات کو معمولات ِ زندگی کی تیز گام ہونے والی رفتار تھم گئی جبکہ دیگر سرگرمیوں کی نبض بھی رُخ گئی ۔نامہ نگار کے مطابق شہر خاص کے انتہائی مصروف ترین بازار ’گاڑھ کوچہ زینہ کدل ‘میں بدھ کی شام ساڑھے 7بجے کے قریب آگ کی ایک واردات میں 3دکان خاکستر ہوئے ۔پولیس نے اس واقعہ کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ۔
اس واقعہ کو لیکر بھی شہر خاص میں طرح طرح کی چمہ گوئیاں کی جارہی ہیں ۔ نامہ نگار کے مطابق شہر خاص میں بھی جمعرات کو سیول لائنز کی طرح کی صورتحال نظر آئی ۔ ادھر سیول لائنز کے مگرمل باغ میں سی آر پی ایف کی گاڑی پر پتھراﺅ کیا گیا جس دوران فورسز کی بھاری جمعیت نے پتھراﺅ کرنے والے نوجوانوں کا تعاقب کیا ۔ اس تعاقب کے دوران سی آر پی ایف نے ایک کمسن لڑکے کو اپنے ساتھ لیا ۔ اس دوران یہاں کچھ دیر کیلئے افرا تفری کا ماحول بھی پیدا ہوا ۔ ادھر شہرخاص میں بدھ کو اچانک بند ہوا تھا اور جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی یہاں بند کے نتیجے میں معمولات ِ زندگی بحال نہ ہوسکے ۔ جامع مسجد مار کیٹ اورقدیم بازار مہاراج گنج کے ساتھ ساتھ شہر خاص میں جمعرات کو سبھی بازار بند رہے ۔بند کے نتیجے میں پورے شہر میں جمعرات کو محدود کاروباری و دیگر سر گرمیاں ٹھپ رہیں ۔شہر خاص کے بعض بازاروں میں صبح کے وقت دکان کھلے تھے ،تاہم دس بجنے سے قبل ہی یہاں بھی دکانات کے شٹر نیچے آئے ۔ایک دکاندار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے اُنہیں بند کرنے کےلئے کہا ۔اس دوران پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معمولات زندگی میں رخنہ ڈالنے کےلئے خوف کا ماحول قائم کیا جارہا ہے جسکی ہر گز اجازت نہیں دی جائیگی ۔
ان کاتھا کہ خوف کا ماحول قائم کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائیگی ۔ادھر شہر میں نجی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی جاری رہی ،تاہم بعد دوپہر اس میں بھی کمی دیکھنے کو ملی ۔اس دوران جنوبی کشمیر کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اننت ناگ اور کولگام میں دن بھر کاروباری و دیگر سرگرمیاں جاری رہیں ۔نامہ نگار کے مطابق شوپیان اور پلوامہ میں محدود کاروباری سرگرمیاں دیکھنے کو ملی ۔شمالی کشمیر کے نامہ نگار نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے تینوں اضلاع کپوارہ ،بارہمولہ اور بانڈی پورہ میں معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں ۔شمال وجنوب نامہ نگاروں کے مطابق نجی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں بھی جمعرات کو معمول کے مطابق جاری رہیں ۔بڈگام اور گاندر بل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہاں بھی کہیں جزوی تو کہیں مکمل طور کاروباری ودیگر سرگرمیاں جا ری رہیں ۔کشمیر چیمبر اینڈ کامرس کا کہنا ہے کہ کشمیر کی معیشت پر غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں منفی اثرارت مرتب ہورہے ہیں ۔
مذکورہ ادارے کے نمائندے کے مطابق کشمیر کو روزانہ بند کی وجہ سے125کروڑ روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اب تک کشمیر کو 13ہزار625کروڑ روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔دریں اثناءکشمیر میں 109ویں روز بھی انٹر نیٹ کی بند ش ،ایس ایس یم پر پابندی اور پری ۔پیڈ موبائیل فون سروس منقطع رہنے کی روایت برقرار رہی ۔ادھر 3سابق وزرائے اعلیٰ سمیت50سے زیادہ مین اسٹریم لیڈران نظر بند ہیں ۔واضح رہے کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے بدھ کو ایوان بالا (راجیہ سبھا ) میں کشمیر کی صورتحال پر بحث کے دوران کہا تھا کہ کشمیر میں حالات مکمل طور نار مل ہیں ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
