تازہ ترین
منسوخی خصوصی پوزیشن کا 109 واں دن ،معمولاتِ زندگی کی رفتار تھم گئی
خبراردو:
نومبر 21:
جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے اور ریاست کو2حصوں میں منقسم کرکے’دویونین ٹریٹریز ‘قرار دئے جانے کے فیصلے کے بعد وادی کشمیر میں پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال نے جمعرات کو اُس وقت اچانک کروٹ بدلی ،جب شہر سرینگرکے سبھی بازاروں میں تذبذب کیساتھ خاموشی چھا گئی ۔دفعہ370کی تنسیخ کے109ویں روز ،21نومبر کو شہر سرینگر کے سبھی بازاروں میں محدود کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں ۔تجارتی مرکز لالچوک کے کم و بیش سبھی بازاروں میں جمعرات کو ہر طرح کے دکان بندرہے ۔سرینگر کے نامہ نگارکے مطابق جمعرات کو شہر خاص کیساتھ ساتھ سیول لائنز بشمول لالچوک میں حسب معمول محدود کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے ہی والی تھیں کہ اچانک دکانات کے شٹر نیچے گرنے شروع ہوگئے ۔ مختلف علاقوں سے جب دکاندار صبح8بجے کے قریب محدود کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کےلئے لالچوک پہنچنے ،تو یہاں انہوں نے عجب صورتحال پائی ۔بیشتر دکاندار وں نے حسب ِ سابقہ صبح 8بجے دکان کھولے ،تو 9بجنے سے قبل ہی تجارتی مرکز لالچوک میں افراتفری اور سراسیمگی کا ماحول قائم ہوا ،جسکے ساتھ ہی دکانات کے شٹر نیچے گرنے شروع ہوگئے ۔
ساڑھے 9بجے تک لالچوک اور اسکے گرد ونواح بازاروں میں آناً فاناً بند ہوگیا اور تاخیر سے پہنچنے والے دکاندار اچانک بدلی صورتحال کو دیکھ کرششدر ہوکر رہ گئے ۔لالچوک کے سبھی مرکزی بازاروں کے دکاندار وں اور تاجروں نے چمہ گوئیوں کے ماحول میں گھروں کی طرف واپسی کی راہ اختیار کی ۔تاہم سیول لائنز کے چند ایک بازاروں میں اکا دکا دکان آدھی شٹر اوپر کیساتھ کھلے رہے ،لیکن دوپہر سے قبل ہی یہ دکان بھی بند ہوگئے ۔بعض دکانداروں نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُنہیں آج بند کرنے کےلئے کہا گیا ،تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ بند کرنے کےلئے کس نے کہا ۔ایک دکاندار نے بتایا ’ کشمیر میں کب کیا ہوگا ؟اللہ ہی رحم کرنے والا ہے‘ ۔افراتفری اور سرا سیمگی و چمہ گوئیوں کے ماحول میں جمعرات کو لالچوک کے علاوہ سیول لائنز کے دیگر علاقوں میں بازار بند رہے ۔جمعرات کو شہر سرینگر میں مجموعی طور پر محدود کاروباری سرگرمیاں مکمل طور دن بھر کےلئے ٹھپ رہیں ۔بعض بازاروں میں دکانات کے شٹر اوپر اور نیچے کرنے کا عمل دوپہر تک جاری رہا ۔یاد رہے کہ 6نومبر کو موسم کی پہلی برفباری کے بعد واد ی میںآہستہ آہستہ معمولات زندگی بحالی کی طرف گامزن ہونے لگے تھے ۔صبح8سے لیکردوپہر2بجے یا اڑھائی بجے تک محدود کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی تھیں جسکے نتیجے میں بازاروں میں غیر معمولی چہل پہل اور رونق نظر آرہی تھی جبکہ پبلک اور نجی ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی سے جگہ جگہ ٹریفک جام بھی دیکھنے کو ملتے تھے ۔تاہم جمعرات کو معمولات ِ زندگی کی تیز گام ہونے والی رفتار تھم گئی جبکہ دیگر سرگرمیوں کی نبض بھی رُخ گئی ۔نامہ نگار کے مطابق شہر خاص کے انتہائی مصروف ترین بازار ’گاڑھ کوچہ زینہ کدل ‘میں بدھ کی شام ساڑھے 7بجے کے قریب آگ کی ایک واردات میں 3دکان خاکستر ہوئے ۔پولیس نے اس واقعہ کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ۔
اس واقعہ کو لیکر بھی شہر خاص میں طرح طرح کی چمہ گوئیاں کی جارہی ہیں ۔ نامہ نگار کے مطابق شہر خاص میں بھی جمعرات کو سیول لائنز کی طرح کی صورتحال نظر آئی ۔ ادھر سیول لائنز کے مگرمل باغ میں سی آر پی ایف کی گاڑی پر پتھراﺅ کیا گیا جس دوران فورسز کی بھاری جمعیت نے پتھراﺅ کرنے والے نوجوانوں کا تعاقب کیا ۔ اس تعاقب کے دوران سی آر پی ایف نے ایک کمسن لڑکے کو اپنے ساتھ لیا ۔ اس دوران یہاں کچھ دیر کیلئے افرا تفری کا ماحول بھی پیدا ہوا ۔ ادھر شہرخاص میں بدھ کو اچانک بند ہوا تھا اور جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی یہاں بند کے نتیجے میں معمولات ِ زندگی بحال نہ ہوسکے ۔ جامع مسجد مار کیٹ اورقدیم بازار مہاراج گنج کے ساتھ ساتھ شہر خاص میں جمعرات کو سبھی بازار بند رہے ۔بند کے نتیجے میں پورے شہر میں جمعرات کو محدود کاروباری و دیگر سر گرمیاں ٹھپ رہیں ۔شہر خاص کے بعض بازاروں میں صبح کے وقت دکان کھلے تھے ،تاہم دس بجنے سے قبل ہی یہاں بھی دکانات کے شٹر نیچے آئے ۔ایک دکاندار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے اُنہیں بند کرنے کےلئے کہا ۔اس دوران پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معمولات زندگی میں رخنہ ڈالنے کےلئے خوف کا ماحول قائم کیا جارہا ہے جسکی ہر گز اجازت نہیں دی جائیگی ۔
ان کاتھا کہ خوف کا ماحول قائم کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائیگی ۔ادھر شہر میں نجی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی جاری رہی ،تاہم بعد دوپہر اس میں بھی کمی دیکھنے کو ملی ۔اس دوران جنوبی کشمیر کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اننت ناگ اور کولگام میں دن بھر کاروباری و دیگر سرگرمیاں جاری رہیں ۔نامہ نگار کے مطابق شوپیان اور پلوامہ میں محدود کاروباری سرگرمیاں دیکھنے کو ملی ۔شمالی کشمیر کے نامہ نگار نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے تینوں اضلاع کپوارہ ،بارہمولہ اور بانڈی پورہ میں معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں ۔شمال وجنوب نامہ نگاروں کے مطابق نجی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں بھی جمعرات کو معمول کے مطابق جاری رہیں ۔بڈگام اور گاندر بل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہاں بھی کہیں جزوی تو کہیں مکمل طور کاروباری ودیگر سرگرمیاں جا ری رہیں ۔کشمیر چیمبر اینڈ کامرس کا کہنا ہے کہ کشمیر کی معیشت پر غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں منفی اثرارت مرتب ہورہے ہیں ۔
مذکورہ ادارے کے نمائندے کے مطابق کشمیر کو روزانہ بند کی وجہ سے125کروڑ روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اب تک کشمیر کو 13ہزار625کروڑ روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔دریں اثناءکشمیر میں 109ویں روز بھی انٹر نیٹ کی بند ش ،ایس ایس یم پر پابندی اور پری ۔پیڈ موبائیل فون سروس منقطع رہنے کی روایت برقرار رہی ۔ادھر 3سابق وزرائے اعلیٰ سمیت50سے زیادہ مین اسٹریم لیڈران نظر بند ہیں ۔واضح رہے کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے بدھ کو ایوان بالا (راجیہ سبھا ) میں کشمیر کی صورتحال پر بحث کے دوران کہا تھا کہ کشمیر میں حالات مکمل طور نار مل ہیں ۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
