تازہ ترین
جموں کشمیر کا مسئلہ بجلی کب حل ہو گا؟
خبراردو ڈیسک :
۱۹ مئی ۲۰۱۸ کو تب کی ریاست اور آج کی یوٹی جموں کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں ۳۳۰ میگا واٹ کے کشن گنگا پاور پروجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا تھا ۔”جموں کشمیر میں اپنی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے علاوہ پورے ملک کو بجلی مہیا کرنے کی صلاحیت موجود ہے“ ۔
لیکن دوسری جانب سے صورتحال یہ ہے کہ کئی دہائیوں کے بعد بھی جموں کشمیر اتنی صلاحیت ہونے کے باوجود بھی یہ اپنی بجلی کی طلب پورا نہیں کر پا رہی اور خاص طور پر تو سرما کے مہینوں میں گاﺅں میں بجلی غل تو ہونا عام بات ہے ہی لیکن اب قصبوں میں بھی اسکی عادت لوگوں ہونے لگی ہے ۔
اور ہر روز کسی نہ کسی علاقے سے بجلی محکمے کے خلاف احتجاج اور شکایات کی خبریں باقاعدہ طور موصول ہو رہی ہیں ۔
رواں سال کی اگر بات کی جائے تو جنوری سے اکتوبر کے درمیان دونوں صوبوں میں ہر ماہ کئی فیصد کی بجلی میں کمی دیکھی گئی ۔
محکمہ بجلی کی جانب سے تیار کردہ اعدادو شمار کے مطابق جنوری کے مہینے میں جموں کشمیر میں 2840 میگا واٹ بجلی کی طلب کے مقابلے میں 2143 میگا واٹ بجلی میہا کی گئی ۔یعنی اس ماہ میں ۷۰۰ میگا واٹ بجلی کی کمی رہی ہے ۔جس میں سے جموں میں۱۸۰ میگا واٹ اور کشمیر میں ۵۱۷ میگا واٹ سپلائی کی کمی رہی ۔
اسی طرح سے فروری کے مہینے میں کشمیر میں ۱۶۵۰ میگا واٹ طلب کے مقابلے میں ۴۶۴ میگا واٹ کی کمی پائی گئی ۔ جموں میں ۱۰۳۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۱۸۲ میگا واٹ کی کمی دیکھی گئی ۔
مارچ میں وادی میں ۱۵۷۰میگا واٹ کے مقابلے میں ۱۲۵۱ میگا وا ٹ مہیا کی گئی ، جموں میں ۹۶۰ کی طلب کے مقابلے میں۷۹۱ میگا واٹ ہی مہیا کی گئی ۔
اپریل میں وادی کو ۱۴۰۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۱۳۳۰ میگا واٹ کی بجلی میہا کی گئی ۔ جموں میں ۹۴۰ کے مقابلے میں ۷۶۳ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔
مئی میں وادی کو بجلی کی ۱۴۱۰ میگا واٹ کی مانگ کے مقابلے میں ۱۱۴۲ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔جموں میں ۱۱۱۰ کی مانگ کے مقابلے میں ۸۷۷ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔
جون کے مہینے میں ۱۳۶۰ کی مانگ کے مقابلے میں وادی کو ۱۱۱۴ میگا واٹ بجلی دی گئی ، جموں میں اسی دوران ۱۲۶۰ کی طلب کے مقابلے میں ۹۵۱ میگا واٹ بجلی دی گئی ۔
جولائی کے مہینے میں ۱۳۵۰ میگا واٹ مانگ کے مقابلے میں ۱۱۰۷ میگا واٹ بجلی وادی کی عوام کو دی گئی ۔اسی طرح سے جموں میں ۱۰۵۰ میگا واٹ کی مانگ کے مقابلے میں ۷۹۱ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔
اگست میں کشمیر کو ۱۳۲۰ میگا واٹ کی مانگ کے مقابلے میں ۱۰۵۴ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔جبکہ جموں کو ۸۲۰ کے مقابلے میں ۶۶۶ میگاواٹ بجلی فراہم کی گئی ۔
ستمبر میں کشمیر کو ۱۲۳۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۹۴۴ میگا واٹ بجلی فراہم کی گئی جبکہ جموں کو ۱۰۲۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۸۲۰ میگا واٹ
بجلی مہیا کی گئی ۔
اکتوبر میں کشمیر کو ۱۵۵۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۱۱۴۲ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔ اسی طرح سے جموں کو ۸۸۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۷۰۷ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔ اگر اوسطا ََ دیکھا جائے تو کشمیر کو ۲۵ سے ۳۰ فیصد اور جموں کو ۱۵ سے ۲۰ فیصد بجلی کی کمی رہتی ہے ۔
رواں سال جون میں مرکزی محکمہ بجلی کی جانب سے مرتب کردہ اعداوشمار میں یہ پایا گیا کہ ملک کے دیہی علاقوں میں ہر دن اوسطاََ سب سے کم بجلی جموں کشمیر کو ہی ملتی ہے ۔ اعدادو شما ر کے مطابق اپریل ۲۰۱۹ میں جموں کشمیر کو سب سے کم ۱۴ گھنٹوں سے زائد پاور سپلائی فراہم کی گئی ۔
دوسری طرف مرکز کی جانب سے تمام ریاستوں اور یو ٹیز کو یکم اپریل ۲۰۱۹ تک ۲۴ گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ تھا لیکن یہ پورا نہیں ہو پایا ۔
جموں کشمیر میں بجلی کی کمی کیوں؟
جموں کشمیر میں ہائیڈرو پاور کی صلاحیت ہونے کے باوجود بھی یوٹی کو دوسری ریاستوں اور مختلف کمپنیوں سے بجلی خریدنا پڑتی ہے ۔جموں کشمیر میں اگر چہ ۲۰ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن ابھی تک اس میں صرف ۱۰ فیصد کے قریب ہی پیدا کی گئی ہے ۔
جموں کشمیر میں بہتے دریاووں سے اب تک ۳۲۱۰ میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے ۔ اور اسے ۲۸۰۰میگا واٹ کے قریب بجلی ہی درکار ہے ۔ یعنی جموں کشمیر کی عوام اگرچہ ۲۴ گھنٹے بجلی کا فائدہ اٹھا سکتی تھی لیکن اس میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ جموں کشمیر حکومت کے پاس اس میں جے اینڈ کے پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تحت چلائے جانےو الے ۲۱ پاور پروجیکٹ موجود ہیں ، جن سے ۱۲۱۱میگا واٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔
جبکہ باقی ۲۰۱۰ میگاواٹ بجلی نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن کے پاس ہے اور اس میں صرف ۱۳ فیصد بجلی ہی یو ٹی کو دی جاتی ہے ۔ جبکہ کم پڑ رہی بجلی سرکار کو شمالی گرڈ سے خریدنا پڑتی ہے ۔ اس شمالی گرڈ میں این ایچ پی سی کے پاس ۷ پروجیکٹوں کی بجلی ہرییانہ ،پنجاب ، دلی ، ہماچل پردیش کو بھی دی جا تی ہے ۔
این ایچ پی سی کے پاس ان ۷ پروجیکٹوں کی واپسی کے لئے ماضی میں تمام سیاسی پارٹیوں کی مانگ رہی ہے ۔
۲۰۱۵ میں جموں کشمیر میں وجود میں آئی بھاجپا اور پی ڈی پی سرکار کے ”ایجنڈا آف الائنس “ میں دُل ہستی (۳۹۰ میگا واٹ ) اور اوڑی ٹو(۲۹۰ میگا واٹ) کے پاور پروجیکٹوں کو ریاست کے حوالے کرنا بھی شامل تھا ، لیکن سرکار کے ٹوٹنے تک اس پر کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں آٰیا ۔
۲۰۱۷ میں جموں کشمیر میں جہاں بجلی کی مانگ ۲۱۰۰ میگا واٹ تھی وہیں یہ آج ۲۸۰۰ میگا واٹ تک پہنچ گئی ہے اور اگلے دو سالوں میں یہ مانگ ۴ ہزار میگا واٹ تک پہنچنے کا امکان ہے ۔
دوسری جانب سے این ایچ پی سی اور جے کے پی ڈی سی کے مابین مشترکہ معاہدے کے تحت ۶ ہزار سے زائد میگا واٹ کے ۱۵ نئے پاور پروجیکٹوں پر کام ہو رہا ہے جو کہ ۸ سے ۱۰ سال میں مکمل ہونگے ۔ ان میں سے معاہدے کے تحت جموں کشمیر کو ۴۹ فیصد بجلی مل پائے گی ۔
جموں کشمیر حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ۲۰۱۴ ، ۲۰۱۵ اور ۲۰۱۶ میں 40027 ملین یونٹ بجلی صارفین کو مہیا کی گئی تھی، جس میں سے حکومت کوتب 31,409 ملین یونٹ یعنی کل ۷۲ فیصد باہر سے خریدنا پڑی تھی ۔
حکومت کے ۲۰۱۶ اکنامک سروے کے مطابق ۲۰۱۱ سے ۲۰۱۵ تک حکومت نے باہر سے ۲۰ ہزار کروڑ کی بجلی خریدی تھی ۔
اب جب کہ مرکز کی جانب سے خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے بعد یوٹی کو ترقی کی منزلوں پر لانے کا وعدہ کیا گیا ہے ،لیکن سب سے پہلے کئی دہائیوں سے چلے آرہے اس بجلی کے مسلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا نا چاہیے۔ٓ
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
