تازہ ترین
سال 2019ء میں کھیلوں کے میدان میں کھڑے ہونے والے بڑے تنازعات
خبراردو:
سال 2019ء اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی کھیلوں کی دنیا میں متعدد مقابلوں کا انعقاد ہوا۔ ان مقابلوں میں کوئی جیتا تو کوئی ہارا، کوئی رویا اور کوئی ہنسا۔
لیکن کھیل کے میدان میں ہار جیت کے بعد جس معاملے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، اسے تنازعات کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہ ایسی خطرناک بلا کا نام ہے، جو بڑے بڑے ناموں کو زیرو کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ نتائج کو بدلنے کے حوالے سے بھی خوب شہرت رکھتی ہے۔
اس سال بھی یہ تنازعات کھیلوں کے شائقین اور منتظمین کے لیے دردِ سر بنے رہے۔ سال کے ان اختتامی دنوں میں ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے رواں سال ہونے والے چند اہم تنازعات کا جائزہ پیش کررہے ہیں۔
کرکٹ کے عالمی کپ کا متنازع ترین فائنل
اس سال انگلینڈ میں مئی کے اواخر سے جولائی کے وسط تک ایک روزہ کرکٹ کا عالمی کپ منعقد ہوا۔ اس عالمی کپ میں جہاں متعدد دلچسپ اور سنسنی خیز میچ دیکھنے کو ملے وہیں بہت سے اہم مقابلے بارش سے متاثر ہوئے۔
عالمی کپ میں پہلا تنازع اس وقت پیدا ہوا جب بہت سے ناقدین نے ٹورنامنٹ کے تمام میچوں کے لیے اضافی دن نہ رکھنے پر اعتراض اٹھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ خراب امپائرنگ نے بھی بہت زیادہ دکھ پہنچایا۔
اس عالمی کپ کا فائنل لارڈز کے تاریخی میدان پر انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا۔ یہ فائنل اس اعتبار سے بھی دلچسپ تھا کہ جو ٹیم بھی جیتے گی وہ پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کرے گی۔
اس میچ میں نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 241 رنز جوڑے۔ بظاہر آسان نظر آنے والے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کو ابتدائی طور پر مشکلات کا سامنا رہا۔ ایک موقع پر انگلینڈ کے 4 کھلاڑی صرف 86 رنز پر آؤٹ ہوگئے تھے، جس کے بعد بین اسٹوکس اور جوس بٹلز نے 110 رنز کی شراکت قائم کرکے اپنی ٹیم کی امید بڑھائی۔ آخری اوور میں انگلینڈ کو جیت کے لیے 15 رنز درکار تھے۔
نیوزی لینڈ کے کپتان نے یہ آخری اوور کرنے کی ذمہ داری ٹرینٹ بولٹ کو سونپی۔ اس اوور کی پہلی 2 گیندوں پر کوئی رن نہیں بنا۔ تیسری گیند کو بین اسٹوکس نے 6 رنز کے لیے باؤنڈری سے باہر پھینک کر میچ میں سنسنی پیدا کردی۔ چوتھی گیند پر بین اسٹوکس نے ایک زوردار شاٹ کھیلا اور 2 رنز حاصل کیے۔
بس یہی وہ لمحہ ہے، جس نے دنیا بھر کی نظریں اپنی جانب متوجہ کرلیں اور ایک بھرپور تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ ہوا کچھ یوں کہ جس وقت انہوں نے دوسرا رن مکمل کرنے کے لیے اپنی کریز میں ڈائیو لگائی ٹھیک اس وقت فیلڈر کی جانب سے پھینکی گئی گیند آکر ان کے بلے سے ٹکرائی اور پلک جھپکنے میں باؤنڈری سے باہر چلی گئی۔ یوں جس گیند پر صرف 2 رنز بننے تھے اس پر انگلینڈ کو 6 رنز مل گئے، اور اب بقیہ 2 گیندوں پر انگلینڈ کو جیت کے لیے 3 رنز درکار تھے لیکن وہ صرف 2 رنز ہی بناسکے اور میچ ٹائی ہوگیا۔
ٹورنامنٹ کے قانون کے مطابق فائنل کو فیصلہ کن بنانے کے لیے سپر اوور کھیلا گیا، مگر حیران کن طور پر سپر اوور بھی ٹائی ہوگیا۔ عام کرکٹ شائقین کو تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اب ہوگا کیا؟ لیکن اس صورتحال سے نکلنے کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا قانون موجود تھا، اور اسی عجیب و غریب قانون کی بنیاد پر انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔
قانون کچھ یہ تھا کہ جس ٹیم نے بھی ٹائی ہونے کی صورت میں میچ میں زیادہ باؤنڈریز اسکور کی ہوں گی، وہی ٹیم فاتح تصور ہوگی۔
پھر میچ ختم ہونے کے محض چند گھنٹے بعد ہی آئی سی سی کے ایلیٹ پینل سے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے امپائر سائمن ٹوفل نے اس وقت صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا جب انہوں نے کرکٹ کے قوانین کی تشریح کرتے ہوئے یہ بات ثابت کردی کہ 50ویں اوور کی چوتھی گیند پر انگلیند کو اصل میں 5 رنز ملنے چاہیے تھے اور 6 رنز دے کر امپائر نے علطی کی۔
فائنل میچ کے اختتامی لمحات میں ہونے والے ان 2 واقعات نے انگلینڈ کی جیت کو متنازع بنادیا۔ یہ واقعات کرکٹ کا انتظام چلانے والے ادارے آئی سی سی کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ اہم مقابلوں میں ایسے امپائر نامزد کریں جو قوانین کو صحیح طریقے سے سمجھتے ہوں۔
عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی جانب سے روس پر پابندی
سال کا یہ آخری مہینہ روس کے لیے کوئی اچھا پیغام لے کر نہیں آیا۔ سوئٹزرلینڈ میں 9 دسمبر کو عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) کے ایک اہم اجلاس میں روس پر 4 سال کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ یقینی طور پر روس کے لیے بڑا دھچکا ہے کیونکہ انہی 4 سالوں کے دوران یعنی اگلے سال ٹوکیو اولمپکس اور 2022ء میں قطر میں فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد ہونا ہے، اور اس پابندی کی وجہ سے روس ان میں شرکت نہیں کرسکے گا۔
اس فیصلے کا مطلب یہ بھی ہے کہ روس اگلے 4 سال تک کسی بھی بین الاقوامی مقابلے کی میزبانی بھی نہیں کرسکے گا۔
اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ روس کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ممنوعہ ادویات کی روک تھام کے لیے عالمی ادارے سے تعاون نہیں کر رہی۔
روس کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی پر عالمی ادارے کے احکامات نہ ماننے کا الزام عائد کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ روسی ادارے نے جنوری 2019ء میں عالمی ایجنسی کو جو ڈیٹا فراہم کیا تھا اس میں جان بوجھ کر تبدیلی کی گئی تھی۔
ماضی میں عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے ممنوعہ ادویات لینے کے الزام میں متعدد کھلاڑیوں پر تو پابندی عائد کی ہے، لیکن کسی ملک پر اس طرح کی پابندی کبھی نہیں لگائی گئی، اور اس اعتبار سے پابندی کا شکار ہونے والا روس پہلا ملک بن گیا ہے۔
وی اے آر ٹیکنالوجی سے متعلق تنازع
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عالمی کپ اور تنازعات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر عالمی کپ میں ریفری کی غلطی سے ہونے والا تنازع اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ٹورنامنٹ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکا ہوتا ہے اور ایک غلطی کسی بھی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کرسکتی ہے۔
رواں سال فرانس میں خواتین کا عالمی فٹبال ورلڈ کپ کھیلا گیا۔ اس عالمی مقابلے میں انگلینڈ اور امریکا کے درمیان کھیلا جانے والا پہلا سیمی فائنل تنازعات کا شکار رہا۔
اس میچ میں امریکا نے 10ویں منٹ میں گول کرکے برتری حاصل کی، جسے 19ویں منٹ میں انگلینڈ نے برابر کردیا۔ کھیل کے 41ویں منٹ میں امریکا نے ایک اور گول کرکے اپنی برتری کو دوبارہ حاصل کرلیا۔
امریکا کی برتری کو ختم کرنے کے لیے انگلینڈ نے سر توڑ کوشش کی اور اسے اس محنت کا نتیجہ ٹھیک 26 منٹ بعد 67ویں منٹ میں اس وقت ملا جب انگلیند کی کھلاڑی ایلن وائٹ نے گیند کو جال میں پھینک دیا۔
اب بظاہر مقابلہ برابر ہوگیا تھا لیکن امریکا کے کھلاڑیوں نے وی اے آر (ویڈیو اسسٹنس ریفری) کے استعمال کی اپیل کی اور وی اے آر سے ثابت ہوا کہ انگلینڈ کی کھلاڑی کے پاؤں کا صرف انگوٹھا ہی آف سائیڈ پوزیشن میں تھا اور یوں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصلہ واپس لینا پڑگیا۔ لیکن یہ فیصلہ کسی بھی طور پر انگلینڈ کی کھلاڑیوں، آفیشلز اور کمنٹیٹرز کو ایک آنکھ نہ بھایا اور ان کے حمایتیوں نے بھی کھیل کے دوران اور میچ کے بعد اس فیصلے پر اپنی ناپسندیدگی کا کھل کر اظہار کیا۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ فٹبال کو تنازعات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہی وی اے آر ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا گیا تھا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بڑھتی ٹیکنالوجی جس کسی کے بھی خلاف فیصلہ دے، وہ ناخوش ہی رہتا ہے، بلکہ اس کو ایک تنازع کی شکل دینا شروع کردیتا ہے۔
اب اس میچ میں مزے کی بات تو اس وقت ہوئی جب 80ویں منٹ میں اسی وی اے آر ٹیکنالوجی کے استعمال سے انگلینڈ کو پنالٹی کک ملی۔ اب تو لگ رہا تھا کہ انگلینڈ کی ساری شکایتیں دُور ہونے والی ہیں، مگر حیران کن طور پر انگلینڈ کی ٹیم میچ برابر کرنے کے اس سنہری موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکی اور یوں امریکا نے یہ میچ جیت کر فائنل میں جگہ بنا لی۔
ویسے مجھے یقین ہے کہ اگر انگلینڈ کی ٹیم اس پنالٹی کک سے فائدہ اٹھا لیتی تو وی اے آر سے متعلق اس کی شکایت بہت حد تک کم ہوجاتی۔
لباس کی وجہ سے کھڑا ہونے والا تنازع
رواں سال آسٹریلوی ٹینس کھلاڑی نک کِرگیوس کو یو ایس اوپن کے دوران اس وقت ایک تنازع کا سامنا کرنا پڑا جب اس ٹورنامنٹ کے دوسرے راؤنڈ کے دوران ان کی جرسی کے کالر پر لکھے ہوئے الفاظ کی وجہ سے میچ ریفری نے انہیں کالر نیچے کرنے کا حکم دیا۔
نک کِرگیوس نے ریفری کے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور سپروائزر کو ٹینس کے قوانین کی کتاب لانے کو کہا۔ نک کِرگیوس کو امپائر کے ساتھ اس بحث و مباحثے کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کو ٹورنامنٹ کے اگلے راؤنڈ کے میچوں کے لیے اپنے کالر پر لکھے الفاظ چھپانے کی ممانعت سے آزادی مل گئی۔
جرسی کے کالر پر لکھے ہوئے الفاظ کی وجہ سے میچ ریفری نے نک کِرگیوس کو کالر نیچے کرنے کا حکم دیا—اے ایف پی|ٹوئٹر
نک کِرگیوس کو جو کوئی بھی جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ وہ گرم مزاج کے کھلاڑی ہیں۔
ان کا وہ واقعہ بہت مشہور ہے جب انہوں نے ٹینس کی عالمی تنظیم ATP کو اس وقت نہایت کرپٹ قرار دیا جب ایک صحافی نے میچ ریفری سے بدتمیزی کرنے پر 1 لاکھ 67 ہزار امریکی ڈالرز کے جرمانے سے متعلق ان سے سوال پوچھا تھا۔
تاریخ میں شاید ہی ایسا کوئی سال گزرا ہو جس میں مختلف کھیلوں کے میدان تنازعات سے آزاد رہے ہوں۔
یہ درست ہے کہ کھلاڑی اپنے مداحوں کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں لیکن یہ کھلاڑی بھی جذبات رکھتے ہیں۔ جیت کے لیے سالہا سال تیاری کرتے ہیں لیکن بعض اوقات جب یہ اپنی محنت کو ضائع ہوتے دیکھتے ہیں تو جذبات میں آکر کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتے ہیں جو ان کے لیے اور ان کے ملک کے لیے بدنامی کا باعث بنتی ہے۔
ویسے تو کھیل کے میدان میں اور بھی کئی ایسے تنازعات ہوئے ہوں گے جن کا یہاں ذکر کرنا رہ گیا، مگر چونکہ یہ عالمی سطح کا معاملہ تھا، اس لیے سوچا کہ قارئین کے ساتھ اس کو شئیر کیا جائے۔بشکریہ ڈان
جموں و کشمیر
لداخ میں زلزلے کے دو مسلسل ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، کشمیر تک لرزش محسوس ہوئی
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں جمعرات کی صبح چار گھنٹے کے اندر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت بالترتیب 5.5 اور 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا صبح 6 بج کر 5 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز لیہہ-لداخ کے علاقے میں 36.881 ڈگری شمالی عرض البلد اور 74.402 ڈگری مشرقی طول البلد پر زمین کی سطح سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔
اس کے تقریباً چار گھنٹے بعد، صبح 9 بج کر 54 منٹ پر دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
ان دونوں زلزلوں کے جھٹکے کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ فی الحال اس واقعے میں کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا نے پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 265 ہو گئی ہے، جب کہ کم از کم 3,494 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 496 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں اور سفارتی مشنز پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 07:34 بجے چوکو صوبے کے شہر سان ہوزے ڈیل پلمار کے قریب 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا یہ زلزلہ، گزشتہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ بن گیا ہے۔
ایمرجنسی ٹیموں نے پریرا اور کالی جیسے بڑے شہروں میں بھاری مشینری، کھوجی کتوں اور انسانی زنجیروں کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔”
نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یو این جی آر ڈی) کی جانب سے جاری کردہ نقصانات کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں 9,215 مکانات تباہ اور 45,457 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر آفت (ڈیزاسٹر) کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یو این جی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے سخت آپریشنل معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت چار شراکت دار ممالک: امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے آنے والی تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو ترجیح دے گی۔
زلزلے کے اثرات مرکزِ زلزلہ کے قریب دیہی علاقوں میں انتہائی شدید تھے۔
مقامی ایمرجنسی یونٹس نے ویلے ڈیل کاؤکا کے شہر ال کائرو میں رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے شہری انفراسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور مقامی عمارتوں کا تقریباً 10 فیصد حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
