تازہ ترین
انسانیت موت کی دہلیز پر- الطاف جمیل ندوی
(گھر میں رہے باہر شیطان کی آنت گوم رہی ہے احتیاط کرنا بھی سنت نبوی علیہ السلام ہے)
آج ہر طرف شور غل مچا ہے نامی گرامی ملکوں جیسے اٹلی چین وغیرہ کے برسر اقتدار افراد کی چیخیں بلند ہورہی ہیں انسانوں میں اس وبا نے وہ دہشت پیدا کی ہے کہ ہر کوئی دہشت زدہ سا ہے مرنے والوں کو اپنے عزیز و اقارب چھو نہیں سکتے ان کی آخری رسومات کچھ اس انداز سے کی جاتی ہیں کہ رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جن میں اس کے جراثیم پائے جاتے ہیں وہ نہ اپنوں سے مل سکتے ہیں نہ ہی ان سے ملنے کی اپنے عزیز و اقارب ہمت رکھتے ہیں یہ مصیبت چین سے شروع ہوئی اور پوری دنیا میں دہشت مچا دی اس کے علاج کے لئے کوشاں ہیں ارباب اقتدار و سائنس داں ہر روز لاشیں اٹھ رہی ہیں کچھ ممالک میں اس وبا نے انتہائی دہشت مچائی ہوئی ہے تو کہیں کہیں پر اب تک اس کے اثرات کم ہیں ائے مل کر اس وبا کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لیں مگر اپنی من مانی سے ہر گز بھی نہیں کیونکہ اس سے بجائے فائدہ کے انتہائی زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے خیال رہے کہ کروناوائرس ایسے وائرس کو کہا جاتا ہے جو انسانوں اور جانورون میں ایک دوسرے سے منتقل ہوتا ہے
اس کی تاریخ بہت پرانی ہے
سب سے پہلے اس وائرس کی دریافت 1960 کی دہائی میں ہوئی تھی جو سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہوکر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو ہیومن (انسانی) کرونا وائرس E229 اور OC43 کا نام دیا گیا تھا، اس کے بعد اس وائرس کی اور دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔
نیا کرونا وائرس جو چین سے پھیلا ہے اسے COVID 19 نام دیا گیا ہے
اس لیے پرانی کسی کتاب یا کسی پروڈکت میں کروناوائرس کا لفظ دیکھ کر پریشان نہ ہون کہ ان کو پہلے ہی سے کیسے معلوم ہوگیا تھا
آئے میرے پیارو دنیا کے مکینو
رب الکریم اپنے بندوں سے کہتا ہے
“اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے تا کہ وہ ہماری طرف لوٹ آئیں” (السجدہ21- )
کرؤنا وائرس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہوسکتی ہے جس میں رجوع الی اللہ اہم ہے آو پلٹ کر رب تمہیں مغفرت رحمت فلاح کی اور پکارتا ہے چلے آؤ اہل
ایمان جان لیں کہ یہ کوئی جاہل گنوار علم سے عاری کوئی طبقہ نہیں ہے بلکہ یہ علم و صاحب علموں کی وہ وارث قوم ہے جو ہر زمانہ میں اپنے نظریہ و ضابطہ حیات کے سبب دنیا میں ممتاز و فائق ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ دور حاضر میں اس ملت نے اپنے ماضی سے منہ پھیر کر نئی راہوں کی تلاش میں مصائب و مشکلات کے سوا کچھ بھی نہ حاصل کیا
حفظان صحت
حفظان صحت کے اصولوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات موجود ہیں کہ جو بیماریاں اس زمانے میں ہوئیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا علاج کیسے کیا اور کرنے کی تعلیم کیا کیا دیں
اس وقت جو وبا پھیل رہی ہے اس بارے میں ہمارے ہاں تذبذب ہے دو حلقوں میں
بہتر ہے سنت نبوی علیہ السلام سے اس بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حفظان صحت کے وضع کئے گئے اصول و ضوابط پر بھی عمل کیا جائے یہ کوئی انہونی نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ایسی وبائیں آئیں ہیں اس لئے گھبراہٹ یا خوف کو خود پر ہرگز بھی مسلط نہ ہونے دیں بلکہ خود کو مضبوط اعصاب کے ساتھ رکھ کر حفظان صحت کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرکے خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں یاد رکھیں کرؤنا وائرس آپ میں تب تک منتقل نہیں ہوسکتا جب تک آپ احتیاط برتیں گئے
ایک طرف کور دماغ جدید طبقہ دوسری طرف نیم ملا دونوں آپس میں دست و گریباں ایک کی ضد کہ اللہ تعالی جو چاہئے وہ کرے ہم کچھ نہیں کرسکتے یہ میڈیکل سائنس و ٹیکنالوجی بکواس کے سوا کچھ نہیں ہے ہم اس کو نہیں مانتے یہ شریعت کا حکم نہیں ہے ہر بات کا حل شریعت مطہرہ میں ہی ہے
دوسرے صاحب کی ضد کہ مولوی نے دین و ایمان کے نام پر ہمیں برباد کردیا یہ ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسے سائنس و ٹیکنالوجی کی خبر نہیں ایک کی لاٹھی مولا کی تو دوسرے کی لاٹھی سائنس و ٹیکنالوجی کی
پر اگر صحیح سے دیکھا جائے تو دونوں صاحبان کسی وائرس سے کم نہیں دونوں طرف جہالت لاعلمی حقائق سے فرار اور انانیت
تو آئے ہم نہ اس کی نہ اس کی سنتے ہیں بیچ کی راہ کو اختیار کرکے اپنے آج کو اپنے کل کے لئے سنہرا بنانے کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں
ضد نہ کریں حقائق مانیں
مولانا کا لاحقہ نام کے ساتھ جوڑ کر بچکانہ حرکات کرنے یاد رکھیں کہ علم کی بدولت اللہ اچھائی چاہتا ہے نہ کہ فتنہ و فساد یہ رب کی مرضی نہیں ہے فساد فی آلارض سب سے قبیح فعل ہے اس لئے کچھ گزارشات ہیں ان حضرات کی خدمت میں
مولانا سوچے اللہ تعالی نے جو قرآن کریم میں لفظ حکمت کا استعمال کیا ہے وہ صرف عبادات کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ سے جڑا ہے کھانا کوئی سا بھی کھایا جاسکتا ہے پر حکمت یہ ہے کہ وہ صاف ہو پاکیزہ ہو صحت کے لئے فائدہ مند ہو بیل تو کھایا جاسکتا ہے پر وہ ہرگز نہیں جو گر کر یا کسی بیماری کے سبب مر گیا ہو بیماری میں شفاء رب دیتا ہے پر کچھ بیماریوں کے لئے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم نے شہد کو تجویز کیا ہے سیف اللہ خالد بن ولید کو خبر ہے کہ میں میدان جنگ میں کمزور نہیں ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی ہے پر احتیاط انہوں نے بھی کی بارش یا سردی میں کوئی مرے گا نہیں پر احتیاط یہی ہے کہ نماز گھروں میں ہی پڑھئی جائے نماز کے لئے وضو بہتر ہے پر جب جان کا خطرہ ہو تو افضل تیمم ہے اب کوئی ضد کرے تو کیاکیا جائےجائے
توکل و تدبر
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہُوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ
باری تعالیٰ کی ذات پر توکل و اعتماد اہلِ ایمان کا بیش بہا سرمایہ ہے،تقدیر و قسمت کا یقین عین ایمان ہے، کرنے والی ذات ربِ کائنات کی ہے جس کے حکم سے گردشِ لیل و نہار، آمدِ خزاں و بہار بلکہ دنیائے دنی کی ہر حرکت و قرار اسی کا نتیجہ ہے.
اللہ تعالیٰ ایسے ہی بندوں کو پیار کرتا ہے، (إن الله يحب المتوكلين)
لیکن تقدیر کی تکمیل تدبیر سے ہوتی ہے،
اپنے امور و معاملہ کو توکل و مقدر کی سپردگی سے قبل ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نبوی طرز و تعلیم ہے،ایک اعرابی شخص اپنی سواری بے لگام چھوڑ کر دربارِ رسالت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے باندھوں اور پھر اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرو
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کے وقت اپنے “معتمد” صحابی حضرت ابو بکر کو ساتھ لیا اور مناسب موقع پر مکہ سے کوچ کر گئے،درمیانِ سفر تین راتیں غارِ ثور میں اپنے مال و جان کے تحفظ میں کاٹیں،چونکہ مشرکین کے گماشتے وہاں پہنچ گئے تھے،
آپ کا چھپنا تدبیر اور بچ جانے کا اعتماد و یقین توکل و تقدیر کی بیِن دلیل تھی، جیسا کہ قرآن نے واضح کیا غزوہ خندق کے موقع پر ساڑھے تین میل لمبی اور گھوڑے کی عبوری صلاحیت سے زیادہ وسیع و عریض خندق و کھائی کھودنا تدبیر اور پھر دس ہزار کے مقابل سینہ سپر ہو جانا ذاتِ قدیر و حکیم پر بھروسہ کا ثبوت تھا،بدر و احد اور حنین و یرموک کا پیغام بھی غیر نہیں تھا
لیکن کچھ افراد شدید مغالطہ میں مبتلا ہیں اور احتیاطی تدابیر و وسائل کے اختیار کو تقدیر و توکل کے منافی سمجھتے ہیں،
یہ صرف کج فہمی اور ذہنی تعطل کا اثر ہے،
یہ ایک وہم اور مذہبی اپاہجوں کا ایسا دل خوش فلسفہ ہے، جس کا دینِ اسلام سے دور کا واسطہ نہیں.
مزید ہر مصیبت و آفت کو کفار و یہود کی گہری شازس اور حکومت کی غلط پالیسی قرار دینا ہمارے دماغ کے دیوالیہ ہونے کے مترادف ہے.
وقوعِ نقصان سے قبل اس کے تدارک کے لئے کھانسی و چھینک کے وقت رومال یا ٹیشو کا استعمال کرنا،بخار زدہ یا بیمار شخص سے ہاتھ ملانے سے احتراز کرنا،بار بار ہاتھ دھلنے کا بہتر طریقہ ہے ہمہ وقت باوضو رہنا،نصف ایمان (صفائی ستھرائی) کا مکمل دیکھ بھال کرنا مثبت نتائج برآمد کر سکتا ہے.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جذامی شخص سے ہاتھ سے بیعت نہیں کی بلکہ اسے دور سے واپس جانے کو کہا.
شرید بن سوید ثقفی رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللّٰہ کی بیعت کے لیے آیا تو اس میں ایک شخص کو کوڑھ کا مرض لاحق تھا۔ نبی کریم نے اسے پیغام بھجوایا کہ ہم نے تمھاری بیعت لے لی ہے، تم لوٹ جاؤ۔ (مسلم)
یہ خوش گمانی پال لینا کہ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ہوگا ورنہ ووہان میں جاکر بھی نہیں ہوگا
تو یہ اس نبوی تعلیمات کی صریح مخالفت ہے، جس میں آپ نے اپنے نواسہ حسین رضی اللہ عنہ سے کوڑھی (جذام) کو گہری نظر سے دیکھنے اور قریب سے بات کرنے تک سے منع فرمایا اور ایک نیزہ کا فاصلہ بتایا (مجمع الزوائد)
طاعون کے متاثرہ علاقہ سے نکلنے اور خارجیوں کو وہاں جانے سے منع فرمایا،یہ حسنِ تدبیر ہے جسے دنیا آج کورونا کے چلتے اپنا رہی ہے
حضرت سعد رضیاللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی علاقے میںطاعون کے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ اور اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اورتم اس میں ہو تو اس سے نہ نکلو
طاعون میں احتیاط یہ ہے کہ نزدیک پہنچ کر بھی فاروق اعظم رضی اللہ واپس چلے آتے ہیں امین امت رضی اللہ عنہ ابھی ٹھیک ہیں پر علاقہ طاعون زدہ ہے ہے چھوڑ کر جاسکتے تھے پر نہیں گئے احتیاط یہی ہے حکمت و دانائی یہی ہے اللہ تعالی ہدایت دیتا ہے پر ان اللہ لا یغیرو ما بقوم حتی یغیرو والی آیت بھی موجود ہے محترم علماء اللہ تعالی نہیں چاہتا کہ کسی کو مصائب میں مبتلا کرے یہ تو انسان ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں غور و فکر لازمی ہے کسی آیت یا کسی حدیث کے متن کو بنا سوچے سمجھے فتوی بازی کرنا سب سے بڑی خبیث حرکت ہے انسانیت کا بچاؤ سب سے بڑی نیکی ہے اسے ضائع نہ کریں لاعلمی کے سبب میدان جہاد میں جو کفار ہتھیار نہیں اٹھاتے تھے چاہئے وہ جوان ہی کیوں نہ ہوتے ان سے لڑائی نہ کرنے کا حکم ہے ایسا نہیں ہے کہ کفار کو ختم کرو اسلام یہ ہرگز نہیں چاہتا یہود کی ابلیسی حرکات کے سبب انہیں مدینہ سے نکالا جاتا ہے ورنہ انہیں قتل بھی کیا جاسکتا تھا نہیں کیا گیا یہی حکمت عملی ہے اسی کو رب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بتایا ہے تو ہم ضد کیوں کریں نہیں جی سائنس و ٹیکنالوجی اللہ کو پسند نہیں وہ تلوار اٹھانا ذرہ پہننا ہوشیاری سے وار کرنا کیا انہیں رب کا بھروسہ نہیں تھا مصائب اور مشکل کی اس گھڑی میں سب سے اہم یہی ہے کہ ہم اپنی ذم داری کا احساس کرین نتائیج بہتر آئیں گئے اس کی امید رکھیں
نیم حکیم جو سائنس و ٹیکنالوجی کا رونا رو رہے ہیں انتہائی ادب سے ان کی خدمت میں گذارش ہے کہ جتنی بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا جارہا ہے کرؤنا کے لئے تقریبا ہر بات پہلے سے سنن نبوی علیہ السلام میں موجود ہے مطلب اللہ تعالی یا رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسی تعلیمات دی ہیں جو ہماری صحت کے لئے اہم ہیں آپ ملا یا اسلام پر نہ برسیں یہ ہماری لاعلمی ہوسکتی ہے آپ گر چاہیں تو ان ملاؤں کی تربیت کر سکتے ہیں پیار محبت سے ضد کسی بات کی دوا نہیں ضد سے تباہی ہی آسکتی ہے
اس تباہی کا شکار ملا بھی ہوگا اور نیم حکیم بھی خدا را انسانیت کو بچائے یہ سب سے نمایاں کام ہے اسلامی تعلیمات کے لحاظ سے اپنی علمی صلاحیت کا ڈھنڈورا پیٹنے بجائے انسانیت کے کرب کو محسوس کیجئے یہی سب سے پیاری عبادت ہے اللہ تعالی کے لئے رب چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا ہاتھ کاٹنے کے ہاتھ تھامنے والے بن جائیں ہم بحیثیت مسلم اس کے زیادہ ذمہ دار ہیں اپنی فکر کے ساتھ ساتھ دوسروں کی فکر کرنا بھی سنت نبوی علیہ السلام ہی ہے اس سے منہ نہ پھیر لیں یہ سب سے بڑا احسان ہوگا انسانیت پر ہم سب کا
لاک ڈاؤن اور مسلمان
کووڈ 19 کی بنا پر بڑی بڑی حکمرانیاں تہ و بالا ہورہی تعلیمی اور دیگر اداروں میں تعطیل، کاروباری مارکیٹ کا تعطل اور پوری دنیا میں کرفیو جیسی صورتحال مار متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دینے والی ہے
تو غریب روزانہ مزدوری پہ کام کرنے والے مزدوروں کا کیا حال ہوگا؟ تصور کرنا محال ہے
ایک دن تو ٹھیک لوگ برداشت کرپائیں گے
لیکن اگر لاک ڈاؤن کی مدت بڑھ جائے تو پھر بےچارے غریب کی زندگی کا کیا بنےگا؟
اس سلسلے میں کسی قسم کی منصوبہ بندی نہ دارد
ایسے میں ملت اسلامیہ کو منجانب اللہ ایک غیر معمولی عظیم الشان موقع ہاتھ آئےگا کہ اسلام کی انسانی ہمدردی کا عملی مظاہرہ کربتائیں
ہمارے اپنے آس پاس کروڑوں ایسے افراد بستے ہیں جو نان شبینہ کےلئے بھی ترستے ہیں
روزانہ مزدوری پہ کام کرنے والے غریب غرباء اور ایسے معاشی پریشان حال لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے چہرے سے ان کی غربت ظاہر نہیں ہوتی اور وہ کتاب اللہ کی روشنی میں
تعرفھم بسیماھم لایسئلون الناس الحافا
کا عملی مظہر ہوتے ہیں
ایسے لوگوں کو ڈھونڈڈھونڈ کر اس مشکل میں سہارا دینے کی ضرورت ہے
عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ
ایک دن ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی، الغرض سب کو سلام کرو۔
حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب تم شوربہ بنائو تواس میں پانی زیادہ کردو ،پھر اپنے پڑوسیوں کے اہلخانہ کو دیکھو اوران کو اس میں سے کچھ پہنچادو۔(مسلم)
مساجد میں نماز
مساجد واجتماعات کے تعلق سے مفتیان کرام اور بڑے دارالافتاوں کو فوری طور پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ مصیبت کے وقت تو مسجد میں جانا چاہیے اور لوگ مساجد سے روک رہے ہیں، کچھ لوگ تو فمن أظلم ممن منع مساجد الله والی آیت اس تناظر میں پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ موجودہ صورت حال میں مساجد میں داخلے کو محدود کردینا حرام ہے۔ احتیاط اور اسباب کا اختیار توکل کے خلاف نہیں ہے واضح رہے کہ مساجد میں جانا تقرب الی اللہ کا اہم ذریعہ ہے، لیکن اگر اجتماعات ہی ہلاکت یا مرض کا سبب ہوں، تو اجتماعات کے بغیر ہی اللہ کا تقرب حاصل کرنا شریعت کا مقصد سمجھا جائے گا۔ ملیشیا میں تبلیغی اجتماع میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور وہیں پر کووڈ 19 پھیل گیا۔ آج وہ ملک بھی لاک ڈاؤن کا شکار ہے۔ ممبئی کی کسی مسجد میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آچکا ہے۔
تو یاد رہے
اس وقت سوشل میڈیا پر جو فتوی بازی کا دور چل رہا ہے اس میں اعتدال اختیار کرنا بہتر ہے
جہاں حتمی یقین ہوجائے کہ یہاں وبا پھیل چکی ہے اب شدید خطرہ ہے کہ وبا کے اثرات منتقل ہوسکتے ہیں
ایسی صورت میں وہ لوگ احتیاط کریں جن میں اس وبا کے اثرات پائے گئے ہوں کہ لوگوں سے دوری بنائے رکھیں اب جبکہ ایسی غیرت و حمیت ناپید ہوتی جارہی ہے تو حتمی وہی اعلان مانا جائے جو کہ محکمہ صحت کی جانب سے کیا جائے جن کے بارے میں یا جن علاقوں کے بارے میں جانکاری دیں کہ وہاں اس وبا کے مریض ہیں تو ان لوگوں اور علاقوں سے دوری بنائے رکھی جائے جو کہ تعلیمات اسلامیہ کے عین مطابق ہے
نماز جمعہ کے بارے میں جو تضاد و تصادم کی صورت بنی ہوئی ہے اس میں یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ نماز کو مختصر سنت کے ساتھ ادا کرکے اپنے گھروں کی راہ لی جائے نوافل ازکار گھروں میں ادا کی جائیں اب اگر کہیں پر شدید اثرات پائے جاتے ہوں تو وہاں بہتر ہے کہ نماز گھروں میں ہی ادا کی جائے صرف افواہ پر یقین کرکے خدا را مساجد کو بند نہ کیا جائے
توبہ و استغفار کیا جائے اللہ کے حضور میں اور رحمت ربی کی طلب کی جائے رب الکریم کی زات مبارکہ سے امید رکھی جائے کہ اس مصیبت میں وہ دستگیری فرمائیں گئے
توہمات سے بچا جائے اصول و ضوابط جو محکمہ صحت کی جانب سے بتائے گئے ہیں ان پر سختی سے عمل کیا جائے ( جن میں سے زیادہ تر امت مسلمہ کے ہاں سنت نبوی علیہ السلام سے ثابت ہیں ) ان پر توجہ دی جائے اللہ نہ کرے گر ان احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود بھی کوئی بات ہو جائے تو یقین کریں کہ اللہ تعالی نے کسی بہتری کے سبب ہی یہ بلا مسلط کی ہو گئی جس کا تذکرہ اللہ تعالی نے کیا ہے کہ تم خوف بھوک مال کے نقصان سے آزمائے جاؤ گئے کسی بھی صورت میں خوف زدہ نہ ہوں اللہ تعالی کا فضل و کرم دائمی ہے اس کے سایہ میں رہنا اختیار کیا جائے
تعصب و طنزیہ انداز سے حتی المقدور بچا جائے کہ اس سے ہماری پہچان اور بنیادی اسلامی تعلیمات کا مذاق بن جاتا ہے خوف الہی کے ساتھ کہ مبادا رب ناراض ہوجائے انتہائی ندامت و شرمندہ گئی کا اظہار اپنی سیاہ کاریوں پر اختیار کیا جائے اور رب سے معافی چاہتا ہوں والی صورت بہتر ہے اختیار کی جائے
آخری بات
اس مصیبت میں مذاق طعن بازی یا افواہ بازی سے بہتر ہے کہ ہم خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں غریبوں کی مدد کریں اپنے ساتھ رہنے والے پڑوسیوں کا خیال رکھیں اسلام ایمان کے نام پر ضد نہ کریں کیونکہ یہ کسی خاص مذہب یا ملت کے لئے نہیں ہے بلکہ اس وبا کے ہتھے ہر انسان چڑھ رہا ہے انسانیت کی حالت ایسی ہوئی ہے کہ موت اور اس کے درمیاں تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا ہے آپ احتیاط برتیں گئے تو رب مدد فرمائے گا آپ انسانیت کے کام آئیں یہی سب سے بڑی عبادت ہے اس وقت.
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
