تازہ ترین
دنیا بھر میں کورونا کی تباہ کاریاں جاری
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور197 ممالک تک پھیلنے والی وبا سے اب تک19 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔گزشتہ برس دسمبر میں چین کے صوبے ہوبئی کے شہر ووہان سے منظر عام پر آنے والا کورونا وائرس197 تک پھیل چکا ہے اور دنیا بھر میں پھیلنے والی وبا سے ہلاک افراد کی تعداد19 ہزار152 ہو گئی ہے جب کہ متاثر افراد کی تعداد4 لاکھ28 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے صحت یاب افراد کی تعداد1لاکھ 8 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔چین میں گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران مزید 4 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جس کے بعد وہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد3 ہزار 281 ہو گئی ہے جب کہ کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد81 ہزار218 ہو گئی ہے۔اٹلی میں ایک اور تباہ کن دن:اٹلی میں ایک ہی روز میں 743 مزید افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد یورپی ملک میں کل اموات کی تعداد6 ہزار820 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ اٹلی میں کورونا وائرس کے5 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی مریضوں کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
اطالوی حکومت نے ملک میں بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ایک ہزار یورو جرمانے کا اعلان کیا ہے۔اسپین میں بھی اموات2800 سے تجاوز کر گئیں:اسپین میں بھی کورونا وائرس سے مزید 500 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی تعداد 2 ہزار800 سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ متاثرین کی تعداد40 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔فرانس میں متاثرہ افراد کی تعداد 22 ہزار سے زائد ہو گئی:کورونا وائرس نے فرانس میں بھی مزید 250 زندگیاں نگل لی ہیں جس کے بعد وہاں وبا سے ہلاک افراد کی تعداد 1100ایک ہزار 100ہو گئی ہے، متاثرافراد بھی 22 ہزار 300سے زائد ہو گئے ہیں۔جرمنی میں مزید 36 ہلاک:جرمنی میں مزید 36ہلاکتوں کے بعد مجموعی تعداد 159 ہوگئی ہے جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد32 ہزار 781 ہو گئی ہے۔ہالینڈ، سویڈن اور بیلجیم میں بھی مزید ہلاکتیں:اس کے علاوہ کورونا وائرس سے ہالینڈ میں 63 اور بیلجیم میں 34افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ سویڈن میں کورونا وائرس کے باعث مرنے والوں کی تعداد 40 ہو گئی ہے اور 240نئے کیسزر پورٹ ہونے کے بعد وہاں مجموعی تعداد 2 ہزار299 ہو گئی ہے۔امریکا میں ایک ہی روز میں 222 اموات:امریکا میں ایک ہی روز میں 222 افراد کی ہلاکت کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 775 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 9 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد مریضوں کی تعداد 54 ہزار 808 ہو گئی ہے۔ امریکا میں کورونا میں مبتلا نصف سے بھی زائد افراد کا تعلق نیویارک سے ہے جب کہ لاس اینجلس میں کورونا کے6 سو سے زائدکیسز ہیں اور80 فیصدافراد کی عمریں 18 سے 35 برس کے درمیان ہیں۔
امریکا کی ریاست نیویارک میں کورونا سے بیمار افراد کی تعداد تعداد 25 ہزار سے زائد ہے جس کے باعث نیویارک کا حال ہی میں دورہ کرنے والے اور واپس جانے والوں کو قرنطینہ کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کیلی فورنیا گالف کورس میں آنے والے افراد بھی کورونا وبا کا شکار ہو گئے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی امریکا کو تنبیہ:عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے وبا پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں امریکا دنیا میں وبا کا مرکز ہو گا۔ایران میں بھی کورونا سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری:ایران میں عالمگیروبا سے مزید 122 افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں اموات کی مجموعی تعداد ایک ہزار934 ہو گئی ہے جب کہ مریضوں کی تعداد 24 ہزار811 ہو گئی ہے۔
نیوزی لینڈ میں ایمرجنسی نافذ:نیوزی لینڈ نے کورونا کے50 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کیا۔یو اے ای میں 4 افراد صحتیاب:متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت نے مزید 50 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی ہے جس کے بعد عرب ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 248 ہوگئی ہے جب کہ 4 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں جس میں ایک پاکستانی بھی شامل ہے۔بھارت میں 21 روز کیلئے لاک ڈاؤن:بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 22 مارچ کو جنتا کرفیو کے بعد کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے ایک ارب30 کروڑ آبادی والے ملک کو 21 روز کے لیے لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان:پاکستان میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی۔بدھ کو اب تک خیبرپختونخوا میں 39، سندھ میں 3، بلوچستان میں 5، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں ایک ایک کیس سامنے آیا ہے۔ملائیشیا میں لاک ڈاؤن میں 2ہفتوں کی توسیع:ملائیشین وزیراعظم محی الدین یاسین نے ملک میں کورونا وائرس سے 17 ویں ہلاکت اور مزید172 کیسز سامنے آنے کے بعد18 مارچ سے شروع ہونے والے لاک ڈاؤن میں مزید 2 ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
