تازہ ترین
کورونا وائرس سے ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد اموات، متاثرین کی تعداد 25 لاکھ سے متجاوز
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک وائرس کی زد میں آ کر ایک لاکھ 75ہزار 621 افراد ہلاک اور 25 لاکھ سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔
دنیا بھر میں ہر گزرے دن کے ساتھ کورونا وائرس سے اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے اور اب تک ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 25لاکھ 44ہزار 769 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
امریکا میں 43 ہزار سے زائد افراد ہلاک
وائرس سے دنیا میں سب سے زیادہ امریکا متاثر ہوا ہے جہاں 43 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ 8 لاکھ سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کورونا وائرس اور امریکا میں روزگار کے تحفظ کے لیے تمام امیگریشنز کو انتظامی حکم نامے کے ذریعے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘نظر نہ آنے والے دشمن کے حملوں اور اپنے عظیم شہریوں کے روزگار کے تحفظ کی ضرورت کے پیش نظر امریکی امیگریشن کو عارضی طور پر معطل کرنے کے لیے میں ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کروں گا’۔
خوراک کی قلت کے باعث کورونا سے ہلاکتیں دگنی ہوسکتی ہیں، اقوام متحدہ
ادھر اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ کورونا وائرس کے باعث ہلاکتیں دگنی ہوسکتی ہیں کیونکہ دنیا میں خوراک کی قلت بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے جاری تنبیہ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں دگنی ہوسکتی ہیں کیونکہ دنیا بھر میں لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ 2020 میں دنیا بھر میں بھوک کے خطرات سے دوچار افراد کی تعداد 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو 2019 کے مقابلے میں 13 کروڑ زیادہ ہے جبکہ گزشتہ برس 13 کروڑ 50 لاکھ افراد اس فہرست میں تھے۔
عالمی ادارے کی جانب سے یہ بیان ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر شراکت داروں کی جانب سے خوراک کے بحران سے متعلق جاری کی گئی رپورٹ کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے معاشیات کے سربراہ عارف حسین نے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ہمیں اس کی عالمی سطح پر بھاری قیمت چکانا ہو گی، کئی لوگ جانوں اور اپنے روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔
اسپین میں بچوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت
اسپین میں وائرس سے اموات میں نسبتاً کمی کے بعد ایک ماہ سے لاک ڈاؤن کے باعث گھروں میں بند بچوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
12سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو گھروں کو 90منٹ تک گھر سے باہر ہرنے کی اجازت ہو گی اور اس موقع پر ان کے ساتھ ایک بڑے کا ہونا لازمی ہے۔
یورپ میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک اسپین میں مزید 430 افراد کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 21 ہزار 282 ہو چکی ہے۔
ملک میں نئے رپورٹ ہونے والے کیسز کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن 24 گھنٹوں میں مزید 4 ہزار افراد وائرس کا شکار ہوئے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 4 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اٹلی میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے وائرس میں شدت کا خدشہ
ادھر یورپ میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی کے وزیر اعظم گوئسیپ کونٹے نے خبردار کیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث وائرس کے پھیلاؤ میں ایک مرتبہ پھر شدت آ سکتی ہے۔
اٹلی میں 4 مئی سے ملک گیر لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اٹلی کی جانب سے یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے اور اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ سحت نے بھی انتباہ جاری کیا ہے کہ قبل از وقت لاک ڈاؤن میں نرمی دنیا بھر میں مزید بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
اٹلی میں وائرس سے 24 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ایک لاکھ 81 ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔
تمام ممالک ادویات اور ویکسن بنانے کا کام تیز کریں، اقوام متحدہ
ادھر اقوام متحدہ نے دنیا کے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وائرس سے بچاؤ کے لیے ادویات اور ویکسین بنانے کا کام تیز کردیں۔
اقوام متحدہ کی قرارداد میں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دیگر ممالک اور عالمی ادارہ صحیت کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام افراد کی ادویات، صحت کی سہولیات اور ٹیسٹنگ تک رسائی ہو سکے۔
مراکش کی جیل میں 68 افراد وائرس کا شکار
مراکش کی جیل میں 68 افراد میں وائرس کی تشخیص کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
مراکش کے شہر اورزازاتے کی جیل میں 68 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس میں سے اکثریت عملے کی ہے۔
اس سے قبل رواں ماہ کے اوائل میں ہی مراکش کی جیل سے 5 ہزار 645 قیدیوں کو رہا کردیا گیا تھا تاکہ ملک میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
مراکش میں اب تک کورونا وائرس سے 3 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 144 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔
جنگ عظیم دوئم کے بعد وائرس سب سے بڑا عالمی بحران
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ معیشت پر مرتب ہونے والے سنگین اثرات کے باعث کورونا وائرس دوسری جنگ عظیم کے بعد دوسرا بڑا عالمی بحران بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے زیاں اور معاشی تباہی کے سبب یہ وائرس دنیا بھر میں اس عہد کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اس کے حوالے سے عالمی سطح پر جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
ترکی بھی وائرس سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہاں اب تک 2 ہزار 140 افراد ہلاک جبکہ 90 ہزار سے زائد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
سعودی عرب اور عراق میں رمضان کے پیش نظر کرفیو میں نرمی
ادھر سعودی عرب نے رمضان کے پیش نظر کرفیو میں نسبتاً نرمی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام ماہ مقدس کی مناسبت سے ضروری اشیا کی خریداری کر سکیں۔
سعودی عرب میں اس وقت 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ ہے اور لوگ صرف صحت کے مسائل اور سپر مارکیٹس تک صبح 6 بجے سے دوپہر 3 بجے تک جا سکتے ہیں۔
رمضان میں کرفیو میں نرمی کے بعد لوگ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک خریداری کر سکیں گے۔
سعودی عرب میں وائرس سے 109 افراد ہلاک اور 11 ہزار سے زائد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
عراق نے بھی سعودی عرب کی طرح رمضان المبارک میں کرفیو میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔
اب عراق میں 21 اپریل سے 11 مئی تک شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو لگا رہے گا البتہ جمعہ اور ہفتہ کو چھٹی کے پیش نظر ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہو گا۔
عراق وائرس سے نسبتاً کم متاثر ہوا ہے جہاں اب تک ڈیڑھ ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 82 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔
انڈونیشیا نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کردی ہے۔
مشرقی ایشیا کے اس ملک میں کورونا وائرس سے چین کے بعد سب سے زیادہ 616 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد ی تعداد 7 ہزار سے زائد ہے۔
آسٹریا کا 15مئی سے اسکول، ریسٹورنٹس کھولنے کا اعلان
آسٹریا نے ملک میں وائرس پر قابو پانے میں کامیابی کے بعد 15 مئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے ریسٹورنٹس، اسکول اور چرچوں کو کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔
چانسلر سباستین کرز نے بتایا کہ 15مئی سے اسکول بتدریج کھلنا شروع ہو جائیں گے، رواں ماہ اگلے ہفتے اہم دکانیں کھول دی جائیں گی جبکہ یکم مئی سے بڑے مالز اور دکانوں کو بھی کھولنے کی اجازت ہو گی۔
آسٹریا میں کورونا وائرس سے 491 افراد ہلاک اور تقریباً 15 ہزار افراد وائرس سے متاثر ہوئے۔
نیدرلینڈز میں مزید 729 افراد میں وائرس کی تصدیق کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 34 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ملک میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 165 اموات کے بعد مجموعی طور پر 3 ہزار 916 لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
