تازہ ترین
دنیا بھر میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد29 لاکھ 77 ہزار سے زائد ہوگئی
دنیا بھر کے 188 سے زائد خطوں میں کورونا وائرس سے بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور جہاں اب تک مجموعی تعداد 29 لاکھ 76 ہزار 956 ہوچکی ہے جبکہ 2 لاکھ 6 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز پر نظر رکھنے والے ویب سائٹ کے اعداد وشمار کے مطابق امریکا بدستور پہلے نمبر پر ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 54 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے تاہم نئے کیسز سامنے کی شرح میں کسی حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکا
امریکا میں کوروناوائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 9لاکھ 76 ہزار 176 ہوگئی۔
کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بھی بدستور بڑھ رہی ہے اور مزید 702 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے اور یوں امریکا میں اب تک کورونا وائرس سے 54 ہزار 958 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
اعداد وشمار کے مطابق امریکا میں اب تک صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 1 لاکھ 18 ہزار 633 ہے جس کے بعد فعال کیسز کی تعداد 8 لاکھ 2 ہزار 585 ہوگئی۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کورونا وائرس کی وبا کے باعث جہاں دنیا کے کئی ممالک میں ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
وہیں کورونا وائرس کے باعث دنیا کی نصف آبادی کے گھروں تک محدود رہنے کی وجہ سے دنیا بھر میں جرائم اور مسائل میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
تاہم ساتھ ہی کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کی وجہ سے گھریلو تشدد کی شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں دنیا بھر میں بےروزگاری میں بھی اضافے ہوا ہے۔
اٹلی اور اسپین
کورونا وائرس سے یورپ میں سب سے ہلاکتوں کا سامنا کرنے والا ملک اٹلی ہے جہاں کیسز کی شرح میں کمی آگئی ہے۔
اب تک اٹلی میں مجموعی ہلاکتیں 26 ہزار 644 ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 2 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب اسپین میں مجموعی کیسز کی تعداد 2 لاکھ 26 ہزار 629 ہوگئی جبکہ 23 ہزار کے قریب اموات ریکارڈ کی گئی۔
اسپین میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 2 ہزار 870 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
علاوہ ازیں اسپین میں یومیہ ہلاکتوں میں کمی دیکھی گئی ہے جہاں 24 گھنٹے میں صرف 288 ہلاکتیں ہوئیں۔
کینیڈا میں انسداد ملیریا دوائی کے استعمال کےخلاف انتباہ جاری
کینیڈا میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 46 ہزار 644 جبکہ ہلاکتیں ڈھائی ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں۔
علاوہ ازیں کینیڈیا نے انسداد ملیریا دوائی ہائیڈروکسی کلورو کوئن کو کورونا وائرس کے مریضوں پر استعمال کے خلاف انتباہ جاری کردیا۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ صحت کے حکام نے کہا کہ کلوروکوئن اور ہائیڈرو آکسیروکلون کے سنگین ضمنی اثرات ہو سکتے ہیں۔
جرمنی میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے
جرمنی میں کیسز کی مجموعی کیسز کی تعداد 1 لاکھ 57 ہزار جبکہ 19 نئی اموات کے بعد تعداد 5 ہزار 896 ہوگئی ہے۔
دوسری جانب جرمنی میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔
جرمنی میں ایک عرصے سے جاری لاک ڈاؤن کے خلاف ایک ہزار سے زائد افراد نے احتجاج کیا اور احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔
دارالحکومت برلن میں ایک ہزار سے زائد افراد نے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریلی نکالی جہاں حکام کی جانب سے انتباہ جاری کیے جانے کے باوجود مستقل چند ہفتوں سے اس احتجاج کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اس احتجاج میں بائیں بازوں کے افراد کی اکثریت موجود تھی لیکن حیران کن طور پر اس مرتبہ احتجاج میں دائیں بازو کے افراد بھی موجود تھے۔
چین کا یورپی یونین پر غلط معلومات کے الزامات کو روکنے کے لیے دباؤ
دوسری جانب چین نے یورپی یونین (ای یو) پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ اپنی ایک رپورٹ کو شائع نہ کرے، جس میں بیجنگ پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات پھیلائی۔
مذکورہ رپورٹ کو چین پر کی گئی تنقید میں نرمی کرنے یا پھر تنقید کو نکال کر ایک متوازن رپورٹ کے طور پر اختتام ہفتہ سے قبل شائع کردیا گیا تھا کیوں برسلز نہیں چاہتا کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث اس کے عالمی تعلقات متاثر ہوں۔
خیال رہے کہ چین میں گزشتہ 10 دن میں کوئی اموات ریکارڈ نہیں کی گئی۔
روس: ’ کورونا وائرس آج کا سب سے بڑا خطرہ ہے ‘
روس میں وائرس سے متاترہ افراد کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔
علاوہ ازیں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 747 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
اس ضمن میں روس میں محکمہ صحت کے افسران نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مئی کی چھٹیوں میں لوگوں نےلاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی تو وائرس کے کیسز میں اضافے کا خدشہ ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ صحت کے عہدیدار نے بتایا لوگوں کو لازمی طور پر احتیاط کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’کورونا وائرس آج کا سب سے بڑا خطرہ ہے‘۔
سعودی عرب میں کرفیو جزوی طور پر ہٹا لیا گیا
سعودی عرب میں کیسز کی مجموعی تعداد 17 ہزار جبکہ ہلاکتیں 139 ہوگئی ہیں۔
دوسری جانبب سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے احکامات جاری کیے ہیں کہ سعودی عرب بھر میں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کرفیو ہٹا دیا جائے تاہم مکہ میں بدستور 24 گھنٹے کرفیو نافذ رہے گا۔
سعودی نیوزی ایجنسی کے مطابق ہول سیل اور ریٹیل کی دکانوں کو 6 رمضان سے 20 رمضان (29 اپریل سے 13 مئی) تک کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔
اس فیصلے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے چین کی کمپنی سے 265ملین ڈالرز کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ انہیں ٹیسٹنگ کٹس فراہم کریں گے۔
ایران: مخصوص علاقوں میں مساجد کھولنے کا فیصلہ
ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ملک کے وہ حصے جو مستقل کورونا وائرس سے پاک ہیں، وہاں مساجد کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران کورونا وائرس سے سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہاں 5ہزار 700 افراد ہلاک اور 90ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔
حسن روحانی نے کہا کہ ملک میں انفیکشن اور اموات کی مناسبت سے مختلف حصوں کو سیفد، پیلے اور لال رنگ سے جدا کیا جائے گا اور خطے میں سرگرمیاں اسی مناسبت سے محدود کردی جائیں گی۔
نیدرلینڈ میں 655 نئے کیسز، مزید 66 اموات
نیدرلینڈ میں نئے 655 کیسز منظر عام پر آنے کے بعد مجموی تعداد 37 ہزار 845 ہوگئی۔
حکام کے مطابق مزید 66 اموات بھی ریکارڈ کی گئیں۔
ترکی میں کورونا وائرس سے 2ہزار 805افراد ہلاک
ترکی میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ 2ہزار 357 مصدقہ کیسز کا اضافہ ہوا ہے جس سے ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔
ملک میں 24گھنٹے کے دوران مزید 99 اموات ہوئیں جس سے ترکی میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2ہزار 805 ہو گئی ہے۔
ترکی ایک لاکھ 10ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو مغربی یورپ اور امریکا کے بعد کسی بھی ملک میں متاثرہ افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
دنیا میں اموات کی شرح 60 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے، فنانشل ٹائمز
فنانشل ٹائمز کے مطابق اموات کی جو تعداد بتائی جارہی ہے اس میں مجموعی اموات کی تعداد میں 60 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
