تازہ ترین
کرونا کے بعد مشکلات کا دور، حل اقوام متحدہ کا فعال کردار ہے، تجزیہ کار
دنیا کے متعدد خطوں میں علاقائی تصادموں اور جنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں ایک جانب تو کرونا وائرس کی ہولناک وبا انسانی زندگیوں کو فنا کی وادیوں میں اتار رہی ہے اور دوسری جانب خود انسان بھی انسان کا دشمن بنا ہوا ہے۔
ان تصادموں میں نہ صرف معصوم انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر در بدری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور ایسے میں جب کہ کرونا کا یہ بے قابو عفریت انسانی جانوں کو نگل رہا ہے اور تہذیبوں کو چاٹ جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ مسلسل یہ کوشش کر رہی ہے کہ علاقائی تصادموں اور جنگوں کو ختم کروایا جائے تاکہ عالم انسانیت کی پوری توجہ اس وبا کے خلاف جنگ پر مرکوز ہو سکے۔
یہ وبا انسانی معاشروں کو برباد کر رہی ہے اور آنے والے وقت میں ایک ایسے شدید معاشی بحران کے لئے بنیادیں بھی فراہم کر رہی ہے جو شاید کسی کے بھی روکے رک نہیں سکے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جنگ بندیوں کی اپیلیں کر رہے ہیں لیکن اصغر گونڈوی کے اس شعر کے مصداق
میری ندائے درد پہ کوئی صدا نہیں
بکھرا دیے ہیں کچھ مہ و انجم جواب میں
اس ندائے درد پہ کوئی لبیک کہنے کو تیار نہیں ہے۔ افغانستان ہو یا یمن۔ کردوں کی سرگرمیاں ہوں یا براعظم افریقہ کے ملکوں میں ہونے والے تصادم۔ سیکرٹری جنرل اور انسانیت کا درد رکھنے والوں کی یہ اپیلیں صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہیں۔ اس کی وجوہات کیا ہیں۔ اس بارے میں ہم نے بین الاقوامی سیاست کے ماہرین سے گفتگو کی۔ جن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کسی حد تک غیر موثر ہو چکی ہے اور اپنی بات منوانے کے قابل نہیں رہی ہے۔
برطانیہ میں ایوان بالا کے رکن لارڈ نذیر احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ بہت کمزور ہو چکی ہے۔ دنیا میں کئی پاور ہاؤس یا اقتدار کے سر چشمے وجود میں آ چکے ہیں۔ ایک جانب یورپ ہے، دوسری جانب امریکہ ہے، پھر چین اور روس ہیں۔ ادھر ترکی، ایران اور پاکستان جیسے علاقائی گروپ ہیں، جو اقوام متحدہ سے ایک اعتبار سے لا تعلق سے ہو چکے ہیں۔
یہ صرف اسی وقت اقوام متحدہ کا ساتھ دیتے ہیں جب ان کی اپنی ضرورت ہوتی ہے۔ علاقائی تصادم بڑھ رہے ہیں اور ان تصادموں کے فریقوں میں سے ہر ایک کو بلا واسطہ یا بالواسطہ کسی نہ کسی بڑی طاقت کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کوئی بھی فریق جنگ بندی کے لئے تیار نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا شدید نوعیت کی کساد بازاری کی جانب بڑھ رہی ہے۔ غربت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو تصادموں کو جنم دیتی ہے۔ اس لئے وقت کی ضرورت یہ ہے کہ اس عالمی ادارے کو مضبوط کیا جائے اور اپنے مقاصد کی بجائے عالم انسانیت کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔
پاکستان کے ایف سی کالج کے پروفیسر ڈاکٹر فاروق حسنات نے کہا کہ اقوام متحدہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر جو اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ آج کے حالات میں اس ادارے کا دم غنیمت ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ انسانیت کی بھلائی اور مسائل کے حل کے لئے استعمال کیا جانا چاہئیے۔
انہوں نے کہا کہ کرونا کے بعد کے دور میں جب کہ کساد بازاری اپنے عروج پر ہو گی۔ اقدار تبدیل ہو رہی ہوں گی۔ اس وقت اس ادارے کی ضرورت اور بھی شدید ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ اس وقت کمزور ہو چکا ہے لیکن اب دنیا میں سوچ بدل رہی ہے اور جلد ہی اس ادارے کی اسی طرح ضرورت محسوس کی جائے گی جیسے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر محسوس کی گئی تھی۔
اس مرحلے پر یہ تو کہنا مشکل ہے کہ اس ادارے کو کتنا فعال بنا یا جا سکے گا اور عالم انسانیت کے لیے یہ کتنی خدمات انجام دے سکے گا۔ لیکن کسی کے اس قول کے بارے میں ذہن میں سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ انسان نے پرندوں کی مانند ہوا میں اڑنا سیکھ لیا۔ آبی مخلوق کی طرح سمندروں میں تیرنا سیکھ لیا، لیکن انسانوں کی طرح زمین پر رہنا ابھی نہیں سیکھا۔
کب انسان زمین پر انسان کی طرح رہنا سیکھے گا؟
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
