تازہ ترین
افغانستان سے لاپتا امريکی کنٹريکٹر ہماری تحويل ميں نہيں: طالبان
طالبان نے امریکی کنٹریکٹر مارک فریرکس کی گمشدگی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے واشنگٹن پر واضح کیا ہے کہ امریکی کنٹریکٹر طالبان کی تحویل میں نہیں ہيں۔
امریکی کنٹریکٹر مارک فریرکس رواں برس جنوری کے آخر میں افغانستان کے صوبہ خوست سے لاپتا ہو گئے تھے۔
طالبان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے قطر کے اپنے حالیہ دورے میں طالبان کے سامنے مارک فریرکس کی رہائی کا معاملہ اٹھایا تھا۔
امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات ميں طالبان کے وفد کی قیادت کرنے والے رہنما شير محمد عباس استنکزئی نے وائس آف امریکہ سے کو بتایا ہے کہ زلمے خلیل زاد نے اپنے حاليہ دورۂ دوحہ ميں ان کی ٹيم کے ساتھ امريکی کنٹريکٹر کا معاملہ اٹھايا تھا کہ اگر وہ طالبان کے قبضے ميں ہوں تو ان کی رہائی عمل ميں لائی جائے۔
عباس استنکزئی کے بقول جہاں تک ہماری معلومات ہيں وہ طالبان کی تحويل ميں نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارے پاس ان کی گمشدگی کے بارے ميں کسی قسم کی اطلاع ہے۔
واضح رہے کہ زلمے خليل زاد نے گزشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ ميں طالبان کے نمائندے ملا برادر سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں امريکہ اور طالبان کے درميان امن معاہدے پر عمل درآمد کے طريقوں پر تبادلۂ خيال کیا گیا تھا۔
وی او اے سے گفتگو میں عباس استنکزئی نے طالبان کے اس موقف کو بھی دہرایا کہ رواں سال فروری ميں طالبان کے ساتھ دوحہ ميں امریکہ نے جس معاہدے پر دستخط کے تھے اس کو پورا نہیں کیا گیا۔ اس کی واضح مثال ان کے بقول یہ ہے کہ امريکہ ابھی تک افغان حکومت سے طالبان کے پانچ ہزار قيدی رہا کرانے ميں ناکام رہا ہے۔
‘افغان حکومت نہیں چاہتی کہ ملک ميں امن قائم ہو’
طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نہیں چاہتی کہ ملک ميں امن قائم ہو بلکہ اس کی کوشش ہے کہ اپنا دورِ حکومت مکمل کرے۔ اس ضمن ميں مختلف بہانوں سے امن مذاکرات کا عمل سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔
ياد رہے کہ افغان طالبان اور امريکہ کے درميان ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار تک قيدی رہا کرنے ہيں جب کہ طالبان نے بھی افغان حکومت کے 1000 قيديوں کو رہا کرنا ہے۔ ليکن اب تک افغان حکومت نے طالبان کے 933 جب کہ طالبان نے افغان حکومت کے 200 سے زائد قيدی رہا کیے ہيں۔
افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاويد فيصل کا کہنا ہے کہ طالبان نے رمضان ميں اپنے حملے مزيد تيز کر دی ہيں اور رمضان کے دوسرے ہفتے ميں طالبان نے ملک بھر ميں 25 شہريوں کو ہلاک اور 74 کو زخمی کيا ہے۔ ان ميں خواتين اور بچے بھی شامل ہيں۔ ترجمان کے بقول جانی نقصان کی یہ شرح گزشتہ ہفتے کے مقابلے ميں 33 فی صد زیادہ ہے۔
تاہم شير محمد عباس استنکزئی نے وی او اے سے گفتگو میں اس تاثر کو رد کیا۔ ان کے مطابق کابل انتظاميہ نے اپنی کارروائياں تيز کی ہيں جب کہ الزام طالبان پر عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے تشدد کی لہر ميں اضافہ کيا ہے۔
‘جنگ ميں شدت افغان حکومت کی طرف سے ہے’
شير محمد عباس استنکزئی نے الزام لگایا کہ جنگ ميں شدت افغان حکومت کی طرف سے ہے اور افغان حکومت نے طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہيں۔ حتٰی کہ رات کو بھی چھاپے جاری رکھے ہوئے ہيں جس ميں نہ صرف لوگوں کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا جاتا ہے بلکہ ہلاک بھی کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان ميں جنگ بندی تب ہی ممکن ہے جب بين الافغان مذاکرات شروع ہو جائيں اور بات چيت کا عمل جاری ہو۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امريکہ افغان حکومت پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ امن معاہدے کی شقوں پر عمل کرے تاکہ بين الافغان مذاکرات جلد از جلد شروع ہوں اور ايک ايسا سياسی بندوبست وجود ميں لايا جائے جو کہ تمام افغان عوام کو قابل قبول ہو۔
‘افغانستان ميں داعش کو کسی صورت برداشت نہيں کريں گے’
ايک سوال کے جواب ميں شير محمد عباس استنکزئی کا کہنا تھا کہ داعش نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنيا کے لیے ايک خطرناک گروہ ہے جو کہ پوری دنيا کے ساتھ لڑنا چاہتی ہے اور کوئی بھی ملک اس پُر تشدد گروہ سے لاحق خطرہ نظر انداز نہیں کرسکتا۔
انہوں نے الزام لگايا کہ افغان سر زمين پر داعش کو افغانستان کے خفیہ اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے بقول طالبان اس ضمن ميں دلائل کے ساتھ ساتھ شواہد بھی رکھتے ہيں۔
عباس استنکزئی کا کہنا تھا کہ طالبان نے داعش کے افغانستان ميں تقريباً تمام ٹھکانے ختم کر ديے ہيں۔ جو باقی ٹھکانے ہيں وہ بھی جلد ختم کر دیے جائیں گے کيونکہ داعش افغانستان کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہم افغانستان ميں داعش کو کسی بھی صورت ميں برداشت نہيں کريں گے۔
‘تمام قيدی رہا ہوتے ہی بين الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو جائے گی’
خیال رہے کہ افغانستان کے داخلی سياسی حالات اب بہتر ہو رہے ہيں۔ عبداللہ عبداللہ نے ملک ميں جاری سياسی تناؤ کو حل کرنے کے لیے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ بات چيت ميں اہم پيش رفت کی تصديق کی ہے۔
ليکن طالبان اب بھی موجودہ افغان حکومت کو کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہيں۔
طالبان کے مطابق موجودہ حکومت امريکہ کی جانب سے 20 سال سے قائم نظام کا تسلسل ہے جب کہ موجودہ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درميان شراکتِ اقتدار اسی سلسلے کی کڑی ہے جو کہ انہيں قابلِ قبول نہيں۔
شير محمد عباس استنکزئی کے مطابق وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہيں کہ بين الافغان مذاکرات کا آغاز امن معاہدے کے تحت پانچ ہزار طالبان قيديوں کی رہائی سے مشروط ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور ديا کہ جس دن امن معاہدے کے تحت طالبان کے تمام قيدی رہا ہو جائيں گے اس کے اگلے ہی دن بين الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
‘طالبان امریکہ کے کسی بھی دباؤ ميں نہيں آئے’
افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے سينئر صحافی رحيم اللہ يوسف زئی کا کہنا ہے کہ امريکہ نے پہلے دن سے ہی طالبان کو دباؤ ميں رکھنے کی کوشش کی ہے ليکن طالبان ان کے کسی بھی دباؤ ميں نہيں آئے۔
وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے رحيم اللہ يوسف زئی کا کہنا تھا کہ امريکہ طالبان سے متعدد بار يہ مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ افغان حکومت سے براہِ راست مذاکرات کریں ليکن طالبان نے انہيں صاف کہہ ديا تھا کہ پہلے مذاکرات امريکی حکومت سے ہی ہوں گے اور ايسا ہی ہوا اور افغان حکومت کو دوحہ ميں ہونے والے امن مذاکرات سے باہر رکھا گيا۔
انہوں نے مزيد بتايا کہ ابھی بھی امريکہ کی يہ کوشش ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درميان مذاکرات ہوں۔ ليکن طالبان کا اصرار ہے کہ پہلے فروری کے آخر ميں ہونے والے امن معاہدے کے تحت قيديوں کی رہائی اور تبادلے کے وعدے کو پورا کيا جائے۔
رحيم اللہ يوسف زئی کے مطابق امريکہ طالبان پر بین الافغان مذاکرات شروع کرنے پر دباؤ ڈال رہا ہے اور اس ضمن ميں امريکی سيکريٹری دفاع مارک ايسپر نے طالبان کو دھمکی بھی دی ہے ليکن وہ نہيں سمجھتے کہ طالبان پر اس طرز کی دھمکيوں کا کچھ اثر ہوگا۔
‘طالبان جنگ کے لیے ہر وقت تيار نظر آتے ہيں’
ان کے بقول طالبان جنگ کے لیے ہر وقت تيار نظر آتے ہيں ليکن وہ اپنے مطالبات امن معاہدے کے نکات کے مطابق منوانا چاہيں گے۔
امريکی کنٹريکٹر کے اغوا کے حوالے سے رحيم اللہ يوسف زئی کا کہنا تھا کہ اکثر اس قسم کی کارروائيوں ميں حقانی نيٹ ورک ملوث ہوتا ہے۔ لیکن اب وہ بھی طالبان کی تحريک کا حصہ ہيں۔ پہلے جب انہوں نے اس قسم کے ہائی پروفائل لوگوں کو اغوا کيا تھا تو ان کے ذريعے اپنے قيديوں کو رہا کرايا تھا۔
رحيم اللہ يوسف زئی کے مطابق اگر کنٹریکٹر کے اغوا سے متعلق امريکہ کے پاس کوئی شواہد ہيں تو وہ انہيں سامنے لائيں اور اگر اسی طرح طالبان کے کوئی مطالبات ہيں تو وہ انہيں پیش کریں کيونکہ معاملات اعتماد سازی کے ذريعے ہی بہتر بنائے جا سکتے ہيں۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
