تازہ ترین
ملک گیر کورونا لاک ڈاءون کا تیسرا مرحلہ جاری
ملک گیر لاک ڈاؤن کا تیسرا مرحلہ اب جبکہ17مئی کو ختم ہونے جارہا ہے اور چوتھے مرحلے سے متعلق مرکزی حکومت کے اعلان ابھی انتظار ہے۔تاہم وادی کشمیر میں اب صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا اور شہریوں نے گھروں سے باہر آنا شروع کردیا،جس دوران پولیس کو شہریوں کو یہ سمجھا تے ہوئے دیکھا گیا کہ لاک ڈاؤن کی پاسداری اور سماجی دوری ہی کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے لازمی ہے،تاہم عام لوگ سوال اٹھا نے لگے کہ لاک ڈاؤن آخر کب تک؟۔اس دوران وادی ہر طرح کی عوامی،تجارتی، کاروباری اور ٹرانسپورٹ سر گرمیوں کا پہیہ مکمل طور پر جام ہے جبکہ زندگی کی رفتار منجمد ہو کر رہ گئی جبکہ مسلسل چھٹے روز بھی موبائیل انٹر نیٹ سروس بند رہی۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق سوموار کو جب معمول کے مطابق انتظامی سرگرمیاں بحال ہوئیں اور سیول سیکریٹریٹ اور اسکے منسلک دفاتر کے ملازمین ڈیوٹی کیلئے گھروں سے اپنی نجی گاڑیوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کا سہا را لیکر گھروں سے باہر آئے،تو عام لوگوں نے بھی روزمرہ کے معاملات اور مصروفیات میں مشغول ہونے کیلئے گھروں سے موٹر سائیکلوں اورنجی گاڑیوں میں سوار ہو کر باہر نکلے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیول لائنز میں ٹریفک جام کی لمبی لمبی قطاریں لگنا شروع ہوگئیں اور پولیس کو گھروں سے باہر قدم رکھنے والے افراد سے نمٹنے اور اُنہیں سمجھانے میں کافی پاپڈ بیلنے پڑے۔سٹی رپورٹر کے مطابق دارالحکومت سرینگر میں پولیس نے کورونا لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے اور لوگوں کی آزاد نقل وحرکت روکنے کیلئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی ہیں جبکہ ناکے بھی لگائے ہیں۔علاوہ ازیں ریڈ زونز کیساتھ ساتھ دیگر علاقوں کی رابطہ سڑکیں بھی خار دار تاروں سے سیل کردی ہیں۔وادی کشمیر میں گزشتہ54دنوں سے کورونا لاک ڈاؤن جاری ہے جسکی وجہ سے شہر ودیہات میں ہر طرح کی دکانیں،کاروباری ادارے،تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ ہر طرح کا ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔
لاک ڈاؤن کو سختی عملا نے کیلئے پولیس و فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔مسلسل اور بغیر کسی برمی جاری سخت ترین لاک ڈاؤن سے لوگ آب اُکتانے لگے اور وہ گھروں سے باہر آنے لگے۔یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ پہلے7ماہ تک گذشتہ برس سیکیورٹی لاک ڈاؤن کا سامنا رہا اور اب کورونا لوک ڈاؤن کے دو ماہ ہونے لگے۔ان کا کہناتھا کہ ملک گیر لاک ڈاؤن اور کشمیر کے لاک ڈاؤن میں آسمان زمین کا فرق ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ملک گیر لاک ڈاؤن اور کشمیر کے لاک ڈاؤن میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک گیر لاک ڈاؤن محض دو ماہ کیلئے ہے جبکہ ہم (کشمیری)پہلے ہی 7اور اب یہ2ماہ سے لاک ڈاؤن سے جھوج رہے ہیں۔محمد اسلم ملک نامی شہری نے بتایا ’بیٹا دو ماہ ہوگئے،جب کمائی کچھ نہیں،کھائیں گے کیا؟کچھ سمجھ میں نہیں آتا،بیماری نہیں تنگ دستی ستانے لگی‘۔
ان کا کہناتھا ’عیال کو صرف تسلیاں ہی دینی پڑ رہی ہیں،ماہ رمضان،نہ مساجد میں عبادت اور نہ ہی گھروں میں سکون،عید الفطر کی رونقیں بھی ماند،حکومت وبا سے بچنے کے تدابیر تو بتاتی ہے لیکن زندگی کو کیسے بچائیں،اس کا کوئی حل نہیں بتاتی‘۔محمد یونس نامی شہری نے بتایا ’پولیس کا رویہ بھی مایوس کن ہے،دودھ،روٹی،سبزی اور دیگر اشیا ء ضروریہ زندگی کی چیزیں خریدنے کیلئے بازا ر کا رخ کر نا ہے،پولیس نہ جانے کیوں یہ سب کچھ سمجھنے سے قاصر ہے،جیسے وہ اس سماج کا حصہ نہیں اور خلائی مخلوق ہے‘۔ریاض احمد نامی ایک نوجوان نے بتایا ’محلے کی دکانیں تو صبح و شام چند گھنٹوں کیلئے کھولنی چاہئے،تاکہ ضروری چیزوں کی خریداری کی جاسکے،لیکن پولیس ایسے تعاقب کرتی ہے،جیسے گھر سے با ہر قدم رکھنے والے سنگباز اور ملی ٹنٹ ہے،پولیس ہر معاملے کو سیکیورٹی زاوے میرا مطلب ہے کہ ملی ٹنسی کی عینک سے دیکھتی ہے جبکہ اس وقت صورتحال بالکل مختلف ہے‘۔زندگی کی83بہاریں دیکھ چکے تجربہ کار اور ذی حس دماغ کے مالک عبدالرشید خان نے بتایا ’لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت وبا تب تک نہیں آتی جب تک اُسے نہ بلا یا جائے،اللہ تعلی کی ناراضگی اسی صورت میں نظر آتی ہے،آج خود کو سپر پاؤ ر(عظیم عالمی طاقت) سمجھنے والا ملک امریکا اور اس ملک کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بے بس اور لاچار ہے اور اسکی فیسٹریشن خوب نظر آتی ہے‘۔انہوں نے کہا ’قدرت کے سامنے کسی کی نہیں چلتی ہے،اس نے واضح کیا ہے کہ میرے حکم کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا،کیوں سچ ہے نا؟
لاک ڈاؤن نے ثابت کیا نا۔۔۔تاہم راستے بھی متعین کئے،ہمیں احتیاط سے کورونا کے خلاف جنگ لڑنی چاہئے اور زندگی کے معاملات کو بحال کرنا چاہئے،کیونکہ زندگی کو آخر کب تک از خود منجمد رکھا جاسکتا ہے؟‘۔ادھر مولا نا آزاد روڑ اور دیگر کئی روڈس پر نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی بھاری تعداد شہر میں الگ ہی سماں دیکھنے کو ملا۔ایسا لگ رہا ہے کہ عرفہ ہے اور لوگ خریداری کیلئے گھروں سے باہر آئے ہیں جسکی وجہ سے یہاں لمبی لمبی گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور پولیس لوگوں کو گھروں میں بیٹھنے کیلئے سمجھا رہی تھی۔اس دوران کئی مقامات شہریوں اور پولیس کے درمیان نوک جھونک او تکرار بھی ہوئی۔پولیس گھروں سے باہر آئے شہریوں کو یہ بھی سمجھا رہی تھی کہ کورونا وائرس مہلک مرض ہے اور یہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہورہی ہے،لہٰذا اس وقت سماجی دوری اختیار کرنا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس دوران لوگوں نے بتایا کہ طویل ترین لاک ڈاؤن کے باوجود کورونا وائرس کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ زنجیر نہیں ٹوٹی۔اس دوران مسلسل چھٹے روز نھی وادی کشمیر میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات منقطع رہے۔یہ سروس گذشتہ بدھ حزب کمانڈر ریاض نائیکو کی ساتھی سمیت جاں بحق ہونے کیساتھ بند کر دی گئی تھی جبکہ وادی میں موبائیل کالنگ بھی معطل رکھی گئی،تاہم تین روز بعد اُسے بحال کردیا گیا،لیکن انٹر نیٹ کی بند ش ہنوز برقرار ہے۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
