تازہ ترین
لاک ڈاءون ،جمعتہ الوداع ، ماہ رمضان کا اختتام
کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کےلئے نئے رنگ روپ میں چوتھے مرحلے کے ملک لاک ڈاءون کے وادی کشمیر میں رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعتہ الوداع کو بھی تما م چھوٹی بڑی مسا جد کے منبر ومحراب خاموش رہے اور مسلسل9ویں ہفتے بھی لوگوں نے نمازجمعہ گھروں میں ہی ادا کی ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کیسوں کی تعداد1400سے زیادہ ہوگئی اور ہر روز اس تعداد میں غیر معمولی وتشویشناک اضافے کے پیش نظر جہاں انتظامیہ لاک ڈاءون کو سخت سے سخت تر کررہی ہے ،وہیں لوگ بھی صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گھروں میں بیٹھ کر سما جی دور ی کو یقینی بنارہے ہیں ،تاکہ لوگ عالمی وبا سے محفوظ رہ سکے ۔
اگرچہ گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں کورونا لاک ڈاءون میں کسی حد تک نرمی لائی گئی اور نجی گاڑیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اور عید الفطر کے پیش نظر بھی گزشتہ چند روز کے دوران لوگوں کی نقل وحرکت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ تاہم شہر ودیہات میں ہنوز ہر طرح کے بازار بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور ٹھپ ہے ۔ چہار سو خاموشی چھا ئی ہوئی اور لوگ گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ۔ وادی کی تمام چھوٹی بڑی مساجد میں ماہ رمضان کے دوران مساجد پوری طرح سے آباد رہتی ہیں ،تاہم رواں ماہ رمضان پر عالمگیر وبا کا سیاہ سائیہ رہا ۔ ماہ رمضان میں نماز کی ادائیگی کے دوران لوگوں کی بھیڑ کافی رہتی ہے اور خاص طور پر جمعتہ الوداع کو نماز کی ادائیگی کےلئے ہر چھوٹی بڑی مساجد میں نمازیوں سے بھری ہوئی تھیں اور یہ عالم ہو تا تھا کہ مساجد کے صحنوں کے باہر سڑکوں پر بھی مصلے بچھتے تھے لیکن امسال تمام چھوٹی بڑی مساجد خالی ہیں ۔ شہر خاص کے نوہٹہ علاقے میں واقع تاریخی جامع مسجد میں لوگ جمعہ کے روز صبح سے ہی انتظار میں بیٹھے رہتے تھے تاکہ انہیں اندر جگہ ملے اور لوگوں کو صبح 11 بجے سے ہی نماز کی تیاریوں میں مصروف دیکھا جاتاتھا،یہاں جمعتہ الوداع کو وادی کا سب سے بڑا اور عظیم المشان اجتماع منعقد ہوتا تھا ،لیکن امسال کورونا وائرس نے اس پر روک لگا دی ۔
گزشتہ 4 جمعے سے کورونا وائرس کی وجہ سے تمام مساجد بند ہیں اور ان میں خال ہی کسی کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے کہیں بھی باقاعدگی کیسا تھ پنجگانہ نمازیں بھی باجماعت ادا نہیں کی جارہی ہیں ۔ مسلسل چوتھے اورماہ رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعتہ الوداع کو بھی وادی کی تمام چھوٹی بڑی مساجد کے منبر ومحراب خاموش رہے اور مسلسل9ویں ہفتے بھی لوگوں نے نما زجمعہ مساجد کی بجائے گھروں میں ادا کی ۔ مرکزی جامع مسجد سرینگر کیساتھ ساتھ آچار شریف حضرت بل جسے مدینہ ثانی بھی کہا جاتا ہے، میں بھی ماہ رمضان خاص طور پر جمعتہ الوداع کو کافی بھیڑ دیکھنے کو ملتی تھی ،لیکن امسال ایساکچھ نہیں دیکھنے کو مل رہا ۔
اسی طرح شہر خاص میں واقع حضرت میر سید علی ہمدانی ;231; کی خانقاہ معلی سمیت دیگرصوفی بزرگان دین کی زیارت گاہوں سے منسلک مساجد میں بھی ماہ رمضان کے دوران نمازیوں کی کافی بھیڑ رہتی تھی ،لیکن امسال ان عبادت گاہوں کے منبر ومحراب مکمل طور خاموش ہیں اور جمعتہ الوداع کو بھی صورتحال مختلف نہیں رہی ۔ وادی کے دیگر تمام ضلع و تحصیل صدر مقامات اور دیگر علاقہ جات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کسی بھی چھوٹی بڑی مسجد میں جمعتہ الوداع کو بھی نماز جمعہ ادا نہیں ہوئی ہے ۔
لوگوں نے گھروں میں ہی نماز ادا کی اور مسجدوں کی طرف جانے سے احتراز کیا ۔ متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر نے موجودہ صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ کووڈ ۔ 19کے گراف اور احتیاطی تدابیر کے پیش نظر شب قدر،جمعتہ الوداع اور نماز عید کی اجتماعی تقریبات انجام نہیں دی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ رمضان کے معمولات کے مطابق لوگ گھروں میں ہی انفرادی طور نمازوں ، ذکر و اذکار ، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات کا اہتما م کرےں ۔
ایک تحریری بیان کے مطابق متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر کے بنیادی اراکین اور اس میں شامل مقتدر دینی ادارے انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر ، مفتی اعظم جموں وکشمیر مفتی ناصر الاسلام ، مسلم وقف بورڈ جموں وکشمیر، جموں وکشمیر جمعیت اہلحدیث، دارالعلوم رحیمیہ ،جموں وکشمیر انجمن شریعت شیعان اور کاروان اسلامی جموں وکشمیر ، جموں وکشمیر اتحاد المسلین، انجمن تبلیغ الاسلام کے علاوہ اور دیگر دینی و ملی تنظیمات نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں مسلمانوں سے یہ اپیل کی تھی کہ موجودہ وبا کی سنگینی آئے روز بڑھتے ہوئے (کووڈ ۔ 19)کے گراف اور احتیاطی تدابیر کے پیش نظر شب قدر،جمعتہ الوداع اور نماز عید وغیرہ کی اجتماعی تقریبات انجام نہیں دی جائیں گی بلکہ رواں ماہ رمضان کے معمولات کے مطابق لوگ گھروں میں ہی انفرادی طور نمازوں ، ذکر و اذکار ، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات کا اہتما م کرےں ۔
مجلس علما نے موجودہ پُر آشوب حالات کے تناظر میں ایک دوسرے کی خاص طور پر ضرورتمندوں اور محتاجوں کی امداد و اعانت پر زور دیتے ہوئے لوگوں کو تلقین کی کہ دینی ،فلاحی اور امدادی اداروں کی بھر پور مالی معاونت کے ساتھ ساتھ صدقہ فطر جو امسال 55 روپے فی کس طے کیا گیا ہے اُسے سماج کے غریبوں اور محتاجوں تک پہنچا کر عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں ۔
علاوہ ازیں معذور حضرات جو روزہ رکھنے پر قادر نہیں ہےں وہ ایک روزے کے بدلے بطور فدیہ 50 روپے یومیہ کے حساب سے اللہ کے راستے میں خیرات کریں ۔ ماہ رمضان کے پیش نظر خاص کر جمعتہ الوداع کو جو بازاروں میں لوگوں کی بھیڑ ہوا کرتی تھی وہ بھی کلی طور پر مفقود ہے ۔ دریں اثناء جموں میں بھی لاک ڈاءون جار ی ہے اور یہاں بھی مسلم علاقوں میں مسلسل تیسرے جمعے کو بھی مساجد میں نما زجمعہ ادا نہیں کی گئی اور لوگوں نے گھروں میں بیٹھ کر ہی نماز جمعہ ادا کرنے کو ترجیح دی ۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
