تازہ ترین
عید پر بغلگیر ہونے اور مصافحہ کرنے سے اجتناب کیا جائے: علماء کرام
کشمیر میں لاک ڈاؤن کے سبب اس بار جہاں ماہ رمضان میں مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد رہی،وہیں جمعتہ الوداع کو خاموشی سے وداع کیا گیا جب کہ عید کی نمازیں بھی گھروں میں ادا کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ علماء کرام نے عید کے موقع پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس بار عید پر بغلگیر ہونے اور مصافحہ کرنے سے اجتناب کیا جائے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق عید الفطر اتوار یا سوموار کو وادی کشمیر میں منائی جائیگی،تاہم وادی کشمیر میں اس حوالے سے کوئی رونق نظر نہیں آرہی ہے۔
ہر سال عید کے موقعے پر مساجد،عید گاہوں کو ہفتہ بھر قبل ہی سجانے کا کام شروع ہوتا ہے جبکہ زیبائش کیلئے رضاکارانہ طور نوجوان بھی سامنے آتے تھے،لیکن امسال ایسا کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔پھیکی عید کے سبب عید گاہیں بھی ویران ہیں،جو موسم سازگار رہنے کی صورت میں عید نماز کے موقعے پر آباد رہتے تھے اور اگر موسم نا سازگار ہو تا،تو چھوٹی بڑی سبھی مساجد شکرانہ کی دو رکعت نمازادا کرنے کیلئے آباد ہوتی تھیں۔ وادی میں ماہ رمضان کے دوران مدارس و مساجد کی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہوتی تھی۔تاہم وبا کے خطرات و خدشات کے سبب یہاں اب سناٹا طاری ہے۔ کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں وادی کے بازاروں کی ویرانی وبا کے منفی اثرات کی عکاسی کررہی ہے وہیں لوگوں میں بھی روایتی جوش وخروش مفقود ہی نظر آرہا ہے۔
ادھر کل اتوار 24 مئی کو عالم اسلام میں عید الفطر منائی جا رہی ہے۔ اس بار عید الفطر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب مسلم ممالک سمیت پوری دنیا کرونا کی وبا کی لپیٹ میں ہے۔کرونا کی وبا کے نتیجے میں عالم اسلام کی عید کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ کرونا کی وجہ سے نہ تو بازاروں میں عید کی خریداری کی وہ پہلی سی چہل پہل ہے اور نہ دکانداروں کے پاس وافرق مقدار میں اشیاء موجود ہیں۔ لوگ معاشی خوف کی وجہ سے عید کی شا پنگ سے گریز کرتے ہیں۔3روز تک جاری رہنے والی عید الفطر کے موقعے پر مسلمان شہری دور دراز سے سفر کر کے اپنے خاندان سے ملنے جاتے ہیں۔ گھروں میں انواع و اقسام کے کھانے بنائے جاتے ہیں اور گھروں میں دن بھر مہمانوں کی آمد ورفت جاری رہتی ہے۔ مگر اس بار کروڑوں مسلمان گھروں میں بند ہونے کی وجہ سے عید کی خوشیوں سے فایدہ نہیں اٹھا سکھیں گے۔
ادھر عرب اور کئی مسلمان ممالک میں کل اتوار کے روزعید منائی جائے گی۔ مگر عالم اسلام اس وقت کرونا کی وجہ سے انتہائی مشکل سے دوچار ہوئے ہیں۔ مسلمان حکومتیں کرونا کی وبا کی روک تھام کے لیے کڑیاور مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔بعض عرب اور مسلمان ممالک نے عید الفطرکے موقعے پر لاک ڈاؤں میں نرمی کی ہے۔ تاہم مسلمان ممالک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کرونا کی وبا کے خطرے کے پیش نظر وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔مسلمان حکومتوں نے عوام الناس پر زور دیا ہے کہ وہ عید کی نمازیں اپنے گھروں میں ادا کریں اور میل جول میں سختی سے گریز کریں۔ سفر اور نقل وحرکت کو محدود رکھیں، بازاروں، ساحلوں، پارکوں، تجارتی مراکز اور تفریحی مقامت پر جانے سے گریز کریں۔اس دوران اگرچہ بازاروں میں لوگ اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لئے نظر آرہے ہیں لیکن روایتی چہل پہل اور گہماگہمی غائب ہے اور بیشتر دکانیں بند ہی ہیں۔ادھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو درپیش اقتصادی بحران کے بیچ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان پر بھی ہیں اور بازاروں میں ان کی عدم دستیابی بھی ہے۔
وادی میں یہ مسلسل دوسری عید ہے کہ لوگوں کو مالی مشکلات سے دوچار ہیں اور بازار سنسان ہیں۔ سال گذشتہ کے پانچ اگست کے بعد آنے والی عید الضحیٰ کے موقع پر بھی وادی کے بازاروں میں ویرانی ہی ویرانی تھی۔تجارت پیشہ لوگوں بالخصوص دکانداروں کا کہنا ہے کہ سال گذشتہ کے ماہ اگست سے لگاتار ہم بحران کے شکار ہیں اور اب حالات ایسے بن گئے ہیں کہ ہمارا دیوالیہ ہونا طے ہے۔سری نگر کے بازاروں میں تمام دکانوں بالخصوص کپڑے کے دکانوں، بیکری، مرغ فرشوں اور قصائیوں کے دکانوں پر جو بھیڑ ہوتی تھی وہ کلی طور پر غائبہے۔انہوں نے کہا کہ عید کی آمد کے پیش نظر گاڑیوں اور لوگوں کی بھیڑ کا عالم یہ ہوتا تھا کہ کہیں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی تھی اور پانچ منٹ کا فاصلہ طے کرنے میں آدھ گھنٹہ لگ جاتا تھا لیکن امسال ہر سو ویرانی ہی ویرانی ہے۔یاد رہے کہ متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر کے بنیادی اراکین اور اس میں شامل مقتدر دینی ادارے انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر، مفتی اعظم جموں وکشمیر مفتی ناصر الاسلام، مسلم وقف بورڈ جموں وکشمیر، جموں وکشمیر جمعیت اہلحدیث، دارالعلوم رحیمیہ،جموں وکشمیر انجمن شریعت شیعان اور کاروان اسلامی جموں وکشمیر، جموں وکشمیر اتحاد المسلین، انجمن تبلیغ الاسلام کے علاوہ اور دیگر دینی و ملی تنظیمات نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ انشاء اللہ مقدس ماہ رمضان کی برکت سے حضرت اللہ جل شانہٗ موجودہ مہلک اور موذی عالمی وبا (کووڈ۔19)سے دنیا اور انسانیت کو نجات عطا فرمائیں گے اور ماضی کی طرح زندگی کی مثبت سرگرمیاں شروع ہونگی۔
مجلس علماجموں وکشمیر نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی تھی کہ موجودہ وبا کی سنگینی آئے روز بڑھتے ہوئے (کووڈ۔19)کے گراف اور احتیاطی تدابیر کے پیش نظر شب قدر،جمعتہ الوداع اور نماز عید وغیرہ کی اجتماعی تقریبات انجام نہیں دی جائیں گی بلکہ رواں ماہ رمضان کے معمولات کے مطابق لوگ گھروں میں ہی انفرادی طور نمازوں، ذکر و اذکار، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات کا اہتما م کریں۔مجلس علما نے موجودہ پُر آشوب حالات کے تناظر میں ایک دوسرے کی خاص طور پر ضرورتمندوں اور محتاجوں کی امداد و اعانت پر زور دیتے ہوئے لوگوں کو تلقین کی کہ دینی،فلاحی اور امدادی اداروں کی بھر پور مالی معاونت کے ساتھ ساتھ صدقہ فطر جو امسال 55 روپے فی کس طے کیا گیا ہے اُسے سماج کے غریبوں اور محتاجوں تک پہنچا کر عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں۔علاوہ ازیں معذور حضرات جو روزہ رکھنے پر قادر نہیں ہیں وہ ایک روزے کے بدلے بطور فدیہ 50 روپے یومیہ کے حساب سے اللہ کے راستے میں خیرات کریں۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
