تازہ ترین
کیرالا کی کامیابی کو اہمیت کیوں نہیں دی گئی؟
آکر پٹیل
ملک کی کسی ریاست نے کووڈ۔۱۹؍ سے جنگ میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے تو وہ کیرالا ہے مگر افسوس کہ اس کی جدوجہد کو لائق اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر اس کا تذکرہ نہیں کیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے قومی سطح پر لاک ڈاؤن نافذ نہ کیا ہوتا تو مزید ۳۷؍ ہزار تا ۷۱؍ ہزار اموات ہوتیں۔ بعض مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن اور اس میں توسیع نہ کی گئی ہوتی تو وطن عزیز میں کورونا کے متاثرین کی تعداد ۱۴؍ لاکھ تا ۲۹؍ لاکھ ہوتی۔حکومت اور پھر نیتی آیوگ کے ایک رُکن نے اپنی انفرادی حیثیت میں اُس سلائیڈ کیلئے معذرت طلب کی ہے جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ ۲۴؍ اپریل تک کورونا کے کیسیز صفر کے قریب ہوجائینگے۔
اب نیتی آیوگ کے رُکن نے جمعہ کو کہا کہ ’’کسی نے یہ بات نہیں کہی کہ ایک خاص تاریخ تک کیسیز کی تعداد صفر کے قریب آجائیگی۔ شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔ اس غلط فہمی کیلئے مَیں معذرت خواہ ہوں۔‘‘
حکومت کووڈ۔۱۹؍ سے متعلق جو پریس کانفرنس کرتی ہے اس میں دو باتوں پر خاص توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد (جو بڑھ رہی ہے) اور دوسری بات یہ کہ اگر وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن کا سخت فیصلہ نہ کیا ہوتا تو اِس وقت پورا ملک ایک بڑی مصیبت میں گھرا ہوتا۔‘‘ معلوم ہوا کہ حکومت نئے مریضوں کی تعداد پر توجہ مرکوز نہیں کررہی ہے جبکہ کہا یہ جارہا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مریضوں کی تعداد کا اضافہ رُک جائیگا یعنی کورونا کے پھیلاؤ پر قابو پالیا جائیگا۔
ریکوری ریٹ (صحت یاب ہونے والوں کا تناسب) کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ متاثر ہوئے، پھر اُن کی جانچ ہوئی، وہ پازیٹیو نکلے اور کچھ وقت بعد جب اُن کی دوبارہ جانچ کی گئی تو ان کی رپورٹ نگیٹیو آئی۔ سنیچر کی صبح کو جب یہ سطریں ضبط تحریر میں لائی جارہی ہیں، ۱ء۲۵؍ لاکھ لوگ ایسے تھے جو کورونا پازیٹیو بتائے گئے جبکہ ریکور (صحت یاب) ہونےو الوں کی تعداد ۵۲؍ ہزار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصف سے کچھ کم تعداد ایسے مریضوں کی ہے جو شفا یاب ہوئے۔ عالمی سطح پر ۵۳؍ لاکھ لوگ متاثر ہوئے جن میں سے ۲۱؍ لاکھ صحت یاب ہوئے۔
اس مضمون نگار کی رائے یہ ہے کہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد قدرتی طور پر بڑھتی رہے گی تاوقتیکہ ۹۵؍ فیصد نہ ہوجائے۔ ممکن ہے ریکوری ریٹ اس سے بھی زیادہ ہوجائے۔ کیوں؟ اس لئے کہ کووڈ۔۱۹؍ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد فی الحال ۶؍ فیصد ہے۔ ان میں اکثریت اُن لوگوں کی تھی جو ضعیف العمر تھے اور مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔ یہ اطلاعات امریکہ اور یورپ کی ہیں۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، اب تک ہلاکتوں کی شرح ۳؍ فیصد ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ اگر حکومت کچھ نہ کرے تب بھی ۹۷؍ فیصد لوگ صحت یاب ہوجائینگے۔
یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ کووڈ۔۱۹؍ کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اس وائرس کی زد میں آجائے تو اُسے، اُس وقت تک انتظار کرنا ہوگا جب تک اس کے جسم میں وائرس کا اثر ختم نہ ہوجائے۔ مگرکوئی شخص ایک بار متاثر ہوکر ٹھیک ہوجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دوبارہ متاثر نہیں ہوگا۔ کئی ملکوں میں ’’ری انفیکشن‘‘ کے واقعات بھی بڑے پیمانے پر ہوئے۔ اس کے باوجود اگر حکومت ریکوری ریٹ یعنی صحت یاب مریضوں کی تعداد بتانے پر اصرار کرتی ہے تو اس کا یہ طریقۂ عمل سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ ریکوری، ۱۰۰؍ فیصد ریکوری نہیں ہوتی، بعض مریض دوبارہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔حکومت کا یہ طریقۂ عمل شاید عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش ہے۔
مسئلہ نئے کیسیز کا ہے او ریہ مسئلہ اِس وقت بھی ہے اور آئندہ دنوں اور ہفتوں میں بھی رہے گا۔ مئی میں نو متاثرین کی یومیہ تعداد ۲؍ ہزار تھی جو گزشتہ ہفتے ۴؍ ہزار تک پہنچ گئی۔ اس وقت ۶؍ ہزار ہے۔ کیرالا کے علاوہ کوئی ریاست ایسی نہیں ہے جہاں نئے کیسیز کی تعداد کم ہوئی ہو۔لاک ڈاؤن کے دوران جانچ کا سلسلہ جاری رہے گا اور ایسا لگتا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں تک کیسیز بڑھنے ہی کی اطلاع ملتی رہے گی (خدانخواستہ)۔
دیگر ملکوں میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا سوائے اُن ملکوں کے جہاں رضاکارانہ طور پر عوام احتیاط کرتے رہے، سماجی فاصلہ کو ملحوظ رکھا، بار بار صابن سے ہاتھ دھونے کی زحمت اُٹھائی، ماسک پہنا وغیرہ۔ جن ملکوں میں متاثرین کی تعدادایک لاکھ سے زیادہ ہے اُن کی تعداد ۱۱؍ ہے۔ ان میں برازیل، ہندوستان اور پیرو میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ امریکہ میں یومیہ ۲۰؍ ہزار تا ۳۵؍ ہزار نئے کیسیز سامنے آرہے تھے۔ پچھلے ۵۰؍ دن یہی ہوا۔اس ملک نے اب تک ۱ء۴؍ کروڑ ( ہر ۱۰؍ لاکھ لوگوں میں ۴۲؍ ہزار ) ٹیسٹ کئے ہیں۔ ہندوستان میں ہر ۱۰؍ لاکھ میں صرف ۲؍ ہزار کی جانچ ہوئی ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے ملک میں چونکہ ٹیسٹنگ ہی کم ہورہی ہے اس لئے کوئی نہیں جانتا کہ مزید کتنے لوگ کووڈ۔۱۹؍ سے متاثر ہیں؟
اب چونکہ ہمارے پاس کافی ڈاٹا موجود ہے اس لئے ہم شرح اموات دیکھ کر بھی کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گجرات میں ۱۳؍ ہزار لوگ متاثر ہوئے جبکہ ۸؍ سو کی موت ہوئی۔ یہ شرح اموات ملک کی مجموعی شرح سے دوگنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ریاست میں مزید ۱۳؍ ہزار ایسے ہوسکتے ہیں جو متاثر ہوں اور جنہیں علم نہ ہو کہ وہ متاثر ہیں۔چنانچہ ایک خدشہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ جنہوں نے دفاتر جانا شروع کردیا ہے اور وہ سارے مزدور جو پیدل چل کر اپنے علاقوں کی طرف لوٹ گئے، ان کی وجہ سے متاثرین کی تعدادبڑھ سکتی ہے۔ اس کی و جہ سے یومیہ اوسط بڑھے گا، نقطۂ عروج تک پہنچے گا اور پھر کم ہونا شروع ہوگا جیسا کہ ہم نے امریکہ، اٹلی اور برطانیہ میں دیکھا۔ دراصل حقیقی پیمانہ یہ دیکھنا ہے کہ کتنے نئے کیسیز آتے ہیں۔ پیمانہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کتنے لوگ اچھے ہوگئے اور یہ بھی نہیں کہ کتنے لوگوں کو بچا لیا گیا۔
رہا یہ سوال کہ یومیہ نئے متاثرین کا اوسط کیسے کم ہوسکتا ہے؟ تو اس سوال کا جواب کیرلا سے پوچھنا چاہئے۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں مارچ میں (جبکہ کورونا پھیلنا شروع ہوا تھا) سب سے زیادہ کیسیز تھے مگر اب وہاں کے متاثرین کی تعداد صرف ۱۷؍ ہے۔ اس ریاست کی کامیابی کا اعتراف کئی بیرونی ملکوں نے کیا ہے مگر ہمارے وزیر اعظم نے ایک بار بھی اس کامیابی کو لائق اعتناء نہیں سمجھا۔کورونا سے لڑائی میں اس ریاست نے جو کچھ بھی کیا وہ ملک کی تمام ریاستوں کیلئے مشعل راہ ہے۔
ہم میں سے بھی بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ کیرالا نے آخر ایسا کیا کیا ہے جو گجرات، مہاراشٹر اور دہلی جیسی ریاستیں نہیں کرپارہی ہیں۔ اس لاعلمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرکزی حکومت نے کیرالا کی جدوجہد کو اہمیت نہیں دی اور اسے رول ماڈل تسلیم نہیں کیا۔
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
واشنگٹن، امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔
حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔
پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔
امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا.
پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر23 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
