تازہ ترین
بھائی چارہ کے ایسے واقعات دل کو چھو لیتے ہیں
رام پنیانی
حالیہ دنوں میں ہندوستان کورونا کی وبا اور اس سے صحیح ڈھنگ سے نہ نمٹنے کے نتائج سے جوجھ رہا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وبا کو ایک خاص طبقہ کے لوگوں کو بدنام کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔
نفرت پھیلانے والے یہ لوگ ٹی وی اور سوشل میڈیا کے طاقتور میڈیم کا استعمال کررہے ہیں جس نے فیک نیوز کا سہارا لے کر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت کو شدید تر کردیا ہے۔ اس وسیع تر تناظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے بیچ بھائی چارہ جیسے ختم ہونے کو ہے۔ ان سب باتوں سے پرے اس وقت خوشی کا احساس ہوتا ہے جب مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کی مدد کو آگے آتے ہیں ۔
اس تعلق سے سب سے زیادہ دل کو چھو‘ لینے والی خبر امرت اور فاروق کی سامنے آئی۔ وہ ایک ٹرک میں سورت سے یوپی کی جانب سفر کر رہے تھے۔ راستے میں امرت بیمار ہوگیا۔ دیگر مسافروں نے اسے رات کے اندھیرے میں ہی ٹرک سے اترنے کیلئے کہا۔ اُسے تنہا نہ چھوڑتے ہوئے اس کا دوست فاروق بھی ٹرک سے اُتر گیا ۔ فاروق نے بیمار امرت کا سر اپنی گود میں رکھ لیا اور مدد کیلئے پکارنےلگا۔ اس کی وجہ سے دوسروں کی توجہ اس کی طرف گئی اور ایک ایمبولنس امرت کو اسپتال لے گئی۔
ایک اور واقعہ میں ایک مزدور کا بچہ معذور تھا، اس لئے کسی کی سائیکل لے گیا لیکن اپنے پیچھے ایک خط چھوڑ گیا جس میں دل کو چھونے والے الفاظ میں معافی مانگتے ہوئے کہاکہ وہ مجبور ہے کہ اسے اپنے معذور بچے کے ساتھ سفر کرنا پڑرہا ہے جو چل نہیں سکتا، لیکن اس کےپاس کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ کئی لوگوں نے کہا کہ سائیکل چوری کی شکایت درج کرانی چائے لیکن سائیکل مالک پربھو نے نہیں ایسا نہیں کیا۔ جس نے سائیکل لی تھی وہ محمد اقبال خان تھا۔
سیوڑی، ممبئی میں پانڈورنگ ابالے نامی معمر شہری اپنی عمر اور دیگر مسائل کے سبب انتقال کرگیا۔ لاک ڈائون کی وجہ سے اس کے قریبی افراد آخری رسومات کا انتظام نہیں کرسکے۔
ایسے وقت میں اس کے مسلم پڑوسی آگے آئےاور اس کی آخری رسومات ہندو رسم و رواج کے مطابق ادا کیں ۔ اسی طرح کے واقعات بنگلورو اور راجستھان میں بھی پیش آئے ہیں ۔ تہاڑ جیل میں ہندو قیدیوں نے مسلمانوں کے ساتھ روزہ رکھا جبکہ پونے کے اعظم کیمپس میں موجود مسجد اور منی پور میں ایک چرچ کو قرنطینہ مرکز میں تبدیل کردیا گیا۔
خیرسگالی کے ایسے ہی ایک واقعے کے تحت ایک مسلم لڑکی نے ہندو گھر میں پناہ لی تو میزبان رات کو اٹھ کر اس کیلئے سحری تیار کرتے تھے۔
ایسے ہی بے شمار واقعات وقوع پذیر ہورہے ہونگے جن پر نہ کسی کی توجہ گئی اور نہ انہیں کوئی بیان کررہا ہے۔ کورونا کے پھیلائو کو کورونا بم اور کورونا جہاد تک کہہ کر اس کے نام پر فرقہ پرستی شروع ہوئی تو ایسا لگ رہا تھا کہ فرقہ پرست اپنے منصوبے میں پوری طرح کامیاب ہوگئے ہیں لیکن لوگوں کے دلوں اندرونی تہوں میں موجود انسانیت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ بھلے ہی سیاسی ایجنڈے کے تحت کوئی کتنا بھی نفرت پھیلالے لیکن صدیوں پرانی بھائی چارگی کو ختم نہیں کیا جاسکے گا کہ یہی اصل ہندوستان ہے۔
ہندوستانی ثقافت کی جڑیں مذہبی رواداری میں پیوست ہیں جو مختلف حوالوں سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں ۔ عہد وسطیٰ جسے سب سے زیادہ بدنام کیا گیا ہے اور جیساکہ کئی فرقہ پرست نظریات کے حامل افراد اس دور کو ہندوئوں کے متاثر ہونے کا دور قرار دیتے ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسی دور میں بھکتی روایات پروان چڑھی ہیں اور ہندوستانی زبانوں میں ادب کو فروغ بھی اسی دور میں حاصل ہوا ہے۔
یہاں تک کہ فارسی جو کہ درباری زبان تھی، اودھی سے رابطہ میں آئی اور ایک نئی زبان اُردو وجود میں آئی، جو کہ خالص ہندوستانی زبان ہے۔
تلسی داس خود اپنی سوانح حیات ’کویتائولی‘ میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک مسجد میں سوتے تھے۔ جہاں تک ادب کا معاملہ ہے کئی مسلم شاعروں نے ہندو دیوی دیوتائوں کی تعریف میں عمدہ شاعری کی ہے۔ بھگوان شری کرشن کی مدح میں رحیم اور رسخان کا عمدہ کلام کون بھول سکتا ہے۔
کھانے پینے کی عادتیں ، لباس کی عادتیں اور سماجی زندگی ان دونوں مذاہب ہی کی اقدار سے مستعار ہے۔ عیسائیت کی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی ہندوستانیوں کی زندگی میں نظر آتی ہیں ۔ یہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے گہرے تعلقات کی ہی علامت ہے کہ مسلمان کبیر جیسے بھکتی سنتوں کو مانتے ہیں اور کئی ہندو، صوفی سنتوں کی درگاہوں پر حاضری دیتے ہیں ۔
ایک دوسرے سے رابطے کی علامتیں ہندی فلموں میں بھی نظر آتی ہیں ۔ یہاں بھی آپ ہندوئوں کے نقطۂ نظر سے مقدس تصور کئے جانے والے کئی گیت ایسے ہیں جو مسلمانوں نے تیار کئے ہیں ۔ ان میں سے میرا سب سے پسندیدہ گیت آج بھی ’من تڑپت ہری درشن کو آج‘ ہے جسے شکیل بدایونی نے لکھا، اس کی موسیقی نوشاد علی نے ترتیب دی اور اسے محمد رفیع نے گایا ہے۔ رفیع صاحب نے لاتعداد بھکتی گیت گائے ہیں ۔
ہماری جنگ آزادی میں انگریزوں کی تقسیم کی سیاست کے باوجود مسلمانوں اور ہندوئوں نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو جمع کیا اور نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف جنگ لڑی۔ کئی ادبی شخصیات نے مختلف فرقوں کے لوگوں کے اتحاد کا نہایت ہی عمدہ مرقع پیش کیا ہے۔
جنگ آزادی کے دوران اور اس کے بعد جبکہ فرقہ پرستی کی آگ بھڑک رہی تھی گنیش شنکر ودیارتھی جیسے لوگوں اور مہاتما گاندھی جیسی قدآور شخصیت نے اپنی ان تھک کوششوں سے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کی، انہی کوششوں کے سبب فرقہ پرست طاقتوں کی نفرت پروری کے باوجود ہندو اور مسلمانوں نے راحت کی سانس لی۔
یہاں پر۲؍ دوستوں کی کوششیں یاد آرہی ہیں جنہوں نے نفرت کی آگ کے خلاف اپنی زندگی دائو پر لگادی۔ گجرات میں وسنت رائو ہگستے اور رجب علی کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا جنہوں نے اپنی زندگی بھائی چارگی بحال کرنے کیلئے وقف کردی۔
یہ تعلقات بہت گہرے ہیں لیکن موجودہ حکومت ہماری ثقافت پرمسلم یا اسلامی اثرات کوبرداشت نہیں کرسکتی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ شہروں کے نام تبدیل کئے جارہے ہیں جیسے کہ فیض آباد، ایودھیا ہوگیا، مغل سرائے، دین دیال اپادھیائے ہوگیا، وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے سماج میں مختلف فرقوں کے بیچ تعلقات بہت گہرے ہیں ۔ کورونا بحران کے دوران سامنے آنے والے واقعات اس حقیقت کے عکاس ہیں اور ملک کے شہریوں کو یہ سمجھانے کیلئے کافی ہیں کہ ہم ہمیشہ سے مل جل کر رہتے آئے ہیں اور ہماری ترقی و کامیابی مل جل کر رہنے ہی میں پوشیدہ ہے
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان5 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
