تازہ ترین
جنوبی کشمیر کے 3 اضلاع میں جنگجو مخالف آپریشنز
نیپورہ کولگام میں جھڑپ،2مقامی جنگجو جاں بحق
ترال،شوپیان میں محاصرے،طرفین کے ما بین گولیوں کا تبادلہ، جنگجوفرار،بانڈی پورہ میں سرنگ ناکارہ
کولگام،شوپیان،ترال،بانڈی پورہ: جنوبی کشمیر کے تین اضلاع کولگام،پلوامہ اور شوپیان میں فوج وفورسز نے سنیچر وار کو جنگجو مخالف آپریشنز عمل میں لائے،جس دوران ضلع کولگام کے نیپورہ نامی گاؤں فوج وفورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں 2جنگجو جاں بحق ہوئے۔
اس دوران علاقے میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس کو معطل کر دیا۔ادھر جنوبی کشمیر کے گلاب باغ ترال اور شوپیان کے علاقے میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا، جس دوران2 مقامات سے جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ادھر بانڈی پورہ میں پولیس نے ایک سرنگ کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق فوج کے 19آر آر،ایس او جی اور سی آر پی ایف اہلکاوں نے مشترکہ طور جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں قاضی گنڈ کے ساتھ آنے والے نپورہ نامی گاؤں میں جنگجوؤں کی موجود گی کے حوالے سے ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سنیچر کی صبح محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی عمل میں لائی۔ذرائع کے مطابق جب فورسز اس جگہ پر پہنچی جہاں انہیں جنگجوؤں کے چھپنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی،تو علاقے میں موجود جنگجوؤں کیساتھ اُن کا آمنا سامنا ہوا۔ذرائع کے مطابق فوج اور فورسز نے لاوڈ اسپیکر کے ذریعے سے جنگجوؤں کو خود سپردگی کی پیشکش کی۔
تاہم جنگجوؤں نے پیشکش کو ٹھکرا کر فرار ہونے کی کوشش کی جس دوران یہاں گولیوں کا ایک مختصر تبادلہ ہوا۔ طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں 2مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے۔ پولیس نے کہا کہ دو جنگجوؤں کی لاشوں کو جائے جھڑپ سے برآمد کیا گیا۔ابتدائی فائرنگ کے فوراً بعد انتظامیہ نے علاقے میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کر دیا۔ جھڑپ میں جاں بحق ہوئے دونوں جنگجوؤں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں جنگجو مقامی ہیں۔
جموں کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کولگام کے نپورہ میں ہفتہ کی علی الصبح چھڑنے والے مسلح تصادم میں دو جنگجو جاں بحق ہوگئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہلوک جنگجوؤں ں کی شناخت معلوم کی جارہی ہے۔سری نگر میں قائم فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان نے بتایا کہ خفیہ اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے نپورہ کولگام میں آج علی الصبح کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا۔
انہوں نے کہا کہ طرفین کے درمیان چھڑنے والے مسلح تصادم میں دو جنگجو مارے گئے، جن کے قبضے سے دو پستول اور تین گرینیڈ بر آمد کئے گئے۔یہ جنوبی کشمیر میں رواں ہفتے چلایا جانے والا چوتھا جنگجو مخالف آپریشن تھا۔ قبل ازیں 7، 8 اور 10جون کو بالترتیب ضلع شوپیان کے ربن، پنجورہ اور سگھو ہندہامہ نامی علاقوں میں 14 جنگجو مارے گئے تھے۔
ادھر جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال کے گلاب ترال میں فوج، پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے مشترکہ طور پرجنگجو مخالف آپریشن عمل میں لیا۔فورسز نے جنگجوؤں کی موجود گی کے حوالے سے اطلاع موصول ہونے کے بعدسنیچر کے صبح سویرے بستی کو محاصرے میں لیا ہے جس دوران مقامی آبادی کے مطابق علاقے میں گولیاں چلنے کی آواز یں سنی گئیں جس کے نتیجے میں تمام لوگ نیند سے بیدار ہوئے۔
فورسز نے واقعے کے فوراْ بعد وسیع علاقے کو محاصرے میں لیا اور جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔بتایاجاتا ہے کہ اس واقعے میں جنگجو فرار ہونے میں کا میاب ہوئے۔
ادھر فورسز نے متعدد گاؤں دیہات کو محاصرے میں لے کرمفرور جنگجوؤں کی تلاش شروع کی،تاہم بعد میں علاقے سے کوئی بھی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی۔
دریں اثنا پہاڑی ضلع شوپیان میں فورسز نے علاقے کے باغات میں جنگجوؤں کے چھپنے کے حوالے سے ایک مصدقہ اطلاع حاصل کی جس کے بعد فوج،سی آر پی ایف اور پولیس کی بھاری تعداد علاقے میں پہنچی جس دوران باغ میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ذرائع نے بتایا ابتدائی فائرنگ کے بعد علاقے میں خاموشی چھائی ہوئی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ جنگجو یہاں سے بھی فرار ہوئے۔اس رپورٹ کو فائل کرنے تک علاقے میں طرفین کے مابین دوبارہ آمنا سامنا ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ادھرشمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں ہفتہ کی صبح سیکورٹی فورسز نے بانڈی پورہ۔
سری نگر شاہراہ پر گامرو لاؤ ڈارہ کراسنگ کے قریب نصب ایک آئی ای ڈی بم کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کردیا۔پولیس ترجمان کے مطابق کراسنگ بانڈی پورہ سرینگر قومی شہرہ سڑک پر گشت پر معمور سی آر پی ایف بٹالین کی پارٹی نے ایک مشکوک مادے کو دیکھا۔ متذکورہ علاقے کو مشترکہ طور پر فورسز نے فوری طور پر سربمہر کر کے ٹریفک کی نقل و حرکت پر روک لگادی۔
بم ناکارہ بنانے والی پولیس اور آرمی کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی کراس دھماکہ خیز مادے کی جانچ کرنے کے بعد بم ناکارہ بنانے والی پولیس، سی آر پی ایف اور آرمی کی ٹیم نے مشکوک مادے کو بغیر کسی نقصان کے ناکارہ بنادیااور بعد میں ٹریفک کی نقل و حرکت بحال ہوئی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ دھماکہ خیز مادے کو اس علاقے سے گزرنے والے حفاظتی دستوں کے قافلے کو نشانہ بنانا مطلوب تھا، جس کو پولیس اور سیکو رٹی فورسز نے کامیابی سے ناکارہ بنایا۔ تھانہ پولیس بانڈی پورہ نے اس سلسلے میں کیس زیر ایف آر نمبر61/2020 متعلقہ دفعات کے تحت درج کرکے اس سلسلے میں مذید تحقیقات شروع کردی۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
