تازہ ترین
سلام انسانیت کے محافظو سلام

مصنف:الطاف جمیل ندوی
دنیا میں اب ایک کلچر سا بن گیا ہے کہ کسی کی خدمات کے اعتراف کے بطور ہم اسے یادگار بنانے کے لئے ایک دن مقرر کر جائیں جو کسی خاص شعبہ سے وابستہ محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مخصوص ہو آج کل وبائی آفت کی اس مارا ماری صورت حال جس کے خوف سے کلیجہ منہ کو آتا ہے اس کڑے وقت میں جو طبقہ سب سے آگئے کھڑا ہے آہنی زندگی آرام و سکون کو بلا کر اپنے گھر سے دور اپنے بچوں کی کلکاریاں سننے کو ترسنے کے باوجود اپنے کام میں مگن ہے وہ ہے شعبہ طب سے وابستہ طبی عملہ جو اپنی خدمات کو انجام دیتے ہوئے اپنی زندگیوں سے بھی کچھ اطباء اور نیم طبی عملہ کہی ایک جگہوں پر ہاتھ دھو بیٹھے ہیں آج کے دن کی مناسبت سے ہم نے بھی سوچا چلو انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے کیوں کہ آج ڈاکٹروں کا قومی دن منایا جارہا ہے۔ انسانیت کے لئے ڈاکٹروں اور Physicians کی کڑی محنت پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ہر سال پہلی جولائی کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس سال Doctor’s Day کا موضوع ہے ”کووڈ19سے ہونے والی ہلاکتوں کو کم کرنا“۔
آج جبکہ پوری دنیا کورونا وائرس وبا کے خلاف لڑ رہی ہے‘ ڈاکٹروں کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ دن اُن تمام ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرنے کیلئے ہے‘ جو اپنی صحت پر اپنے مریضوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں اور چوبیس گھنٹے انہیں طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا پہلا قومی دن جولائی 1991 میں منایا گیا تھا۔ بھارت میں یہ دن ڈاکٹر Bidhan Chandra Roy کی سالگرہ کے ساتھ ساتھ برسی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر Roy بھارت کے مشہور ڈاکٹر اور مغربی بنگال کے سابق وزیراعلیٰ تھے وبا کے چلتے ڈاکٹر صاحبان اور نرسز نے جو ان تھک محنت کی اس کا صلہ ہم انہیں کہاں دے پائیں گئے صلہ رب الکریم کے پاس ہے انکی محنت ان کی کاوشوں کا کسی نے کیا خوب کہا ہے
Some heroes don’t wear caps, we call them doctors
کسی نامعلوم شخص کی طرف سے ڈاکٹرز کی شان میں کہا گیا یہ یک سطری جملہ ایسا ہے جسے ہم سب اپنی زندگیوں میں کبھی نہ کبھی محسوس کرتے ہیں۔ بے شک ڈاکٹرز ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک، دونوں واقعات کی تصدیق یہی کرتے ہیں۔ مرض کیسا ہی خطرناک کیوں نہ ہو، اللہ کے حکم سے یہ ڈاکٹرز ہی ہیں جو علاج کرکے ہمیں شفایاب کرتے ہیں۔ یہ بے غرض لوگ ہیں جو ہم سب کے فائدے کےلیے اس خطرناک وبا کے دنوں میں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے پیاروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
دنیا بھر کے مختلف ممالک مختلف تاریخوں میں ڈاکٹرز کا دن مناتے ہیں تاکہ ان فرشتوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ مگر سال 2020 میں اس وبا کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اس دوران اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے بعد یہ مستحق ہیں کہ کسی خاص دن نہیں بلکہ ہمیشہ ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے اور ان کا شکریہ ادا کیا جائے
قومی یومِ اطباء
اگر چہ ہمارے ہاں ان Anniversaries کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ہو بھی کیونکر جب کہ ہم ایک ایسی امت کے اجزائے تراکیبی ہیں جس کا مقصدِ وجود ہی پوری کائنات کی بھلائی ہو۔ہمیں ایک ایسے بلند و بالا نصب العین سے متصف کیا گیا کہ رہتی دنیا تک ہم ہی مِشعَلِ راہ بننے کے اہل ہیں ہمیں کہا گیا کہ،کنتم خیر امة اخرجت للناس، گویا سارے جہاں کا درد ہمارے سینوں میں بھردیا گیا اور اب ہم ہی ہیں جو اس کا درماں تلاش کریں لیکن اس مطلب یہ نہیں کہ ہم قوم کے ان جانبازوں کو کسی مقام کے قابل نہ سمجھیں مشکل حالات میں اپنی جانوں کو بے خطر آزامئشوں کی بٹھیوں میں یہ جان کر بھی ڈالتے ہیں کہ وہ شاید اپنی عزیز جانوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔ہمیں اپنے آقا صلى الله عليه و سلم نے صاف صاف یہ بات سکھادی کہ اہلِ زمین کے احسانات کبھی فراموش نہ کرنا۔
تو یہی ہے وہ بات جس کی بدولت جب آج اقوامِ غیر اپنے اطباء کو ان کی جانفشانی کے عوض یاد کرتے ہیں تو ہمیں تو بدرجہء اولیٰ یہ فریضہ انجام دینا ہے کہ اپنے ان عظیم لوگوں کو شاباشی دیں ان کی پیٹھ تھپتھپائیں جو آج کے ان ناگفتہ بہ حالات میں اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر انسانیت کو اس عالمی وباء سے بچانے کے لئے دن رات کوشش کرتے ہیں۔
مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہے کہ ہم ان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکاپائے بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ان کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں کہی بار ہم نے انہیں خون کے آنسو رلایا ہے اور ان کے احسانات کا وہ صلہ دیا کہ یہ ہی نہیں بلکہ ہر صاحب فہم شرم سار ہوگیا اور ہمارے لئے سوہان روح بن گیا کئی بار ان کے بچے آنسو آنکھوں میں سجا کر کہتے ہیں بابا مت جائیں آج پر یہ اپنے فرائض کے تئیں ہلکی سی غفلت کے بھی روادار نہیں ہوتے ہمارے ہاں تو اس کی اور زیادہ افادیت بڑھ جاتی ہے جب یہ ہڑتال ہو کرفیو ہو یا کتنے بھی نامساعد حالات ہوں اپنے گھروں سے نکل جاتے ہیں تو ان کے اہل خانہ انتہائی غم و اندوہ کی حالت میں ان کی واپسی کے لئے پریشان رہتے ہیں آج اس وبائی صورت حال میں ہمارے عزیز محترم جہانگیر احمد ندوی حفظہ اللہ اپنے چھوٹے بھائی کے تجربات بتاتے ہیں جو اپنی آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں بیان کرتے ہیں ندوی صاحب کہتے ہیں کہ
مجھے اپنے چھوٹے برادر کے توسط سے یہ تکلیف دہ معلومات حاصل ہوئی کہ Isolation Wards میں تعینات طبی و نیم طبی عملہ اپنی پہچان اس خوف سے مخفی رکھتے ہیں کہ کہیں ان کے عزیز و اقارب کے ساتھ لوگ ناروا سلوک نہ کریں بہت افسوس ہوا یہ سن کر کہ ہم کس قدر گرچکے ہیں کہ اپنے محسنوں کو احسان کے بدلہ اپنی شناخت چھپانی پڑھ رہی ہے کیسی عبرت ناک صورت حال ہے کہ ہم اپنے ہی محسنون کے تئیں بجائے ان کی دلیری و جرآت کا اعتراف کرتے ان سے کچھ ایسا وطیرہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ ہم سے خوف محسوس کرتے ہیں اس وبا کے چلتے تو ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہئے تھا پر ہم واقف ہیں کہ کہی ایک مقامات پر ڈاکٹر حضرات کو گالی گلوچ سے بھگایا گیا اور ان کی تذلیل کی گی
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے لئے آہنی کلیجہ بنانے والے ان اطباء حضرات اور نیم طبی عملہ کو اس نازک مرحلہ پر ساتھ دیں ان کی ہمت باندھیں ان کی کمر تھپتھپائیں اور انہیں سلامِ عزیمت و عقیدت پیش کریں تاکہ فہ فخر کے ساتھ سر اُٹھاکر انسانیت کو اس وبا سے باہر نکالنے کے لئے کام کرسکیں اور انہیں فخر محسوس ہو کہ ہم واقعی قوم کی امیدوں پر کھرےاترے ہیں چین جہاں اس وبا کی ابتداء ہوئی ایسی بھی تصاویر سامنے آئیں کہ ڈاکٹر لوگ جب اپنے گھروں کو روانہ ہوئے تو انہیں ملائیں پہنائیں گئی مختلف ممالک میں ان کے جرآت مندانہ اقدامات کے اعتراف کرتے ہوئے ان کی عزت افزائی کے لئے مختلف طریقوں سے انہیں احساس دلایا گیا کہ واقعی آپ سب قوم کے سب سے پیارے ہو
یہاں لوگ صرف غیض و غضب کرنا اچھا سمجھتے ہیں مانا کہ اس شعبہ سے وابستہ عملہ جو ہے ان میں بھی ہزاروں خامیاں ہیں پر یہ کیا کم ہے کہ اپنی زندگی اپنی خوشیاں اپنے گھریلو معاملات کو بلا کر یہ آج کھڑے ہیں یہ آج پوری جرآت سے اس مصیبت میں کام کر رہے ہیں ہمیں شکایت ہوسکتی ہے ان خونی بھیڑیون سے جو اس عظیم شعبہ سے وابستہ ہوکر اپنی دنیا بنانے میں مگن ہیں پر ہم نے بھی دیکھا ہوگا کہ کچھ اطباء حضرات ایسے بھی ہیں جنہیں دیکھ کر یا جن کو سن کر ہی سکون سا آتا ہے کہ یہ ضروری میرے مرض کا علاج کرے گا جنہوں نے کٹھن اور صبر آزما حالات میں بھی اپنے کام کے تئیں غفلت نہیں کی ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بھی اپنے بیمار کی موت پر بھیگ جاتی ہیں جب یہ علاج و معالجہ کے سلسلے میں انتھک محنت کرکے کہتے ہیں NO MORE تو یقین کریں سب سے زیادہ دکھ انہیں کو ہوتا ہے کیونکہ یہ زندگی کے آخری مرحلہ پر اس بیمار کو بچانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کردیتے ہیں اور اس کے کرب کو انہیں لمحات میں جان کر اپنی مقدور بھر کوشش کرنے کے باجود بھی جب بیمار زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے تب ان کی بے بسی ان کی بے کسی قابل دید ہوتی ہے اور NO MORE کہنا ان کے لئے سب سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے اور سر جھکا کر سامنے سے گزر جاتے ہیں جیسے سب سے بڑے گناہگار یہی ہوں
چلئے ہم ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لئے انہیں ایک بار دل سے سلام کہتے ہیں ان کے ہاتھ چوم لیتے ہیں کہ آئے مسیحا جا اللہ تیری دنیا و آخرت تیرے لیے وجہ تسکین قلب و جگر بنا دے
سلام اے انسانیت کے محافظو سلام
آج میری طرف سے اپنے ان محسنوں کے نام
آج دل میں اک ہوک سی اٹھی یہ سوچ کر سوچا
کہ ارے کون لوگ ہیں یہ اتنی بڑی بڑی ڈگریاں لے کر
بھی اسپتال میں بیمار کو سہارا دیتے ہیں
کیا یہ بہت غریب ہیں کہ انہیں جیب خرچ بھی نہیں
کیا انہیں کھانے کو بھی کچھ ملتا نہیں
کیسے لوگ ہیں یہ دو پیسوں کے لئے موت سے آنکھیں ملا رہے ہیں انہیں کیا ڈر نہیں لگتا کیا انہیں اپنوں کی یاد نہیں آتی ان کے بچے نہیں ہیں کیا کیا ان کا دل نہیں ہے جو بچنے کی خواہش نہیں مچلتی
یہ اپیلیں کر کیوں رہے ہیں خود گھروں میں کیوں نہیں رہتے یہ کیا بات ہوئی خود اسپتال میں پیسہ کما کر ہمیں گھر رہنے کا کہہ رہے ہیں یہ کیا بات ہوئی اسپتال میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ دعوتیں اڑا رہے ہیں
تو یاد آیا
اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو
یہ ہمارے اصلی ہیرو ہیں
یہ ہمارے اصلی جانباز ہیں
یہ ہمارے اصلی خیر خواہ ہیں
ان کے دل میں پر صرف اپنوں کے لئے نہیں دڑھکتے
بلکہ انسانیت کے لئے
ان کے ارمان بھی مچلتے ہیں جینے کے پر یہ اپنے ارمان دفن کردیتے ہیں
یہ ذرق برق لباس کا شوق تو رکھتے ہیں پر بیمار کے لئے ہلکا پھلکا ہی ہیں لیتے ہیں
انہیں بھوک لگتی ہے پر مریض کو دیکھ کے ہی مر جاتی ہے
یار
دل کرتا ہے آج تک سیلوٹ کرنا نہیں سیکھا
پر دل سے انکو سیلوٹ کرنے کو جی چاہتا ہے
کیوں کہ اب انہوں نے دل میں جگہ بنا لی ہے
تم جیو اس مشکل وقت میں
پوری قوم تمہارے لئے دعا گو ہے
تم جیت جاؤ یہ بازی
ہزاروں نگاہیں منتظر تک رہی ہیں
سلام تمہاری ہمت و شجاعت کو یہ دل تم پر قربان ہوئے جارہا ہے آئے ملت کے خیر خواہو تم سلامت رہو
اب میرے
دوستو پلیز
سب کے سب
انہیں ایک سیلوٹ دل سے ہی کردو
کومنٹ میں کسی ساتھی ڈاکٹر کو ایڈ کرکے
دل سے سلام و سیلوٹ کرے
(بشکریہ الطاف جمیل ندوی )
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
