تازہ ترین
سلام انسانیت کے محافظو سلام

مصنف:الطاف جمیل ندوی
دنیا میں اب ایک کلچر سا بن گیا ہے کہ کسی کی خدمات کے اعتراف کے بطور ہم اسے یادگار بنانے کے لئے ایک دن مقرر کر جائیں جو کسی خاص شعبہ سے وابستہ محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مخصوص ہو آج کل وبائی آفت کی اس مارا ماری صورت حال جس کے خوف سے کلیجہ منہ کو آتا ہے اس کڑے وقت میں جو طبقہ سب سے آگئے کھڑا ہے آہنی زندگی آرام و سکون کو بلا کر اپنے گھر سے دور اپنے بچوں کی کلکاریاں سننے کو ترسنے کے باوجود اپنے کام میں مگن ہے وہ ہے شعبہ طب سے وابستہ طبی عملہ جو اپنی خدمات کو انجام دیتے ہوئے اپنی زندگیوں سے بھی کچھ اطباء اور نیم طبی عملہ کہی ایک جگہوں پر ہاتھ دھو بیٹھے ہیں آج کے دن کی مناسبت سے ہم نے بھی سوچا چلو انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے کیوں کہ آج ڈاکٹروں کا قومی دن منایا جارہا ہے۔ انسانیت کے لئے ڈاکٹروں اور Physicians کی کڑی محنت پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ہر سال پہلی جولائی کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس سال Doctor’s Day کا موضوع ہے ”کووڈ19سے ہونے والی ہلاکتوں کو کم کرنا“۔
آج جبکہ پوری دنیا کورونا وائرس وبا کے خلاف لڑ رہی ہے‘ ڈاکٹروں کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ دن اُن تمام ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرنے کیلئے ہے‘ جو اپنی صحت پر اپنے مریضوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں اور چوبیس گھنٹے انہیں طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا پہلا قومی دن جولائی 1991 میں منایا گیا تھا۔ بھارت میں یہ دن ڈاکٹر Bidhan Chandra Roy کی سالگرہ کے ساتھ ساتھ برسی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر Roy بھارت کے مشہور ڈاکٹر اور مغربی بنگال کے سابق وزیراعلیٰ تھے وبا کے چلتے ڈاکٹر صاحبان اور نرسز نے جو ان تھک محنت کی اس کا صلہ ہم انہیں کہاں دے پائیں گئے صلہ رب الکریم کے پاس ہے انکی محنت ان کی کاوشوں کا کسی نے کیا خوب کہا ہے
Some heroes don’t wear caps, we call them doctors
کسی نامعلوم شخص کی طرف سے ڈاکٹرز کی شان میں کہا گیا یہ یک سطری جملہ ایسا ہے جسے ہم سب اپنی زندگیوں میں کبھی نہ کبھی محسوس کرتے ہیں۔ بے شک ڈاکٹرز ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک، دونوں واقعات کی تصدیق یہی کرتے ہیں۔ مرض کیسا ہی خطرناک کیوں نہ ہو، اللہ کے حکم سے یہ ڈاکٹرز ہی ہیں جو علاج کرکے ہمیں شفایاب کرتے ہیں۔ یہ بے غرض لوگ ہیں جو ہم سب کے فائدے کےلیے اس خطرناک وبا کے دنوں میں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے پیاروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
دنیا بھر کے مختلف ممالک مختلف تاریخوں میں ڈاکٹرز کا دن مناتے ہیں تاکہ ان فرشتوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ مگر سال 2020 میں اس وبا کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اس دوران اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے بعد یہ مستحق ہیں کہ کسی خاص دن نہیں بلکہ ہمیشہ ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے اور ان کا شکریہ ادا کیا جائے
قومی یومِ اطباء
اگر چہ ہمارے ہاں ان Anniversaries کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ہو بھی کیونکر جب کہ ہم ایک ایسی امت کے اجزائے تراکیبی ہیں جس کا مقصدِ وجود ہی پوری کائنات کی بھلائی ہو۔ہمیں ایک ایسے بلند و بالا نصب العین سے متصف کیا گیا کہ رہتی دنیا تک ہم ہی مِشعَلِ راہ بننے کے اہل ہیں ہمیں کہا گیا کہ،کنتم خیر امة اخرجت للناس، گویا سارے جہاں کا درد ہمارے سینوں میں بھردیا گیا اور اب ہم ہی ہیں جو اس کا درماں تلاش کریں لیکن اس مطلب یہ نہیں کہ ہم قوم کے ان جانبازوں کو کسی مقام کے قابل نہ سمجھیں مشکل حالات میں اپنی جانوں کو بے خطر آزامئشوں کی بٹھیوں میں یہ جان کر بھی ڈالتے ہیں کہ وہ شاید اپنی عزیز جانوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔ہمیں اپنے آقا صلى الله عليه و سلم نے صاف صاف یہ بات سکھادی کہ اہلِ زمین کے احسانات کبھی فراموش نہ کرنا۔
تو یہی ہے وہ بات جس کی بدولت جب آج اقوامِ غیر اپنے اطباء کو ان کی جانفشانی کے عوض یاد کرتے ہیں تو ہمیں تو بدرجہء اولیٰ یہ فریضہ انجام دینا ہے کہ اپنے ان عظیم لوگوں کو شاباشی دیں ان کی پیٹھ تھپتھپائیں جو آج کے ان ناگفتہ بہ حالات میں اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر انسانیت کو اس عالمی وباء سے بچانے کے لئے دن رات کوشش کرتے ہیں۔
مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہے کہ ہم ان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکاپائے بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ان کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں کہی بار ہم نے انہیں خون کے آنسو رلایا ہے اور ان کے احسانات کا وہ صلہ دیا کہ یہ ہی نہیں بلکہ ہر صاحب فہم شرم سار ہوگیا اور ہمارے لئے سوہان روح بن گیا کئی بار ان کے بچے آنسو آنکھوں میں سجا کر کہتے ہیں بابا مت جائیں آج پر یہ اپنے فرائض کے تئیں ہلکی سی غفلت کے بھی روادار نہیں ہوتے ہمارے ہاں تو اس کی اور زیادہ افادیت بڑھ جاتی ہے جب یہ ہڑتال ہو کرفیو ہو یا کتنے بھی نامساعد حالات ہوں اپنے گھروں سے نکل جاتے ہیں تو ان کے اہل خانہ انتہائی غم و اندوہ کی حالت میں ان کی واپسی کے لئے پریشان رہتے ہیں آج اس وبائی صورت حال میں ہمارے عزیز محترم جہانگیر احمد ندوی حفظہ اللہ اپنے چھوٹے بھائی کے تجربات بتاتے ہیں جو اپنی آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں بیان کرتے ہیں ندوی صاحب کہتے ہیں کہ
مجھے اپنے چھوٹے برادر کے توسط سے یہ تکلیف دہ معلومات حاصل ہوئی کہ Isolation Wards میں تعینات طبی و نیم طبی عملہ اپنی پہچان اس خوف سے مخفی رکھتے ہیں کہ کہیں ان کے عزیز و اقارب کے ساتھ لوگ ناروا سلوک نہ کریں بہت افسوس ہوا یہ سن کر کہ ہم کس قدر گرچکے ہیں کہ اپنے محسنوں کو احسان کے بدلہ اپنی شناخت چھپانی پڑھ رہی ہے کیسی عبرت ناک صورت حال ہے کہ ہم اپنے ہی محسنون کے تئیں بجائے ان کی دلیری و جرآت کا اعتراف کرتے ان سے کچھ ایسا وطیرہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ ہم سے خوف محسوس کرتے ہیں اس وبا کے چلتے تو ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہئے تھا پر ہم واقف ہیں کہ کہی ایک مقامات پر ڈاکٹر حضرات کو گالی گلوچ سے بھگایا گیا اور ان کی تذلیل کی گی
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے لئے آہنی کلیجہ بنانے والے ان اطباء حضرات اور نیم طبی عملہ کو اس نازک مرحلہ پر ساتھ دیں ان کی ہمت باندھیں ان کی کمر تھپتھپائیں اور انہیں سلامِ عزیمت و عقیدت پیش کریں تاکہ فہ فخر کے ساتھ سر اُٹھاکر انسانیت کو اس وبا سے باہر نکالنے کے لئے کام کرسکیں اور انہیں فخر محسوس ہو کہ ہم واقعی قوم کی امیدوں پر کھرےاترے ہیں چین جہاں اس وبا کی ابتداء ہوئی ایسی بھی تصاویر سامنے آئیں کہ ڈاکٹر لوگ جب اپنے گھروں کو روانہ ہوئے تو انہیں ملائیں پہنائیں گئی مختلف ممالک میں ان کے جرآت مندانہ اقدامات کے اعتراف کرتے ہوئے ان کی عزت افزائی کے لئے مختلف طریقوں سے انہیں احساس دلایا گیا کہ واقعی آپ سب قوم کے سب سے پیارے ہو
یہاں لوگ صرف غیض و غضب کرنا اچھا سمجھتے ہیں مانا کہ اس شعبہ سے وابستہ عملہ جو ہے ان میں بھی ہزاروں خامیاں ہیں پر یہ کیا کم ہے کہ اپنی زندگی اپنی خوشیاں اپنے گھریلو معاملات کو بلا کر یہ آج کھڑے ہیں یہ آج پوری جرآت سے اس مصیبت میں کام کر رہے ہیں ہمیں شکایت ہوسکتی ہے ان خونی بھیڑیون سے جو اس عظیم شعبہ سے وابستہ ہوکر اپنی دنیا بنانے میں مگن ہیں پر ہم نے بھی دیکھا ہوگا کہ کچھ اطباء حضرات ایسے بھی ہیں جنہیں دیکھ کر یا جن کو سن کر ہی سکون سا آتا ہے کہ یہ ضروری میرے مرض کا علاج کرے گا جنہوں نے کٹھن اور صبر آزما حالات میں بھی اپنے کام کے تئیں غفلت نہیں کی ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بھی اپنے بیمار کی موت پر بھیگ جاتی ہیں جب یہ علاج و معالجہ کے سلسلے میں انتھک محنت کرکے کہتے ہیں NO MORE تو یقین کریں سب سے زیادہ دکھ انہیں کو ہوتا ہے کیونکہ یہ زندگی کے آخری مرحلہ پر اس بیمار کو بچانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کردیتے ہیں اور اس کے کرب کو انہیں لمحات میں جان کر اپنی مقدور بھر کوشش کرنے کے باجود بھی جب بیمار زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے تب ان کی بے بسی ان کی بے کسی قابل دید ہوتی ہے اور NO MORE کہنا ان کے لئے سب سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے اور سر جھکا کر سامنے سے گزر جاتے ہیں جیسے سب سے بڑے گناہگار یہی ہوں
چلئے ہم ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لئے انہیں ایک بار دل سے سلام کہتے ہیں ان کے ہاتھ چوم لیتے ہیں کہ آئے مسیحا جا اللہ تیری دنیا و آخرت تیرے لیے وجہ تسکین قلب و جگر بنا دے
سلام اے انسانیت کے محافظو سلام
آج میری طرف سے اپنے ان محسنوں کے نام
آج دل میں اک ہوک سی اٹھی یہ سوچ کر سوچا
کہ ارے کون لوگ ہیں یہ اتنی بڑی بڑی ڈگریاں لے کر
بھی اسپتال میں بیمار کو سہارا دیتے ہیں
کیا یہ بہت غریب ہیں کہ انہیں جیب خرچ بھی نہیں
کیا انہیں کھانے کو بھی کچھ ملتا نہیں
کیسے لوگ ہیں یہ دو پیسوں کے لئے موت سے آنکھیں ملا رہے ہیں انہیں کیا ڈر نہیں لگتا کیا انہیں اپنوں کی یاد نہیں آتی ان کے بچے نہیں ہیں کیا کیا ان کا دل نہیں ہے جو بچنے کی خواہش نہیں مچلتی
یہ اپیلیں کر کیوں رہے ہیں خود گھروں میں کیوں نہیں رہتے یہ کیا بات ہوئی خود اسپتال میں پیسہ کما کر ہمیں گھر رہنے کا کہہ رہے ہیں یہ کیا بات ہوئی اسپتال میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ دعوتیں اڑا رہے ہیں
تو یاد آیا
اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو
یہ ہمارے اصلی ہیرو ہیں
یہ ہمارے اصلی جانباز ہیں
یہ ہمارے اصلی خیر خواہ ہیں
ان کے دل میں پر صرف اپنوں کے لئے نہیں دڑھکتے
بلکہ انسانیت کے لئے
ان کے ارمان بھی مچلتے ہیں جینے کے پر یہ اپنے ارمان دفن کردیتے ہیں
یہ ذرق برق لباس کا شوق تو رکھتے ہیں پر بیمار کے لئے ہلکا پھلکا ہی ہیں لیتے ہیں
انہیں بھوک لگتی ہے پر مریض کو دیکھ کے ہی مر جاتی ہے
یار
دل کرتا ہے آج تک سیلوٹ کرنا نہیں سیکھا
پر دل سے انکو سیلوٹ کرنے کو جی چاہتا ہے
کیوں کہ اب انہوں نے دل میں جگہ بنا لی ہے
تم جیو اس مشکل وقت میں
پوری قوم تمہارے لئے دعا گو ہے
تم جیت جاؤ یہ بازی
ہزاروں نگاہیں منتظر تک رہی ہیں
سلام تمہاری ہمت و شجاعت کو یہ دل تم پر قربان ہوئے جارہا ہے آئے ملت کے خیر خواہو تم سلامت رہو
اب میرے
دوستو پلیز
سب کے سب
انہیں ایک سیلوٹ دل سے ہی کردو
کومنٹ میں کسی ساتھی ڈاکٹر کو ایڈ کرکے
دل سے سلام و سیلوٹ کرے
(بشکریہ الطاف جمیل ندوی )
ہندوستان
یو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے یو جی سی – نیٹ کے سوشیلولوجی ، انگریزی اور کامرس مضامین کے امتحانات دوبارہ کرانے کے این ٹی اے کے فیصلے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب مانگا ہے۔
سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر پیر کے روز اظہارِ خیال کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان تین مضامین کے یو جی سی – نیٹ امتحانات 22 سے 30 جون کے درمیان ہوئے تھے اور تقریباً دو ماہ بعد این ٹی اے نے تسلیم کیا ہے کہ سوالناموں میں سنگین خامیوں کے ساتھ پرانے سوالات دہرائے گئے تھے۔ اب ہزاروں طلبہ کو ستمبر میں پھر سے ان مضامین کے امتحانات دینے ہوں گے۔
انہوں نے کہا، “ہزاروں طلبہ نے برسوں تیاری کی، درخواست دی، فیس ادا کی اور دور دراز کے امتحانی مراکز تک سفر کیا۔
اب انہیں یہ سب دوبارہ کرنا ہوگا۔ این ٹی اے غلطی کرتی ہے، لیکن سزا طالب علم بھگتتے ہے۔ اب تعلیمی نظام ایک ایسا نظام بن چکا ہے جو طلبہ کا پیسہ، ان کا وقت، ذہنی صحت اور خود اعتمادی چھین لیتا ہے، لیکن بدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ سوال یہ ہے کہ این ٹی اے یہ کیوں نہیں بتا رہی ہے کہ کیا امتحان سے پہلے سوالنامے لیک ہوئے تھے؟”
راہل نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفا پہلا قدم تھا، آخری نہیں۔ این ٹی اے کی قیادت کی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔
انہوں نے دوبارہ امتحان دینے والے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ایسا نظام مسئلہ ہے جو امتحان بھی ٹھیک سے منعقد نہیں کرا سکتا اور پھر طلبہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔
اس دوران کانگریس شعبہٴ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی ‘ایکس’ پر کہا کہ این ٹی اے کی غلطی کی سزا ملک کے طلبہ کیوں بھگتیں اور جن نوجوانوں کا نقصان ہوا ہے، اس کی بھرپائی کون کرے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
پنچکولہ، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر-لداخ میں بارش کا سلسلہ زیادہ شدید رہ سکتا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مغربی ہمالیائی خطے کے کچھ حصوں میں بہت شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔
قومی موسم پیش گوئی مرکز کی جانب سے 17 اگست کو صبح 8.57 بجے جاری آل انڈیا موسمی خلاصہ اور پیش گوئی بلیٹن کے مطابق 18 اگست کو ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہے۔ شمال مغربی ہندستان کے باقی حصوں میں الگ الگ سے کچھ مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔۔18 اگست کو بارش کا دائرہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس دن ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ 18 اگست کی وارننگ میں بھی ان علاقوں میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
17 اگست کو ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے ساتھ اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، مشرقی مدھیہ پردیش، گنگائی مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق مغربی ہمالیائی خطے میں پورے ہفتے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد اور اتراکھنڈ میں 17 سے 23 اگست کے دوران بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا اندازہ ہے۔
19 اگست کو ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا اندازہ ہے، جبکہ جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں ممکنہ بارش کے سبب مکمل طور پر سیراب مٹی والے علاقوں اور نشیبی علاقوں میں سطحی پانی کے بہاؤ یا پانی جمع ہونے کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
موجودہ موسم کو کئی موسمی نظام متاثر کر رہے ہیں۔ آئی ایم ڈی کے 17 اگست صبح 5.30 بجے کے موسمی تجزیے کے مطابق شمال مغربی خلیج بنگال اور اس سے متصل مغربی بنگال-شمالی اڈیشہ کے ساحل پر ایک دن پہلے بنا واضح کم دباؤ کا علاقہ شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اس کے گنگائی مغربی بنگال سے گزرتے ہوئے شمال مغربی سمت میں جھارکھنڈ کی طرف بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
