تازہ ترین
کلونجی کے چند متاثر کن فائدے جان لیں
کلونجی کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا جسے مختلف کھانوں کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بھی اس کے استعمال کے فوائد ملتے ہیں۔
مگر کیا آپ واقعی اس کے فوائد سے واقف ہیں جو آپ معمولی محنت سے حاصل کرسکتے ہیں؟
درحقیقت صدیوں سے کلونجی کا استعمال مختلف امراض سے بچاؤ کے گھریلو ٹوٹکے کے طور پر کیا جارہا ہے۔
یہاں آپ اس کے چند فوائد کو درج ذیل جان سکتے ہیں۔
اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور
اینٹی آکسائیڈنٹس جسم میں گردش کرنے والے نقصان دہ اجزا کی روک تھام اور خلیات کو تکسیدی تناؤ سے بچاتے ہیں۔
طبی سائنس کے مطابق اینٹی آکسائیڈنٹس صحت اور امراض پر طاقتور اثرات مرتب کرتے ہیں۔
کچھ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ اینٹی آکسائئیڈنٹس سے متعدد امراض جیسے کینسر، ذیابیطس، امراض قلب اور موٹاپے وغیرہ سے تحفظ مل سکتا ہے۔
کلونجی میں متعدد ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات رکھتے ہیں، ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کا تیل اینٹی اکسائیڈنٹ کی طرح کام کرتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کلونجی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس انسانی صحت پر کس طرح اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
کولیسٹرول میں کمی
کولیسٹر ہمارے جسم میں چربیلا مواد کو کہا جاتا ہے اور اچھی صحت کے لیے کچھ مقدار میں کولیسٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔
مگر اس کی زیادہ مقدار خون میں جمع ہونے سے امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور کلونجی بلڈ کولیسٹرول کی سطح میں کمی کے لیے موثر سمجھی جاتی ہے۔
17 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کے سپپلیمنٹس مجموعی اور نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کے ساتھ ساتھ بلڈ ٹرائی گلیسڈر کی سطح میں نمایاں کمی لاتے ہیں۔
کلونجی کا تیل اس کے سفوف کے مقابلے میں زیادہ بہتر اثر کرتا ہے مگر سفوف صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کے سلیمنٹس سے ایک سال کے دوران نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح بڑھ گئی۔
ذیابیطس کے مریضوں پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے، جس میں بتایا گیا کہ روانہ 2 گرام کلونجی کا استعمال 12 ہفتے تک کرنا کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتا ہے۔
کینسر سے لڑنے والی خصوصیات
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ کلونجی کے بیج اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم میں گردش کرنے والے نقصان دہ مواد کی روک تھام کرتے ہیں، جو دوسری صورت میں کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی میں کینسر سے لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی میں موجود ایک متحرک مرکب thymoquinone خون کے سرطان میں خلیات کی موت کا عمل روکتا ہے، ایک اور تحقیق میں دریافت کیا کہ کلونجی کا ایکسٹریکٹ بریسٹ کینسر خلیات کو غیرمتحرک کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
دیگر ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ کلونجی اور اس کے اجزا ممکنہ طور پر متعدد اقسام کے کینسر جیسے مثانے، جلد، پھیپھڑوں، لبلبے اور قولون کینسر کے خلاف موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔
تاہم ابھی انسانوں میں ان بیجوں کے کینسر کش اثرات کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں اور اس حوالے سے گہرائی میں جاکر تحقیق کی ضرورت ہے۔
بیکٹریا کے خاتمے میں مددگار
بیماریوں کا باعث بننے والے بیکٹریا کانوں کے انفیکشنز سے لے کر نمونیا سمیت متعدد امراض کا باعث بنتے ہیں۔
کچھ ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی میں بیکٹریا کش خصوصیات ہوتی ہیں جو بیکٹریا کی مخصوص اقسام کے خلاف موثرانداز سے مقابلہ کرتی ہیں۔
ایک تحقیق میں کلونجی کو ننھے بچوں کے جسم پر جلد کے ایک انفیکشن کے لیے لگایا گیا اور دریافت کیا گیا کہ یہ کسی روایتی اینٹی بائیوٹیک کی طرح موثر ثابت ہوسکتی ہے۔
اسی طرح بیکٹریا کی ایسی قسم MRSA جو اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت دکھاتے ہیں، ان کے خلاف بھی اسے موثر دریافت کیا گیا۔
اس حوالے سے انسانوں پر تحقیق محدود ہے اور جسم میں بیکٹریا کی مختلف اقسام پر اس کے اثرات کو جاننے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ورم سے نجات دلائے
اکثر تو ورم ایک معمول کا مدافعتی ردعمل ہوتا ہے جو جسم کو انجری اور بیماری سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
مگر جب یہ ورم دائمی ہوجائے تو یہ متعدد امراض جیسے کینسر، ذیابیطس اور امراض قلب کا شکار کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
کچھ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی ممکنہ طور پر جسم میں طاقتور ورم کش اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
جوڑوں کے امراض کے شکار 42 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں انہیں 8 ہفتے تک روزانہ ایک ہزار ملی گرام کلونجی کا تیل استعمال کرایا گیا، جس سے ورم اور تکسیدی تناؤ کم ہوگیا۔
چوہوں پر ایک تحقیق میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی میں ورم میں کمی کو دیکھا گیا۔
جگر کو تحفظ فراہم کرے
جگر ہمارے جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جو زہریلے مواد کے اخراج، غذائی اجزا کو پراسیس کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے ضروری پروٹینز اور کیمیکلز بناتا ہے۔
جانوروں پر ہونے والی مختلف تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی جگر کو انجری اور نقصان سے تحفظ دینے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
ایک تحقیق میں چوہوں کو زہریلے کیمیکل کلونجی کے ساتھ یا اس کے بغیر دیئے گئے اور دریافت ہوا کہ کلونجی نے کیمیکل کے زہریلے اثرات کو کم کرکے جگر اور گردوں کو نقصان سے بچایا ہے۔
ایک اور جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں ایسے ہی اثرات کو دریافت کیا گیا۔
اس حوالے سے انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کلونجی کس حد تک جگر کی صحت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں بھی مدد دے
جسم میں بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ منفی علامات کا باعث بنتا ہے جیسے ہر وقت پیاس لگنا، جسمانی وزن میں غیرمتوقع اضافہ، تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے مین مشکل۔
اگر بلڈشوگر پر نظر نہ رکھی جائے تو طویل المعیاد بنیادوں پر زیادہ سنگین نتائج کا سامنا ہوتا ہے جیسے اعصاب کو نقصان پہنچنا، بینائی میں تبدیلی اور زخم بھرنے کا عمل سست ہوجانا۔
کچھ شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ کلونجی بلڈشوگر کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے اور اس کے خطرناک اثرات کی روک تھام کرسکتی ہے۔
7 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں ثابت کیا گیا کہ کلونجی کے سپلیمنٹس خالی پیٹ اور اوسط بلڈ شوگر کی سطح کو بہتر کرسکتے ہیں۔
اسی طرح 94 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کا 3 ماہ تک روزانہ استعمال خالی پیٹ بلڈ شوگر، اوسط بلڈ شوگر اور انسولین کی مزاحمت کو نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔
معدے کے السر کی روک تھام
معدے کے السر انتہائی تکلیف دہ زخم ہوتے ہیں اور کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق کلونجی اس سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
عام طور پر السر کا سامنا ہوسکتا ہے جب معدے میں موجود تیزابیت حفاظتی جھلی کی تہہ کو ختم کردیتی ہے اور زخم بننے لگتے ہیں۔
جانوروں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں کلونجی کو السر سے تحفظ کے لیے موثر قرار دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اگرچہ ابھی تک اس کے بیشتر فوائد ٹیسٹ ٹیوب یا جانوروں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئے ہیں اور انسانوں میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے، مگر غذا میں اس کا استعمال یا سپلیمنٹ کی شکل میں استعمال کرنا صحت کو متعدد پہلوؤں سے فائدہ پہنچاسکتا ہے۔(ڈان نیوز)
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
